آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

توسّل
[شہید محمد جواد اسلامی فرؒ]

ابھی بچپن ہی تھا کہ والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔اسی دن سے دل میں اس آرزو نے بسیرا کر لیا کہ والدہ سے ملاقات کریں گے۔ جب ذرا بڑے ہوئے تو ماں سے ملاقات کا عشق بھی تھوڑا بدل گیا۔ ایک حدیث جس میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو مومنین کی ماں کہا گیا ہے، کے مطابق وہ کہتے تھے: ’’میں چاہتا ہوں کہ شہادت سے پہلے میں ہم سب کی ماں کی زیارت کر سکوں۔‘‘

حجت الاسلام پناہیان کہتے تھے: ’’معرکہ خیبر کی رات میں نے انہیں دیکھا تو  وہ کافی خوش تھے۔ محسوس ہوتا تھا کہ اس دنیا میں ہیں ہی نہیں۔ ان کے دل میں سالوں سے جو آرزو تھی اسے میں جانتا تھا۔ میری طرف اشارہ کر  کے کہنے لگے: ’’میری آرزو پوری ہو گئی ہے۔ اب میرے دل میں اور کوئی آرزو نہیں ہے۔‘‘

محمد جواد یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ جنگ کی وجہ سے تعلیم کو خیرآباد کہہ دیا۔ وہ ذاکر بھی تھے۔ دل میں عجیب طرح کا سوز تھا۔ دعائے توسل سے خاص ارادت تھی۔ڈویژن کے پرانے دوست دوکوہہہ میں کی گئی ان کی ذاکری کو آج بھی یاد کرتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان کی زبان میں لکنت تھی مگر جب ذاکری کرتے تو کسی قسم کی مشکل نہ ہوتی۔

دسمبر 1983؁ء میں ان کی شادی ہوئی۔ سپاہ کے یونیفارم ہی میں  اپنی شادی کی تقریب میں شامل ہوئے۔ تقریب کے دوران مائیکروفون ہاتھ میں پکڑا اور کہنے لگے: ’’ہماری حقیقی شادی اس دن ہو گی جس دن ہم خون میں غلطان ہو جائیں گے۔‘‘ پھر اپنی شادی سے چالیس دن بعد معرکہ خیبر کے دوران مارٹر گولہ پھٹنے سے وہ اپنے خون میں غلطان ہو ہی گئے۔ اس وقت وہ سید الشہداء ڈویژن 10 کے شعبہ اطلاعات و نشریات کے انچارج تھے اور فرنٹ لائن پر لڑ رہے تھے۔

محمد جواد مشہد میں پیدا ہوئے اور وہیں رہتے تھے۔ لیکن جنگ کے اوائل ہی میں وصیت کر دی تھی کہ انہیں بہشت زہرا سلام اللہ علیہا میں دفن کیا جائے۔ وہ کہتے تھے: ’’ایک دن آئے گا کہ یہ قبرستان زیارت گاہ میں بدل جائے گا۔‘‘ اس وقت وہ بہشت زہرا سلام اللہ علیہا کے قطعہ 27 میں اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ محوِ آرام ہیں۔

ذیل کا متن اسی مسافر کمانڈر کے وصیت نامے سے ہے۔ محمد جواد اسلامی فر خدا کی وحدانیت، نبوت اور ولایت کے اقرار کے بعد اس حدیث سے اپنے وصیت نامے کا آغاز کرتے ہیں:

ہر نیک کام کے اوپر ایک اور نیک کام ہوتا ہے یہاں تک کہ انسان راہ خدا میں شہادت سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی وہ شہید ہوتا ہے تو پھر اس سے اوپر کوئی درجہ باقی نہیں رہتا۔

حمد و سپاس ہے اس خدا کے لیے کہ جس نے ہماری ہدایت کی۔ اگر وہ ہماری ہدایت نہ کرتا تو ہم قطعاً ہدایت نہ پا سکتے تھے۔ خدا کا احسان ہے کہ میں نے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔

اس معبود کا شکر کہ جس نے مجھ پر یہ عنایت کی کہ میں جوانی ہی میں مسلمانوں کے انقلابی جوش و خروش کی طرف متوجہ ہو گیا اور منحرف ہونے سے بچ گیا۔

خداوندا! تیرا شکر ہے کہ تو نے اپنے اس بندے کو اس لائق سمجھا کہ وہ تیرے دشمنوں سے جنگ لڑ سکے۔ خدایا! لغزشوں سے ہماری حفاظت فرما اور مجھے ان شہداء میں سے قرار دے جنہیں تو نے عِنْدَ رَبِّهِمْ يرْزَقُونَ کا وعدہ دے رکھا ہے۔

خداوندا! میں جوان تھا تو میں نے گناہ کیے۔ تو نے مجھے نعمتیں دیں مگر میں نے ناشکری کی۔ تو نے مجھ پر عطا کی مگر میں نے جفا کی۔ تو نے ایک باتقویٰ اور دوراندیش رہبر بھیجا لیکن میں نے اس کی پیروی نہ کی۔ صالح اور متقی افراد  کو تو نے نمونہ عمل بنایا مگر میں نے ان سے کچھ سبق نہ لیا۔ شہداء کا پاک خون میرے آنکھوں کے سامنے زمین پر بہا، جوانوں کے پاک و مطہر اجسام میری نگاہوں کے سامنے ہوا میں اڑ گئےمگر میں نے ایک لحظے کے لیے بھی ان  کے راستے پر چلنے کی فکر نہیں کی۔

حق کے لطف اور امام کی ہمت و رہبری کی بدولت ایک عظیم اسلامی انقلاب بپا ہو گیا مگر میں اپنے آپ میں کوئی انقلاب نہ لا سکا۔ اپنے اعمال کے ذریعے ہر لمحہ تجھ سے دور ہوتا چلا گیا۔

مہربان خدا! میرے گناہ زیادہ ہیں، نامہ اعمال سیاہ، دل تیرہ اور پتھر ہو چکا ہے۔ اور سب مصیبتوں سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ تو نے مجھ سے اپنے ساتھ مناجات کی لذت بھی چھین لی ہے۔ کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ کیا کہوں۔ فقط یہی کلمہ میری زبان پر آتا ہے: یا غفار!

کیا فرار ہو جانے والے غلام کی اپنے مولا کے گھر کے علاوہ بھی کوئی جگہ ہے۔ خدایا! تو وہ پروردگار ہے کہ جس نے اپنی رحمت کا ایک دروازہ اپنے بندوں کی طرف کھول کر اعلان کر رکھا ہے: تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا۔ خدا کی طرف آؤ اور ایسے کہ پھر لوٹ کر نہ جا سکو۔ جو اس گھر میں داخل نہ ہو وہ قیامت کے دن کیا عذر لے کر جائے گا؟!

خدایا! اگر میں تیرے کرم کے لائق نہیں ہوں تو  تیرے لیے شائستہ ہے کہ تو مجھ پر اپنے وسیع فضل و کرم کی بارش فرما۔ خدایا! میں تیرا کمزور اور گناہگار بندہ ہوں جبکہ تو ایک قدرتمند اور مجھے بخشنے والا خدا ہے۔ خدایا! اگر تو مجھے بخش دے یا آگ میں ڈال دے تو کوئی بھی تجھ پر اعتراض کرنے کا حق نہیں  رکھتا۔ کیا تو نے خود نہیں کہہ رکھا: ’’جو بھی مجھے پکارتا ہے میں اس کا جواب دیتا ہوں۔‘‘ خدایا! مجھے ان لوگوں میں سے قرار نہ دے جن سے تو نے اپنا منہ موڑ لیا ہے۔

اب میں جو محاذ پر آ گیا ہوں تو وہ اس وجہ سے کہ سب جان لیں کہ میں نے اپنے نفس کو خوش کرنے، اچھا وقت گزارنے اور آوارہ گردی کرنے کے لیے اس میدان میں قدم نہیں رکھا۔ یہ عاشقوں کی کربلا ہے۔ یہ ایثار و اخلاص کی یونیورسٹی ہے۔

اے لوگو! خدا اگر چاہتا تو خود کافروں سے انتقام لے سکتا تھا مگر ایمان و کفر کی یہ جنگ میرے اور آپ کے امتحان کے لیے ہے تا کہ مجاہدین اور منافقین کی شناخت ہو سکے۔

اے وہ لوگو جو محاذ اور اس پر بہنے والے اس خون کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، جان لو کہ شہداء اتنی آسانی سے تمہیں معاف نہیں کریں گے۔

اے وہ لوگو جو قائم (عجل اللہ) کے انتظار میں بیٹھے ہو، خود قیام کرو۔ اسلام کے مورچوں میں اترو اور یہاں بیٹھ کر اسلام پر حملہ کرنے والوں کے منتظر رہو۔ اس لیے کہ یہ انتظار لمبا نہیں ہو گا کیونکہ یوسفِ زہرا سلام اللہ علیہا ہر روز اپنے مخلص سپاہیوں کے پاس آتے ہیں۔

محاذ بدر و حنین کے مناظر کی تکرار ہے جس پر فقط راہِ حسین علیہ السلام پر چلنے والے لوگ ہی آ سکتے ہیں۔ محاذ خمین کے بوڑھے شخص([1]) کے عاشقوں کی منزل ہے۔

اے دوستو اور رشتہ دارو جو مشہد جاتےہو! امام رضا علیہ السلام کی قبر کے کنارے اپنے اس رو سیاہ ہمسائے کے لیے بھی دعا کرنا جو مشہد سے نکل گیا ہے۔  مجھے بہشت زہرا سلام اللہ علیہا میں دفن کرنا۔ میری قبر پر یہ عبارت لکھنا: ’’یا وجیھا عند اللہ اشفع لنا عند اللہ۔‘‘ شاید شکستہ پہلو والی فاطمہؑ کے بیٹے ہماری آبرو رکھ لیں۔

اپنی مرحومہ ماں سے کچھ باتیں:

خدایا! اپنے مولا حسین علیہ السلام کی طرح میری ماں بھی بچپن میں فوت ہو گئیں  اور میں ان کی محبت سے فیض یاب نہ ہو سکا۔ میری ماں نہیں ہیں جو میرے لیے روئیں۔ لیکن ام البنین نے مدینہ میں امام حسین علیہ السلام کے لیے گریہ کیا تھا، بین کیے تھے اور اپنے بیٹوں کو ان کی مدد کے لیے بھیجا تھا۔

ماں، اگرچہ میں نے آپ کو نہیں دیکھا مگر خدا سے دعا ہے کہ آپ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس خوش و خرم رہیں۔۔۔

جو کچھ بھی ہے محاذ پر ہے۔ جو کوئی کسی کی تلاش میں ہے یا روحانی ضرورت رکھتا ہے تو اسے محاذ پر بھیج دیں۔ مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’انسان جو قدم بھی اٹھاتا ہے اور اس کی زندگی کا جو لمحہ بھی گزرتا ہے وہ موت سے نزدیک تر ہوتا جاتا ہے۔‘‘ پس میں اور میرے جیسے لوگ قدم بہ قدم دوزخ سے نزدیک ہوتے جا رہے ہیں۔

خدا قرآن میں فرماتا ہے: ’’اگر مغفرت چاہتے ہو تو خدا پر ایمان لے آؤ۔ اس کے راستے  میں جہاد کرو تاکہ اللہ کے ہاں عظیم ترین درجہ پا سکو۔‘‘

اپنی بیوی سے دو باتیں:

میں اور تم وہ پہلے میاں بیوی نہیں ہیں جن کی زندگیوں کو دشمنانِ خدا نے درہم برہم کر دیا ہے۔ ہمارے محلے کی طرف دیکھو، ہمارے شہر پر نگاہ ڈالو۔۔۔

کس قدر باتقویٰ جوانوں نے خوشی، زندگی اور اپنی بیویوں کو خدا کی راہ میں ترک کر دیا۔ لیکن خدا کے ساتھ رابطے کا مسئلہ حل ہے۔ تمہیں یاد ہے، میں نے کہا تھا کہ ہماری حقیقی شادی کس دن ہو گی؟

لو، آج میری اور تمہاری خوشی کا دن ہے۔ لوگوں میں خوش و خرم رہو اور ان کی مبارکباد کو دل و جان سے قبول کرو۔ہمیشہ یہ آیت تمہارے ذہن میں رہنی چاہیے: يا أَيهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِي الْحَمِيدُ۔

دنیا و آخرت میں اپنے آقا اباعبداللہ علیہ السلام کی زیارت کی امید کے ساتھ


([1]) امام خمینیؒ۔ آپ کو آپ کے علاقے خمین ہی کی وجہ سے خمینیؒ کہا جاتا ہے۔