اسلامی مزاحمت
[شہید علی اشمرؒ]
صیہونی استکبار نے 1967ء میں جب اپنے تمام ہمسایہ ممالک پر حملہ کر دیا تو اس قدر وحشت پیدا کر دی کہ کوئی بھی اس ظالم ملک پر برتری کا خیال بھی نہیں لا سکتا تھا۔
ان ممالک میں سے فقط ایک ملک ایسا تھا جس نے اپنی مقدس زمین کو دشمن کے نجس وجود سے آزاد کروا لیا اور وہ تھا لبنان۔
لبنان کے بہادر شیعہ عوام نے اپنے ولی فقیہ کی طرف سے مقرر کردہ نمائندے حسین فہمیدہ کی رہبری میں صیہونی دشمن کے خلاف شہادت طلبانہ معرکوں کا آغاز کر دیا۔ ان حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے 2000ء میں صیہونی فوجی جنوبی لبنان سے فرار کر گئے۔
ان شہادت طلب افراد میں سے ایک شہید علی اشمر بھی تھے۔ وہ کویت میں پیدا ہوئے اور اپنی آسائشوں بھری زندگی کو چھوڑ کر مزاحمت میں مصروف مجاہدین کے ساتھ جا ملے۔
علی اشمر آخری استشہادی جنگجو تھے جنہوں نے خود کو دھماکے سے اڑا کر صیہونیوں کے کئی اعلیٰ افسروں کو واصلِ جہنم کر دیا۔ ذیل میں شہید علی اشمر کے وصیت نامے کا متن دیا جا رہا ہے جو انہوں نے اپنی شہادت سے کچھ لمحے پہلے تحریر کیا تھا:
میرے مولا! یا اباعبداللہ علیہ السلام!
میں نے خدا اور آپ سے پیمان باندھ رکھا ہے کہ راہِ خدا میں قدم بڑھاؤں گا۔
جبکہ میں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لی ہے اور اپنے خون کو جبل عامل کی خاک میں مخلوط کر دیا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے آپ کا خون کربلا کی مقدس خاک پر گرا تھا۔
اور آج میں آپ سے باندھا گیا اپنا عہد پورا کرنے جا رہا ہوں۔
میرے مولا، یا صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف!
میری کتنی آرزو تھی کہ میری شہادت آپ کے مقدس وجود اور نگاہوں کے سامنے ہو؛ لیکن آپ کی غیبت کی طوالت اور اپنے مولا اور سرداروں اور آپ کے اجداد مطہر سے ملنے کا اشتیاق مجھے اس سے زیادہ انتظار میں رہنے نہیں دے رہا۔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اس شہادت کے سبب مجھے آپ کی رکاب میں شہید ہونے کا اجر عطا فرمائے۔
میرے عزیز بھائیو! مزاحمت اسلامی کے دلیر پہلوانو! اگر تم ان لوگوں کی وجہ سے تکلیف اور اذیت میں ڈال دیے گئے ہو تو وہ بھی تمہاری وجہ سے سخت رنج و مصیبت میں مبتلا ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تم لطفِ خدا کے امیدوار ہو مگر وہ کچھ امید بھی نہیں رکھتے۔(سورہ نساء کی آیت 104 کا مفہوم۔)
تمہارے لیے چند ایسے موارد کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں جو ہمارے راستے کے لیے بنیادی اصول شمار ہوتے ہیں:ہمارا جہادی راستہ، سخت اور طولانی ہونے کے ساتھ ساتھ مشقتوں اور آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے، لہٰذا اس راستے کو طے کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرو تاکہ تمہارے جذبے پاک اور بلند رہیں۔
اپنے سینوں کو ہر اُس تاریکی اور حجاب سے پاک رکھو جو تمہیں خدا سے دور لے جائے۔
جس طرح مجھ سے پہلے شہید ہونے والے بھائیوں نے تمہیں نصیحت کی ہے اسی طرح میں بھی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اس شرافت والے راستے سے جڑے رہنااور اسی راستے کو، جو مزاحمت کا راستہ ہے، طے کرتے رہنا۔ کیونکہ یہ ایک راستہ ہے جس پر چلنے کے لیے خدا نے صرف ہمارا انتخاب کیا ہے۔ پس ہمیں بھی اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم شہداء کے خون کو ضائع نہ ہونے دیں۔
وہ جو امانتیں ہمارے سپرد کر کے گئےہیں ان کی اچھی طرح حفاظت کریں۔ اپنے عزیز سردار اور مزاحمت اسلامی کے افسران کے احکامات پر عمل کرتے رہو۔ رہبر حضرت خامنہ ای (میری جان ان پر فدا ہو)، حزب اللہ لبنان کے جنرل سیکرٹری جناب سید حسن نصر اللہ کی ہدایات پر عمل پیرا رہو۔ شہداء کی تصویروں کو ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو۔ جن اہداف کو حاصل کرنے کے لیے وہ لوگ شہید ہو گئے، ان کے حصول کے لیے کوشاں رہو اور ان کے راستے پر چلتے رہو۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی اپنے بیٹوں حسن و حسین علیہما السلام کو کی گئی نصیحتیں اور وصیتیں جو ہمیں خدا کی پسندیدہ زندگی گزارنے کا طریقہ بتاتی ہیں، اسی طرح امام خمینی (قدس سرہ) کی نصیحتیں اور قیمتی اور پُر برکت ہدایات کا حتماً مطالعہ کرو، انہیں حفظ کرو اور ان پر عمل کرو۔
جنگ شروع کرنے سے پہلے جس طرح اسلحہ اٹھانا ضروری سمجھتے ہو اسی طرح وضو کرنا بھی لازم سمجھو کیونکہ جو ہاتھ باوضو ہو کر جنگ لڑے گا اس کا شکست کھانا ناممکن ہے۔
اے وہ عزیز خاندانو! جو سرحدی پٹی پر ظالموں کے قبضے میں ہیں، اسی طرح مزاحمت کو جاری رکھو۔
ان جملوں اور کلمات کو لکھنے سے تھوڑی دیر بعد انشاء اللہ میرا جسم ایک ایسی آگ بن جائے گا جو ان صیہونی غاصبوں کو جلا کر راکھ کر دے گا جو ہر روز اور ہر لحظہ تمہیں اذیت دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
دشمن سوچتا ہے کہ اس نے تمہیں ذلیل کر دیا ہے لیکن ھیھات۔ ([1]) اس آزار و اذیت کا خاتمہ مزاحمت اسلامی کے مجاہدین کے ہاتھوں ہونے ہی والا ہے۔ ان شاء اللہ۔
میرے گھر والو! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ غاصب لوگ اور ان کا یہ قبضہ جلد ختم ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ فتح نزدیک اور آزادی راستے ہی میں ہے اور صیہونیوں اور ان کے گماشتوں کا انجام قتل و نابود ہو جانا ہی ہے۔
مقبوضہ سرحدی پٹی اور مقبوضہ فلسطین کے زندانوں میں قید میرے صابر بھائیو اور بہنو! تم پر خدا کا سلام ہو۔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم پر احسان کرتے ہوئے تمہیں آزادی نصیب کرے۔ اور میں اپنے اس چھوٹے سے کام کو جو تم جیسے صابرین کے لیے میرے احساسات کی ترجمانی کر رہا ہے،تمہیں ہدیہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ تم یہ ہدیہ قبول کرو گے۔
ہمارے دل تمہارے ساتھ ہیں اور ہم تمہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔ تم اس امت کا بیدار ضمیر اور ان لوگوں کے لیے باعثِ کرامت ہو۔
سلام ہو مقبوضہ فلسطین کی تحریک آزادی کے شہداء پر۔
سلام ہو ان بچوں پر جو وطن سے دور رہ گئے ہیں۔
تحریک اسلامی کے مجاہدین پر سلام۔ سلام ہو شہداء کے والدین پر۔ سلام ہو مقدس سرزمینوں پر اور سلام ہو قدس شریف پر۔
بے شک میں مسلمانوں کے ایک ایک گروہ کو دیکھ رہا ہوں جو مسجد اقصیٰ میں حضرت حجت منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت میں نماز پڑھ رہے ہیں۔
ان شاء اللہ فتح نزدیک ہے اور یہ وہ وعدہ ہے جو خدا نے ہم سے کر رکھا ہے۔
تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دشمن صیہونی رو بہ زوال ہیں اور سرزمین مقدس تمہاری طرف پلٹ آئے گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے: ’’اور ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔‘‘([2])
میرے گھر والو! ایسا رویہ اختیار کرنا کہ میری شہادت کا دن میرے لیے خوشحالی اور سرور کا باعث بن جائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
’’اور جو ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں ضرور اپنے راستے کی ہدایت کریں گے اور بتحقیق اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘([3])
تمہارا بھائی
علی اشمر
([1]) کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا فرمان: هیهات منا الذلة. یعنی ذلت ہم سے دور ہے۔