فقط خدا تھا، اور کچھ بھی نہ تھا
[شہید مصطفیٰ چمرانؒ]
ڈاکٹر مصطفیٰ چمران عصر حاضر کی نابغہ شخصیات میں سے ایک تھے۔ان کا بچپن تہران میں گزرا۔ وہیں تہران یونیورسٹی میں انہوں نے فزکس میں گریجویشن کیا اور پھر سکالرشپ پر امریکہ چلے گئے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی جس سے وہ عالمی سطح پر چند گنے چنے اعلیٰ پائے کے دانشمندوں میں شمار ہونے لگے۔
ڈاکٹر چمران نے اپنی اسلامی اور انقلابی اصلیت کو کبھی فراموش نہ کیا۔ انہوں نے آسائشوں بھری زندگی کو ترک کیا اور امریکہ سے مصر چلے گئے۔ اس کے بعد لبنان آ گئے۔ وہاں امام موسیٰ صدر کے ساتھ تحریک امل کی بنیاد ڈالی۔
ان کی انقلابی تحریکوں کے ثمرات آج بھی لبنان میں دکھائی دیتے ہیں۔
انقلاب کا زمانہ شروع ہوتے ہی وہ ایران واپس آ گئے اور وزارت دفاع کا قلمدان سنبھال لیا۔جنگ کے بحرانی حالات میں گوریلا گروپوں کی بنیاد رکھی۔
ڈاکٹر چمران نے دشمن کو انتہائی کاری ضربیں لگائیں۔ 21 جون 1981ء کو منطقہ دہلاویہ نے آخری بار ان کی شجاعت و شہامت کا مشاہدہ کیا۔ وہ دہلاویہ کے مورچوں سے ملکوت اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئے۔
ان کی یادگاروں میں سے ایک بہترین یاد گار ان کا ایک وصیت نامہ اور مختلف تحریریں ہیں۔ ذیل میں ان کے وصیت نامے کا مختصر سا حصہ پیش ہے جو انہوں نے امام موسیٰ صدر کو خطاب کر کے لکھا ہے:
میں وصیت کرتا ہوں۔۔۔
وصیت کرتا ہوں انہیں جنہیں میں حد سے زیادہ پسند کرتا ہوں! وصیت کرتا ہوں امام موسیٰ صدر کو! وہ جنہیں میں مظہرِ علی علیہ السلام سمجھتا ہوں! انہیں میں وارث حسین جانتا ہوں! وہ جو شیعوں کے لیے باعث افتخار و فخر ہیں اور چودہ سو سال سے مسلسل ملنے والے درد، غم، محرومی، جنگ، مشکلات، حق طلبی اور بالاخر شہادت کے نمائندہ ہیں! ہاں میں امام موسیٰ صدر کو وصیت کرتا ہوں۔۔۔
میں نے اپنے آپ کو موت کے لیے تیار کر لیا ہے اور یہ ایک ایسا طبیعی امر ہے جس کے ساتھ میں ایک عرصے سے آشنا ہو چکا ہوں۔ لیکن وصیت پہلی بار کر رہا ہوں۔ میں بہت خوش ہوں کہ مجھے اسی راستے میں شہادت نصیب ہو گی۔
مجھے خوشی ہے کہ دنیا و مافیہا سے میرا تعلق منقطع ہو چکا ہے ۔ میں نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ دیا ہے۔ علائق کو اپنے پاؤں کے نیچے روند کر رکھ دیا ہے۔ قید و بند کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔دنیا کو تین طلاقیں دے چکا ہوں اور اپنی بانہیں پھیلا کر شہادت کے استقبال کو جا رہا ہوں۔
مجھے اس بات پر ذرا سا بھی افسوس نہیں ہے کہ میں لبنان آیا اور پانچ چھ سال تک سخت مشکلات میں گھرا رہا۔
اور اس بات پر بھی پچھتاوا نہیں ہے کہ میں نے امریکا کو چھوڑ دیا، لذتوں اور راحتوں بھری دنیا کو پشت کر لی، دنیائے علم کو خیر آباد کہہ آیا اور اپنی پیاری بیوی اور عزیز بچوں کے ساتھ گزرے ہوئے تمام خوبصورت لمحات کو الوداع کہہ دیا۔
میں اس مادی اور آسائش والی دنیا کو چھوڑ آیا ہوں اور درد، محرومی، رنج، شکست، تہمت، فقر اور تنہائی کی ماری اس دنیا میں اپنے قدم رکھ دیے ہیں۔ میں نے محرومیوں کی ہم نشینی اختیار کر لی اور دردمندوں اور شکستہ دلوں کا ہم آواز ہو گیا۔
سرمایہ داروں اور ستمگروں کی دنیا سے کنارہ کشی کر لی اور محروموں اور مظلوموں کی دنیا میں داخل ہو گیا۔ ان سب حالات پر مجھے کوئی پشیمانی نہیں ہے۔
اے میرے محبوب، تو نے ہی میرے سامنے ایک نئی دنیا کا در کھولا تا کہ خداوند متعال اچھی طرح میری آزمائش کر لے۔
تو نے ہی مجھے حوصلہ دیا کہ پروانہ بنوِں، جلوں، نور بانٹوں، عشق کروں، انسان کی بے نظیر قوتوں کا اظہار کروں، لبنان کے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک اپنے قدم رکھوں اور الٰہی اقدار کو سب کے سامنے پیش کروں۔
تا کہ میں ایک جدید، مضبوط اور الٰہی راستے کا مسافر بن سکوں، مظہر بن جاؤں، عشق ہو جاؤں، نور میں تبدیل ہو جاؤں، اپنے وجود سے جدا ہو کر معاشرے میں تحلیل ہو جاؤں تا کہ اس کے بعد نہ اپنے آپ کو دیکھ سکوں اور نہ ہی اپنی خواہش کر سکوں۔ اپنے محبوب کے علاوہ کسی کو نہ دیکھ پاؤں، عشق و فداکاری کے علاوہ اور کسی راستے پر نہ چلوں، موت سے آشنا ہو جاؤں اور اس سے دوستی کر لوں اور تمام مادی قیدوں اور بندشوں سے آزاد ہو جاؤں۔۔۔
اے میرے محبوب، تو نے اپنے کندھوں پر چودہ سو سالوں کے رنج و غم، اتہام و تہمت، نفرین و تشنیع کا بار اٹھا رکھا ہے۔ پرانے کینوں، تاریخی عداوتوں اور جہان سوز حسد و بغض کا بوجھ بھی برداشت کر رہا ہے۔ تو واقعاً قربانی دے رہا ہے۔
تو نے اپنی ہر چیز کو قربان کر دیا، اپن زندگی اور ذات کو اپنے ہدف اور انسانی معاشرے پر فدا کر دیا۔ جبکہ تیرے دشمن اس کے عوض میں تجھے دشنام دیتے ہیں، تجھ سے خیانت کرتے ہیں، تجھ پر جھوٹی تہمتیں لگاتے ہیں اور جاہل عوام کو تیرے خلاف بھڑکاتے ہیں۔
لیکن اےامام! تو ایک لحظے کے لیے بھی حق سے منحرف نہیں ہوتا اور ان حوادث کے مقابل میں ایک پہاڑ کی طرح پورے سکون اور اطمینان سے ڈٹا ہوا ہے اور حقیقت و کمال کی طرف رواں دواں ہے۔ اس جہت سے تُو علی علیہ السلام کا نمائندہ اور حسین علیہ السلام کا وارث ہے۔۔۔ اور میں اس بات پر افتخار کرتا ہوں کہ تیری رکاب میں جہاد کر رہا ہوں اور تیری ہی عظیم راہ پر چلتے ہوئے جامِ شہادت نوش کروں گا۔
اے میرے محبوب! آخر تو نے مجھے نہ پہچانا! کیونکہ حجاب و حیا اس چیز سے مانع تھا کہ میں اپنا آپ کھول کر تیرے سامنے رکھ دوں، یا عشق کا اظہار کروں، یا اپنے اندر کے الاؤ کے بارے میں بتاؤں۔
لیکن میں جو وصیت کر رہا ہوں اور تجھے سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں، کوئی سادہ انسان نہیں ہوں۔ میرے اندر کا آتش فشاں کل کائنات کو جلانے کے لیے کافی ہے۔ میرے عشق کی آگ اس قدر شدید رہی ہے کہ پتھر کو بھی آب کر سکتی ہے۔ جانثاری اس بلا کی ہے کہ اس درجے تک شاید ہے کوئی اپنی زندگی میں پہنچا ہو۔۔۔
میں تین خصوصیات کی بنا پر دوسروں سے ممتاز ہوں:
عشق: جو میری باتوں، نگاہوں، ہاتھوں، حرکات، حیات اور ممات سے چھلک رہا ہے۔ میں آتش عشق میں جل رہا ہوں اور عشق کے علاوہ اپنی زندگی کا کوئی ہدف بھی مجھے معلوم نہیں ہے۔ زندگی میں فقط عشق ہی کا طلبگار ہوں اور عشق کےبغیر زندہ رہنا محال تصور کرتا ہوں۔
فقر: کہ میں ہر چیز کی قید سے آزاد اور بے نیاز ہوں۔ اگر آسمان و زمین بھی مجھے سستے داموں دے دیں تب بھی مجھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔
تنہائی: جو مجھے عرفان سے متصل کرتی ہے۔جو مجھے محرومیوں سے آشنا کرتی ہے۔ جو عشق کا محتاج ہوتا ہے وہ تنہائی کے عالم میں عشق سے محرومی کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ خدا کے علاوہ اس کی تاریک راتوں کا انیس و مونس اور کوئی نہیں ہو سکتا۔۔۔
یہ شخص جو وصیت کر رہا ہے، سادہ انسان نہیں ہے۔ اس نے اعلیٰ ترین علمی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ زمانے کے گرم و سرد کا ذائقہ چکھ چکا ہے۔ خوبصورت ترین اور شدید ترین عشق کے مراحل سے گزر چکا ہے۔
لذاتِ زندگی کے درخت سے خوشہ چینی کر چکا ہے۔ ہر خوبصورت اور محبوب چیز کی لذت لے چکا ہے۔ اس نے کمال و ثروت کی انتہاء تک پہنچ کر ہر چیز کو چھوڑ دیا اور اپنے مقدس ہدف کی خاطر درد آلود اور اشکبار زندگی اور شہادت کو گلے لگا لیا ہے۔
ہاں، اے میرے محبوب! تجھے ایک ایسا ہی شخص وصیت کر رہا ہے۔۔۔
میری وصیت مال و منال کے بارے میں نہیں ہے، کیونکہ تجھے معلوم ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے بھی تو وہ تیرے اور اس تحریک اور ادارے کے لیے ہے۔جو کچھ بھی میرے پاس پہنچا ہے اس میں سے میں نے اپنی ذاتی ضروریات کے لیے کچھ بھی نہیں لیا۔
درویشانہ زندگی کے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، حتی بیوی، بچے، ماں، باپ نے بھی مجھ سے کسی چیز کا تقاضا نہیں کیا ہے۔ چونکہ میرا پورا وجود اس تحریک اور تیرے لیے وقف ہو چکا ہے پس جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہ بھی تیرا ہی ہے۔
میری وصیت قرض و دَین کے بارے میں بھی نہیں ہے۔ میں کسی کا مقروض نہیں ہوں، جبکہ دوسروں کو بہت زیادہ قرض دے رکھا ہے۔ میری زندگی میں محبت، فداکاری، تواضع اور احترام کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ اس حوالے سے بھی کسی کا مقروض نہیں ہوں۔۔۔
ہاں، میں ان چیزوں کے بارے میں قطعاً کوئی وصیت نہیں کر رہا۔
میری وصیت عشق، حیات اور ذمہ داریوں کے بارے میں ہے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہےکہ میری زندگی کا آفتاب ڈھلنے ہی والا ہے لہٰذا تجھے وصیت کرنے کا وقت بہت ہی کم رہ گیا ہے۔
میں تجھے سب سےزیادہ پسند کرتا ہوں اور یہ دوستی تجارت یا ضرورت کے تحت نہیں ہے۔ میں اس دنیا میں کسی کا بھی محتاج نہیں ہوں۔ حتی کہ بعض اوقات خدا سے بھی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا اور حاجت کا احساس نہیں ہوتا۔ میں کچھ نہیں چاہتا، نہ شکایت کرتا ہوں اور نہ ہی کوئی آرزو رکھتا ہوں۔۔۔
عشق ہی میری حیات کا ہدف اور میری زندگی کو حرکت میں رکھنے والا ہے۔ عشق سے زیادہ زیبا چیز میری نظر سے نہیں گزری اور نہ ہی عشق سے بڑھ کر میں نے کسی چیز کی خواہش کی ہے۔
یہ عشق ہی ہے جو میری روح میں ہیجان لاتا ہے، میرے دل کو جوش دلاتا ہے، میری سوئی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے، مجھے خود خواہی اور خودغرضی سے باہر نکالتا ہے۔ میں ایک اور ہی دنیا کا احساس کرتا ہوں۔ عالم وجود میں محو ہو جاتا ہوں اور ایک لطیف احساس، حساس دل اور خوبصورتیاں دیکھنے والی نگاہ مجھے حاصل ہو جاتی ہے۔
ایک پتےکی سرسراہٹ، ایک دور کے ستارے کی چمک، ایک چھوٹی سی چیونٹی، لطیف نسیمِ سحری، موجِ دریا، غروبِ آفتاب میرے احساس و روح کو مجھ سے چھین لیتے ہیں اور اس دنیا سے اٹھا کر کسی اور ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔یہ ساری کی ساری عشق کی تجلیاں ہیں۔
عشق ہی کی وجہ سے میں فداکاری کرتا ہوں۔ عشق ہی ہےجس کے بل بوتے پر میں دنیا سے بے اعتنائی برتتا ہوں اور دوسروں جہانوں کی سیر کرتا ہوں۔ عشق ہی کے سبب دنیا مجھے خوبصورت نظر آتی ہے۔ عشق ہی کے باعث خدا کو محسوس کرتا ہوں، اس کی پرستش کرتا ہوں اور اپنی ہستی و حیات کو اس کے حضور پیش کرتا ہوں۔
میں نے اس دنیا میں بہت سے لوگوں سےمحبت کی حتی کہ عشق تک کیا ہے مگر ہمیشہ برا جواب ہی پایا۔ لوگ عشق کو کمزوری سمجھتےہیں اور اپنی دانست میں چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محبت سے سوء استفادہ کرتے ہیں!
لیکن یہ نادان اور بے خبر لوگ نہیں جانتے کہ یہ عشق و محبت جیسی کتنی عظیم نعمت سے محروم ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے زندگی کے سب سے عظیم پہلوؤں کو تو درک ہی نہیں کیا۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ جسے وہ اپنی چالاکی سمجھتے ہیں وہ افلاس، بدبختی اور ذلت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
میں اپنے آپ کو اس سے کہیں بلند سمجھتا ہوں کہ اپنی محبت کو کسی پر نچھاور کرنے سے دریغ کروں حتی کہ اگر وہ میری محبت کا ادراک نہ بھی کرے اور اپنے تئیں سوء استفادہ کرے۔
میں کسی اجر اور صلے کی خاطر محبت کرنے یا عشق کے جواب میں کسی آرزو یا تمنا کا تقاضا کرنے کو بھی اپنے شایانِ شان نہیں سمجھتا۔ میں اپنے عشق میں خود ہی جلتا ہوں اور اس سےلذت لیتا ہے۔
یہ لذت سب سے بڑا انعام ہے جو عشق کے صلے میں مجھے ملتا ہے۔
اےمیرے محبوب! میں جانتا ہوں کہ تو بھی بحرِ عشق کا شناور ہے۔ انسانوں کو پسند کرتا ہے۔ سب سےبے دریغ محبت کرتا ہے۔ کتنے ہی لوگ تیری اس محبت سے سوء استفادہ بھی کرتےہیں حتی کہ تیرا تمسخر تک اڑاتےہیں اور اپنی دانست میں تجھے دھوکا دیتے ہیں۔
تو انہیں جانتا ہے لیکن اپنے رویے میں ہلکی سی تبدیلی بھی نہیں کرتا کیونکہ تیرا مقام اس سے کہیں بالا ہے کہ تو دوسروں سے متاثر ہو کر عشق و محبت کرے۔ نہیں، تیرا عشق تو فطری ہے۔
تو آفتاب کی طرح ہر جا ضوفگن ہوتا ہے اور بارش کی مانند چمن زاروں کے ساتھ ساتھ بنجر زمینوں پر بھی برستا ہے۔ سنگدل افراد کی باتیں تجھ پر ذرا اثر نہیں کرتیں۔
میرا محبت بھرا سلام تیری بلند روح کوجو خود بینی و خودپسندی کے تنگ و تاریک احاطے سے باہر ہے اور آسمانوں اور خدا کے اسماء مقدسہ کی عظمت جس کی جولانگاہ ہے۔
یہ وصیت میں نے اس واسطے نہیں لکھی کہ کوئی اسے پڑھے اور میرےلیے دعائےرحمت کرے بلکہ اس لیے لکھی ہے کہ سلگتے ہوئے دل کی تسکین کا سامان کر سکوں اور اپنے اندر ابلتے ہوئے آتش فشاں کو ٹھنڈا کر سکوں۔
جس وقت رنج و درد کی شدت طاقت فرسا ہو جاتی، اندر بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلے باہر کو لپکتے اور میں اپنے وجود کے جوالا مکھی کو رام نہ کر پاتا تو اس وقت قلم ہاتھ میں لے کر شکنجوں بھرے اس درد کو ذرہ ذرہ کر کے اپنے وجود سے اکھاڑتااور کاغذ کے حوالے کر دیتا۔۔۔
اور آہستہ آہستہ سکون کی وادیوں میں اترتا جاتا۔ جو کچھ دل میں ہوتا کاغذ پر اتار دیتا اور اپنے سامنے رکھ کر سنسان تنہائی میں بیٹھ جاتا اور اپنے دل سے راز و نیاز کرتا۔ اس کاغذ پر اپنے وجود کا عکس دیکھتا اور پھر اپنی تنہائی سے باہر آ جاتا۔
میں نے کسی پر احسان کرنے کےلیے یہ الفاظ رقم نہیں کیے بلکہ ان تحریروں سے بھرے ہوئے کاغذوں نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ مجھے اپنے اندر کے درد اور شکنجوں سے نجات دلائی ہے۔
*****
خدایا! جنہوں نے میرے ساتھ برائی کی انہوں نے مجھے ہوشیار کر دیا۔ جنہوں نے مجھ پر تنقید کی انہوں نے مجھے زندگی کے راہ و رسم سکھائے۔ جو میرے ساتھ اچھائی سے پیش آئے انہوں نے مہر و وفا کا ثبوت دیا۔ پس خدایا! ان سب کو خیر اور بھلائی عطا فرما جو میرے لیے دنیوی اور اخروی بہتری کا باعث بنے۔
9جنوری 1981ء رات 10 بج کر 10 منٹ پر وصیت نامے کی چند سطریں لکھ رہا ہوں:
۔۔۔ اماں جان! آپ کو یاد ہے نا کہ میں امام کے ایک اعلان پر اپنی جان دینے کو تیار تھا؟ ان کا کلام میری اسلام سے سرشار روح اور میرے آلودہ وجود کے لیے ایک الہام کا کام کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہے؟
اگر میرے حصے میں شہادت کا افتخار ہے تو امام سے درخواست کیجیے کہ وہ میرے لیے دعا کریں تا کہ خدا مجھ رُوسیاہ کو اپنے عظیم دربار میں ایک شہید کے طور پر قبول کر لے۔
اماں جان! میں سازشی اور بدلحاظ انسانوں سے متنفر تھا اور اب بھی ہوں اور ان جوانوں پر بہت ہی افسوس کرتا ہوں جنہیں اسلام کی زیادہ شناخت نہیں ہے اور وہ نہیں جانتے کہ کس لیے زندہ ہیں اور ان کا ہدف کیا ہے؟ کاش وہ ہوش کے ناخن لیتے۔
میری طرف سےجوانوں کو یہ پیغام پہنچا دیجیے کہ شہیدوں کی نگاہیں اب تم پر لگی ہوئی ہیں۔ اٹھو اور اپنی اور اسلام کی معرفت حاصل کرو۔ ہمارے اسلامی انقلاب جیسا انقلاب کہیں بھی نہیں ملے گا۔
بابا اور اماں جان! مجھے زندگی اچھی لگتی ہے لیکن اس قدر بھی نہیں کہ اپنے آپ کو اس سے آلودہ کر لوں اور اپنے وجود کو اس میں گم اور فراموش کر بیٹھوں۔ علی و حسین علیہما السلام کی طرح جینا اور انہی کی طرح شہید ہونا مجھے پسند ہے۔
اسلام کی لغت کے مطابق شہادت ظلم، جور، شرک اور الحاد پر کاری ضربیں لگاتی رہی ہےاور آئندہ بھی لگاتی رہے گی۔
اماں جان! خدا کی قسم، اگر آپ نے آنسو بہائے اور فقط میرے لیے آنسو بہائے تو میں اصلاً آپ سے خوش نہیں ہوں گا۔ زینب کی طرح زندگی گزاریے اور مجھے بھی خدا کے سپر د کر دیجیے۔
اللھم ارزقنی توفیق الشھادۃ فی سبیلک
و السلام؛ چمران