آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

جراحت، اِسارت، شہادت
[شہید انجینئر غلام رضا سپاہ کمریؒ]

1962؁ء کو کرمانشاہ میں پیدا ہوئے۔ ایک مذہبی اور اسلام پر عمل پیرا خاندان میں پرورش پائی۔ ہائی سکول میں ریاضیاتی طبیعات کے مضمون میں ممتاز پوزیشن حاصل کی۔غلام رضا تمام جلسوں، مارچ اور مظاہروں میں بھرپور طریقے سے شرکت کرتے تھے۔

سپاہ کی تشکیل کے ابتدائی دنوں میں ہی وہ اس مقدس ادارے میں شامل ہو گئے۔1984؁ء میں عملی ریاضی کے مضمون میں نمایاں نمبروں سے کامیاب ہو کر تہران یونیورسٹی میں قبول کر لیے گئے۔ یونیورسٹی سے ایک سال کے لیے چھٹی لے لی تا کہ محاذ پر جا کر خدمت انجام دے سکیں۔ ان کے اندر بہت زیادہ صلاحیتیں پائی جاتی تھیں۔

جن دنوں غلام رضا نے یونیورسٹی کے طلاب کے سامنے تقریر کی تو اس تقریر میں کہا: ’’اگر مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس نہ ہوتا تو کبھی بھی یونیورسٹی میں واپس آنے کے لیے جنگ کو ترک نہ کرتا۔‘‘

وہ ہمیشہ کہتے تھے: ’’ایک مسلمان اور مومن مجاہد کو تقویٰ، جنگ، کام، محنت، تحصیل علم اور زندگی کے تمام شعبوں میں توانا اور کامیاب ہونا چاہیے تا کہ انقلاب کے دشمنوں اور بدخواہوں کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ لگے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ان صفات کا کامل نمونہ تھے۔

غلام رضا کے سینئرز، اساتذہ اور افسران کے مطابق وہ انقلاب و اسلام کے لیے علمی میدان میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ شرعی احکام و وظائف کے مکمل طور پر پابند تھے۔ ریکی اور جاسوسی کے کاموں میں استاد تھے۔

امام خمینیؒ کے فرامین پر عمل کرنا انہوں نے اپنے اوپر واجب قرار دے رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دوسروں کے لیے بھی نمونہ تھے۔

مجھے وہ دن نہیں بھولتا۔ ہم گاڑی میں کہیں جا رہے تھے کہ قرارداد 598([1]) کے قبول کرنے کے حوالے سے امام خمینیؒ کا پیغام نشر ہوا۔ انہوں نے گاری ایک طرف کھڑی کر دی۔ ان کی حالت بالکل تبدیل ہو چکی تھی۔ وہ رونے لگے۔ مسلسل کہے جا رہے تھے: ’’تم نے دیکھا کہ شہادت کا باب بند ہو گیا ہے۔ تم نے دیکھا کہ ہم شہادت کے فیض سے محروم رہ گئے۔‘‘ وہ شہادت کے عاشق تھے۔

انہوں نے سب پر ثابت کر دیا تھا کہ شہادت کی راہ و رسم کوئی جاہلانہ جذبہ نہیں ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ گلستانِ شہادت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔

انہوں نے اپنی شہادت کی کیفیت کی طرف خود ہی اشارہ کر دیا تھا، وہ بھی اس زمانے میں جب کہ جنگ ختم ہو چکی تھی۔

انہوں نے کہا تھا: ’’میری خواہش ہے کہ شدت سے زخمی ہو جاؤں، پھر علاج کے بعد اسیر ہو جاؤں اور اسیری ہی میں مجھے شہادت مل جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ زخم، قید اور شہادت تینوں کا اجر پا سکوں۔‘‘

سپاہ چہارم بعثت کے شعبہ جاسوسی کے قائم مقام انچارج تھے۔ ایک دن ہم نے نماز فجر کے بعد زیارت عاشورا پڑھی اور اسی روز ایک جگہ ریکی کے لیے چلے گئے۔ خبر ملی تھی کہ منافقین نے حملہ کر دیا ہے۔ ہم ایک مورچے کے قریب کھڑے تھے۔ وہ غور سے سڑک اور اس کی اطراف کو دیکھ رہے تھے کہ اسی وقت بمباری شروع ہو گئی۔

غلام رضا سب کو مورچوں میں ہدایات دے رہے تھے کہ ایک گولی ان کے پاؤں میں آ کر لگی اور وہ زخمی ہو گئے۔ کہنے لگے: ’’مجھے ان اہم معلومات کی پریشانی ہے جو ہمارے سامان میں پڑی ہوئی ہیں۔‘‘

ہم نے انہیں ہسپتال بھیج دیا۔ اسی وقت منافقین نے بھی حملہ کر دیا۔۔۔

راستے میں بھی منافقین گھات لگائے بیٹھے تھے۔ غلام رضا کو انہوں نے قید کر لیا۔ اگلے چند دنوں تک ان کا کچھ پتا نہ چل سکا۔ میں نے ان کے شہید ہونے کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا یہاں تک کہ ایک رات خواب میں انہیں دیکھا۔ وہ میدان میں بہت سے جوانوں کے درمیان پڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: ’’غلام رضا! یہاں کیا کر رہے ہو؟!‘‘

انہوں نے جواب دیا: ’’تم میری فکر نہ کرو۔ فقط مجھے جلد از جلد ڈھونڈنے کی کوشش کرو۔‘‘

اس خواب سے میں نے سمجھ لیا کہ غلام رضا شہید ہو گئے ہیں۔ جب گمشدہ شہداء کی تلاش شروع ہوئی تو چالیس دن کے بعد ان کا پیکر بھی ہمیں مل گیا۔ وہ منافقین کے ہاتھوں اسیر ہو گئے تھے اور پھر اس کے بعد۔۔۔

انہوں نے خدا سے جو کچھ مانگا تھا وہ انہیں مل گیا تھا: جراحت، اسارت اور پھر شہادت۔

ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ان کی آخری تحریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے:

شہیدو! عزیزو! ماہر سوارو! تم تو چلے گئے مگر ہم!! ذمہ داری کا بھاری بوجھ ہم کیسے اور کس طاقت سے اٹھائیں؟! مگر یہ کہ تمہارا خدا ہی ہمیں اس چیز کی طاقت عطا فرمائے۔

اے عزیزو! خدا سے دعا کرو کہ اس کی درگاہ ربوبیت میں ہمارے قدم لڑکھڑا نہ جائیں۔ ہمارے ہاتھوں میں سستی کا احساس تک نہ ہو۔ ہمارے افکار انحراف کو ایک لحظے کے لیے بھی ہمارے سامنے نہ آنے دیں۔

تم جانتے ہو کہ اگر تمہارےخون، تمہارے انقلاب، ہمارے انقلاب اور ہماری عظیم ملت کے امام زمانہ کے انقلاب کی ذمہ داریوں میں سے کوئی ایک بھی ہوتی تو مردوں کے مضبوط ارادوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی۔

اب کیا کہوں کہ ہمیں تمہارے جانے کا غم اٹھائے، اپنی تنہائی کا رنج لیے،  اپنے دل کا درد سنبھالے اور اپنی آنکھوں میں اشک بہائے اس سنگین اور قیمتی امانت اٹھانا ہے۔

میں تم سے کیا کہوں؟! میرے پاس کہنے کو ہے ہی کیا؟ سوائے تمہاری گلگوں تربت کی خاک کے،یا تمہاری واپسی سے خالی ہجرت کے غبار سے بہنے والے غم کے آنسؤوں کے اور کیا نثار کروں؟! تمہارے ساتھ گزرے ہوئے واقعات کو کیسے فراموش کروں! تمہاری جدائی کے داغ کو کس مرہم سے قرار بخشوں؟!

تمہاری تلاوت کی آوازیں میرا سبق ہوتی تھیں۔ اپنے کردار و رفتار کے ذریعے تم میرے معلم تھے۔کس منہ سے تمہارے سامنے سر اٹھائے رکھوں۔

تمہارے منور چہروں کےسامنے اپنی شرم و خجالت کو کیسے پنہاں کرو کہ میں تمہارا قرض چکانے میں ایک لمحے کے لیے بھی استقامت کا مظاہرہ نہ کر سکا۔

تمہاری محبتوں کی میٹھی داستان اور تمہارے ہجر کا غم آلود قصہ کس سے کہوں جو تمہاری بزرگی و شرافت کی لاج رکھے اور میرے شکستہ و افسردہ دل کا مرہم بنے۔

انہوں نے اپنی آخری تحریروں میں سے ایک تحریر سپاہ کے دوستوں کو لکھی تھی:

سپاہ کی قدر جانو۔ سپاہ خدا کی طرف سے ودیعت کی گئی ہے جسے ہم نے اپنے شہداء کے ہاتھوں سے بطورِ امانت لیا ہے۔ سپاہ اس نسل کی شجاعت و مردانگی کی تجلی ہے جس نے اپنے خون کے سمندر میں طوفانوں کے اندر ہچکولے کھاتی ہمارے انقلاب اسلامی کی کشتی کو اپنے عشق کے ذریعے امن ونجات کے ساحل تک پہنچایا۔

سپاہ ان انسانوں کی عظیم محنت کا نتیجہ ہے جو سپیدۂ سحری کو شفق سے گانٹھ دیتے تھے اور اپنی جبین کے پسینے سے اپنے ایمان اور انقلاب کے ننھے پودے کی آبیاری کرتے رہے۔

سپاہ، لشکر ولایت کے ، خون میں غلطاں کڑیل جوانوں کی دلاوریوں کی وارث ہے۔

سپاہ، ولایت کا بازو اور حضرت ابو عبداللہ حسین علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام علیہا کی یونیورسٹی ہے۔

سپاہ وہ عظیم فوج ہے جس میں شامل ہونے کی آرزو جماران([2]) کے عاشق عارف([3]) کے دل میں بھی مچلتی رہتی ہے۔ سپاہ کی قدردانی کرو۔

تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اگر دنیا میں کوئی ایسی فوج ہے، جس کی سپہ سالاری امام زمانہ عج کرنا چاہتے ہوں تو وہ فقط اور فقط سپاہ ہے۔

ہمارا محاذ اسلام کا محاذ ہے۔ ہم بندگی خدا کے فخر اور سرفرازی کے ساتھ پوری دنیا میں اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے دماغ میں اپنی ذمہ داری اور فریضے کی ادائیگی کے علاوہ اور کوئی فکر پروان نہیں چڑھتی اور ہمیں اپنے بازؤوں میں صرف اور صرف الٰہی قوت دکھائی دیتی ہے۔

والسلام علی من اتبع الهدی


([1]) اقوام متحدہ کی قرارداد598۔

([2]) ایران کے دارالخلافہ تہران کے نزدیک ایک  علاقہ جہاں امام خمینیؒ رہتے تھے۔

([3]) مراد امام خمینیؒ ہیں۔