باپ کی طرف سے ایک خط
امام خمینی کا اپنے بیٹے احمد کے نام خط
اس عظیم عالم دین نے فرمایا: ’’ہر سو سال میں آسمان تشیع پر ایک خورشید طلوع ہوتا ہے اور اس کی روشنی ایک صدی تک دنیا میں اجالا کیے رکھتی ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی خمینیؒ جیسی عظیم شخصیت آئی کہ جس نے انقلاب اسلامی کے ذریعے نہ فقط شیعہ اور نہ صرف اسلام بلکہ عالم بشریت کے ضمیروں کو بیدار کر کے رکھ دیا۔‘‘
اس حکیم رہبر اور خدا تک پہنچے ہوئے انسان کا ایک الٰہی اور سیاسی وصیت نامہ بھی ہے جو انسان کی توجہ کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔
لیکن ان کا ایک عرفانی اور اخلاقی خط یادگار ہے جو انہوں نے اپنے فرزند سید احمد کو لکھا تھا۔
اس خط کا مخاطب میں بھی ہوں اور آپ بھی۔ آئیے اس کے کچھ حصوں کا مطالعہ کرتے ہیں:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حمد اس خدا کے ساتھ ہی مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ وہ جس کے علاوہ نہ کوئی بخشنے والا ہے اور نہ مہربان۔ اس کے علاوہ نہ کسی کی پرستش کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی کی حمد نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی مربی ہے نہ پروردگار۔وہی ہے جو راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ وہی اول و آخر ہے، وہی ظاہر و باطن ہے۔ درود و سلام ہو سید الانبیاءؐ اورپوری انسانیت کے رہبر و ہادیؐ پر جو عالمِ غیب سے جہانِ شہود میں ظاہر ہوئے۔
درود و سلام ہو ان کے پاک و پاکیزہ خاندان پر، جو سرّالٰہی کے مخزن ، حکمت خداوندی کے معادِن اور خدا [و رسولؐ]کے علاوہ سب کے راہنما ہیں۔
اما بعد!
یہ اس ضعیف اور عاجز انسان کی وصیت ہے جو اپنی نوے سالہ عمر کے پورے عرصے میں گمراہی و مدہوشی میں غرق رہا اور اب اپنی حقیر ترین عمر کو قعرِ جہنم کی طرف کھینچے ہوئے جا رہا ہے۔ جسے اپنی نجات کی کوئی امید نہیں ہے لیکن وہ خدا کے فیض اور اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہے اور اس کے علاوہ اس کی کوئی امید بھی نہیں ہے۔([1])
یہ وصیت ایک ایسے نوجوان کے لیے ہے جس کے بارے میں امید ہے کہ خدائے عظیم کی توفیق اور ہادیانِ سُبُل علیہم السلام کی ہدایت کے سبب حق تک پہنچنے کا کوئی راستہ ڈھونڈ لے اور جس گرداب میں اس کا باپ گھِرا رہا، اس سے نجات پا جائے۔
میرے پیارے بیٹے، احمد!
ان اوراق پر نگاہ ڈالو: أنظر الی ما قال و لا تنظر الی من قال۔۔۔ (یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے) جان لوکہ موجودات عالم میں سے کوئی بھی موجود عوالم جبروت و اعلیٰ و اسفل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی اس کے پاس کوئی قدرت، علم اور فضیلت ہے۔ جو کچھ بھی ہے وہ اسی کے فیض سے ہے کہ جس نے ازل سے لے کر ابد تک کے تمام امور کی زمام اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے۔ وہ احد و صمد ہے۔
ان بے ارزش اور بے قیمت مخلوقات سے کسی قسم کا خوف نہ کھاؤ اور ان سے کوئی بھی امید نہ رکھو کیونکہ اس کے علاوہ کسی اور سے امید رکھنا شرک ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈرنا عظیم کفر ہے۔
میرے بیٹے!
جب تک جوانی کی نعمت تمہارے پاس ہے اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہو کیونکہ بڑھاپے میں تمہارے ہاتھ کچھ بھی نہیں رہے گا۔ شیطان کے ہتھکنڈوں میں سے بلکہ شاید سب سے بڑا ہتھکنڈا استدراج([2]) ہے جس میں تمہارا باپ گرفتار رہا اور آج بھی ہے۔
نوجوانی کے زمانے میں ایک نوجوان کو اس کا باطنی شیطان جو اس کا سب سے بڑا دشمن ہے، اپنی اصلاح کے بارے میں سوچنے ہی نہیں دیتا اور اسےمسلسل امید دلاتا رہتا ہے کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے۔
یہ بہارِ جوانی کے ایام ہیں۔انسان کے گزرتےہوئے ہر گھنٹے اور ہر دن میں یہ دشمن اسے درجہ بہ درجہ جھوٹے وعدے کر کے اس اپنی تربیت و اصلاح کی فکر سے باز رکھتا ہے یہاں تک کہ جوانی کے لمحات اس سے چھین لیتا ہے۔ اور جب جوانی کا مرحلہ ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو اسے بڑھاپے میں اصلاح کی امید دلا کر بہلا دیتا ہے۔
بڑھاپے کے دنوں میں بھی یہ شیطانی وسوسہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور اسے عمر کے آخری حصے میں توبہ کی امید دلاتا ہے اور جب عمر کی آخری گھڑی آ جاتی ہے اور وہ موت کا دیدار کر لیتا ہے تو خداوند کریم کی ذات کو اس کی نظروں کے سامنے مبغوض ترین اور قابل نفرت ذات کے طور پر پیش کرتا ہے کہ جس نے اس کی محبوب دنیا کو اس کے ہاتھوں سے چھین لیا ہے۔
۔۔۔ کچھ ایسے افراد بھی ہیں جنہیں دنیا کی غرقابی اپنی اصلاح کا سوچنے بھی نہیں دیتی اور دنیا کا غرور سر سےپاؤں تک انہیں اپنی لپیٹ میں لیے ہوتا ہے۔ میں نے خود علماء میں بھی ایسے افراد کو دیکھا ہے، جن میں سے بعض ابھی بھی بقیدِ حیات ہیں۔ یہ لوگ ادیان کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔
میرے بیٹے!
اس بات کی طرف متوجہ رہو کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس بات پر مطمئن ہو کہ وہ شیطان کے اس جال میں نہیں پھنسے گا۔
میرے عزیز!
ائمہ معصومین علیہم السلام کی دعائیں پڑھو اور دیکھو کہ وہ اپنی حسنات کو سیئات میں سے شمار کرتےہیں، اپنے آپ کو عذابِ الٰہی کا مستحق سمجھتےہیں اور رحمت پروردگار کے سوا کسی بھی چیز کا نہیں سوچتے لیکن اہل دنیا اور شکم پرور علماء ان دعاؤں کی تاویل کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے حق کو صحیح طور پر پہچانا ہی نہیں ہے۔
۔۔۔ آؤ، اکٹھے وجدان کی طرف چلتے ہیں، ممکن ہے کوئی راہ کھل جائے۔ ہر انسان بلکہ ہر موجود فطرتاً کمالات کا عاشق ہے اور نقص سے نفرت کرتا ہے۔ تم اگر علم حاصل کرتے ہو تو اس وجہ سے کیونکہ وہ کمال ہے۔
اس جہت سے یہ ممکن نہیں ہے کہ تمہاری فطرت ہر اس علم پر قانع ہو جائے جو تم حاصل کر چکے ہو بلکہ اگر وہ اس بات کی طرف متوجہ ہو جائےکہ اس علم میں مزید اعلیٰ مراتب موجود ہیں تو حتماً ان مراتب کو تلاش کرے گی اور انہیں حاصل کرنےکی کوشش کرے گی۔ اگر فطرت ایک علم سےنفرت کرتی ہے تو وہ اس کی محدودیت اور نقص کی وجہ سے ہے اور اگر کسی دوسرے علم سے دل لگا لیتی ہے تو وہ اس کے کمال کے سبب سے ہے۔
میرے پیارے بیٹے!
اب میں چاہتا ہوں کہ جو ناقص زبان و قلم میرے پاس ہے، اس کے ذریعے تم سے بات کروں۔
تم اور باقی سب لوگ جانتےہیں کہ تم لوگ ایک ایسے نظام میں زندگی بسر کر رہے ہوجس نے خداوند عالم جل جلالہٗ کی قدرت و توفیق اور حضرت بقیۃ اللہ ارواحنا لتراب مقدمہ الفداء اور ایران کے انقلابی عوام ، جس کے ایک ایک فرد پر میری جان قربان ہو، کی دعا و تائید سے تمام شیطانی طاقتوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔اس نظام نے اس ستم شاہی نظام کی ناک زمین پر رگڑ کر رکھ دی ہے جس نے ہزاروں سال سے ظلم و ستم، مردم آزاری اور قتل و غارت گری کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کےمقابلے میں وہ لوگ جو ان ظالموں کی شہہ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے وہ اس جمہوری نظام کے مٹ جانے کے انتظار میں سر پٹخ رہے ہیں۔
چونکہ مغرب کے مفادات خطرےمیں ہیں اور قدرتمند اسلام ہی تنہا وہ طاقت ہے جو ان کے لیے اس خطرے کا باعث بنا ہے لہٰذا وہ قدرتمند اسلام کو اپنے اور اپنےدوستوں کے لیے بہت بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ ملک کے اندر بھی کچھ ایسے دلباختہ اور بدحواس لوگ موجود ہیں جو اپنے آقاؤں کی پیروی کرتے ہوئے عظیم اسلام، جمہوری اسلامی اور اس کی ترقی کے لیے کام کرنے والوں سے دشمنی رکھتے ہیں اور انقلاب کے اثرات کو مٹانے کی فکر میں ہیں۔ ایسے حالات میں بھی کیا آپ توقع رکھتے ہیں کہ یہ لوگ جمہوری اسلامی کے ساتھ گرمجوشی سے ہاتھ ملا کر اہلاً و سہلاً کہتے ہوئے اس کے اور اس کے سربراہان کے گُن گائیں گے!؟
یہ انسان کے فاسد افکار کی طبیعت کا تقاضا ہے کہ اپنے راستے میں آنے والے ہر کانٹے کو جیسے بھی ہو ہٹا دے۔ اس سلسلے میں فوجی، اقتصادی اور عدالتی وسائل کے ساتھ ساتھ ثقافتی پہلو ایک بہت بڑا وسیلہ ہے۔
مشرق و مغرب کی فاسد ثقافتیں یہی چاہتی ہیں کہ بھاری وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پورا دن جھوٹ، تہمت اور بہتان کے ذریعے اسلام کی الٰہی ثقافت پر حملے کرتی رہیں۔ جمہوری اسلامی کے الٰہی قوانین اور اصل اسلام پر چوٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں، اسلام سے وابستہ لوگوں کو رجعت پسند اور سیاسی شعور سےبےگانہ قرار دیں اور اسلام کے قوانین کو اس زمانے کے لیے ناکافی شمار کریں۔اور اس مقصد کے لیے اس بہانے کا سہارا لیں کہ جن قوانین کو بنے ہوئے چودہ سو سال کا عرصہ گزر گیا ہو وہ موجودہ زمانے کے انتظامات کو نہیں سنبھال سکتے۔ کیونکہ آج کی دنیا ایسے جدید امور سے لبریز ہے جو اس زمانے میں نہیں ہوتے تھے۔ حتی کہ بعض اسلام کے دعوے دار بھی یہی راگ الاپتے رہے ہیں اور آج بھی اس پر قائم ہیں۔
ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ ان گہری اور وسیع سازشوں کے مقابلےمیں الٰہی و اسلامی ثقافت کا دامن مضبوطی سے تھاما جائے اور یہ فرصت جو اس وقت میسر ہے، ذمہ دار مصنفین، مقررین اور ہنرمندوں کو چاہیے کہ اس سے استفادہ کریں اور فقہ اسلام و قرآن کریم سے گہری آگاہی رکھنے والے علماء کے ساتھ مل کر قرآن کریم، سنت نبی کریمﷺ، روایتی فقہ و معارف الٰہی سے بھرپور روایات کی روشنی میں اجتہاد کر کے احکام الٰہی کا استخراج کریں جو تمام زمانوں کے لیے ہیں۔ اور استخراج کر کے ان احکام کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔
پست کردار لوگوں، درباری علماء اور سرکاری واعظین کی نکتہ چینیوں اور اعتراضات سے نہ گھبراؤ اور ان عالم نما افراد اور ان علماء، جو جان بوجھ کر یا کج فہمی، حسد اور شیطانی وسوسوں کی بنیاد پر مخالفت کرتے ہیں، کو موعظۂ حسنہ اور نبی کریمﷺ، امیر المومنین علیہ السلام اور باقی ائمہ معصومین علیہم السلام کےطریقہ کار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سمجھاؤ کہ اگر ان کی یہ کجرویاں خدانخواستہ بڑھتی گئیں اور جمہوری اسلامی، جو پوری تاریخ میں مظلوم رہنے والے اسلام کو زندہ دیکھنا چاہتا ہے، کے نظام میں کوئی خلل پڑ گیا تو یہ اسلام مغرب و مشرق اور ان کے حواریوں کے ہاتھوں سے ایسا طمانچہ کھائے گا کہ ہمیں صدیوں تک ستم شاہی کے زمانے سے بھی زیادہ خطرناک فساد کا مشاہدہ کرنا پڑے گا۔
اور اب وقت آن پہنچا ہے کہ میں اپنے بیٹے احمد کو پدرانہ وصیت اور نصیحت کروں۔
میرے بیٹے!
تم اگرچہ کسی سرکاری عہدے پر نہیں ہواس کے باوجود جن طاقت فرسا مشکلات کا تمہیں سامنا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے تم میرے بیٹےہو۔ اور مشرق و مغرب کی ثقافت کے مطابق جو کوئی بھی میرے نزدیک ہو گا، بالخصوص تم جو سب سےزیادہ میرے نزدیک ہو، وہ اذیتوں، تمہتوں اور بہتانوں کا شکار رہےگا۔ حقیقت میں تمہارا جرم یہی ہے کہ تم میرے بیٹے ہو اور ان کی نظروں میں یہ کوئی چھوٹا جرم نہیں ہے۔
۔۔۔ اگر حق تعالیٰ پر تمہارا ایمان و اعتقاد ہے اور اس کی بے انتہاء رحمت اور حکمت پر اعتماد کرتے ہو تو ان تہمتوں، افتراپردازیوں اور اذیتوں کو اپنے دوست کی طرف سے ایک تحفہ سمجھو جو اس نے تمہاری نفسانیت کو کچلنے کے لیے نازل کی ہیں۔ انہیں ایک ایسا امتحان جانو جس میں وہ اپنے بندوں کو خالص کرنے کےلیے مبتلا کرتا ہے۔
پس زمانے کے تھپیڑے کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم پر یہ عنایت کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کی آرزو کرو۔۔۔
خدایا! ہم سرتاپا گناہوں میں ڈوبے ہوئے بندوں کے گناہ معاف فرما اور اپنی وسیع رحمت سے ہمیں محروم نہ رکھ۔
ہرچند کہ ہم اہل نہیں ہے مگر تیری ہی مخلوق ہیں۔ خدایا! اس اسلامی جمہوریہ، اس کے معاملات سنبھالنے والوں اور ہمارے عزیز مجاہدوں کو اپنی عنایتوں کی پناہ میں قرار دے۔ عزیز شہداء اور گمشدگان کو ان کے خاندانوں سمیت اپنی رحمت میں غرق فرما اور ہمارےاسیروں اور گمشدگان کو جلد از جلد اپنے وطن میں واپس لوٹا دے۔
بحق محمد و آلہ الاطہار علیہم الصلوٰۃ و السلام۔
تاریخ 27 ربیع الثانی 1408ھ بمطابق 19 دسمبر 1987
روح اللہ الموسوی الخمینی
صحیفۂ امامؒ: ج20، ص436
([1]) اللہ اللہ، یہ عاجزی و انکساری!! صحیفہ کاملہ کی دعائیں پڑھیں تو معصومؑ کی زبان بھی خداوند کریم کے حضور ایسی ہی عاجزی کا اظہار کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ان الفاظ میں امام خمینیؒ کا عجز چھلک رہا ہے ورنہ دنیا جانتی ہے کہ عرفان کی جس منزل پر امامؒ فائز تھے، وہ بہت ہی کم اشخاص کو نصیب ہوئی ہے۔
([2]) استدراج کا لغوی معنی ہے درجہ بہ درجہ کسی چیز کے قریب یا اس سے دور ہونا۔ اصطلاح عرفان میں اس سے مراد یہ ہےکہ انسان نعماتِ الٰہی کی فراوانی میں اتنا سرمست ہو جائے اور معصیت پر اتر آئے کہ اپنی طرف بڑھتے ہوئے عذابِ خداوندی کو نہ دیکھ سکے۔ مسلسل ملنے والی نعمتیں اسے عذاب خداوندی سے غافل کر دیں وہ آہستہ آہستہ عذاب کی طرف بڑھنا شروع ہو جائے۔ احادیث میں بھی استدراج کا یہی معنی ملتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جب استدراج کا معنی پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: ’’بندہ کوئی گناہ کرے تو اسے مہلت دے دی جائے پھر اسی گناہ کے دوران اسے کوئی اور نعمت دے دی جائے اور وہ اس نعمت میں غرق ہو کر استغفار سے غافل ہو جائے۔‘‘