آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

جوہرِ خلقت، تمام اچھائیوں کی ماں، خلاصۂ انسانیت

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا وصیت نامہ

وہ کہتے تھے: ’’یہ ابتر ہے۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اس کی تحریک اس کے بعد نابود ہو جائے گی۔‘‘ لیکن خدا نے اُنؐ کی طرف سے انہیں جواب دیا۔ انہیں کوثر عطا کیا۔ ٹھاٹھیں مارتا چشمہ نازل کیا جو ابد تک عالم اسلام کو تازگی اور زندگی عطا کرتا رہے گا۔

جب کہ کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ’’اے رسول خداؐ! آپ نے ہمیں بدبختی اور ہلاکت سے نجات عطا فرمائی ہے۔ آپؐ ہی نے ہمیں جہالت کے گڑھے سے باہر نکالا ہے۔ ہمیں منزل مقصود آپ ہی کے دم سے ملی۔ اب اس کے بدلے میں آپؐ کا اجرِ رسالت کیا ہے؟ آپؐ کی خوشنودی کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟!‘‘

فرمایا: ’’میں تم سے کسی بھی اجرت اور بدلے کا تقاضا نہیں کرتا۔ ہاں فقط میرے اہل بیتؑ۔ ان کی دوستی و پیروی تمہیں نجات عطا کرے گی۔ میں تم میں قرآن و اہل بیتؑ کو اپنی یادگار کے طور پر چھوڑے جا رہا ہوں۔‘‘

وہ اپنی بیٹی کے دروازے پر کھڑے تھے، وہ بیٹی جو عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں۔ اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر فرمایا: ’’السلام علیکم یا اہل بیت النبوۃ۔‘‘

وہ کتنے ہی دنوں تک اس عمل کو دہراتے رہے۔ اتنا دہرایا کہ لوگ اہل بیتؑ کو پہچان لیں،  تا کہ میرے بعد کسی غلط راہ پر نہ چل پڑیں۔

فرمایا: ’’فاطمہؑ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے رنجیدہ کیا۔۔۔‘‘

امت ان کلمات کو سنتی اور ایک دوسرے کو بیان کرتی تھی۔ اس امت کے افراد جو مستحبات پر عمل کرنے میں بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں رہتے، لیکن۔۔۔

آخر ہوا کیا کہ۔۔۔

آدھی رات کےوقت وہ بیٹی اپنے وقت کے امام امیر المومنین علیہ السلام کے ساتھ گھر سے نکلی۔ مہاجرین و انصار کے دروازوں پر جا کر دستک دی۔ اتمام حجت کیا: ’’مگر کیا تم لوگ غدیر خم میں نہیں تھے؟!  کیا تم نے بیعت نہیں کی تھی؟! کیا۔۔۔؟‘‘

ان کے پاس اس کا کیا جواب ہو سکتا تھا؟! لیکن کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ دنیا طلبی اور عدالت طلبی ایک ہی دل میں جمع ہو جائیں؟!

سچ تو یہ ہے کہ اگر رسول خداﷺ نے اپنی کوثر کی اس قدر سفارش نہ کی ہوتی تو پھر ان لوگوں کا سلوک کیسا ہوتا؟! یا اگر وہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو اذیت دینا بھی چاہتے تو کیا اس سے بڑی کوئی اذیت دے سکتے تھے؟

فراقِ پیغمبرؐ کے رنج و غم کی حالت میں بھی انہوں نے مادرِ سادات کو رنجیدہ کیا۔ علی علیہ السلام سے کہتے تھے: ’’اپنی بیوی سے کہو کہ یا دن کو گریہ کرے اور رات کو خاموش ہو جایا کرے، یا رات کو روئے اور۔۔۔‘‘

اے بے وفا لوگو! رسول خداﷺ کو گئے دن ہی کتنے گزرے تھے؟ پیغمبرؐ کی بیٹی نے تمہارا بگاڑا ہی کیا تھا؟!

اب اس حادثے کو بھی گزرے صدیاں بیت گئی ہیں، لیکن آج بھی کوئی شخص مدینہ میں اپنے قدم رکھتا ہے تو یہ سوال اس کے ہمراہ ہوتا ہے: ’’ام ابیہا، کوثرِ قرآن، رسول خداﷺ کی اکلوتی بیٹی کا مزار کہاں ہے؟!‘‘

سینکڑوں سال گزر گئے، غاصبانِ ولایتِ امیر المومنینؑ کے سامنے آج بھی یہ سوال دھرا ہے: ’’مزارِ فاطمہ سلام اللہ علیہا مخفی کیوں ہے؟ کیا اکثر صحابہ حتی کہ تابعین تک کے مزار مشخص نہیں ہیں؟ تو پھر فقط دخترِ پیغمبرؐ ہی نے کیوں چاہا تھا کہ ان کی قبر مخفی رہے؟‘‘

یہ سوال ہر سوال کرنے والے کو پہلے زمانوں کی نسبت آج زیادہ شدت سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آخر فاطمہ سلام اللہ علیہا کا قصور کیا تھا؟! کیوں انہیں اذیتیں دی گئیں؟! آخر کیوں!؟!

حقیقت یہ ہے کہ خداوند عالم کی عصمت کبریٰ کی گمنامی ایک ایسا پرچم ہے جو ابد تک لہراتا رہے گا۔ اس وقت تک جب ان کا پیارا بیٹا پردۂ غیبت سے نکلے گا اور ان کی مظلومیت کا انتقام لے گا۔ انشاء اللہ۔

تمام اچھائیوں کی ماں، خلاصۂ انسانیت، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا وصیت نامہ:

’’خدائے غفور و رحیم کے نام سے!

یہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) دختر رسول خداﷺ کا وصیت نامہ ہے۔ میں اس بات کی شہادت دیتے ہوئے وصیت کرتی ہوں کہ خدائے احد کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور پیغمبر ہیں۔ بہشت حق ہے اور آتش جہنم بھی حق ہے۔ قیامت کا دن آ کر رہے گا، جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ خداوند عالم مردوں کو زندہ کر کے محشر میں لا کھڑا کرے گا۔

اے علیؑ! میں فاطمہ (سلام اللہ علیہا) دختر محمد (ﷺ) ہوں۔ خدا نے مجھے آپ کی زوجیت میں دیا ہے تا کہ دنیا و آخرت میں آپ ہی کی خاطر رہوں۔ مجھ پر دوسروں کی نسبت آپ کا حق زیادہ ہے۔ میرے حنوط، غسل اور کفن کا انتظام رات کی تاریکی میں کیجیے گا۔ رات کو مجھ پر نماز پڑھیے گا اور رات ہی کو مجھے دفن بھی کر دیجیے گا۔ اور کسی کو اطلاع نہ دیجیے!

میں آپ کو خدا کے سپرد کرتی ہوں اور روزِ قیامت تک اپنی اولاد پر سلام و درود بھیجتی ہوں۔‘‘


آیت اللہ بہجتؒ اس بارے میں فرماتے ہیں:

اتنی مظلومیت کے بعد احتضار کی حالت میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا اس بات کی وصیت کرنا کہ مجھے شب کی تاریکی میں دفنایا جائے، بہت ہی محیر العقول کام تھا جو انبیاء کےکاموں سے شباہت رکھتا ہے۔ کیونکہ  جس شخص کا کسی سے نزاع ہو، وہ مغلوب ہو کر قتل یا شہید ہو جائے، فیصلہ اس کے خلاف دیا جائے اور اتنی ساری مصیبتوں کا وہ سامنا بھی کرے اس کے باوجود بھی وہ ایسا راستہ پیدا کر لے جس میں وہ خود کو غالب اور فاتح تسلیم کروائے تو یہ کام انبیاء کے کاموں اور ان کے معجزات سے شباہت رکھتا ہے۔

ایک ایسا راستہ جسے سمجھنے سے فہم انسانی عاجز ہے اور وہ یہ ہےکی بی بیؑ نے وصیت کی کہ ان کی میت کو بغیر تشییع کے رات کو دفن کیا جائے۔