آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

علمدارِ عشق
[شہید سید مجتبیٰ علمدارؒ]

دلسوختہ عاشق تھے۔حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عقیدت سے ان کا پورا وجود بھرا ہوا تھا۔ جب سے انہوں نے جہاد کے میدان میں قدم رکھا تھا، مجاہدین کے لیے معنوی اور روحانی مرکز بن گئے تھے۔

ڈویژن 25 کربلا کے بسیجیوں کو آج تک ان کے قصے یاد ہیں۔ وہ جنگ کے ایک لمحے لمحے میں ان ہمراہ ہوتے تھے۔ انہوں نے جنگ کےدوران جہاد اصغر اور جہاد اکبر  کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر رکھ دیا تھا۔ سید جنگ ختم ہونے کے بعد انہی علاقوں میں رہے۔  جنگ کا اختتام ان کے لیے ثقافتی جنگ کا آغاز تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ ساری چلے گئے۔ انجمن مجاہدین ساری کی بنیاد اور کچھ دوسرے ثقافتی کام ان کے اقدامات میں سے تھے۔ اس راستے میں سید کو ایک لحظہ کے لیے  بھی آرام نہ تھا۔ انہوں نے تھکاوٹ کو تھکا کر رکھ دیا تھا۔

1996؁ء میں وہ جنگ کے کیمیائی اثرات سے شدید مریض ہو گئے۔ اس سال سردیوں میں سب سید کی شفایابی کے لیے دست دعا بلند کر رہے تھے۔

ان کے ایک دوست کا کہنا تھا: ’’میرے والد جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔ ایک رات میں نے انہیں خواب میں دیکھا کہ وہ پھولوں کا ایک خوبصورت گلدستہ لیے ساری میں آئے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ بابا جان! آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟!‘‘ تو انہوں نے جواب دیا: ’’آج ہم شہداء اور کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ سید کے استقبال کے لیے آئے ہیں۔‘‘

اگلی صبح سید مجتبیٰ علمدار کی شہادت کی خبر سب جگہ پھیل گئی۔

ذیل کا متن سید کے وصیت نامے سے ہے جو انہوں نے اپنی شہادت سے پہلے تحریر کیا تھا:

تمہیں میری پہلی وصیت نماز کے  بارے میں ہے۔ جس چیز کے بارے میں کل بروزِ قیامت پوچھا جائے گا وہ نماز ہے۔ پس کوشش کرو کہ حتی الامکان اپنی نمازوں کو اول وقت میں ادا کرو۔ نماز شروع کرنے سے پہلے خداوند کریم سے حضورِ قلب اور خضوع و خشوع کی توفیق بھی طلب کر لو۔

میں تم اور ان سب کو وصیت کرتا ہوں جو اس صفحے کو پڑھیں گے، کہ قرآن کی تلاوت کرو۔ قرآن کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرو، اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ محبت کرو۔ قرآن کی زیادہ سے زیادہ معرفت حاصل کرو اور اپنے تمام غموں کا علاج قرآن کریم سے ڈھونڈو۔ کوشش کرو کہ قرآن تمہارا انیس و مونس ہو فقط تمہارے طاقچوں اور الماریوں کی زینت بن کر نہ رہ جائے۔  بہتر یہ ہے کہ قرآن کو اپنے قلوب کے لیے زینت بناؤ۔

اپنے عزیز بھائیوں اور دوستوں کو وصیت کرتا ہوں کہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے فرزند فاطمہ سلام اللہ علیہا رہبر معظم حفظہ اللہ کی صدائے غربت بلند ہو جو وہی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومانہ صدا ہے۔

جس طرح تم سب امام خمینیؒ کے زمانے میں ان کے فرامین پر عمل کرتے تھے، انقلاب کے منظرنامے میں پیش پیش تھے اور اپنی جان و مال و زندگی ان پر نچھاور کرنے کے لیے آمادہ تھے (اب بھی اسی طرح رہو۔)

۔۔۔ شیعو، مسلمانو، حزب اللہی جوانو اور بسیجیو! ایسی نوبت نہ آنے دو کہ مظلومیت شیعہ کی داستان ایک دفعہ پھر دہرائی جائے۔ سب پر واجب ہے کہ ولی فقیہ رہبر معظم کے فرامین کے مطیع رہو کیونکہ دشمنانِ اسلام نے اس بات پر کمر کس لی ہے کہ ولایت کو ہم سے چھین لیں۔ تم لوگ ہمت کرو، متحد اور یک جان ہو جاؤ تا کہ دشمن کی کمر ٹوٹ جائے اور ولایت باقی رہے۔

وصیت کرتا ہوں کہ مجھے ساری کے گلزارِ شہداء میں دفن کیا جائے۔ فقط یہ سبز رومال میری تنہا امید ہے جو مذہبی محافل و مجالس میں ہمیشہ میرے ہمراہ رہتا تھااور میرے دوستوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں سے تر  ہے۔ اسے میرے چہرے پر ڈال دینا۔

مجھے قبر میں لٹانے سے پہلے ایک ذاکر قبر میں اتر کر میری غریب دادی زہرا سلام اللہ علیہا اور میرے مسافر جد حسین علیہ السلام کی مصیبت بیان کرے۔

به شب اول قبرم نکنم وحشت و ترس
چون در آن لحظه حسین است که مهمان من است

قبر کی پہلی رات مجھے وحشت اور خوف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس وقت حسین علیہ السلام میرے مہمان ہیں۔

میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہتا ہوں کہ مجھے قبر کی تاریکی اور فشار سے بہت ڈر لگتا ہے۔ تمہیں پنج تن آل عبا کی قسم دیتا ہوں کہ جہاں  تک ہو سکے میرے لیے دعا کرنا اور میرے لیے نماز وحشت پڑھنا۔

جب میرا تابوت اٹھا کر قبر کی طرف لے جاؤ تو جہاں تک ہو سکے مہدی عجل اللہ اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو پکارتے رہنا۔

الحقیر سید مجتبیٰ علمدار