آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

فرزندِ مزاحمت
[شہید سید ہادی نصر اللہؒ]

نوجوان ہی تھے لیکن دفاع کرنے والی فوج میں شامل ہونے کا عشق تھا۔ بالآخر ان کی آرزو بر آئی۔ وہ خدا کے سب سے برے دشمنوں کے ساتھ جنگ کے دوران جام شہادت نوش کر گئے اور شیعوں کے افتخار و اعزاز کی ایک سند بن گئے۔

جو بھی اسرائیل سے مقابلے کی باتیں کرتے تھے وہ اس طرح میدان میں نہیں اترے ۔ لیکن مزاحمت کے عظیم رہبر حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری سید حسن نصر اللہ وہ پہلے رہبر ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو بھی قربان گاہ بھیجا۔

سید ہادی نصر اللہ سید حسن نصر اللہ کے بیٹے تھے جو لبنانی مجاہدین کے ایک معرکے میں اس وقت شہید ہوئے جب اس ملک  کے جنوب پر اسرائیل نے قبضہ جما رکھا تھا۔

رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے سید حسن نصراللہ کو ان کے اس بیٹے کی شہادت پر تعزیتی پیغام ارسال فرمایا۔

سید ہادی نے اپنا وصیت نامہ اپنی شہادت سے پہلے ہی لکھ چھوڑا تھا۔ اس وصیت نامے  میں وہ لکھتے ہیں:

بسم الله القاصم الجبارین

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي. وَيسِّرْ لِي أَمْرِي. وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي.يفْقَهُوا قَوْلِي.([1])

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

درود و سلام ہو خدا کی سب سے عظیم مخلوق حضرت محمد مصطفیٰﷺ اوران کے پاک و پاکیزہ خاندانؑ پر۔ تمام انبیاء، فرشتوں، صدیقین اور اوصیاء خدا پر سلام ہو۔

عظیم خاتون حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، میرے آقا و سردار اباعبداللہ اور ان کے فرزندوں اور ساتھیوں کی پاک روح پر سلام ہو۔

حضرت قائم، حجت منتظر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پر سلام۔

سلام ہو امام خمینی کی مقدس روح پر۔ سلام ہو امام اور عظیم رہبر سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ پر۔

امت حزب اللہ کے رہبر پر سلام۔ مقاومت اسلامی کے شہیدوں، سید عباس موسوی اور شیخ شہیدانِ مقاومت شیخ راغب حرب پر سلام۔ سلام ہو شہداء اسلام پر۔ ان سب پر خداوند کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔

اس خداوند کی حمد و ستائش کہ جس نے ہمیں اپنے دین کی طرف ہدایت فرمائی اور ہمیں رسول خداﷺ، امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام، خاتونِ کوثر فاطمہ زہرا (جن پر بہترین درود و سلام ہو)، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے قلبی دوستوں اور پیروکاروں میں سے قرار دیا۔

میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ روز قیامت انہیں ہمارا اور تمام مسلمانوں کا شفیع قرار دے۔

سلام و درود کے بعد میں اپنا وصیت نامہ آپ کے لیے لکھ رہا ہوں:

خدا کے لطف و نصرت سے میں اب مزاحمت اسلامی کے مجاہدین میں سے شمار ہوتا ہوں اور دین خدا کی آزادی و دفاع اور اس کی حرمت کی حفاظت کے لیے اس (الٰہی) گروہ کے ساتھ ملحق ہو چکا ہوں۔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس راستے میں مجھے شہادت نصیب فرمائے۔

اس خدا کی ستائش و تعریف جس نے مجھے اس چیز میں کامیابی عطا فرمائی کہ میں اپنے والد کو اس بات پر راضی کر سکوں کہ اپنی تعلیم چھوڑ کر مقاومت اسلامی کے مجاہدین کے ساتھ شامل ہونے کی سعادت حاصل کر پاؤں اور امت حزب اللہ کے مجاہدین اور جنگجوؤں میں سے ہو جاؤں۔

خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس سعادت کے قابل سمجھا کہ جنوب کے عظیم پہاڑوں اور چوٹیوں پر امت مسلمہ اور دین و ولایت، بچوں، بوڑھوں اور تمام مظلوم عوام کا دفاع کر سکوں، خدا اور انسانوں کے دشمن، فساد کی جڑ  صیہونیوں کے مقابلے میں قیام کر سکوں، اور  راہ خدا میں باعزت فتح یا شہادت کے دو راستوں میں سے ایک کو پانے میں کامیاب ہو جاؤں۔

پیارے بابا! میرے آقا و سردار، میرے مولا و امین،میرے رہبر، استاد اور مرشد۔ آپ پر سلام کہ آپ میرے والد بھی ہیں، سردار بھی ہیں، رہبر بھی ہیں اور امین بھی۔

دل کی گہرائیوں سے آپ پر سلام بھیجتا ہوں۔

سلام ہو آپ پر کہ جب آپ اس دنیا میں تشریف لائے، بڑے ہوئے، قیام کیا اور آپ کے اس وقت پر بھی سلام کہ جب آپ بیٹھتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، خطبہ دیتے ہیں، سوتے ہیں اور جاگتے ہیں۔

میرے وجود کی گہرائیوں سے آپ پر سلام ہو۔ آپ پر میرا قلبی سلام  ہو کہ آپ کے وجود سے پیغمبر اکرمﷺ کی خوشبو آتی ہے۔

بابا! بے شک آپ نے میری تربیت کی، مجھے سکھایا اور میری ہدایت کی۔ ان شاء اللہ آئندہ بھی میں آپ کی نیک توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔

بابا! آپ سے فقط دعا کی درخواست کرتا ہوں  اور یہ التماس کرتا ہوں کہ روز قیامت میری شفاعت کیجیے، وہ روز کہ جب انسان اپنے باپ، دوست اور اولاد سے فرار کر رہا ہو گا۔

انتہائی عاجزی اور لجاجت سے آپ سے دعا کا خواہشمند ہوں اور آپ کے لیے دعا بھی کرتا ہوں۔ مزاحمت اسلامی کی رہبری اور امت حزب اللہ کی حفاظت کے لیے بھی دعا گو ہوں۔

مخلصانہ دعائیں ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے لیے بھی۔

درخواست کرتا ہوں کہ اسی طرح ان کی معنوی، روحانی اور جانی حمایت کرتے رہیے کیونکہ اس حمایت کی انہیں تو ضرورت نہیں ہے لیکن آپ کو اس چیز کی ضرورت ہے۔

پیاری ماں! آپ پر خداوند باری تعالیٰ کا درود و سلام ہو۔

اے وہ جو میری سرپرست ہیں اور ہر روز صبح میری کامیابی کی دعا کرتی ہیں۔ آپ ہی نے مجھے ثابت قدمی اور ادب سکھایا ہے۔

آپ سے التماس کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دیجیے اور میرے سوگ میں سیاہ لباس نہ پہننا اور محزون و غمگین نہ ہونا۔

عزیز بہنو اور بھائیو: جواد، زینب، محمد علی! خدا کی رحمتیں اور برکتیں تم پر ہوں۔ میں تمہیں اپنے کاموں میں تقویٰ الٰہی کی تاکید کرتا ہوں۔

خدانخواستہ اپنے بابا کو اپنے کسی کام سے ناراض نہ کرنا کیونکہ ہمارے بابا ہمارے قائد اور امام سید علی خامنہ ای اور امام منتظر حضرت قائم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نزدیک بہت ہی اعلیٰ مقام  کے حامل ہیں۔

میں تم سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے گھروں میں اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی مجالس عزا برپا کرتے رہیں۔ اپنے آنسوؤں کو فقط اہل بیت علیہم السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پر ہونے والے مصائب پر بہانے کے لیے محفوظ رکھیں۔ زیادہ سے زیادہ ذکرِ خدا کریں، اس کے اولیاء و ائمہ سے توسل کریں اور ان کے مقدس کلام کو پڑھیں۔

مقاومت اسلامی کے مجاہدین، زمانے کے ان عظیم انسانوں، قمر بنی ہاشم حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کا پرچم اٹھانے والوں، امیر المومنین علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی شجاعت کے وارثوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہیں۔

مقاومت اسلامی میں میرے مجاہد بھائیو! میری بہت بڑی تمنا تھی اور خدا سے دعا بھی کی تھی کہ وہ مجھے تمہاری رکاب اور خدمت میں آنے کا موقع دے اور اب میں آپ الٰہی بندوں کی خدمت میں ہوں۔

آپ سب پر سلام اے دلیر مردو! سلام ہو اس دن پر جس دن تم پیدا ہوئے اور جس دن تم شہید ہو جاؤ گے۔اس خاکِ مقدس پر سلام جس پر تمہارے مبارک قدم پڑے ہیں اور جو تمہارے خون سے سیراب ہوئی ہے۔

اے بہادرو! اے امت محمد بن عبداللہﷺ اور امت علی و زہرا علیہما السلام  کی عزت و کرامت کا باعث بننے والو!

اے حق کی عزت و فتح اور اسلام نابِ محمدیﷺ کا پرچم اٹھانے والو!

تمہاری فجر گولوں کی آواز سے ہوتی ہے اور صبح خونِ حسینی کی ندا سے شروع ہوتی ہے۔

زمین تمہارے خون سے سیراب ہو جائے گی۔

خورشید کی نورانیت تمہارے ہی نور کا پرتو ہے اور فطرت کی خوبصورتیاں تمہارے ہی جمال و زیبائی کے جلوے ہیں۔

تمہاری مقدس اور پاکیزہ ارواح پر سلام  جو ملکوت اعلیٰ کی طرف پرواز کر جائیں گی۔

اسی طرح بلند جذبوں سے آگے بڑھتے رہو اور اس راستے کو صالحانہ انداز میں جاری رکھو۔

تم سب مجاہد بھائیوں کو صبر اور بردباری کی نصیحت کرتا ہوں۔

تم سب اچھی طرح جانتے ہو کہ اگر تم سختی برداشت کر رہے ہو تو تمہارے دوسرے بھائی بھی ان مصائب سے گزر رہے ہیں۔ پس اپنے ہاتھوں کو دعا کی صورت آسمان کی طرف بلند کر کے فریاد کرو: یا فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا!

تم سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ رہبر حزب اللہ (سید حسن نصر اللہ) کی باتوں کو غور سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ اور جو ذمہ داری حضرت امام خامنہ ای اور جنرل سیکرٹری حزب اللہ لبنان جناب سید حسن نصر اللہ نے تمہارے کندھوں پر ڈال رکھی ہے اسے اچھی طرح نبھانے کی کوشش کرو۔ کیونکہ ان کی اطاعت امام مہدی منتظر عج کی اطاعت ہے۔

تم سب سے معافی کی امید رکھتا ہوں اور  گزارش کرتا ہوں کہ اپنی دعاؤں میں مجھے نہ بھولنا۔

ابوحسن سید ہادی نصر اللہ


([1]) طہ: 25-28