آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

عاشقانہ 

شہید مصطفیٰ ردّانی پورؒ کا وصیت نامہ 

بچپن میں شدید مریض ہو گئے اور مرض اتنا شدت پکڑ گیا کہ بالآخر موت کا سبب بن گیا۔ بچے کی میت کو صحن کے ایک طرف رکھ دیا گیا تا کہ صبح دفنا دیا جائے۔

اگلے دن ایک پیر صاحب ان کے گھر آئے اور کہنے لگے: ’’بچےکی ماں سےکہو کہ اسےدودھ پلائے۔ میں نے خدا سے اس کی عمر کے لیے دعا کی ہے۔ ماں نے بچےکی میت کو اٹھایا  اور سینے سے لگا لیا۔ بچے کے ہونٹ ہلےاور۔۔۔‘‘

مصطفیٰ ایک زیرک اور ذہین بچے تھے۔ انہوں نے ہائی سکول کے زمانے میں ایک عجیب خواب دیکھا۔ جس کی تعبیر یہ نکلی کہ وہ حوزہ علمیہ میں داخل ہو گئے۔ تحصیل علم کے ساتھ ساتھ وہ تہذیب نفس سے غافل نہیں رہے۔ چھٹی والے دن کام کرتے  اور منگل والے دن پیادہ جمکران جاتے۔ تبلیغ کےلیے وہ دورافتادہ گاؤں اور دیہاتوں کا انتخاب کرتے۔ انقلاب کی کامیابی کے دنوں میں کئی بار اسیر ہوئے۔

وہ سپاہِ([1]) یاسوج  کے بانی اور پہلے کمانڈر تھے۔ ایک علاقے کا گشت کر رہے تھے کہ منافقین نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ وہ اپنی کار سے اتر پڑےاور کہنےلگے: ’’بےشک مار دو۔ میرا عمامہ میرا کفن ہے۔‘‘ یہ ان کا وہی معروف جملہ تھا جو انہوں نےاپنے وصیت نامے میں بھی لکھا۔

زخمی ہونے کی وجہ سے وہ تہران کے ہسپتال میں داخل ہو  گئے۔ محاذ پر جانا چاہتے  تھے مگر پاس پیسے نہیں تھے۔امام زمانہ (عجل اللہ) کے علاوہ تہران میں ان کا کوئی آشنا نہ تھا۔ مولا سے توسل کیا تو ایک نورانی سید ان کی ملاقات کے لیے آ گئے اور انہیں ایک جیبی مفاتیح الجنان ہدیہ دیتے ہوئے کہنے لگے: ’’یہ تمہیں محاذ تک پہنچا دے گی۔‘‘ کتاب کے اندر کچھ کورے نوٹ پڑے تھے۔ جیسے ہی محاذ پر پہنچے تو وہ پیسے بھی ختم ہو گئے۔

افسری کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے وہ صاحب الزمان (عج) کور کی کمان کا تجربہ بھی ہوا۔ اس کور میں پانچ ڈویژنز شامل تھیں۔

ان کی شجاعت اور بہادری اپنی مثال آپ تھی۔انہوں نےمجاہدین کو روحانیت و معنویت کی بلندی تک پہنچا دیا تھا۔ سپاہ کے سرداروں کی علماءقم سے ملاقات کروانا بھی ان کی ذمہ داریوں میں سے ایک تھا۔ ایسے ہی ایک سفر میں علامہ مصباح یزدی جو ان کے استاد بھی تھے نے ان کےایک شاگرد کے ہاتھوں پر بوسہ بھی دیا تھا۔

انہوں نے ایک شہید کی بیوہ سے شادی کی جو سیدہ تھیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اس ذریعے سے حضرت زہرا سلام اللہ کے محرم بن جائیں۔ شادی کے تین دن بعد محاذ پر چلے گئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ گمنام رہنا چاہتے ہیں۔ انہیں ایک ایسی جگہ پر رہنا زیادہ پسند ہےجہاں کسی کی دسترس نہ ہو۔

معرکہ والفجر۲ میں انہوں نے برہانی کے ٹیلوں پر اپنی شجاعت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ اس کے بعد سے آج تک کسی کو ان کے بارے میں کچھ بھی خبر نہیں۔مصطفیٰ ردّانی پور6 اگست 1983؁ کو ایمان و شجاعت کا ایک دیومالائی کردار بن کر امر ہو گئے۔ آج تک ان کا سراغ نہ مل سکا۔

مصطفیٰ کی عجیب ترین چیزوں میں سے ایک ان کا وصیت نامہ ہے۔ ان کی اصلی وصیت جنگ شروع ہونے سے تین دن پہلے لکھی گئی جس وقت وہ کردستان میں نمائندۂ ولی فقیہ تھے:

 

حمد ہے اس خدا کی کہ جس کےجلال کے انوار عقولِ انسانی کے افق پر ہر گھڑی تاباں ہیں اور جس کے احکام کتاب و سنت کی زبان سےنمایاں ہیں۔

وہ خدا کہ جس نے اپنے دوستوں کو اس فریب کار دنیا پر فریفتہ ہو جانے سے نجات عطا فرمائی اور انہیں مختلف قسم کی خوشیاں عطا فرمائیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ اس نے انہیں زیادہ نعمتیں بخشیں یا انہیں نیک راہ سے ہٹنے نہ دیا بلکہ اس جہت سے کہ وہ الطافِ الٰہی کو قبول کرنے کی لیاقت و اہلیت رکھتے ہیں اور اس کی صفات کے رنگ میں رنگے جانے کے قابل ہیں۔ پس وہ اس بات پر راضی نہ ہوا کہ اس کے بندے بے کار بیٹھے رہیں اور اپنی زندگی کو بے فائدہ گزار دیں بلکہ انہیں توفیق عطا فرمائی کہ وہ اپنے آپ کو کامل کردار سے مزین کریں تا کہ اس کے علاوہ ہر چیز سے بے نیاز ہو جائیں اور ان کا ذوق سلیم شرافتِ خوشنودی پروردگار کی لذت سے آشنا ہو جائے۔ اس پہلو سے انہوں نے اپنے دلوں کو اس کے سایۂ لطف و عنات کے انتظار میں دنیا سے پھیر لیا ہے اور  اپنی آرزوؤں کا رخ اس کی بخشش و فضل کی طرف کر دیا ہے۔

ان کے وجود میں تمہیں ایسا سرور نظر آئے گا جو فقط انہیں دلوں کے ساتھ مخصوص ہے جو عالم جاودانہ کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں اور ان کے قیافوں پر ایسا ڈر دکھائی دے گا جو حضرت حق تعالیٰ کی ملاقات کی ہیبت کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اس چیز کی طرف ان کا شوق ہمیشہ فزوں رہتا ہے جو انہیں حضرت حق کی خواہش کے نزدیک کر دے، ان کا میلان ان احکام کی انجام دہی کی طرف رہتا ہے جو خداوند کریم نے صادر فرمائے ہیں، ان کے کان اسرار الٰہی کو سننے کے ہر وقت آمادہ جبکہ ان کے دل اس کی یاد سے شیریں کام  رہتے ہیں۔

ان کے ایمان کی مقدار کے مطابق اس نے انہیں اپنے ذکر کی لذت سے بہرہ مند فرمایا ہے اور اپنی بخشش و عطا کے خزانے سے بغیر کوئی احسان جتلائے انہیں وہ کچھ وافر عطا کیا ہے جو اس کی بخشش اور مہربانی کے مطابق ہے۔

وہ چیز ان کی نظروں میں بہت ہی حقیر ہے جو ان کےدلوں کو جلالِ حق سے غافل کر دے اور جو چیز بھی انہیں اپنے دوست کے وصال سے دور لے جائے اسے فوراً ترک کر دیتے ہیں تا کہ اس کے کرم و کمال سے مانوس ہو کر لذتِ وصل کے خمار میں ڈوب جائیں۔

وہ ہمیشہ ہیبت و جلال کا زیور اور  ایسا ہی لباس فاخرہ زیبِ تن کرتے ہیں اور جب دیکھتےہیں کہ ان کی دنیاوی زندگی احکامِ خداوندی کی پیروی میں رکاوٹ بن رہی ہے اور اس دنیا میں رہنا ان کے اور ان کے پروردگار کی بخششوں کے بیچ حائل ہو رہا ہے تو فوراً اس زندگی کا لباس اپنے وجود سے اتار پھینکتے ہیں اور دیواروں میں لگے دروازوں پر دستکیں دینے لگتےہیں۔ اور اس کامیابی تک پہنچنے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے آپ کو گولیوں اور گولوں کے حوالے کر دینے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔

کربلا کے بہادروں کا جذبہ جانثاری اس شرافت کی انتہا تک پہنچ چکا تھا کہ وہ اپنے امامؑ پر قربان ہونے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں رہتے اور اپنی جانوں کو نیزوں اور تلواروں کے آگے رکھ دیتے۔ یہی جذبہ آج سرزمینِ اللہ اکبر (ایران) پر بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر روز ہمیں ایسے ہی عشق  اور والہانہ پن کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

*****

اےملت کے بہادرو!

جان لو کہ آج تمہاری ذمہ داری بہت بڑی اور تمہارا بوجھ بہت بھاری ہے۔ تمہیں چاہیے کہ خون شہداء کی حفاظت کا فریضہ جو تمہارے حصے میں ہے اسے اچھی طرح انجام دو۔

تم اس راستے کو اسی صورت میں جاری رکھ سکتے ہو جب تم فقط اور فقط ذمہ دار  اور سمجھدار علما کی اطاعت کرو کہ آج جن کے سرخیل ہمارے عظیم امام خمینیؒ ہیں۔

آج پوری دنیا میں کہیں بھی ایسی عظمت و حشمت والی حکومت کا وجود نہیں ہے جس کی سربراہی ایک بزرگ مرجع کر رہے ہوں۔

خدا کی راہ میں حرکت کرنے میں مشکلات اور رنج و آلام ہوتے ہیں مگر تم صبر و استقامت سے راہِ انبیاء کو جاری رکھو کیونکہ آج ہمارے جوان اپنے خون کے ذریعے تمام رکاوٹوں کو دور کر رہے ہیں اور قیامت کے دن ہم خداوند کریم کےحضور کوئی عذر نہیں کر سکیں گے۔

علماء کےبغیر اسلام، اصلاً اسلام ہی نہیں ہے۔ دشمن کے  آگے باندھے ہوئے اس بند (ولایت فقیہ)کو ٹوٹنے نہ دینا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن یہ عظیم نعمت تم سے اور تمہاری ملت سے چھین لیں اور ایک کھوکھلا اسلام لوگوں کے حوالے کر دیں۔ علماء کے بغیر اسلام کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

والسلام۔ مصطفیٰ ردّانی پور۔ 19 ستمبر 1980؁

*****

وصیت کا بقیہ حصہ اور شہادت سے پہلے لکھی گئی کچھ اور تحریریں:

میں محاذپر اس لیے آیا ہوں تا کہ اپنی گذشتہ کوتاہیوں کی تلافی کر سکوں اور اپنے آلودہ خون کو خدا کی راہ میں بہا دوں تا کہ شہداء کے پاک خون کے ذریعے اس کی تطہیر ہو جائے۔ اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو تم استقامت اور ثابت قدمی سے میرے راستے کو جاری رکھنا۔

دعا کریں کہ خدا مجھے شہداء میں سے قرار دے۔ خدا کی راہ میں قربانی دینے سے مت گھبراؤ۔ میری بہنو! اپنے بچوں کی تربیت میں کوشاں رہو اور حجاب کا خیال رکھو۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی طرح زندگی گزارو۔ اپنی شوہروں کو خدا کی جانب جانے کی ترغیب دو۔

۔۔۔ زندگی کو میں نے جتنا پڑھا اور محسوس کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

سعادت کا واحد راستہ بندگی خدا کے کمال تک پہنچنا ہے۔اس کی بندگی اس کے احکام کی بجاآوری اور محرمات کو ترک کے ذریعے ہوتی ہے۔ اسلام کے تمام احکام ان د و جملوں میں خلاصہ کیے جا سکتے ہیں:

خد ا کی فرمانبرداری          اور           شیطان کی نافرمانی

میری نصیحت ہے: اےلوگو! خدا اور روزِ جزا کو ہمیشہ یاد رکھو۔

ائمہ اطہار علیہم السلام کےپیروکار بن کر رہو: واللازم لکم لاحق و المارق عنکم زاھق۔

لوگو! ہمیشہ علماء کے ساتھ متمسک رہو کیونکہ وہ راہِ ہدایت کے چراغ ہیں۔ امام کی اطاعت کرو اس لیے کہ وہ اسلام کی ایک بہترین مثال ہیں۔ انہیں تنہا نہ چھوڑنا اس واسطےکہ وہ حضرت حجۃ ابن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کےنمائندے ہیں۔

یکم اگست 1983؁۔ مصطفیٰ ردّانی پور

*****

لیکن ان کے سب سے زیادہ عجیب و غریب کلمات وہ ہیں جو انہوں نے پیرانشہر میں اپنی شہادت سے دو دن پہلے لکھے تھے۔ عبارت ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی شہادت کی خبر دے رہے ہیں:

اب جانے کا وقت آن پہنچا ہے اور اپنے دوستوں سے ملنے کی توفیق مل چکی ہے، جن کے ساتھ میں نے پیمانِ شہادت باندھا تھا۔  انتہائی شرمندگی سے آپ سب سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے کچھ کلمات بطور وصیت لکھ رہا ہوں۔ جو میرے لیے بخشش کا وسیلہ بنیں اور میرے حق میں رحمت اور عفو و درگزر کا سبب بنیں۔

وہ لوگ جو مختلف عہدوں پر فائز ہیں اور جنہوں نے شہدا کے خون اور گمنام سپاہیوں کے ایثار، استقامت، زحمت اور کوشش کے ذریعے نام و اکرام کمایا ہے وہ اپنے حوالے سے محتاط رہیں۔

میرے عزیز دوستو!

سعادت تک پہنچنے کا فقط ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے حرام کاموں کو ترک کرنا اور واجبات کو انجام دینا۔ خدا سے قریب ہونے کا بس یہی رستہ ہے۔

ایک دوسرےکا ہاتھ تھامو اور شہیدوں کا راستہ جاری رکھو کہ یہی راستہ تمہیں خدا تک پہنچانے والا ہے۔

4 اگست 1983؁۔ مصطفیٰ ردّانی پور


([1]) سپاہ پاسداران۔ انقلاب اسلامی کے بعد عراق ایران جنگ کے دنوں میں امام خمینیؒ کے حکم سے وجود میں آنے والی رضاکارانہ فوج۔ یاسوج ایران کا ایک شہر ہے۔