آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

منادِی وحدت، شہید علامہ دیدار علی جلبانی کا وصیت نامہ

شہید علامہ دیدار علی جلبانی ؒ نے 23اگست 1968؁ء کو سندھ کے علاقے خیرپورمیرس ٹھری میرواہ کے ایک دیندار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد کا نام رسول بخش جلبانی تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی اسکول سے حاصل کی جبکہ دینی تعلیم خیرپور کے ایک مقامی مدرسے سے حاصل کرنے کے بعد جامعہ المنتظر اور منہاج الحسین ؑ لاہور سے کسب فیض کیااور کچھ عرصہ منہاج الحسین ؑ میں تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے۔ علامہ دیدار علی جلبانی ؒ زمانہ طالب علمی میں خیر پور میں آئی ایس او کےیونٹ صدر بھی رہے ۔ لاہور میں بھی آئی ایس او کے ساتھ وابستہ رہے ، جبکہ مختلف ادوار میں اصغریہ آرگنائزیشن سے بھی منسلک رہے اور دینی امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔شہید علامہ دیدار علی جلبانی زمانہ طالب علمی میں دینی علوم کے حصول کیلئے قم المقدسہ بھی تشریف لے گئے جہاں کچھ عرصہ حوزہ علمیہ سے بھی کسب فیض کیا۔حصول علم کے بعد کچھ عرصہ سعودیہ عرب میں ملازمت کی غرض سے مقیم رہے اور ایک مقامی مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیے۔ 1997ء؁ میں ۱۸ ذی الحجہ کے دن رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان کے ہاں ایک بیٹے (شاہد حسین جلبانی ) اور ایک بیٹی (فاطمہ صغریٰ ) کی ولادت ہوئی۔ شہید علامہ دیدارعلی جلبانیؒ تادم مرگ طویل عرصہ تک جامع مسجد الحسینی ؑ ایوب گوٹھ نزد سپارکو گلستان جوہر کراچی میں امام جمعہ والجماعت کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ وہ شروع سے ہی انقلابی وجذباتی فکر ونظر کے حامل تھے۔اپنے خطبات میں حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور ملت جعفریہ کے خلاف ظالمانہ اقدامات پر ببانگ دہل اپنے موقف کا اظہار کیا کرتے تھے اور بلاخوف وخطر انہیں آڑے ہاتھوں لیا کرتے تھے۔ وہ متعدد فلاحی امور بھی اپنی مساجد سے انجام دیا کرتے تھے۔ موثر شخصیت کے حامل علامہ دیدار جلبانی ؒ تمام طبقات اور برادریوں میں بااثر تصور کیے جاتے تھے۔ 2013؁ءمیں جب قومی انتخابات کا اعلان ہوا تو سیاسی ومذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ملک بھر سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ علامہ دیدارعلی جلبانی ؒ نے انتخابات میں حصہ لینے کو اپنی قومی وشرعی ذمہ داری سمجھتے ہوئےباقائدہ ایم ڈبلیوایم میں شمولیت کا اعلان کیا اور اپنے رہائشی حلقے پی ایس 126سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر ایم ڈبلیوایم کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لیا۔ ملت جعفریہ میں سیاسی شعور کی بیداری اور ووٹ کی طاقت سے آگہی کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔انہوں نے اپنے مد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ انہوں نے روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابل بھاری ووٹ لیکر چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔ بعد ازاں اپنی تنظیمی فعالیت کو اسی اندازمیں جاری وساری رکھا اور پھر ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کی کابینہ میں ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے ذمہ داریاں حاصل کیں۔ بطور ڈویژنل ڈپٹی سیکریٹری جنرل انہوں نے کراچی کے مختلف اضلاع کے دورہ جات کیے اور  کارکنان کو منظم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

4دسمبر 2013؁ءکو  ناصبی تکفیری دہشت گردوں نے انہیں اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔  وہ نماز ظہرین کےبعد یونیورسٹی روڈ سے گزررہے تھے کہ ان کی کار کو جامعہ کراچی کے سامنے موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے روکااور اندھادھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں انہوں نے اور ان کے باوفامحافظ سرفراز بنگش نے جام شہادت نوش کر لیا۔ ان کی نماز جنازہ اگلےروز ایم اے جناح روڈ پرمین نمائش چورنگی پر ایم ڈبلیوایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی زیر اقتداءاداکی گئی، جس میں علمائے کرام، ذاکرین عظام، سیاسی وسماجی شخصیات اور پسماندگان سمیت ہزاروں کی تعدادمیں مومنین نے شرکت کی۔ بعد ازاں ان کا جسد خاکی خصوصی طیارے کے ذریعے انکے آبائی علاقے خیرپورمیرس ٹھری میرواہ کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

انہوں نے اپنی شہادت سے پہلے یہ وصیت کی تھی:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

میرے دشمن دیکھ لیں، مجھے قتل کرانے والے دیکھ لیں، میں زندہ ہوں۔ میں لوگوں کے درمیان ہوں۔ میں ان سے گفتگو کر رہا ہوں۔ لیکن میرے دشمن کی قسمت میں گمنامی ہے۔ چونکہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ مجھے قتل کر کے میری آواز کو دبا دیں گے۔ میرے پیغام کو آپ بھائیوں اور بہنوں تک پہنچنے سے روک دیں گے۔ لیکن میرا پیغام آپ تک پہنچ رہا ہے اور یہی ان کی شکست کا ثبوت ہے۔ کیونکہ میرا پیغام حسینؑ ابن علیؑ کا پیغام ہے۔ کل حسینؑ ابن علیؑ کا قاتل بھی یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ میدان کربلا میں حسینؑ ابن علیؑ اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر کے پیغام الٰہی کو دنیا میں پھیلنے سے روک دے گا۔ لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیغام حسینؑ ابن علیؑ پھیلتا جا رہا ہے۔

دراصل جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دے وہ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی نابینا ہو جاتے ہیں۔ وگرنہ شب انیس رمضان میں مسجد کوفہ میں حالت سجدہ میں لعین ابن ملجم کی تلوار کا زخم کھانے کے بعد علیؑ ابن ابی طالبؑ کا یہ کہنا کہ ’’رب کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا۔‘‘ چشمِ بصیرت رکھنے والوں کے لیے یہ کافی تھا۔ کیونکہ مولائے کائنات دنیا کو بتا رہے تھے کہ حق کی راہ میں قتل ہونا بھی کامیابی ہے۔ ایک ایسی کامیابی کہ جو باطل کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنا دیتی ہے۔

میرے بھائیو اور میرے چاہنے والو! تمہارا بھائی اور تمہارا خادم دیدار علی جلبانی تمہارے درمیان موجود ہے۔ کیونکہ ارشاد الٰہی ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو ہر گز مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں اور بارگاہِ الٰہی سے رزق حاصل کرتے ہیں۔ پس میں دشمن کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ پیروکارِ حسینؑ ابن علیؑ کی طاقت کو دیکھ! تو نے چاہا کہ مسجد و امامبارگاہ الحسینی سے بلند ہونے والی حق کی آواز اور پیغام امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا پرچار رک جائے لیکن آج صرف سچل، ایوب گوٹھ، بلاول گوٹھ، صفورا، موسمیات اور اردگرد کے علاقوں ہی میں نہیں، صرف کراچی شہر میں ہی نہیں، پورے ملک میں ہی نہیں، ملک سے باہر بھی دیدار علی جلبانی کا پیغام اور ذکر پھیل رہا ہے۔ آج ہر جگہ، ہر بچہ و بوڑھا، مرد و عورت مجھے مظلوم اور تجھے ظالم کہہ رہے ہیں۔ یہ کس کی فتح ہے، یہ حق کی فتح ہے۔ اور یہی میرا مشن ہے۔ حق غالب رہے اور باطل مٹ جائے۔

میرے دوستو، میرے سنی شیعہ بھائیو، یہ دہشتگرد یہ قاتل صرف کسی شیعہ یا کسی سنی کے دشمن نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت اور ملت اسلامیہ اور اس ملک کے دشمن ہیں۔ آپ کو ان کو پہچاننا ہو گا کیونکہ ان کی پہچان کے بغیر آپ ان سے محفوظ اور ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ میں آپ کو ان کی پہچان بتا دیتا ہوں۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف کام کرتے ہیں اور ان اسلام دشمن اقدامات کو دینِ اسلام قرار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ  ڈالنے والا مسلمان نہیں، لیکن انہوں نے اللہ کے گھر کو بھی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے اور فتنہ و فساد کی جگہ بنا رکھا ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن ان کے نزدیک بے گناہوں کو قتل کرنا ان کی پارٹی کا منشور اور راہِ نجات کا وسیلہ ہے۔ اس لیے اب جہاں بھی یہ دشمن اسلام کام انجام دینے جا رہے ہوں سمجھ لینا کہ یہ اللہ کے اور رسولؐ کے دشمن ہیں۔ تو اب اس کی پہچان کے بعد ان کی پیروی کرنا جہنم میں جانے کا سبب بنے گا۔

میری تمام لوگوں کو وصیت ہے کہ نماز کبھی ترک نہ کرنا۔ روزہ کو اس کے تمام تر احترام سے انجام دینا۔ تلاوت کلام پاک اگر عربی نہ آتی ہو تو ترجمہ کے ساتھ انجام دینا اور عزاداری سید الشہداء ہی ہے کہ جس نے مجھے ہمیشہ زندہ رہنے والی زندگی عطا کی ہے اور آپ بھائیوں اور محبت کرنے والوں کے درمیان رکھا ہے۔ آپ گواہ ہیں کہ میں ہر نماز کے بعد شہادت کی دعا مانگتا تھا تو یہ پروردگارِ عالم کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے مجھ گنہگار کو شہادت جیسی عظیم نعمت سے نوازا۔

میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ مسجد و امامبارگاہ الحسینی میں نماز جمعہ کے خطبے میں برائیوں کے خلاف گفتگو اور اچھائیوں کے پیغام کو عام کرنے کی شکل میں موجود رہوں گا۔ اور آپ دیکھیں گے کہ میری شہادت خواہ سنی ہو یا شیعہ سب کے درمیان اسلام کی حقیقی بیداری کا سبب بنے گی اور پورے ملک خصوصاً سچل گوٹھ، ایوب گوٹھ اور قرب و جوار کے علاقوں میں ہر گھر حسینؑ ابن علیؑ کی یاد منانے والوں کی آماجگاہ بنے گی۔

میں ایک مرتبہ پھر تمام بھائیوں اور بہنوں، بچوں اور بچیوں کو نماز کی پابندی اور ماؤں بہنوں کو پردے کی وصیت کرتے ہوئے اس بات کی بھی وصیت کرتا ہوں کہ اپنے گھروں پر علمِ حضرت عباسؑ لگا کر بتائیں کہ حسینیتؑ کو بڑھتے رہنا اور یزیدیت کو فنا ہونا ہے۔ کیونکہ یہ وعدۂ الٰہی ہے۔ ہر جگہ خصوصاً مسجد و امام بارگاہ الحسینی میں نماز جمعہ کے اجتماع کو اپنی شرکت سے بڑھا کر دوگنا کر دیں۔ انشاء اللہ آپ کا یہ عمل ہمیشہ  ہمیشہ کے لیے دشمن کو شکست سے دوچار کرے گا۔ یاد رکھیے، آپ میں سے ہر شخص کو دیدار علی جلبانی بننا ہے تا کہ دشمن کو شکست دیتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

آپ کا بھائی

دیدار علی جلبانی