آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

شیر علی
[شہید شیر علی سلطانیؒ]

شہید حاج شیر علی سلطانی 1948؁ء کو شیراز میں پیدا ہوئے۔ وہ ان افراد میں سے ایک تھے کہ امام خمینیؒ کے نفَس مسیحائی نے جن کی قسمت بدل کر رکھ دی تھی۔ یہاں تک کہ شیر علی بہت سے اہل شیراز کے لیے ہدایت کا چراغ ثابت ہوئے۔

شیر علی اہل بیتؑ کے ذاکر اور دل سوختہ و مخلص شاعر تھے۔ حتی کہ ایک دفعہ برادر آہنگران جب شیراز کے جنگجوؤں کے درمیان آئے اور طے پایا کہ وہ ذاکری کریں تو انہوں نے کہا: ’’اگر آغا سلطانی یہاں ہیں تو میں کیوں پڑھوں؟!‘‘

وصیت نامے کے آخر میں لکھے گئے اشعار ان کے اپنے ہیں۔ انہوں نے اپنی زمین کا ایک ٹکڑا شیراز  کی مسجد المہدی عج بنانے کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔ 1982؁ء کے اوائل میں جب وہ محاذ سے چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے تو مسجد کے ایک کونے میں اپنے لیے قبر بنوائی۔ لیکن یہ قبر ان کے لمبے قد کی نسبت چھوٹی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا تو کہنے لگے: ’’نہیں، اتنی ہی کافی ہے۔‘‘

معرکہ فتح المبین کی رات وہ اپنے مورچے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سب جوان باتوں میں مشغول تھے کہ شیر علی اچانک کہنے لگے: ’’دوستو، خاموش ہو جاؤ!!‘‘

اچانک مورچے میں ایک انتہائی دلآویز خوشبو پھیل گئی۔ اس رات جوانوں کے بھر پور اصرار پر شیر علی نے شہید ملک پور کو بتایا: ’’جب ہم مورچے میں بیٹھے ہوئے تھے تو امام زمانہ عج تشریف لائے تھے اور مجھ پر اور دوسرے دو دوستوں پر عنایت فرمائی تھی۔‘‘

اگلے دن شیر علی اور وہ دو افراد جن کا انہوں نے نام لیا تھا، تینوں درجہ شہادت پر فائز ہو گئے۔ عجیب بات یہ تھی کہ ان کی چھوٹی قبر ان کے اندازے کے مطابق نکلی کیونکہ شیر علی کا جسد سر کے بغیر ہی آیا تھا۔

شیر علی اپنے وصیت نامے میں بعض جگہ لکھتے ہیں:

اے وہ تمام احباب جو مجھ سے محبت کرتے ہیں، تم سب سے درخواست کرتا ہوں کہ جب میری شہادت کی خبر  سنو تو غمگین نہ ہونا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جمہوری اسلامی پر تنقید کرنے لگو کہ لوگوں کے جوان بیٹوں کو انقلاب قتل کر رہا ہے۔ ہم دنیا میں ذلیل ہو چکے تھے لیکن خدا نے اس انقلاب کے صدقے میں ہمیں عزت سے نوازا۔

میری ہزاروں حقیر جانیں میرے عزیز اسلام پر قربان! میرے بارے میں کہیں یہ شکوے نہ کرنے لگ جانا کہ کاش میں اپنے بیٹوں کے پاس ہوتا تو بہتر تھا۔

نہیں۔ خدا کی قسم، یہ بالکل غلط باتیں ہیں۔ میں اپنی بیوی اور بچے کو خدا کے سپرد کرتا ہوں کیونکہ خدا بہترین دوست اور بہترین مددگار ہے۔ اس کی مقدس بارگاہ میں التجا کرتا ہوں کہ وہ انہیں راہ راست کی ہدایت فرمائے۔

تم سب سے میں یہی چاہتا ہوں کہ ایسی باتیں سوچنے کی بجائے کمرِ ہمت کس لو اور ولایت فقیہ جو کہ حقیقی اسلام ہے، اس انقلاب، اہل بیت عصمت و طہارت سلام اللہ علیہم اجمعین اور اس نیک بزرگ انسان امام خمینی کا دفاع کرو تا کہ خدا بھی دونوں عالم میں تمہاری مدد فرمائے۔

اے وہ تمام انسانو! جو ابدی سعادت کے خواہاں ہو اگر تم ان درندہ اور قابض بھیڑیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو سب کے سب اس نجات بخش آئین اسلام کی آغوش میں آ جاؤ۔ فقط اسلام ہی تمام بنی نوع انسان کو اس کی تمام بدبختیوں سے نجات دلا سکتا ہے۔

اس دن کی امید کے ساتھ کہ بشریت کو بصیرت حاصل ہو جائے اور وہ اسلام کو قبول کر لے۔ ان شاء اللہ۔

ای که سر مستی ز صهبای شهید
شمع آسا گرچه ما خود سوختیم
گشته از خون ، سرخ گر دامان ما
ای که می خواهید فخر نام ما
تا نپیمایید راه اتحاد
پیروی باید ز آل الله کرد
روی سلطانی به درگاه حسین

از دل و جان بشنو آوای شهید
عالم حق را ولی افروختیم
ماند لیکن نام جاویدان ما
بشنوید از جان و دل پیغام ما
بر شما راه ظفر مسدود باد
دست هر دژخیم را کوتاه کرد
گر شهادت طالبی راه حسین

[اے شہید کی صہباء سے سرمست ہو جانے والے! دل و جان سے شہید کی آواز کو سن۔ ہم خود اگرچہ شمع کی مانند جل چکے ہیں مگر عالم حق کو فروزاں کر دیا ہے۔ اگرچہ ہمارا دامن خون سے سرخ ہو گیا مگر ہمارے نام زندہ و جاوید رہ گئے۔ اے ہمارے نام پر افتخار کی خواہش کرنے والے! ہمارے پیغام کو دل و جان سے سن۔  جب تک تم اتحاد کا راستہ نہیں اپناؤ گے اس وقت تک کامیابی کے راستے تم پر بند رہیں گے۔ آل اللہ (اہل بیتؑ) کی پیروی کرنا چاہیے  اور ہر بدسرشت انسان کا بڑھتا ہوا ہاتھ روک لینا چاہیے۔ سلطانی کا چہرہ درگاہِ حسین علیہ السلام ہی کی طرف ہے۔ اگر تو بھی شہادت کی آرزو رکھتا ہے تو صرف راہِ حسینؑ پر یہ شہادت مل سکتی ہے۔]