خداوندِ توانا کی مدد سے
[شہید نواب صفویؒ]
ہمارے انقلابِ اسلامی کا دامن ایسی شخصیات سے معمور ہے جنہوں نے معاشرےپر اپنے دوررس اثرات چھوڑے ہیں۔ لوگوں کی انقلابی روح کو بیدار کرنے اور اسے جھنجھوڑنے میں وہ کافی حد تک مؤثر ثابت ہوئے۔ ان درخشاں چہروں میں سے ایک چہرہ شہید سید مجتبیٰ میر لوحی المعروف نواب صفوی کا بھی ہے۔
ان کا شمار ایسی شخصیات میں ہوتا ہے جو بہت سےعظیم انسانوں کےاندر انقلابی روح کی بیداری اور اس کی پرورش میں بہت حد تک تاثیر گزار ہوئے، جن میں سے ایک شخصیت رہبر معظم حضرت آیت اللہ خامنہ ای حفظہ اللہ کی بھی ہے۔
شہید نواب صفوی کی شخصیت اور فدائیانِ اسلام گروہ نے ایسے ایسے کار نامے انجام دیے تھےکہ خود شاہ بھی ان سے خوف کھاتا تھا۔ ڈر نام کی چیز کا نواب صفوی کےوجود میں دور دور تک شائبہ بھی نہ تھا۔ انہوں نےاپنے انقلابی جذبات کےساتھ ان لوگوں کو نصیحت کی جنہوں نے مملکت اسلامی کو غیروں کے اختیار میں دے رکھا تھا۔ جب نصیحت کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تو انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بالآخر یہ انقلابی عالم جو ایک عرصے تک اسلام کے دشمنوں سے برسرپیکار رہا 18 جنوری 1956ء کو سحر کے وقت شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت کے بیس سال بعد ان کا پیکرِ مطہر ان کی قبر سے نمایاں ہو گیا۔ اس وقت ان کا بدن مکمل طور پر صحیح و سالم تھا!!
سید نے اپنی شہادت سے کچھ عرصہ پہلے اپنی وصیت لکھی تھی۔ ذیل میں ہم اس کےکچھ حصوں کا مطالعہ کرتےہیں۔ ایک جگہ انہوں نےلکھا تھا کہ میں نے خواب میں ایک آواز سنی کہ تمہارےجانے کا وقت آن پہنچا ہے:
میرے بھائیوں کو میری وصیت:
هو العزیز
’’بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‘‘
آخری وصی پیغمبرؐ، قائم آل محمدؐ، پردۂ غیبت میں رہنےوالے جہان کے پیشوا، اعلیٰ منزلت، عظیم مقام و مرتبہ کے حامل، وجود مقدس امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے نام سے آغاز کرتا ہوں۔
پوری دنیا میں بسنے والے میرےمسلمان بھائیو! خدا ومحمدﷺ و آل محمد علیہم السلام کے ثابت قدم دوستو!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ ان الدنیا قد ادبرت و ان الآخرۃ قد اقبلت۔
بے شک دنیا نے ہم سےمنہ موڑ لیا ہے جبکہ آخرت نے ہماری طرف اپنا رُخ کر لیا ہے۔ہماری عمر کا جو حصہ گزر گیا اور فنا ہو گیا وہ دنیا کا حصہ تھا اور جو کچھ ہماری طرف رُخ کیےہوئےہوئے اور جس کی طرف ہم دوڑے ہوئے چلے جا رہے ہیں وہ آخرت ہے۔
پس سعی کرو کہ گذشتہ اور فانی سےاپنا دامن چھڑا کر آئندہ سےمتصل ہو جاؤ اور اپنے آپ کو اس جاودانی مکان کے لیے تیار کرو۔
(آه من قلة الزاد و بعد السفر) امیر المؤمنین علی علیہ السلام جو عشق اور معرفتِ خدا سے چھلکتا ہوا ایک سمندر تھے، جن کی طرف عالم معرفت کو سفر کرنا چاہیے اور اپنے کریم ابن عم محمد ﷺ کے بعد جن کی مثل کوئی مقدس وجود عالم رنگ و بو نے نہ دیکھا اور نہ ہی دیکھ پائے گا، وہ بھی زادِ سفر کی قلت اور اس سفر کی ہبیت اور دوری کو یاد کر کے نالہ و فریاد کرتے رہتے تھے۔
آؤ، خواب خرگوش سےبیدار ہوجاؤ اور اس چیز سےاپنے آپ کو بچاؤ کہ اس دنیا کےآزمائشی اور امتحانوں سے بھرے ہوئے کھیل سے فریب کھا جاؤ اور اپنے آپ کو آلودہ کر بیٹھو۔ تمام محکم دلائل، خدا کی نورانی آیات، کائنات کو نورانیت عطا کرنےوالے حقائق جو انبیاء عظام علیہم السلام اور محمدﷺ و آل محمد علیہم السلام کے ذریعے خدائے متعال اور معاد کی طرف رہنمائی کرتےہیں، انہیں ہر گز فراموش نہ کرو۔
*****
مجھے خواب میں ندا آئی کہ گویا میرےجانےکا وقت آن پہنچا ہے۔ آہ، آہ، حاشا و کلا۔ خدا نے نہ چاہا کہ میں اور آپ قیامت کے دن خسارہ اٹھانے والوں، بدبختوں اور اصحاب جحیم میں شمار کیے جائیں۔
آہ، جو انسان ا س دنیا کی جلد گزر جانے والی مشقتوں اور مشکلات کی تاب نہیں لا پاتا اور چھوٹی سے مصیبت میں متزلزل و عاجز ہو کر بے تاب ہو جاتا ہے وہ کس طرح اپنے کمزوراور ناتوان جسم کو اس آگ کےلیے تیار کر لیتا ہے جو خدا کے قہر و غضب سے روشن ہوئی ہے۔
آہ،اس ضعیف بشر پر تعجب کہ جو اتنی سرعت سےاس امتحان گاہ میں آنے اور جانے کے مراحل طے کر لیتا ہے اور اندھیری مٹی میں جا پڑتا ہے۔
یہ انسان ایک اصطبل وغیرہ کے لیے بھی اس کے مالک کی طرف سے قانون و ہدف کا قائل ہے تو پھر دینی نظام، پروردگار عالم کے مقصد اور اس کےعزیز ترین نمائندے پیغمبر اسلام حضرت محمد ابن عبداللہ ﷺ کی طرف متوجہ کیوں نہیں ہوتا۔ کیا اس نے اپنی فکری سطح کو ایک باڑے اور اصطبل سے بھی زیادہ نیچے گرا لیا ہے؟! کیا وہ اپنے آپ کو ہمیشہ جہل و شہوت کی آگ میں جلاتا رہے گا جو خدا کے غیض و غضب کی تپش کو تیز کر دیتی ہے۔
أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ۔
یہ حیوانات کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی گئے گزرےہیں۔
آہ، اے بھائیو! تم حق کے اتمام حجت، رب رحمان کی خوشنودی و اطاعت کے حصول اور اپنے آپ کو اس خدائے عزیز کی بارگاہ میں نجات یافتہ ہونے کےلیے ہمیشہ حق کہو، حق کی تبلیغ کرو، ان بے چاروں کو آنے والے کل کی بے چارگی اور ستم ظریفی کی خبر دو، انہیں آنے والے حالات سے ڈراؤ اور گناہوں، نافرمانیوں، تباہ کاریوں اور طغیانیوں کے بارے میں اپنی ناراضگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے رہو۔ (إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا) [یا تو وہ ہدایت یافتہ ہو جاتے ہیں یا کفر کرنے لگتےہیں۔]
خدائے عزیز ان کی اطاعت سےبے نیاز ہے۔ ان کی معصیت بھی اس کی بےزوال حکومت میں کوئی کمی نہیں کرتی۔ جہنم بہت وسیع ہے (تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ) [کیا کوئی اور سرکش اور گناہگار باقی رہتا ہے؟!]
دنیا کے بے فائدہ الفاظ و نظریات، رنگین مظاہر، قدرتیں، طرزِ زندگی اور فریب نظر لباس وہاں ذلیل اور بوسیدہ ہو جائیں گے، نہ ہی کسی درد کی دوا ہوں گے اور نہ ہی کسی کام آئیں گے۔
آہ، یہ طولانی غیبت! آہ، برادران، میں نے دیکھا ہے اور ہر عاقل کی آنکھ دیکھتی ہے کہ خدا کی محبت ہر محبت سے زیادہ شیرین اور اس کی فرمانبرداری، شیطان، نفس اور شہوت کی اطاعت سے کہیں زیادہ عزت و کرامت والی ہے۔
جس عذابِ آخرت کی وعید انبیاء علیہم السلام نے بدکاروں کو دے رکھی ہےاس سے بچاؤ کی تدبیریں کرنا جلد گزر جانے والی معصیتوں سے بچنے کی نسبت زیادہ عقلمندانہ اقدام ہے۔اور خدا کی رحمت اور بہشت میں حاصل ہونے والی یقینی اور دائمی نعمتوں اور لذتوں کی امید دنیا کی خیالی، احتمالی اور فانی ذلتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم اور مضبوط ہے۔
خدا کی شمعِ محبت کا پروانہ بن جانا، اس کی راہ میں جل جانا اور اس کے دریائے رحمت و لطف سے متصل ہو جانا ایک ایسی سعادت ہے کہ جس کا ادراک آسمانِ علم و عقل کے سائے میں بسنے والوں میں سے کسی ایک ذی روح کے بھی محدود وہم و گمان اور عقل و فہم کو نہیں ہو سکتا۔
میں نے اس سے دعا کی ہے کہ میں اس کی مدد سے دنیا کو حقائقِ اسلام کے سامنے جھکا دوں، دنیا کے مسلمانوں کو جہل، شہوت اور ظلم کے چنگل سے نجات دلا دوں، اسلامی کے نورانی احکام کو نافذ کروں، آج کی انسانیت کے مردہ پیکر میں اسلامی تعلیمات کی پُرنور شعاعوں کے ذریعے ایک نئی زندگی پھونک دوں اور حیات انسانی کی حقیقت کے جلوے سامنے لے کر آؤں۔
البتہ یہ سب کام خوشنودی خداوندی کے حصول کا مقدمہ ہونا چاہییں تا کہ دلوں کے لیے شفا اور آخرت کے لیے نور بن جائیں۔ اگر اس کے علاوہ ان کا کوئی مقصد ہو تو ان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کیونکہ خدا تو ان تمام چیزوں سےبے نیاز تھا اور ہے۔
(نیة المومن خیر من عمله) [مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے۔] خدا فقط پاک نیتوں پر لطف کرتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے لطف سے پاک و پاکیزہ نیت اور اپنی ذات سے بے پناہ عشق عطا فرمائے اور ہمارےساتھ اپنے فضل و کرم سے معاملہ کرے۔
الحقنا الله بالحسین و جده و امه و ابیه و اخیه و ولده آمین بالله العالمین.
کبھی بھی اس بات کو نہ بھولو کہ راہ راست جہاں سے بھی کجی کا شکار ہو جائے وہ سیدھی گمراہی اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔
سیدھی راہ وہی ہے جو اوصیاء پیغمبرﷺ امام علی علیہ السلام اور ان کے دس فرزندوںؑ کے گھر سے ہوتی ہوئی ان کے گیارہویں فرزند امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ، جو زندہ و غائب ہیں، تک جا کر ختم ہوتی ہے۔ (و یملا الله الارض به قسطا و عدلا بعد ما ملئت ظلما و جورا) شیعہ و سنی متفق علیہ حدیث کے مطابق خدا ان کے وسیلے سے زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔ان شاء اللہ۔
خدا حافظ ہو تمہارا، اے راہ خدا کے وفادارو۔ خدا کی امان میں۔
تمہارا بھائی
سید مجتبیٰ نواب صفوی