آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

شب نامۂ غم
[شہید غلام علی رجبیؒ]

شہید غلام علی رجبیؒ 1954؁ء کو تہران کے محلہ آذربائیجان میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد حاجی حسن جو اپنے زمانے میں اخلاق و عرفان کے ممتاز اساتذہ میں سے شمار ہوتے تھے، نے اپنے بچوں کی تربیت کا خاص اہتمام کیا تھا۔

غلام علی نے اپنے والد محترم کی تربیت اور رہنمائی کے مطابق نوجوانی ہی میں اہل بیت علیہم السلام کی ذاکری شروع کر دی تھی اور قرآنی و اسلامی تعلیمات سے آشنائی اور شعر کہنے اور حفظ کرنے کی صلاحیت کی بدولت کافی نام پیدا کیا یہاں تک کہ ان کے اشعار اور خاص اسلوب سے  بہت سے ممتاز ذاکر اور خطیب حضرات استفادہ کرتے تھے۔ یہ معروف شعر انہی کا شاہکار ہے:۔

قربون این همه لطف و کرمت

قربون کبوترای حرمت

تیرے حرم کے کبوتروں کے قربان    /    اس سارے لطف و کرم کے قربان

انہوں نے اپنے والد کے راستے پر چلتے ہوئے معلمی کا پیشہ اختیار کیا اور اپنی مختصر مدت حیات میں اپنے اردگرد کے افراد بالخصوص جوانوں پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے۔ مسجد اورسکول میں جوان نسل کی تربیت باطل کے خلاف برسرپیکار حق کے محاذوں پر جانے سے نہ روک سکی۔ بالآخر 1988؁ء کو دفاع مقدس کے آخری دنوں میں معرکہ مرصاد کے دوران 34 سال کی عمر میں منافقین کے ایک گروہ کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر گئے۔ شہادت کے وقت ان کے لبوں پر یا زہرا سلام اللہ علیہا کا ورد تھا۔

شب نامۂ غم اس عارف کی تحریروں میں سے ایک ہے:

ایک چاہِ ظلمت ہے اور میں اس کی تہہ میں بیٹھا ہوا ہوں۔ یا پھر محبت کا کوئی کوزہ  ہے جو خاموش ہے اور راکھ کا ایک ڈھیر لگا ہوا ہے کہ جس کے اندر میں دب کر رہ گیا ہوں۔ یا ظلمت کی گہرائیوں میں خواہشات کے مگر مچھ کے منہ میں پڑا ہوں۔

ہاں، نامراد لوگوں کی شب اسی طرح ہوتی ہے۔ اور وادی حسرت میں رہ جانے والے لوگ اس قفس میں سرگرم ہیں، جس کے تمام روزن بند ہیں اور جس میں پڑے قیدی خستہ حال اور ٹوٹ چکے ہیں، جبکہ میں اس فانی چاردیواری اور اس ظلمانی حجاب کی دیوار پر سر رکھے باہر جانے کی فکر میں ہوں۔

اس جگہ کی طرف جو نور ہے اور جس کی تابش و درخشندگی عشاق، عرفاء، دل سوختگان، محروموں اور حریت پسندوں کی دلجوئی کرتی ہے۔

ان لوگوں کی طرف کہ جن کی زبانوں سے ادا ہوتی ہوئی یا سبوح و یا قدوس کی تسبیح انہیں سپیدۂ سحری کے نزدیک ہونے کی نوید دیتی ہے۔

اس تاریکی میں کہ جس نے آدھی رات کے وقت ہر جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، تو کون ہے جو امید کا چراغ لیے میرے دل میں اترتا چلا آ رہا ہے؟! اور مجھے بشارت دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ تاریکی ہے ہی نہیں! گویا یہ زندان نہیں ہے! مانو، شب نہیں، سردی نہیں ہے، بلکہ صبح بہاری کی نسیم ہے جو خالص پانی کے کنارے کنارے چل رہی ہے اور میں سبز درخت کے نیچے رنگارنگ گلوں کے پاس بیٹھا ہوا ہوں۔ عاشق پرندوں کی چہچہاہٹ میری سماعت کے پردوں سے گزرتی ہوئی میرے وجود کی مہمان بنی ہے اور میرے دل کو ترنم  و نشاط میں غرق کر گئی ہے۔

تو کون ہے جو مجھ سے سرگوشیاں کر رہا ہے؟! تو کون ہے جو میرے دل کو سکون دے رہا ہے؟ تو کون ہے جو میرے وجود میں ظلمت کو فنا کر رہا ہے؟ تو کون ہے کہ  جب تک تیرا خوبصورت نام میرے پُر درد دل سے میری زبان تک جاری رہتا ہے میرا دل لرزتا رہتا ہے؟ میرے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ آہ یہ آنسو ہیں، مگر حسرت کے آنسو نہیں۔ ذلت کے آنسو نہیں ہیں بلکہ شوق محبت کے آنسو ہیں۔

کیا آج تک تو نے محبت کی اشکباری کی ہے؟!

کیا آج تک تیرا دل کسی محبوب کی زلفوں میں الجھا ہے؟!

افسوس، میں دوسروں کو اس کا قائل نہیں کر سکتا۔ البتہ یہ ضروری بھی نہیں ہے کیونکہ جس دن تو نے اپنی محبت کا یہ ہدیہ میرے سپرد کیا اس دن تو نے مجھ سے اس بات کا عہد بھی لیا کہ میں دوسروں کو اس کے بارے میں نہ بتاؤں۔ اس کی تو پہلی شرط ہی یہی تھی کہ دوسرے اس سے اجنبی رہیں۔ آہ، میں معذرت چاہتا ہوں۔ اس واسطے بتا رہا ہوں کہ یادگار رہ جائے اس لیے نہیں کہ دوسرے اسے جان لیں۔

مهر کردند و دهانش دوختند

آنکه را اسرار حق آموختند

جو حق کے اسرار سمجھ لیتے ہیں وہ مہر بلب ہو جاتے ہیں اور اپنی ہونٹ سی لیتے ہیں۔

جس وقت رات کی سیاہی ہر جگہ اپنے پر پھیلا دیتی ہے، سب کی آنکھیں بوجھل ہونے لگتی ہیں اور نیند سب کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے تو اس وقت میری

آنکھیں کھلی رہتی ہے۔ میرا دل بے اختیار لرز جاتا ہے۔ ہاں، وہ بیدار ہے اور میری آواز کو سن بھی رہا ہے۔

ہم آپس میں باتیں کیوں نہ کریں؟! وہ میرا  خالق ہے، میرا خدا ہے، میری امید و تکیہ گاہ ہے۔ میں اپنے دل کی تاریکیوں سے اسے آواز دیتا ہوں۔

میری جان گداز آواز کا زمزمہ میرے دل میں تلاطم پیدا کر دیتا ہے۔میرے دریائے وجود کی لہر کشتیٔ محبت کو حرکت میں لے آتی ہے اور اشکوں کی موج میری خستہ اور بیدار آنکھوں کے ساحل سے باہر اچھل پڑتی ہے۔

اے رہ جانے والو! تم توانائی چاہتے ہو؟! بہترین توانائی محبت ہے۔ دیکھو تو میں کس قدر جلدی جا رہا ہوں، جا رہا ہوں، جا رہا ہوں تا کہ اس تک پہنچ جاؤں اور ابھی تو راستے کی ابتدا میں ہوں۔

ندارم به جز تو پناهی

الهی الهی الهی

الٰہی! میرا وجود تیرے ہی دم سے ہے۔ میرا درد تجھی سے شفا پاتا ہے۔ تو نے مجھے اس لیے خلق کیا کہ مجھ پر لطف کرے، اس لیے نہیں کہ مجھے جلا دے۔ سچ کہتے ہو میں  آج رات اپنے جلنے سے لذت لے رہا ہوں اور مجھے تمہاری فکر نہیں ہے!

که آتش از تو و خاکستر از من

بسوزان هر طریقی می پسندی

جیسے چاہتے ہو مجھےجلا دو کہ آگ تمہاری طرف سے ہے اور خاکستر میری طرف سے۔

اے ہمیشہ بیدار رہنے والے! مجھے اپنے لیے بیدار رہنے والا بنا۔ اےمحبوبِ واحد! مجھے اپنے راستے کا راہی بنا۔ اے بہترین غم خوار! مجھے میرے حال پر مت چھوڑ۔

تجھے تیرے ان پاکیزہ لوگوں کا واسطہ جن کے سروں پر تو نے تاجِ کرامت رکھا ہے، جنہیں عزت کے تخت پر بٹھایا ہے، جنہیں ان کی سعادت کے راستے پر لگایا ہے، جنہیں ان کی رفعتوں کے اوج تک پہنچایا ہے، جنہیں تو نے اپنی آنکھیں کہا ہے اور جنہیں تو نے جام شہادت پلایا ہے۔  تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو مجھے اپنے در کا سوالی ہونے کا افتخار عطا فرما۔ مجھے اپنا گدا بننے دے کہ کائنات کے سامنے تیرے در کی اس گدائی پر فخر و مباہات کر سکوں۔

تو ہی میرا حبیب ہے، تو ہی میرا طبیب ہے، تو ہی میرا انیس ہے، تو ہی مرا شفیع ہے۔ میں تیرا فقیر ہوں، میں تیرا مریض ہوں، میں تیرے سامنے ذلیل و حقیر ہوں۔ آہ، آج کی رات کیسی رات ہے کہ ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ وہ کہاں ہیں جو کہتے ہیں کہ رات کو سورج طلوع نہیں کرتا؟! ہاں وہ سوئےہوئے ہیں اور خورشید کو نہیں دیکھ سکتے۔

خورشید کیا ہے؟! یار کی محبت۔ خورشید کا نور کیا ہے؟ذکر یار۔

اے خورشیدِ محبت! میرے بحرِ دل میں ضوفشاں ہو۔ اے خواہشات کی دھند، میرے دل سے باہر نکل جا۔ اے آسمانِ ندامت، بادل بن اور شرم کے مارے میری آنکھوں سے برس جا۔ برس اور وہ وقت یاد کر جب تو گناہ کے بھنور میں غوطے کھا رہا تھا اور اس نے اپنے بے انتہا لطف و رحمت سے تجھے مہلت دی، باب توبہ کو تیرے لیے کھول دیا اور اس کی محبت نے ایک دفعہ پھر تجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور تیری آنکھوں میں جو اشک اس نے تجھے امانتاً دیے تھے ان میں سے ایک قطرہ تیرے چہرے پر بہا دیا۔

ہاں، اس نے میرا بازو پکڑا اور مجھے اپنے عفو و درگزر کی منزل تک پہنچا دیا۔ پھر بھی مجھے شرم نہ آئی اور میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ تیس سال ہونے کو ہیں کہ میرے اور اس کے عمل کی تکرار جاری ہے۔ وہ اپنے کرم کا سلسلہ منقطع نہیں کرتا اور میں اپنے گناہوں سے باز نہیں آتا!

پھر بھی مجھے امید ہے کہ تو مجھے معاف کر دے گا۔ تو نے خود ہی تو میری عادتیں بگاڑی ہیں۔ اور مجھے بھی امید ہے کہ تو اپنی مغفرت کی امید کسی سے بھی سلب نہیں کرے گا کیونکہ ناامیدی فاسقوں کا شیوہ ہے۔

آج کی رات بھی کیا رات ہے کہ سب پردے ہٹ رہے ہیں۔ تو نے مجھے اپنے ہاں مہمان بلایا ہے؟! لیکن میں اس دعوت کے آداب و رسوم سے ناواقف ہوں!

اگر میں ایسا سوچتا ہوں تو یہ میرے عشق کی دلیل ہے جو میرے دل کی گہرائیوں سے بولتا ہے اور جسے تو نے بطورِ امانت میرے دل میں رکھا ہے۔

سچ کہتے ہو، ایسا کیوں ہے کہ لوگ ظاہراً تو مجھے بلاتے ہیں مگر باطناً دھتکارتےہیں؟! میں اس لیے نہیں پوچھ رہا کہ بے چین ہو جاؤں بلکہ یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کہیں تُو تو ایسا نہیں چاہ رہا؟!

خود میں بھی اسی طرح ہوں۔ انہیں بلاتا ہوں مگر باطن میں ان کی طرف نہیں جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو بھی تجھ سے نزدیک ہوتا جاتا ہے اسے دوسروں سے دور ہونا پڑتا ہے اور تو خود بھی ایسا ہی چاہتا ہے کیونکہ جتنا میں دوسروں سے دور ہوں گا تجھ  سے نزدیک ہو جاؤں گا۔

اسی وجہ سے میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ ان کا ظاہری احترام میرے کس کام کا؟!

میرے مولا، میں نے  دوسروں کی دوستی کو تیری وجہ سے قبول کیا ورنہ تیرے علاوہ کسی اور کی دوستی میرے کس کام کی ہے۔ اب تو میں سچ کہہ رہا ہوں مگر آئندہ کا مجھے معلوم نہیں۔ البتہ تُو تو جانتا ہی ہے۔

ان چند اور صبحوں میں میرے بے کفن مولا کی خاطر آ جا اور مجھ سے ناراض نہ ہو۔ مجھے ڈر ہے کہ تو نے مجھے سے اتنی بار آشتی کی جبکہ میں نے تجھ سے منہ موڑا، کہیں اس رویے سے تُو تھک ہی نہ جائے۔

کیا ابھی وقت نہیں پہنچا کہ تو میرا علاج کرے؟! میں جس سے بھی کہتا ہوں وہ میرا مذاق اڑاتا ہے۔ کیا تُو بھی ایسا ہی کرے گا؟!

اگر تیرا مریض قابل علاج نہیں ہے تو تُو نے قرآن میں ’’هو شفاء‘‘ کا اعلان کیوں کیا ہے؟ اور تیرے نیک لوگ تجھے ’’یا شافی‘‘ کہہ کر کیوں پکارتے ہیں؟!

شاید تو فقط نیکوں کو دوا دیتا ہے؟ کیا برے لوگ تیرے بندے نہیں ہیں؟!

میرے قتل کا حکم دے دے لیکن اپنی جدائی نہ دے۔ میں جان تو قربان کر سکتا ہوں مگر تیرے ہجر میں صبر نہیں کر سکتا۔

چونکہ پانچویں صفحے پر پہنچ چکا ہوں لہٰذا بنامِ پنجتن ایک اور سفید صفحے کو سیاہ نہیں کرتا اور امید رکھتا ہوں کہ ان کی محبت کے صدقے یہ صفحات موثر ثابت ہوں۔

(أَیْنَ رَجَبِیُّوْنَ). بہ نام چہاردہ معصومین علیہم السلام

چودہ رجب

غلام علی رجبی

*****

شہید غلام علی رجبی نے اپنی شہادت سے کچھ دیر پہلے جو وصیت نامہ لکھا اس میں وہ کہتے ہیں:

به خون خویش نوشتم به روی سنگ مزارم
که من به جرم محبت قتیل خنجر یارم

[میں نے اپنے خون سے اپنے سنگِ مزار پر لکھ دیا ہے کہ میں محبت کے جرم میں اپنے دوست کے خنجر سے قتل کر دیا گیا ہوں۔]

میں غلام علی رجبی جندقی وصیت کرتا ہوں کہ:

مجھے انجمنوں میں فراموش نہ کریں۔ میری مجلس ختم وغیرہ میں فقط امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پڑھی جائے۔

اگر مجھے دنیا کی طرف آنے کی اجازت دی جائے اور میرے روح آپ لوگوں کے پاس آئے تو میں فقط انجمن کے پروگراموں اور مجالس عزا میں شرکت کرنا پسند کروں گا۔

میں تم سب کو عزاداری کی وصیت کرتا ہوں جو مصیبتوں کو دور کرتی ہے، اور امام حسین علیہ السلام پر آنسو بہانے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ آنسو کامیابی کی چابی ہیں۔

میرے لیے بہترین تحفہ وہ آنسو ہیں جو امام حسین علیہ السلام کی یاد میں بہائے جائیں۔

اگر کبھی انجمنوں کے پروگراموں  میں دوستوں کی یاد میں بہائے جانے والے آنسوؤں کا ایک قطرہ مجھے بھی ہدیہ کر دیں تو یہ میرے لیے ہر چیز سے بڑھ کر ہو گا۔ اتنا قیمتی  کہ میں اس قطرے کو بہشت کے بدلے بھی نہیں دوں گا۔

قیامت میں ملاقات کی امید کے ساتھ

غلام علی رجبی

اندیمشک 26 جولائی 1988؁ء