انتھک
[شہید علی اکبر نظری ثابتؒ]
شہرِ خون و قیام قم المقدسہ میں 1963ء کو ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ امام خمینیؒ کے گہوارے والے ساتھیوں([1]) میں سے تھے۔ بہت صبور و متین جوان تھے۔ انقلاب کی ساری سرگرمیوں میں پوری شجاعت سے حصہ لیتے تھے۔ انقلاب کی کامیابی کے ساتھ جیسے ہی جنگ شروع ہوئی تو محاذ پر چلے گئے اور معرکہ فتح المبین میں شدید زخمی ہو گئے۔ محرم میں ہونے والے معرکوں میں ریکی کرنے والے دستے کے انچارج تھے۔ والفجر مقدماتی معرکے میں Deception Operation([2]) کے انچارج تھے۔
ڈویژن کے انچارج برادر زین الدین کی ان کے ساتھ محبت مثالی تھی۔ کئی بار وہ سب سے الگ تھلگ بیٹھ جاتے اور باتیں کرتے رہتے۔ سال گزرا تو وہ ڈویژن میں شعبۂ جاسوسی کے نائب بنا دیے گئے، حالانکہ ڈویژن میں ان سے بھی زیادہ سینئر اور بڑے کئی افراد موجود تھے۔
معرکہ والفجر۴ اور عاشورا2 میں زخمی ہو گئے۔ معرکہ بدر کے دوران ہاتھ میں گولی لگی۔ جب چھٹی پر آتے تو محلے کی مسجد میں بسیجی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے۔
معرکہ والفجر8 سے پہلے وہ کسی اور ہی رنگ میں نظر آنے لگ گئے تھے۔ ان کی بیوی بتاتی ہیں: ’’ایک دن ہم اکٹھے گلزار شہداء قم جا رہے تھے کہ علی اکبر کو ٹھوکر لگی اور وہ گرپڑے۔ وہیں زمین پر بیٹھے بیٹھے کہنے لگے: ’’تھوڑی دیر ہمیں اپنی قبر پر بھی بیٹھ جانا چاہیے۔‘‘
ہم نے ذاکرانِ اہل بیت علیہم السلام سے سن رکھا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کے فرزند علی اکبر علیہ السلام کی پیشانی مبارک کربلا میں شگافتہ ہو گئی تھی۔ علی اکبر نظری نے بھی اپنے مولا و آقا کی اقتداء کی۔ ڈویژن 17 کے شعبہ جاسوسی کے یہ بہادر سردار ’’فاو‘‘ کے علاقے میں ہونے والے معرکہ والفجر8 میں اپنی پھٹی ہوئی پیشانی لیے اپنے مولا کے دیدار کو روانہ ہو گئے۔
وہ عین اسی جگہ دفن کیے گئے جہاں انہوں نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی قبر کا مقام بتایا تھا۔ انہوں نے اپنی بیوی کو جو آخری خط لکھا وہ ان کے شوقِ پرواز کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس خط میں وہ لکھتے ہیں:
شہید کا مقام ایسا مقام نہیں ہے کہ جس کے بارے میں ہم خاکی لوگ بات بھی کر سکیں۔ جب حضرت امام شہداء اور ان کے خاندانوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے تھے تو کہتے تھے: ’’قلم اور زبان شہید کا مقام بیان کرنے سے عاجز ہے۔‘‘ خلاصہ یہ کہ شہید کا مقام و مرتبہ ہمارے لیے قابلِ تصور ہی نہیں ہے۔
اس بارے میں ہم جتنا بھی کہیں ، کم ہے، کیونکہ ’’سننا نہیں ہوتا کبھی دیکھے کے برابر‘‘ ہم اس چیز کی امید رکھتے ہیں کہ ہم بھی اپنے ان پیاروں کے خونین راستے کو جاری رکھنے کے اہل ثابت ہوں تاکہ خدا بھی ہم پر لطف کرے اور ہمیں بھی ان عزیزوں کی محفل میں جگہ مل جائے تاکہ نزدیک سے خود اپنی آنکھوں سے ان کے مقام کا مشاہدہ کر سکیں۔
۔۔۔ اس وقت اسلام اور ہمارا عزیز انقلاب اس خون کے محتاج ہیں اور ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک ان کا دفاع کریں گے۔
گویا وہ کہنا چاہتے تھے کہ ان کی پروازِ شہادت کا وقت آن پہنچا ہے۔ اب وہ مزید اس مادی پنجرے میں نہیں رہ سکتے اور دنیا ان کے لیے قابلِ تحمل نہیں رہی۔
ان کا وصیت نامہ عجیب و غریب نکات کا حامل ہے۔ وہ خدا کی حمد و ثنا اور اخلاقی نصیحتوں کے بعد لکھتے ہیں:
بھائیو اور بہنو! تم سب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر تم نے آج تک شہداء، ان کے خاندانوں، اسیروں اور غازیوں کے راستے پر قدم نہیں اٹھایا ہے تو آج کے بعد اپنے اس رویے پر نظر ثانی کر لو۔ خدا کی قسم قیامت نزدیک ہے۔ خدا کی قسم ہم سبھی کو مرجانا ہے۔ وہ لوگ بھی اپنے اپنے انداز سے گئے اور شہید ہو گئے۔ ان کا مقام بہشت ہے۔ لیکن خدا نے ہماری ذمہ داری مشخص کر دی ہے۔ اس سے بے اعتنائی نہ کرو۔ خدا کی قسم! کل بروزِ محشر تمہیں اس کا جواب دینا ہے۔ اگر ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی باتوں سے انہیں ضربیں نہ لگائیں۔ کیوں خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بنانے لگتے ہو؟!
میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اس حالت میں موت نہ دے کہ ہم خون شہداء کے مقروض رہیں۔ میں اپنے جنگجو بھائیوں سے کہتا ہوں: خدا کا شکر کرو کہ تمہیں ایک عظیم نعمت عطا کی گئی ہے۔ اپنی قدر جانو۔اپنی نیتوں کو خالص کر لو۔ میں انچارج ہونے کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ جہاں بھی ضرورت ہو حتماً کام کرو۔ اگر کہیں کہ کہاں کام کرنا ہے اور کہاں تمہاری ضرورت ہے تو کوئی بھی بہانہ نہ بناؤ۔ ایسے مواقع پر شیطان انسان پر مختلف جہتوں سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ سب انسان کی نیت پر منحصر ہے۔
اگر ہم اپنی مرضی اور خوشی کے لیے کام کریں گے تو ہمارا اخروی اجر ضائع ہو جائے گا۔
تم جہاں کہیں بھی ہو میری اولین وصیت یہی ہے کہ شہداء کی وصیتوں پر عمل کرو۔ تم اس چیز کا خیال رکھو کہ آیا شہداء کی وصیتوں پر عمل کیا گیا ہے یا نہیں؟! جن جن چیزوں کا انہوں نے تم سے مطالبہ اور تقاضا کیا ہے ان سے لاپرواہی نہ برتو۔ ہمارے عزیز امام ان وصیت ناموں کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تم نے پچاس سال عبادت کی، خدا قبول کرے لیکن ایک نظر ان دس پندرہ سالہ بچوں کے وصیت ناموں پر بھی ڈال لیا کرو۔‘‘
ہم اپنے اپنے بلوں میں گھس کر نہ بیٹھے رہیں۔ ایک طرف تو ہمارے بسیجی، فوجی اور پاسدار بھائی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف مادی مسائل نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔۔۔
میری دوسری وصیت یہ ہے کہ ہر مسلمان پر امام اور افسران کی اطاعت واجب ہے۔ اسلام آج فقط ایران میں ملے گا۔ خدا نے ہم پر لطف کیا اور اسلام کو سربلند کیا ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ ایران میں سو فیصد اسلامی حکومت آگئی ہے لیکن اس نے دنیا کی نگاہیں اپنی جانب ضرور کھینچ لی ہیں۔ آج کے زمانے کا موازنہ طاغوت کے زمانے سے کرو۔ بعض لوگ جو کچھ بھی (مسائل) دیکھتے ہیں تو فوراً کہنا شروع ہو جاتے کہ یہ کیسا اسلام ہے؟!
تم آئینے کی طرح بن جاؤ۔ آئینہ خوبیاں اور واقعیت بتاتا ہے۔جوانوں کو دیکھو، مساجد پر نظر ڈالو۔ یہ انقلاب ہی کا تو نتیجہ ہے۔
مجھے معاف کرنا۔
والسلام
([1]) امام خمینیؒ جب ایران سے جلاوطن ہو رہے تھے تو شاہ کے فوجیوں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ انقلاب کس کے ذریعے لائیں گے؟ آپ کا ساتھ کون دے گا؟ تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میرا ساتھ دینے والے اس وقت ماؤں کی آغوش میں ہیں۔ اس کے بعد ۱۵ سال کی جلاوطنی کاٹ کر جب امام واپس آئے تو ان کے زیادہ تر حامی یہی کم سن نوجوان ہی تھے۔
([2]) دشمن کو تنگ کرنے والے حملے تا کہ وہ سکھ کا سانس نہ لینے پائے، یا کہیں تاخیر کروانی ہو، یا دھوکا دینا ہو۔ (دھوکا دہی کے معرکے)