مسافر
[شہید سید اسداللہ لاجوردیؒ]
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے لیے انہوں نے بہت سے صعوبتیں برداشت کیں جن میں سے کم ترین صعوبت زندان اور زندان کے شکنجے تھے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد عدالتی نظام میں مصروف ہو گئے۔ وہ اٹارنی جنرل اور محکمہ جیل خانہ جات وغیرہ کے انچارج بھی رہے۔
منافقین کے تخریب کار گروہوں کو خوب پہچانتے تھے۔ ان کے خلاف انہوں نے کئی ٹھوس اور شجاعانہ اقدامات بھی اٹھائے۔ تہمت، اذیت اور آزار کے باوجود اپنے راستے سے پیچھے نہ ہٹے۔
امام کے مطیع اور ولایت فقیہ کے سپاہی تھے۔ سید اپنی زندگی کا خاصا حصہ جہاد میں گزارنے اور انقلاب کے دس سال بعد تہران کے بازار میں منافقین کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔اس وقت وہ اپنی ڈیوٹی پر تھے۔
ان کی وصیت کا مکمل متن پڑھیں تو لگتا ہے کہ انہوں نے ہمارے آج ہی کے زمانے کے فتنوں کے حوالے سے اسے تحریر کیا ہے۔
شہید سید اسد اللہ لاجوردی ؒ نے جنوری 1964 ءمیں اپنا وصیت نامہ تحریر کیا تھا۔ اس وقت وہ محاذ جنگ پر تھے۔اس وصیت نامے کا کچھ حصہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
بارالٰہا! میں اپنے پورے وجود کے ساتھ کہتا ہوں:
’’كَمْ مِنْ ثَنَاءٍ جَمِيلٍ لَسْتُ أَهْلًا لَهُ نَشَرْتَهُ.‘‘
خدایا! وہ عمر کہ جو بہترین نعمت تھی میں اسے ہاتھ سے گنوا چکا ہوں۔ جبکہ تیری راہ میں مظلوم اور مستضعف انسانوں کی خدمت میں اسے بسر کر سکتا تھا۔ وہ عمر معاشرے سے منفی اقدار کے خاتمے اور الٰہی و انسانی اقدار کے احیاء کے لیے استعمال ہو سکتی تھی۔
وہ عمر جو اسلام کے مقدس اہداف کے حصول اور کلمۂ توحید کی سربلندی کے لیے بسر ہو سکتی تھی۔
وہ عمر جو کمیت کے لحاظ سے کم مگر کیفیت کے لحاظ سے بہتر ہو سکتی تھی اور خدا کے متلاشی شہداء کے ہمقدم رہ کر تجھ تک پہنچنے کا راستہ تلاش کر سکتی تھی۔
وہ عمر جو تھی تو لمبی مگر اس نے تھوڑا سا زادہ راہ بھی اپنے ساتھ نہ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تمام امید تیرے عفو، پردہ پوشی، عظمت، رحمت اور فضل کی طرف لگی ہوئی ہے۔
خدایا! باربار تیرے فضل ہی کی امید ہے! ’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِكُ الْعِصَمَ۔‘‘
خدایا! تو بہتر جانتا ہےکہ جو کچھ اب میں احاطۂ تحریر میں لا رہا ہوں وہ ایک عرصے سے میرے دل پر بیت رہی تھی!
کیا کرنا چاہیے؟! معاملات کہاں تک حل کیے جائیں؟! یہ کیسے ممکن ہے کہ لوگوں کے درمیان اسلام کے نام پر اسلامیت کے لبادے میں عوام فریبانہ اور بے روح قسم کے نعرے رواج پا جائیں؟! اور جو فکری انحراف کا سدباب کرنے کی ذمہ داری سر پر اٹھائے بیٹھے ہیں وہ چُپ ہیں؟! بلکہ بعض تو ایسے ہیں کہ جو ان چیزوں کی تائید بھی کر رہے ہیں؟!
(جبکہ اس کے مقابلے میں) میں ایسے ہزاروں سوالوں میں الجھا بیٹھا ہوں جن میں سے ہر ایک، ایک نئی راہ پر لے جاتا ہے اور ایک نیا خط کھینچ کر رکھ دیتا ہے۔
لیکن خوش قسمتی سے چونکہ میں اپنے عزیز امام کا مقلد ہوں اس لیے راہِ سعادت میرے لیے روشن ہے۔ اور خدا سے دعا بھی کرتا ہوں کہ اگر زندگی رہی تو ضرور اس پر عمل کروں گا۔
خدایا! میں اپنے پورے وجود کے ساتھ اس انقلاب سے عشق کرتا ہوں اور جتنی انقلابیوں سے محبت رکھتا ہوں اتنی ہی انقلاب مخالف افراد کے حامیوں سے نفرت کرتا ہوں۔
ان تمام باتوں سے یہ مسئلہ میرے لیے اچھی طرح واضح ہو چکا ہے کہ جو کوئی انقلاب کے دشمنوں کے نفع میں یا عوامی خوشنودی جیسی بے بنیاد اور بے ہودہ سوچ یا قومی حیثیت پیدا کرنے جیسی خام خیالی کی خاطر موقف اپنائے تو وہ معصومین علیہم السلام کے اس گرانقدر فرمان کے مطابق ہو گا:
مَنْ طَلَبَ رِضَى النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ حَامِدَهُ مِنَ النَّاسِ ذَامّاً.
خدایا! تو گواہ ہے کہ جس قدر میں اپنے، مستحکم دلیل کے حامل اور سازشوں کا شکار نہ ہونے والے امام سے عشق کرتا ہوں اتنا ہی سازشیوں اور عملی طور پر انقلاب مخالف لوگوں سے نفرت کرتا ہوں۔ ڈرتا ہوں کہ مشروطہ والے حوادث([1]) کی دوبارہ تکرار نہ ہو۔ یا ایران کا حشر بھی الجزائر کی طرح نہ ہو۔
خداوندا! تجھ سے باربار دعا کرتا ہوں کہ اس شہید پرور قوم کو ان سب لوگوں کے ہاتھ، قدم، زبان اور قلم سے نجات عطا فرما جو انقلاب کے مخالفین، مرتدین اور مقابلہ کرنے والوں کو عدالت کے پنجوں سے رہائی دلانے کے لیے اپنی قدرت اور اثر و رسوخ کو استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کے شر سے بھی محفوظ رکھ جو اس ننگ و عار کو قبول کیے بیٹھے ہیں۔
خدایا! چونکہ میں اس نظام کا عاشق ہوں اس لیے ڈرتا ہوں کہ اگر سازشیوں کا چہرہ بے نقاب کر دوں تو کہیں اس نظام کو کوئی گزند نہ پہنچے۔
میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ صنفی اختلافات اور لفّاظی سے ہٹ کر قیامت اور اس کے دقیق ترین حساب و کتاب پر یقین پیدا کریں۔
اور ہوشیار رہیں کہ اس گروہ میں سے نہ ہو جائیں جن کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ۔ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ۔([2])
صاحبانِ قدرت و رسوخ کو میری یہ نصیحت ہے کہ:
اگر اپنے کاموں کو پسندیدہ بنانا چاہتے ہیں تو عوام فریب اور سیاسی نعروں کی بجائے، انقلاب مخالفوں، ظالم مالداروں، حرامخوروں ار حرام اندوزوں سے چھٹکارے کے لیے انہیں بالمشافہ یا ٹیلی فون کے ذریعے جو تجاویز دیں ہیں انہیں بروئے کار لائیں، شجاعت اور دلیری سے عوام کے لیے بیان بھی کریں اور ۔۔۔
اعلیٰ عہدیداروں کو میں نے بارہا بتایا ہےکہ ان لوگوں کا خطرہ منافقین کے خطرے سے بہت بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ لوگ منافقین کے طور طریقے لیے حزب اللہیوں کی صفوں میں آن گھسے ہیں اور آہستہ آہستہ انہیں اس جہاد سے بد دل کر کے ریٹائرمنٹ لینے پر آمادہ کر لیا ہے اور ہماری فرنٹ لائنز پر خود قبضہ جما کر بیٹھ گئے ہیں۔
والسلام
([1]) مشروطہ کا سیاسی طور پر معنی بادشاہت کے مطلق العنان کاموں کو محدود کرنا اور قانون کے تابع کرنا ہے۔ ایران میں قاجاری بادشاہت کے زمانے میں یہ تحریک مذہبی علماء کی سرپرستی میں چلی تھی جس میں انہوں نے بادشاہ کو پارلیمنٹ کے قوانین کے تابع کرنے اور پارلیمنٹ کے تمام قوانین کو پانچ دینی علماء کی کونسل کی منظوری سے مربوط کیا تھا۔ اس تحریک کے روح رواں مولانا فضل اللہ نوری تھے۔ لیکن عملاً مشروطہ کی تحریک کو برطانوی ۱۶۸۸ء کے پارلیمنٹ انقلاب کی طرز پر استوار کر کے برطانوی روشن فکر گماشتوں نے اسے اسلامی احکام کے ہی خلاف استعمال کرنے کی ٹھان رکھی تھی جس کا احساس ہوتے ہی مولانا فضل اللہ نوری نے اس تحریک کی مخالفت اور مشروطہ مشروعہ (یعنی شریعت الہی کے تابع مشروطہ) کا نعرہ لگایا لیکن ان کے خلاف پروپیگنڈا اتنا زیادہ کیا گیا کہ عراق کے بزرگ علماء بھی حقیقت کو نہ سمجھ پائے لہٰذا جب اس اثناء میں انہیں پھانسی لگوائی گئی تو علماء بھی ان کے حق میں نہ بولے اور یوں مشروطہ کے زیر اثر ایرانی بادشاہت میں ۱۹۰۶ء میں پارلیمنٹ تو بنی لیکن اس میں بننے والے قوانین اسلامی بنیادوں پر بھی کاری ضرب ثابت ہوئے اور عوام کی ترقی کے بجائے غیر ملکی آقاؤں کی جی حضوری میں تھے۔