پرواز
[شہید احمد کشوریؒ]
جنگ کے ابتدائی دنوں میں تمام دشمنوں اس بات پر متحد ہو گئے کہ جیسے بھی ممکن ہو ہمارے اسلامی ملک کو نقصان پہنچائیں۔ اس کے لیے انہوں نےا یک راستہ یہ اختیار کیا کہ مختلف شعبوں میں ہمارے ماہرین اور کارآمد افراد کو اپنی طرف جذب کرنے لگے۔
انہوں نے ہمارے تمام ہوابازوں کو دعوتنامہ بھیج دیا کہ ایران کو چھوڑ دیں۔ لیکن ایسے میں کچھ عظیم افراد وہ بھی تھے جنہوں نے اس ذلت پر عزت کو ترجیح دی۔ ان میں سے ایک ہواباز شہید احمد کشوریؒ بھی تھے۔ وہ ایک حزب اللہی اور مومن ہواباز تھے جو دوسرے ہوابازوں پر بھی اپنا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ کشوری، شیرودی اور سہیلیان وغیرہ وہ ہواباز تھے جنہوں نے دشمن کے ٹینکوں کو آگے نہ بڑھنے دیا اور مغربی محاذ پر عراقی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے۔
ایک عظیم معرکے میں انہوں نے دشمن کے پچاس ٹینکوں کو زمین بوس کر دیا۔
بالآخر سپاہِ اسلام کے یہ دلیر سردار 1980ء کی خزاں کے ایک غم انگیز دن جب اپنے ایک مشن سے واپس آ رہے تھے تو دشمن کے ایک جہاز کا نشانہ بن گئے اور جام شہادت نوش کر لیا۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
در مسلخ عشق جز نکو را نکشند | رو به صفتان زشت خو را نکشند |
[مسلکِ عشق میں فقط نیک انسان کی جان لی جاتی ہے۔ بری صفات والوں کی طرف طرف تو دیکھا تک نہیں جاتا۔] | |
خدایا! شیطان کو ہم سے دور فرما! ہر روز اس آسمان سے ایک ستارے کو نیچے اتار لاتے ہیں مگر پھر بھی یہ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا ہے۔
اس بار بھی امام کے حکم پر سروفروشوں کا ایک ٹھاٹیں مارتا دریا باطل کے خلاف محاذ کی طرف رواں دواں ہے اور میں اس دریا کا ایک قطرہ ہوں۔
تم جانتے ہو کہ یہ ایک بے کراں سمندر ہے جو روز بہ چڑھتا ہی جا رہا ہے۔شہداء کے راستے کو جاری رکھو کیونکہ وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ پانچویں ستون([1]) سے ہوشیار رہنا کیونکہ وہ تمہارے درمیان موجود ہیں۔
اپنے اندر سے نا اتفاقی کو دور کرو اور انحراف آمیز باتوں کے سامنے اتحاد کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ کوفہ کے لوگوں کی طرح نہ ہو جانا اور امام کو تنہا نہ چھوڑنا۔
ریلیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لو۔ دعائے کمیل میں شرکت کرو۔ اپنے بچوں کو ان چیزوں سے آشنا کرو اور انہیں اللہ کی راہ میں کام کرنے کی ترغیب دلاؤ۔
بابا اور ماں کو وصیت:
بابا اور ماں! جس طرح آپ نے ابھی تک صبر و تحمل سے کام لیا ہے اسی طرح میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کو زیادہ صبر عطا فرمائے۔ راہِ خدا میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کریں۔ میری عزاداری میں نہ بیٹھ جانا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے لیے آنسو نہ بہائیں لیکن اگر آنسو بہانا ہی چاہتے ہیں تو امام حسین علیہ السلام اور کربلا اور ان والدین کے لیے گریہ کریں جنہوں نے اپنے پانچ بیٹے قربان کر دیے، کیونکہ اگر امام حسین علیہ السلام اور عاشورا کے لیے گریہ نہ ہوتا تو آج اصلاً اسلام ہی نابود ہو چکا ہوتا۔
محاذوں کو کبھی بھی منافقین اور انقلاب کے مخالفین کے لیے خالی نہ چھوڑنا۔
عزاداری کی محافل میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرو کیونکہ یہ محافل تمہیں شہداء کی یاد دلاتی ہیں اور یہی شہداء کی یاد ہی تو ہے جو لوگوں کے دلوں کو منقلب کر کے رکھ دیتی ہے۔
امام کو کبھی تنہا نہ چھوڑنا۔
یہ بات کبھی نہ بھولو کہ شہداء تمہارے اعمال کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ما زنده به آنیم که آرام نگیریم | موجیم که آسودگئ ما عدم ماست |
[ہم اس وقت زندہ کہلانے کے حقدار ہیں جب آرام و سکون سے دور رہیں۔ ہم موج ہیں اور ٹھہر جانا ہمارے لیے موت و عدم کا باعث ہے۔] | |
والسلام
حزب اللہ کے موّاج دریا کا ایک قطرہ، احمد کشوری