واماندہ([1])
[شہید مصیب مرادیؒ]
قزوین کے علاقے آبیک کے مضافات میں واقع ایک گاؤں میں آنکھیں کھولیں۔ مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ خود بھی کافی متدین اور حلال و حرام کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے تھے۔۔۔
انقلاب کی کامیابی میں مصیب کا کافی موثر کردار رہا۔ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد ہی وہ لویزان بیرک چلے گئے اور گوریلا جنگوں کا کورس تمام کیا۔
وہ ان اولین فوجیوں میں سے تھے جنہوں نے سید محمد ابوترابی کے ہمراہ جنگی لباس پہنا اور وحدت برقرار رکھنے والے گروہ کے قالب میں کردستان چلے گئے۔
جنگ کے شروع ہوتے ہی وہ ان پہلے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے دشمن سے مقابلے کی ٹھانی۔ وہ شہید چمران کے ساتھ گوریلا لڑائیوں میں شریک رہے۔
جس وقت ہم ڈویژن8 نجف میں تھے تو حاج احمد کاظمی نے انہیں غوطہ خوروں کی ایک بٹالین کی بنیاد رکھنے کو کہا۔ اس سے پہلے بھی وہ قزوین ہی کے جوانوں پر مشتمل بم ڈسپوزل سکواڈ کی ایک بٹالین کی بنیاد رکھ چکے تھے۔
وہ شجاعت، انتظامی صلاحیت اور دانشمندی جیسی صفات کا مجموعہ تھے۔ اپنے بھائیوں کو بھی محاذ پر لے آئے تھے۔ مصیب جنگ کے زمانے میں ڈویژن 17 اور8 نجف میں شعبہ جاسوسی اور بم ڈسپوزل سکواڈ عملے کے انچارج رہے۔ ان کے ایثار بھرے تجربے میں جنگ سے حاصل ہونے والا پچاس فیصد بدنی نقصان ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ان کی جو حالت تھی وہ میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ وہ شکستہ اور دلگیر تھے۔ گویا کاروان جا چکا ہے اور وہ اس سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن وہ ہمیشہ کہتے تھے: ’’شہادت کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ یہ ابھی بھی اسی طرح کھلا ہوا ہے۔‘‘
1995ء میں سپاہ کے برّی افواج کے شعبے نے ان کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ان سے جنوب آنے کی درخواست کی۔ ان کے ذمے ان جنگی علاقوں میں پاکسازی کے کام کی نظارت و نگرانی تھی۔
مصیب کافی خوش تھے۔ وہ ایک بار پھر ایسے علاقوں میں جا رہے تھے جہاں وہ اپنی زندگی کے خوبصورت سال گزار چکے تھے۔
38 وسیع جنگی علاقوں میں پاکسازی کے آپریشن میں میں ان کا مرکزی کردار تھا۔ 19 جولائی 2005ء کی صبح 10 بجے وہ دیواندرہ کے علاقے کی طرف نکل گئے۔ وہ وہاں کی پاکسازی کے عمل سے مطمئن ہونا چاہتے تھے۔
اس وقت ان پر، جوش و نشاط کی ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ معرکے انجام دینے والی راتوں کی یادیں ان کے ذہن میں تانتا باندھے ہوئے تھیں۔ اچانک دھماکے کی آواز نے دیواندرہ کے پہاڑوں کو لرزا کر رکھ دیا۔ مصیب مرادی قافلہ شہداء کے ساتھ جا ملے تھے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ انہیں اپنی شہادت کی خبر ہو گئی تھی لیکن شہادت سے پہلے انہوں نے ایک عجیب وصیت نامہ ترتیب دیا۔ اس وصیت نامے میں بعض ذاتی مسائل ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں:
خداوندا! میرے سارے دوست جا چکے ہیں۔ خون میں ڈوبا حسینی قافلہ بھی روانہ ہو چکا ہے۔ میرے مورچوں کے ساتھی بھی چلے گئے لیکن میں پیچھے رہ گیا ہوں۔
خدایا! دل سوختہ ہوں اور تیرے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے۔ خدایا! میری آخری آرزو یہی ہے کہ مجھے کاروان شہداء تک پہنچا دے تا کہ خون میں لت پت ہو کر تجھ سے ملاقات کروں۔
بار الٰہا! تو خود بہتر جانتا ہے میں بے سوچے سمجھے اس راستے پر نہیں آیا ہوں۔ میرا مقصد فقط تیری خوشنودی کا حصول، اس اسلامی مملکت اور تیری بارگاہ کے مومنین کی خدمت کرنا تھا اور رہے گا۔ میں خود عاشقانہ طور پر اس راستے اور اس مقدس مقام محاذ پر آ یا ہوں اور شہادت کا متلاشی ہوں تا کہ عاشقانہ انداز میں موت کو گلے لگاؤں۔ خدایا! یہ فوزِ عظیم اس بندے کو عطا فرما۔
تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ دنیا کی زرق برق زندگی اور اس زندگی کی مشکلات تمہیں قرآن، ولایت فقیہ اور انقلاب کی قیادت کے راستے سے دور نہ کر دیں۔
ولایت فقیہ سے کبھی بھی پیچھے نہ ہٹنا اور نہ کبھی آگے بڑھنا۔ ولایت سے پیچھے رہ جانا باعث ذلت ہے اور آگے نکل جانا باعث ہلاکت۔
اپنے بچوں اور دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ولایت اور رہبر معظم کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔ نماز جمعہ اور مذہبی تقاریب میں شرکت کریں تا کہ آپ کی اولاد نماز، قرآن اور مسجد سے مانوس ہو جائے۔
اپنے سب دوستوں کو یہ وصیت کرنا چاہتا ہوں کہ ولایت فقیہ اور رہبر معظم حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے حامی رہو۔
اگر تم میں سے کوئی ایسا ہے جو ولایت فقیہ اور حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی رہبری کا قائل نہیں ہے تو وہ اس حقیر کے جنازے میں شرکت نہ کرے۔
والسلام
بندہ عاصی و گناہگار
مصیب مرادی