آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

12 سالہ شہید
[شہید رضا پناہیؒ]

ہمیں ایک بار نہیں بلکہ بار بار اس وصیت نامے کو پڑھنا چاہیے تاکہ سمجھ سکیں کہ کس طرح محاذ بعض لوگوں کے لیے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے جہاں وہ مقدماتی جماعتیں  پڑھے بغیر ہی فارغ التحصیل ہو گئے اور اپنی ڈگری ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے ہاتھوں سے وصول کی۔ سچ تو یہ ہے کہ اُس زمانے اور آج کے زمانے کے نوجوانوں میں کتنا زیادہ فرق ہے!

اس نے 1970؁ء میں کرج کے علاقے میں ایک مذہبی خاندان میں آنکھ کھولی۔لیکن بارہ سال سے زیادہ اپنی عظیم روح پر جسم کی سنگینی کو برداشت نہ کر سکا۔ اصرار کر کے اپنے والدین کو راضی کیا اور بالآخر اپنی زندگی کے بارہویں سال ہی میں ملکوت کا مسافر ٹھہرا۔

اس نے اپنا وصیت نامہ محاذ پر جانے سے پہلے ایک کیسٹ میں ریکارڈ کر کے گھر کے کسی کونے میں چھپا دیا تھا جو اس کی شہادت کے بعد اس کے گھر والوں کے ہاتھ لگا۔

اس بارہ سالہ شہید رضا پناہی کے وصیت نامے کے کچھ حصے ملاحظہ فرمائیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مَن طَلَبَنی وَجَدَنی، مَن وَجَدَنی عَرَفَنی وَ مَن عَرَفَنی اَحَبَّنی وَ مَن اَحَبَّنی عَشَقَنی وَ مَن عَشَقَنی عَشَقتَهُ وَ مَن عَشَقَتَهُ قَتَلتَهُ وَ مَن قَتَلتَهُ فَعَلی دِیَتَهُ وَ مَن عَلی دِیَتَهُ فَاِنّا دِیَتُهُ.

[جو کوئی بھی مجھے طلب کرتا ہے وہ مجھے پا لیتا ہے۔ جو مجھے پا لیتا ہے وہ مجھے جان لیتا ہے۔ جو مجھے جان لیتا ہے وہ مجھے پسند کرنے لگتا ہے۔ جو مجھے پسند کرنے  لگتا ہے وہ میرا عاشق ہو جاتا ہے۔ جو میرا عاشق ہو جاتا ہے میں اس کا عاشق ہو جاتا ہوں۔جس کا میں عاشق ہو جاؤں اسے قتل کر دیتا ہوں۔ جسے میں قتل کر دیتا ہوں اس کا خون بہا مجھ پر واجب ہے اور وہ خون بہا خود میں ہوں۔ (حدیث قدسی)

میرا محاذ پر جانے کا مقصد یہ ہے کہ’’هل من ناصر ینصرنا‘‘ کی صدا پر لبیک کہوں اور اپنے عزیز امام اور اسلام کی مدد کروں۔

اور وہ وظیفہ جس کا تذکرہ ہمارے عزیز امام نے بارہا اپنی تقریروں میں کیا ہے کہ جو کوئی بھی طاقت رکھتا ہے اس پر محاذ پر جانا واجب ہے۔ اب میں جا رہا ہوں تا کہ امام کے اس فرمان پر لبیک کہوں۔

میری آرزو ہے کہ اسلام فتحیاب ہو اور تمام جہان میں اس کی ترویج ہو۔ امید رکھتا ہوں کہ مجاہدین کی مدد و نصرت کی بدولت ایک دن تمام قومیں ظلم و ستم سے آزاد ہو جائیں گی۔ صدام جان لے کہ اگر ہزاروں ممالک بھی مل کر اس کی مدد کریں تب بھی وہ اسلام کی فوجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

میں محاذ پر جا رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اگر میں شہید ہو جاؤں تو میرے والدین غمگین نہ ہوں۔ چونکہ میں نے اپنا ہدف اور راستہ مشخص کر لیا ہے اس لیے امید ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا۔

میرے مہربان ماں اور بابا! آپ نے کئی سال تک جو میرے لیے زحمتیں برداشت کیں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں خدا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا عاشق ہو گیا ہوں اور یہ عشق کسی طرح بھی میرے دل سے نہیں نکلے گا یہاں تک کہ اپنے معشوق ’’اللہ‘‘ تک نہ پہنچ جاؤں۔

ہم دراصل اپنے زمانے کے حسین، خمینی بت شکن کی مدد کرنے کے لیے جا رہے ہیں اور بے شک خدا ان لوگوں کو اجر عظیم سے نوازتا ہے جو اس کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔

میں نے خدا کے لیے مادی چیزوں سے کنارہ کشی کر لی ہے اور روحانی چیزوں کی فکر میں ہوں۔ مال و متاع، ماں باپ اور بھائی بہنوں سے آنکھیں بند کر کے فقط اپنے ہدف یعنی اللہ کی طرف جا رہا ہوں۔

والسلام

رضا پناہی