فاتحِ خرم شہر
[شہید فریدون کشتکرؒ]
1976ء میں تبریز یونیورسٹی میں انہیں دیکھا تھا۔ وہ یونیورسٹی کے مومن اور انقلابی جوانوں میں سے تھے۔ انقلاب کی کامیابی کے تمام مراحل میں پیش پیش رہے۔ تبریز میں ہونے والے فسادات میں منحرف لوگوں سے مقابلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرنے والوں میں سے ایک تھے۔ کردستان کے محروم لوگوں کی مدد کرتے ہوئے ڈیموکریٹ پارٹی کے ہاتھوں اسیر ہو گئے۔ لیکن خدا کی مدد سے آزادی مل گئی۔ جنگ کے اوائل ہی سے ہفت آبادان ڈپو میں فرائض انجام دینے لگے۔وہ وہاں پر موجود توپوں (آرٹلری) کے انچارج تھے۔
معرکہ فتح المبین میں وہ انجینئرنگ کور کے انچارج تھے۔ انہوں نے سینکڑوں لوڈر اور بلڈوزر گاڑیوں کی مرمت کروا کر انہیں قابل استعمال بنا دیا تھا۔
جو حفاظتی مورچے ان کے بنائے ہوئے نقشوں پر تیار کیے گئے انہوں نے سینکڑوں مجاہدین کی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ خرمشہر کی آزادی کے لیے بھی یہی تکنیک استعمال کی گئی۔
خرمشہر کی آزادی ان کی آرزو تھی۔ اس راستے میں انہوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ خرمشہر کی بدحالی کے دنوں میں اپنی شجاعت کے جھنڈے گاڑنے والے فریدون کو خرمشہر کی آزادی دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔ خرمشہر کی آزادی سے کچھ دن پہلے وہ دیدارِ یار کے جام سے سیراب ہو گئے۔
ذیل میں اس مسافر کمانڈر کے وصیت نامے کا متن پیش خدمت ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ۔ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيهِ رَاجِعُونَ (البقرة155-156)
اور ہم تمہیں کچھ خوف، بھوک اور جان و مال اور ثمرات (کے نقصانات) سے ضرور آزمائیں گے اور آپ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ جو مصیبت میں مبتلا ہونے کی صورت میں کہتے ہیں: ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور ہميں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
انسان اپنی پوری زندگی میں ہر لحظہ خدا کی طرف سے دی جانے والی آزمائشوں میں مبتلا رہتا ہے اور ہر شخص کی قیمت اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ ان امتحانات میں کیسے کامیاب ہوتا ہے۔
انسان دنیا میں رہنے اور ہمیشہ زندگی گزارنے کے لیے خلق نہیں کیا گیا۔ انسان کو چاہیے کہ مختلف نشیب و فراز کو عبور کر کے خدا سے ملاقات کرے: يا أَيهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ۔
ہاں، انسان کو راہ خدا میں آنے والے رنج و مصائب کو برداشت کرنا چاہیے تاکہ وہ اس سے ملاقات کر سکے۔ یہی انسان کی سرنوشت ہے۔ ہر روح کی عظمت اس رنج و الم کے برابر ہے جو وہ راہِ خدا میں برداشت کرتا ہے۔ بزرگ روحیں ہمیشہ بڑے بڑے مصائب سے دوچار ہوتی ہیں۔
کیا ایسا نہیں ہے کہ اس عالم ہستی کی عظیم روح حسینؑ کو بھی رنج و مصائب سے گزرنا اور بڑے امتحانات میں شرکت کرنا پڑے؟!
ہم جو کہ شیعہ ہیں، ہمیں ان کی پیروی کرنا چاہیے کیونکہ دنیا نہ تو رہنے کی جگہ ہے اور نہ ہی یہاں رہنے کی کوئی قدر و قیمت ہے۔ وہ بھی اس زمانے میں جب کہ ہمارا عزیز دین اسلام دنیا بھر کے خونخواروں اور ان کے گماشتوں کے نرغے میں گھرا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حق و باطل کے اس معرکے سے دور رہ کر انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں مشغول رہے۔
شہادت اور عظیم موت کا انتخاب کرنا ہو گا تا کہ سیاہ موت سے ہمیشہ کے لیے رہائی مل جائے۔ ہم نے راہ خدا میں اپنا خون بہا کر کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے بلکہ فقط ایک امانت کو اس کے مالک تک واپس پہنچایا ہے۔
میں نے اپنی تمام زندگی میں اسلام کے لیے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ شاید خدا چاہے تو میرا خون ہی میرے گناہوں کی معافی اور اسلام کی پیشرفت کا سبب بن جائے۔
اگر میں تمہاری دنیا میں رہ بھی جاتا تو کیا کرتا۔ آیا خداوند کریم کے جوارِ رحمت میں زندگی گزارنا، کہ جس کی اس نے خوشخبری بھی دے رکھی ہے، اس تدریجی موت کے برابر ہو سکتی ہے جس کا نام زندگی رکھ دیا گیا ہے؟
میرے مہربان ماں اور بابا! میری شہادت سے آپ کا نقصان نہیں ہوا بلکہ آپ نے مجھے خدا کو ہدیہ کر دیا ہے۔ بطورِ قرض مجھے خدا کے سپرد کر دیا ہے: مَنْ ذَا الَّذِي يقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيضَاعِفَهُ لَهُ۔۔۔
بھائیو! فقط قرآن اور امام خمینی کا راستہ ہی ہمیں فکری انحرافات سے نجات دلا سکتا ہے۔ اپنا رخ خدا کی طرف کرو اور اس راستے کی حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل بھی کرو۔ اپنی ساری توانائیوں کےساتھ خدا اور انقلاب اسلامی کے لیے کام کرنا چاہیے اور اس راستے میں کسی بھی سستی اور کاہلی کو آڑے نہیں آنے دینا چاہیے۔
اپنی یا دوسروں کی کوتاہیوں کو انقلاب کے نقائص شمار نہ کرو۔ افراد کے نقائص اور ان کے غلط جانبدارانہ رویے کہ جن کی بنیاد نفسانی خواہشات ہوتی ہیں، وہ فرزندانِ انقلاب کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا پر ایک جھاگ کی طرح ہیں۔ جھاگ کو ختم ہونا ہی ہوتا ہے اور دریا اپنے راستے پر بہتا ہی رہتا ہے۔
جھاگ کے ابھرنے سے اس موّاج دریا کے وجود پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ اب اگر کچھ افراد غیر خدا کے لیے کام کرتے ہیں تو اس کے ہم پر منفی اثرات نہیں ہونا چاہییں۔ خدا کی طرف حرکت کرتے ہوئے ہمارا عقیدہ جتنا زیادہ تبدیلیوں کا شکار ہوتا رہے گا اتنا ہی بے بنیاد ہو گا۔
جوانو! آؤ اور ایک دوسرے کے دوست بن کر خدا کے لیے کام کریں اور کام کرتے ہوئے دوسرے سے الجھنے کی بجائے خدا کے ساتھ مصروف ہو جائیں۔ کیا ابھی تک ہم اس نتیجے تک نہیں پہنچے کہ غیر خدا کے لیے کام کرنا تفرقہ کا باعث اور بے ہودہ کام ہے۔ پس خدا ہی کے لیے زندہ رہنا اور خدا ہی کے لیے مرنا چاہیے۔
خدایا! اب جبکہ میں تیری طرف آ گیا ہوں اور تیری خاطر سب کو چھوڑ کر اپنے گناہ لیے تیرے حضور میں ہوں تو میری دعا کو قبول فرما اور مجھے میری آرزو تک پہنچا۔
خدایا! مصیبتوں نے مجھے گھیر لیا ہے اب تو ہی میرا توشہ اور زادہ راہِ بن جا۔ خدایا! میں اب تجھ سے دوری کی مزید طاقت نہیں رکھتا۔ مجھے اپنی نظر کرامت و رحمت سے محروم نہ فرما۔ میرے خدا! کل بروزِ قیامت مجھے اپنے دیدار سے شاد فرما۔
خدایا! مجھے اپنی قسمت پر راضی اور قانع رکھ اور میری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔
ہاں، میرے خدا! تو آخری اور تنہا پناہ گاہ ہے جسے میں نے دریافت کر لیا ہے۔ خدایا! مجھے اس دنیا اور اس کے تمام تعلقات سے نجات دے اور اپنی طرف بلا لے۔
الهی هب لی کمال الانقطاع الیک.
خدایا! میرے دل کو اپنے عشق سے اتنا لبریز کر دے کہ میری آنکھوں میں اسے سنبھالنے کی طاقت نہ رہے، میرا خون تیری راہ میں بہہ جائے اور میری روح تیری طرف پرواز کر جائے۔
آمین یا رب العالمین