آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

آئندہ نسل کے لیے
[شہید محسن وزوائیؒ]

تہران میں جاسوسی کے امریکی اڈے  (امریکی سفارتخانے) پر حملہ کرنے والوں میں سے تھے۔ امام کے حکم پر چلنے والے یونیورسٹی کے طلاب میں سے ان کا شمار ہوتا تھا۔ انقلاب کی راہ میں کسی بھی جانثاری سے دریغ نہ کیا۔ جنگ شروع ہوتے ہی محاذ پر چلے گئے۔  سپاہِ سرپل ذہاب کی کمان ان کے ہاتھ میں تھی۔ کئی بار اتنے شدید زخمی ہوئے کہ ان کی زندگی کی امید جاتی رہی۔

معرکہ فتح المبین میں حضرت رسولؐ بریگیڈ کی حبیب بٹالین کی کمان ان کے ذمے تھے لیکن انہوں نے ایسا کارنامہ سرانجام دیا جو بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔

ان کی ماتحت بٹالین نے خوزستان میں عراق کے بہت بڑے اور جدید توپخانے پر قبضہ کر لیا۔ اس قبضے نے دشمن کی طرف سے ہونے والے حملوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ خرمشہر کی آزادی کے لیے انجام دیے جانے والے معرکے کے دوران محسن وزوائی اپنی دیرینہ آرزو،  شہادت سے ہمکنار ہو گئے۔

شہید وزوائی کا ایک جملہ اس قدر معروف ہوا کہ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ کی توجہ بھی اس نے جذب کر لی۔ شہید وزوائی نے کہا تھا: ’’ہم کربلا کو اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے چاہتے ہیں۔‘‘

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

ہم شہادت سے نہیں ڈرتے۔ یہی تو ہماری واحد آرزو ہے۔ ان محاذوں پر ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے مجاہدین اسلام کی نصرت و مدد کرتا ہے۔ اس کی یہ نصرت اس آیہ شریفہ کی مصداق ہے: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً۔

ہم دیکھ رہےہوتے ہیں کہ لشکر اسلام کی قلیل تعداد اور تھوڑی سے افرادی قوت دشمن کی بھاری تعداد پر غلبہ پا لیتی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ معرکۂ بازی دراز کے دوران معرکے کے ایک مرحلے میں ہماری تعداد بہت کم رہ گئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی ہم نے دشمن کے تین سو افراد پر غلبہ پا لیا۔محاذوں پر ایمان و ایثار کے جذبات کا وہ مفہوم نظر آتا ہے جس کا اصلاً تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

جب کسی معرکے کے دوران شہادت کے لیے رضاکارانہ اقدام کی بات کی جاتی ہے تو برادران کے اندر اس کام میں سبقت لینے پر نزاع پیدا ہو جاتا ہے۔  یہ وہ قدریں جو خدا نے اس ملت کو عطا کر رکھی ہیں۔

یہ بندہ حقیر درگاہِ احدیت میں عبادت کو اپنے لیے سب سے بڑا افتخار سمجھتا ہے۔ میں کہنا چاہتا ہوں، اے لقاء اللہ کے عاشقو! اے مخلصو! اور اے وہ لوگو جو خدا کے نزدیک پہنچنے کے لیے سخت محنت و مشقت میں مشغول ہو، آؤ اور آ کر دیکھوکہ تمہارے بھائی خدا کی قربت کے اس مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔ ایک جوان جس کی شادی کو ابھی صرف تین گھنٹے ہی ہوئے ہیں وہ بھی محاذ پر حاضر ہو جاتا ہے۔ آخر کس مکتب میں ایسی اقدار دیکھنے کو ملیں گی؟!

میں خدا کو شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ 4 ستمبر 1981؁ ءکو جب سرپل ذہاب میں ٹینک کا گولہ لگنے سے میں زخمی ہو گیا تھا اور میرے جسم سے بہت زیادہ خون بہہ گیا تھا تو جس وقت خدا کی مدد سے مجھے ہوش آیا تو اس وقت میں ہسپتال میں بہت ہی زیادہ تکلیف سے گزر رہا تھا۔ اتنا زیادہ کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

وہ تکلیف اتنی زیادہ تھی کہ ایک رات مجھے خواب آور ڈایازیپام کی دس گولیاں دی گئیں تب جا کر کچھ سکون آیا، لیکن جس وقت مجھے درد ہوتا تھا تو درد کی جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ ایک روحانی لذت بھی محسوس ہوتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرے کندھوں سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر رہا ہو۔

ایک دفعہ نرس نے مذاق کرتے ہوئے مجھ سے کہا: ’’تم نے ایسا کام کیا ہی کیوں کہ اس حالت میں پہنچ گئے؟ خمینی سے کہو کہ وہ خود ہی آ کر تمہیں ٹھیک کریں۔‘‘ تو میں نے اسے کہا: ’’خدا خود ہی مجھے ٹھیک کر دے گا۔‘‘ اور پھر ایسا ہی ہوا۔

خدا کی قسم! جس وقت بھی کام کا بوجھ ذرا ہلکا ہوتا ہے تو اپنے آپ میں کمزوری اور کمتری کا احساس کرنے لگتا ہوں۔ اے ایران کی شہید پرور قوم! میں آج ایسے حالات میں زندگی بسر کر رہا ہوں کہ جہاں ایک لحظے کی غفلت بھی اسلام و قرآن سے خیانت کے زمرے میں آئے گی۔

ہمیں حتی الامکان خدا کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ آج طاغوت اور اس کے تمام گماشتے عزیز اسلامی انقلاب کے مقابلے میں آن کھڑے ہوئے ہیں جن کی سرپرستی بقول امام، شیطانِ بزرگ (بڑا شیطان) امریکہ کر رہا ہے اور اس کے ساتھ اس کے تمام حواری بھی موجود ہیں۔

پس خدا سے ہرگز غافل نہ ہونا کیونکہ بعد میں پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ امام کے فرمان کے مطابق ہمیں اپنے وظیفے پر عمل کرنا ہے۔ اگر ممکن ہوا تو فتحیاب ہو جائیں گے اور اگر مارے بھی جائیں تب بھی شہید ہوں گے اور شہادت بذاتِ خود ایک کامیابی ہے۔

پس ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا سے بے خبر ان منافقوں کو علم ہونا چاہیے کہ قوم نے انہیں پہچان لیا ہے۔ اب جبکہ قوم محاذپر مصروف جنگ ہے تو تم اس قوم کو پہلے سے زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہو۔

تم تاریخ کے وہ نامرد اور بزدل لوگ ہو جنہوں نے یزید ابن معاویہ سے لے کر ہٹلر تک تاریخ کے تمام ظالموں کو بھی شرمندہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اجنبیوں کے ہاتھوں اپنے آپ کو بیچ دینے والو! تمہیں شرم آنا چاہیے۔ آخر تم نے یہ کیسے گوارا کر لیا کہ شیر خوار بچوں سے لے کر، اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے علماء تک سب کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہو۔

اس قوم کو جان لینا چاہیے کہ انقلاب کو سب سے زیادہ بڑا خطرہ یہی ہے کہ انقلاب کے اصل چہرے کو یہ منحرف لوگ مسخ نہ کر دیں۔ پس تمہیں امام کے دیے گئے دستور پر گامزن رہنا ہے۔ امام کو کبھی بھی تنہا نہ چھوڑنا۔

اے ایران کی مسلمان امت! تم تاریخ میں ایک نمونہ ہو۔ تم نے ایسے بیٹوں کی تربیت کی ہے جو شہادت کو اپنے لیے سعادت کا سب سے اعلیٰ درجہ شمار کرتے ہیں، فقط خدا کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہیں اور شکست کا ان کی نظروں میں کوئی مفہوم نہیں ہے۔

میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اپنی راہ میں اذیتیں برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس بات پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنے نور کو روشن کرنے کے لیے مجھے ان معرکوں میں شرکت کا موقع عطا کیا۔

میں خدا سے اس بات کی دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اپنے راستے میں شہادت نصیب فرمائے اور جب اس کی مشیت سے میں اس دنیا سے چلا جاؤں تو مجھے شہداء کے زمرے میں شمار فرمائے۔

یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ وہ مجھے میرے حال پر نہ چھوڑے کیونکہ میں ایک حقیر و کمزور بندہ ہوں اور اے خدا! تیری بارگاہ کےعلاوہ کہیں بھی نہیں جا سکتا۔ اللهم ارزقنا شهادة فی سبیلک.

اورآخر میں، اے میرے بھائیو اور بہنو! انقلاب ایک ایسی تحریک ہے جو اثبات حق کے لیے چلی ہے اور یہ ذمہ داری ہم سب کی گردنوں پر عائد ہوتی ہے۔ احکام خداوندی کو سیکھو اور ان پر مکمل طور پر عمل کرو۔

میں جو کچھ بھی ہوں میری عمر کا زیادہ حصہ طاغوت کے زمانے میں گزرا ہے لیکن آپ لوگ آج حکومت اسلامی کی نعمت سے مالامال ہیں۔ اور یہ عظیم ترین نعمت ہے جو خدا نے آپ پر نازل فرمائی ہے۔ اس نعمت کی قدر کریں اور خدا کا شکر ادا کریں۔

آخری بات۔ اگر آپ لوگ میرے شہید جسد کو واپس لانے میں ناکام رہیں تو اسے دشمن کے بارودی سرنگوں والے علاقے میں پھینک دیں تاکہ کم از کم میری لاش اسلام کے کسی کام آ سکے۔

و من الله التوفیق 17 مارچ 1982؁

رات گیارہ بجے بلد دزفول محاذ