آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

حقیقت یہ ہے کہ یہ وصیت نامے انسان کو آغازِ اسلام کے شہداء کی یاد دلا دیتے ہیں۔

ایمان، عشق اور فداکاری سے سرشار ان جوانوں کا سامنا کرتے ہوئے مجھے شدید شرمساری کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ ان عزیزوں نے جو وصیت نامے لکھے ہیں، ان کا مطالعہ کریں آپ نے پچاس سال عبادت انجام دی ہے۔ خدا آپ کی یہ عبادت قبول فرمائے۔۔۔ ان وصیت ناموں کو لیں، ان کا مطالعہ کریں اور ان میں غور و فکر کریں۔

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ (صحیفہ، ج۱۴، ص۴۹۱)

*****

یہ جو آپ امام کا فرمان سنتے ہیں: ’’ان جوانوں کے وصیت ناموں کا حتماً مطالعہ کیجیے۔‘‘ تو جہاں تک میرا اندازہ ہے کہ یہ ایک خالی اور خشک نصیحت نہیں ہے بلکہ امام نے یقیناً ان وصیت ناموں کو پڑھا تھا اور ان کا قلب مبارک غم سے چھلنی ہو گیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی ان وصیت ناموں سے فیض حاصل کریں، جیسا کہ میں خود بھی جنگ کے زمانے سے لے کر آج تک ان وصیت ناموں سے کافی حد تک مانوس رہا ہوں اور آج بھی ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ان میں سے بعض وصیت نامے اس عرفانی روح کی کس طرح عکاسی کرتے ہیں۔

جو راستہ ایک سالک تیس سال میں، چالیس سال میں طے کرتا ہے، ریاضت کرتا ہے، عبادات انجام دیتا ہے، دل و جان سے اپنے رب کے سامنے حاضر رہتا ہے، اساتذہ کی صحبت سے کسبِ فیض کرتا ہے، کتنی ہی گریہ و زاری ، کتنا ہی خضوع و خشوع اور کتنے ہی بڑے کام انجام دیتا ہے، اس طویل راستے کو ایک جوان دس دن میں، پندرہ دن میں، بیس دن میں محاذ پر رہ کر طے کر لیتا ہے۔ یعنی جن لمحات میں یہ جوان اپنے فطری دینی رجحانات کے تحت اپنی جوانی کے تمام تر جذبات کو ہمراہ لیے محاذ پر گئے اور محاذ پر ہی ان کی یہ حالت قربانی اور ایثار کے عزم میں تبدیل ہو گئی اور انہوں نے اپنے واقعات یا وصیت نامے لکھے تو  ان لمحات سے لے کر ان کی شہادت تک یہ حالت لحظہ بہ لحظہ قوی تر ہوتی گئی، خدا سے ان کے فاصلے سمٹتے ہی چلے گئے اور اس کی طرف اٹھنے والے قدموں میں تیزی آتی گئی۔

ان آخری دنوں ، ساعتوں اور لمحات تک اگر ان کی کوئی یادگار رہ گئی  تو وہ ایک آگ میں لپٹی گولی کی طرح انسان کے دل پر اثر کرتی ہے۔ ان جوانوں نے جو واقعات قلمبند کیے اور شہید ہو گئے، انسان ان کی تحریروں میں مذکورہ بالا خصوصیات کا واضح طور پر مشاہدہ کر سکتا ہے۔

یہی  حسینیؒ روح کا جلوہ ہے۔

رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی

1997  دسمبر

اِن  شہداء کے  عاشقانہ وصیت ناموں کا مطالعہ کیجیے اور اپنے ایمان میں اضافہ کیجیے۔