آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

ملائکہ سے ملاقات
[شہید جلیل ملک پورؒ]

وہ ابھی نوجوان ہی تھے کہ ساواک نے انہیں گرفتار کر لیا۔ کیونکہ انہوں نے سکول میں چسپاں شاہ کی تصویر کو پھاڑ دیا تھا۔ انقلاب کامیاب ہوا تو شیراز چوک کے محلہ کوشک میں پہلے بسیجی مرکز کی بنیاد رکھی۔

چزابہ کے معرکے سے جنگی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تمام معرکوں میں پیش پیش رہے۔ اپنے پانچ بھائیوں اور والد کو بھی محاذ پر لے گئے۔ جلیل ملک پور جاسوسی اور ریکی کے کاموں میں ایک عجوبہ تھے۔ کسی چیز سے خوف نہ کھاتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ اکیلے ہی ریکی کے لیے نکل جاتے اور بہت سے معلومات لے کر پلٹتے۔

خدا کی ذات پر عجیب قسم کا توکل رکھتے تھے۔ خدا کی مدد سے ایسے ایسے کام انجام دے دیتے جنہیں دیکھ کر حیرت ہوتی۔

معرکہ ’’فاو‘‘ سے پہلے  کے ایام میں ایک دن اپنے بھائی کے ساتھ نمازِ شب پڑھ رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے لکھا تھا کہ اس نماز کے بعد انہوں نے خدا کے ملائکہ کو  دیکھا تھا۔۔۔

فجر ڈویژن میں جاسوسی شعبے کے نائب تھے اور مکینیکل انجینئرنگ کے طالب علم۔ ایک عجیب ماجرا پیش آیا کہ جس کے سبب انہوں نے یونیورسٹی کو خیرآباد کہا اور اصلی یونیورسٹی میں چلے گئے۔

اپنے والد کے اصرار پر انہوں نے شادی بھی کی،  لیکن ساتھ یہ بھی کہا: ’’میں نے فقط تکمیلِ دین کے لیے شادی کی ہے۔ میں چار ماہ بعد شہید ہو جاؤں گااور میری شہادت سے چھ ماہ بعد میرا بیٹا پیدا ہو گا۔ اس کا نام علی رکھنا!!‘‘ جلیل نے اپنی قبر کی جگہ تک کی نشاندہی کر دی تھی!

ان کی کہی ہوئی بہت سی باتیں پوری ہوئیں۔ معرکہ کربلا۴ میں انہوں نے پوری ایک بٹالین کی جان بچائی اور خود شہید ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد ان کا جسد مل گیا مگر بغیر بیج کے۔ کوئی انہیں پہچان نہیں پا رہا تھا۔ طے پایا کہ گمنام شہداء کے ساتھ انہیں تہران بھیج دیا جائے لیکن انہوں نے اپنے والد کو (خواب میں) آ کر بتا دیا کہ ان کا جسد کہاں ہے؟

جلیل زندہ ہیں کیونکہ قرآن شہداء کو زندہ کہتا ہے۔ مشکلات اور مصائب میں اپنے گھر والوں کے پاس موجود رہتے ہیں۔ علی ان کی تنہا یادگار ہے جس نے ان کی راستے کو جاری رکھنے کا مصمم ارادہ کر رکھا ہے۔

جلیل نے 1983؁ میں بیس سال کی عمر میں اپنا وصیت نامہ لکھ دیا تھا۔ اس کے بعض حصوں کا ہم مطالعہ کرتے ہیں:

جو خدا کی راہ میں مارے جاتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں رزق پا رہے ہیں۔

لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ سب اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پائیں گے! امیر المومنین علیہ السلام فرماتےہیں: ’’اگر علی کو جہنم لے جانا چاہتے ہیں تو کون سی طاقت ہے جو مجھے جہنم جانے سے روک سکے۔‘‘ اگر مولا ایسے کہہ رہے ہیں تو میں کون ہوتا ہے جو اپنے بارے میں کچھ کہوں؟!

تنہا راستہ جو میرے پاس ہے وہ یہی ہے کہ روز و شب اپنے آپ کو خاک پر پھینک دوں یہاں تک کہ خدا ان بندوں کی نسبت میری طرف نظر کرم کر دے جو ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان کی برکت سے ہمارے گناہ بھی معاف ہو جائیں۔

*****

عزیز بھائیو! یہ تمہاری زبان جس طرح ذکر خدا کرتی ہے، الٰہی العفو کہتی ہے تو اس کے برعکس غلط چیزیں بھی کہہ سکتی ہے لہٰذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے اور بے ہودہ گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے۔

آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں جس سے آپ کے بھائیوں کے دلوں میں  انقلاب و محاذ سے  لگاؤ کم ہونے لگتا ہے۔

آپ میں سے اکثر کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہوتا لیکن وائے ہو ان پر جو بے سوچے سمجھے بولنے لگتے ہیں اور ایک لحظے کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں۔

اگر آپ کوئی ایسی غلط بات کہہ جاتے ہیں جس سے اسلام کو نقصان ہوتا ہے تو قیامت کے دن اس کا جواب دینا پڑے گا۔ آج اسلام اور مسلمانوں کی عزت و آبرو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔

عزیز بھائیو! قرآن کی تعلیمات پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ قرآن نے ہمیں صبر و استقامت کی کتنی تلقین کی ہے! ہم صبر کیوں نہیں کرتے! ہم کربلا اور بیت المقدس کو کیسے آزاد کروا سکتے ہیں! اگر اسی حالت میں ہم آگے بڑھتے رہے تو بعید ہے کہ ۔۔۔

۔۔۔میں اور آپ خدا کی طرف سے بھیجی گئی آزمائش میں مبتلا ہیں۔ ہمیں اس امتحان میں کامیاب ہونا ہے۔ جو ہم سے سبقت لے گئے وہ اپنے معشوق حقیقی سے ملاقات کے لیے چلے گئے جبکہ ہم ابھی یہیں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

ہمیں کوشش کرنا چاہیے۔ ایسا کام ہر گز نہ کریں جس سے ہمارا دشمن خوش ہو۔ اس کے لیے راستہ نہ کھولیں کہ اس کی طرف سے کوئی بڑا نقصان نہ اٹھانا پڑ جائے۔

دوستو! دنیا کی نظریں ہم پر لگی ہوئی ہیں۔ دنیا کے تمام مستضعفین ہماری طرف امید سے دیکھ رہے ہیں۔ شہداء کے والدین کربلا کا راستہ کھلنے کے منتظر ہیں۔ خدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ تمہارے پاس ان کے لیے کیا جواب ہے؟!

ہمیں خونِ شہدا کا جواب دینا ہے۔

اس دشت اور ان ٹیلوں میں جہاں قدم قدم پر ہمارے دوستوں کی شہادت گاہیں ہیں وہاں جب وہ کوئی بورڈ نصب کرتے تھے تو تم نے ضرور دیکھا ہو گا کہ کیا منظر بپا ہو جاتا تھا۔

کیسے جگرے والے ماں باپ ہیں جنہوں نےا پنے بیٹوں کو محاذ پر بھیجا اور بعضےتو  ان کے جسد تک نہ دیکھ پائے۔

جنگ اتار چڑھاؤ کا نام ہے۔ اس میں فتح بھی ہوتی اور شکست بھی، البتہ ہماری شکست اس وقت ہو گی جب ہماری نفسانی خواہشات نے ہم پر غلبہ پا لیا۔

ہمیں دشمن کو اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اگر ایسا ہو گیا تو ہم اپنے ہونے والے نقصان کا شاید کبھی بھی ازالہ نہ کر پائیں۔

میں نہیں جانتا کہ آپ لوگوں نے اس دن کے بارے میں کچھ سوچ رکھا ہے یا نہیں؟ جس دن یہ ظالم لوگ ہم پر اور ہماری عزتوں پر مسلط ہو جائیں  اور ہم ان کی منتیں کرنے لگیں۔ اگر ایسا دن خدانخواستہ آ جا تا ہے تو ہم کتنی بڑی مصیبت کا شکار ہو جائیں گے۔

البتہ خدا ہمیشہ شاہد و ناظر ہے اور ہم ہر روز آزمائش کی حالت میں ہیں۔ خدا نے فرمایا ہے: ’’اللہ کسی قوم کا حال یقیناً اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کسی قوم کو برے حال سے دوچار کرنے کا ارادہ کر لے تو اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔‘‘

امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں ھَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَنْصُرُنَا کی فریاد بلند کی تھی۔ عزیز دوستو! کیا تم نہیں کہتے تھے کہ کاش ہم کربلا میں ہوتے اور ۔۔۔

آج امام کو تنہا چھوڑنے پر کبھی راضی نہ ہونا۔ ایسا موقع نہ آنے دو کہ کربلا کی ایک بار پھر تکرار ہو۔ پس ہمیں خودسازی شروع کرنا چاہیے۔ جہاد اکبر میں اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ پیش قدمی کرنا چاہیے اور ۔۔۔

*****

خدایا! اگر میرے اندر لیاقت ہے تو میری موت کو اپنی راہ میں شہادت سے بدل دے اور اگر ہمارا زندہ رہنا اسلام کے لیے مفید ہے تو ہمیں زندگی عطا فرما تا کہ ہم زیادہ سے زیادہ اسلام کی خدمت کر سکیں۔

اے عظیم خالق، کہ کائنات جس کی محتاج اور تو خود بے نیاز ہے۔ خدایا! اگر میں گناہگار ہوں تو اے ستار العیوب، اے کاشف الکروب اور اے مقلب القلوب! تو میرے گناہوں سے درگزر فرما۔ مجھ کمزور پر رحم کر اور ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرمایا۔ ہمیں ایک لحظے کے لیے بھی ہمارے نفس کے حوالے نہ کرنا۔

اور اے خبیث صدام! جان لے کہ جب تک اسلام و قرآن کے یہ فرزند زندہ ہیں تو اس دنیا میں آسائش اور خوشی کا منہ بھی نہ دیکھ پائے گا۔ہاں، گویا ہماری کامیابی کی خوشخبری آیا ہی چاہتی ہے۔

امام فرماتے ہیں: ’’چاہے تم قتل کرو یا قتل ہو جاؤ، دونوں صورتوں میں کامیاب ہو۔‘‘

امام کا یہی فرمان ہمارے دلوں کو طاقت بخشتا ہے اور ۔۔۔

خوشا آنان که با عشق خمینی
خوشا آنان که در هنگامه‌ی مرگ
خوشا آنان که از پیمانه‌ی حق
خوشا آنان که با شوق فراوان

شهادت را پذیرفتند و رفتند
به جای گریه خندیدند و رفتند
شراب عشق نوشیدند و رفتند
حریم دوست بوسیدند و رفتند

[خوشا نصیب ان لوگوں کا جنہوں نے عشق خمینی کے ساتھ شہادت کو قبول کیا اور چلے گئے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو موت کے وقت رونے کی بجائے ہنستے ہوئے گئے۔ کتنا اچھا مقدر ہے ان لوگوں کو جنہوں نے پیمانۂ حق سے شراب عشق پی اور چلے گئے۔ بہت ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے وفورِ شوق سے دوست کے حریم کے بوسے لیے اور چل دیے۔]

والسلام

جلیل ملک پور   /  2 مئی 1983؁

جلیل کی دوسری تحریریں بھی بہت ہی جالب مطالب کی حامل ہیں۔ ایک بار انہوں نے لکھا تھا:

پیارے بابا اور ماں!

آپ کا ایک بیٹا تھا جو امانت کے طور پر کچھ دنوں کے لیے آپ کے پاس رہا تھا۔ اب وہ اپنے اصلی مالک کی طرف لوٹ کر چلا گیا ہے تو آپ پریشان نہ ہونا۔

ہم اس جنگ میں کامیاب ہیں اور شکست نہیں کھائیں گے۔ لیکن جنگ کے بعد محتاط رہنا۔ ہوشیار رہنا کہ افواہوں اور پروپیگنڈوں کی جنگ میں ہم شکست نہ کھا جائیں۔ ابھی تو منافقین خاموش ہیں اور کونے کھدروں میں چپکے پڑے ہیں لیکن ایک دن آئے گا کہ اپنے اپنے بلوں سے نکل کر سرگرم ہو جائیں گے اور ۔۔۔

منافقین کو کبھی بھی آگے نہ آنے دیں۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہو کہ راہِ شہداء کو جاری رکھیں۔ اپنے رہبر کی باتوں پر عمل کریں اور خطِ ولایت کے پیروکار بن کر رہیں۔

وصیت، انسان کا عمل ہے۔ جو کچھ اسے دیکھنا چاہیے وہ دیکھتا ہے۔ زندگی معاملے کا میدان ہے۔ انسان ایک ہاتھ سے ایک چیز دیتا ہے اور دوسرے ہاتھ میں ایک چیز لے لیتا ہے۔ ہمیں ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم نے دیا کیا ہےا ور لیا کیا ہے؟!

دنیا کا میدانِ معاملہ ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے جس کی ایک دھار انسان کی اپنی طرف رہتی ہے جبکہ دوسری دھار اس کے مقابل کی طرف۔ اگر معاملہ درست ہو اور راہ خدا میں انجام دیا جائے تو  ہمارے سامنے والے انسان کا راستہ کھل جائے گا  لیکن اگر معاملہ صحیح انجام نہ پائے تو یہی دھار ہماری طرف مڑ جائے گی اور ہماری زندگی کو تباہ کر کے رکھ دے گی۔