کاغذ و قلم کے ساتھ دردِ دل
[شہید ابراہیم اصغریؒ]
یونیورسٹی کے طالب علم بھی تھے اور استادبھی۔ کھلاڑی بھی تھے اور شاعر بھی۔ مصنف بھی تھے اور کارٹونسٹ بھی۔ خادم اہل بیتؑ بھی تھے اور ذاکر بھی۔ ان سب صفات کےساتھ ساتھ ایک بہادر اور تیزبین کمانڈر بھی تھے۔ خلاصہ یہ کہ وہ ایسے مخلص اور با تقویٰ انسان تھے کہ جن کی توصیف سے قلم عاجز ہے۔
1957ء کو زنجان میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے اکلوتے بیٹے تھے۔ بچپن ہی سے انتہائی چالاک اور باادب تھے۔ فٹ بال، ہینڈ بال، کراٹے اور کچھ کھیلوں میں کافی مہارت رکھتے تھے۔ حتی کہ ہاکی کے کھیل میں استاد تھے۔
ان کا کہنا تھا: ’’میں نے ایک دفعہ چاولوں کے تھیلے سے اپنے لیے کراٹوں والا لباس بنایا، حتی کہ اس لباس کا کمر بند بھی خود ہی بنایا تھا۔‘‘
انقلاب سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک دفعہ میں نے انہیں ایک کتاب پڑھتے ہوئے دیکھا۔ وہ ایک ایسی کتاب تھی جس پر پابندی لگی ہوئی تھی۔ ایک بار وہ مجھے بازار میں ملے۔ جلدی سے میرے پاس آئے اور اپنی کتابیں مجھے تھماتے ہوئے کہنے لگے: ’’ساواک کی گاڑی یونیورسٹی سے میرا پیچھا کر رہی ہے۔ اگر مجھ کچھ ہو جاتا ہے تو میرے گھر والوں کو بتا دینا۔‘‘ اسی دن انہیں پکڑ لیا گیا۔ کافی مارا پیٹا بھی البتہ یہ پہلی بار نہ تھی۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار اپنے نظریات کی وجہ سے ساواک کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے تھے۔
بہت کم گو تھے۔ ہر وقت اپنے آپ میں گم رہنے والے انسان، لیکن جب بات کرتے تو الفاظ کافی نپے تلے ہوتے تھے۔
جنگ کے ابتدائی سالوں میں یونیورسٹی کی تعلیم کو خیرآباد کہا اور محاذ پر چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا: ’’محاذ خدا کی سرزمین ہے۔ یہاں سےجنت کی خوشبو آتی ہے۔‘‘
ان کی تحریریں عجیب و غریب ہوا کرتی تھیں۔ وہ کہتے تھے: ’’حقیقی بسیجی وہ ہے جو امام کے ایک اشارے سے زندہ ہو جائے اور ایک اشارے سے شہید ہو جائے۔‘‘
لوگوں اور مجاہدین کے ساتھ ایک بسیجی جیسا سلوک کرتے تھے، یعنی خدا کی راہ میں خدا کے لیے کام کرتے تھے۔
ان کے نزدیک بدترین افراد وہ تھے جو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے اور گناہ کرتے ہیں۔ مفت خوری کی کسی محفل میں گھنٹوں بیٹھ کر کھاتے پیتے اور گپیں لگاتے رہتے ہیں لیکن نماز کے لیے ان کے پاس دو منٹ کی فرصت بھی نہیں ہوتی۔
ان کے مطابق ان کی زندگی کے بہترین ایام وہ تھے جب وہ ولی العصر (عج) بٹالین میں بسیجیوں کے ہمراہ تھے۔ کہتے تھے: ’’وہ لوگ سن و سال میں چھوٹا ہونے کے باوجود بڑے ہیں اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ نماز اور دعا کے تو عاشق ہیں۔‘‘
ڈویژن 31 عاشورا کے معرکے میں جاسوسی کے حوالے سے انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ابھی بھی ان کی ڈائری میں اس زمانے کے لکھے ہوئے کچھ صفحات موجود ہیں جو سارے رموز کی زبان میں لکھے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’’میں گولی کا توڑ کرنے والا ہوں۔‘‘ وہ کئی بار شہادت کی دہلیز تک پہنچ گئے تھے۔ان کا جسم گولیوں کے ٹکڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ معرکہ بدر میں ان کی ایک آنکھ اسلام پر فدا ہو گئی لیکن وہ محاذ سے دور نہ ہوئے۔
غوطہ خوری میں استاد تھے۔ والفجر8 اور کربلا4 اور 5 کے معرکوں میں ڈویژن کی ریکی ٹیم کے انچارج تھے۔ ان کے پاس جب بھی فرصت ہوتی تو اپنی یادیں لکھنے بیٹھ جاتے۔ انہوں نے اپنی ڈائری کا نام رکھا ہوا تھا: ’’کاغذ اور قلم کے ساتھ دردِ دل۔‘‘
ذیل میں دیا جانے والا اقتباس ان کا آخری دردِ دل ہے جو انہوں نے جنوری 1987ء میں کاغذ و قلم کے حوالے کیا۔ گویا انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ اب ان کے آسمان کی طرف پرواز کرنے میں بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔
9 جنوری 1987ء کو جیسے ہی معرکہ کربلا 5 کا آغاز ہوا تو ابراہیم اصغری شلمچہ کے محاذ پر اپنے شہید دوستوں سے جا ملے۔
میرے معبود! اپنی درگاہ کے مقرب افراد کے صدقے میں میرا ہاتھ پکڑ لے اور مجھے اس تاریکی اور ظلمات کی دلدل میں گرنے سے بچا لے۔ مجھے تنہائی کی طرف لے جا۔ مکمل تنہائی اور اس تنہائی میں تو میرا دوست بن جا۔
خدایا! اس تنہائی میں مجھے اپنے دیدار کی امید عطا فرما۔ اس بے کسی، مسافرت اور رنج و غم میں اپنی محبت کے آفتاب کے شعلے سے مرے وجود کو پگھلا کر رکھ دے۔ فقط تیری اطاعت و عبادت اور تیری ہی رضا کے لیے کام کرنے کی طاقت مجھ میں باقی رہے۔
میرے مددگار! میری مدد کر تا کہ میں اس راستے کو جلدی جلدی طے کر لوں۔ تیرے دوستوں سے ملاقات کا شوق رکھتا ہوں۔ مجھے ناامید نہ لوٹانا۔
بار الٰہا! موت میں مجھے کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ہاں موت کی کیفیت میں ضرور تردید کا شکار ہوں۔ میں ایسی موت چاہتا ہوں جو تجھے پسند ہو۔ تیری ذات کے علاوہ کوئی بھی اس موت کی طرف میری رہنمائی نہیں کرے گا اور وہ موت میرے لیے سعادت کی موت ہو گی۔ اور وہ موت فقط شہادت کی موت ہے۔
لیکن میں نے اپنے آپ کو معصیتوں کے قفس میں قید کر کے رکھ دیا ہے۔ ہوا و ہوس کے ریشوں نے مجھے بلند پرواز پرندوں سےجدا کر دیا ہے۔ مجھے جلد ہی اس سے رہائی چاہیے۔ اگر تھوڑی دیر اور ہو گئی اور میں اپنے آپ کو اس قفس سے نہ نکال سکا تو روزِ محشر حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا سامنا کیسے کروں گا؟ کیا اس دن میں شہداء کے سوالوں کے جواب دے پاؤں گا؟!
ایک دن میں مجاہد مسافروں کے راستے میں بیٹھ گیا تا کہ وہ مجھے اس لفظ سے آشنا کرائیں۔ لیکن وہ جلدی جلدی میرے پاس سے گزر گئے اور مجھے حیرت و سرگردانی میں چھوڑ گئے۔ میں کسی اور قافلے کی راہ میں بیٹھنے کے لیے آمادہ ہو گیا کہ شاید یہ کاروان مجھے بھی کاروان فتح المبین، بیت المقدس،رمضان، والفجر، خیبر اور بدر([1]) کے کاروانوں کی طرح اپنا ہمسفر بنا لے۔
میری خواہش ہے کہ کوئی کاروان مجھے خواب غفلت سے بیدار کرے، مجھے شہادت کا سبق پڑھائے اور اپنے ساتھ لے جائے۔
کربلا! تیرے مسافر آہنی ارادوں کے مالک ہیں۔ وہ اپنے مولا علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اپنی جگہ پر پوری استقامت سے کھڑے ہیں۔ اگر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل جائیں تب بھی انہوں نے اپنے دانت مضبوطی سے بھینچ رکھے ہیں، اپنے سروں کو خدا کی بارگاہ میں عاریتاً دے دیا ہے اور کفر کے ہجوم سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔
خدایا! میں یہ نہیں چاہتا کہ لوگ میری شجاعت کے قصیدے پڑھیں۔۔۔ مجھے لوگوں کی ظاہر بین نظروں سے دور ہی رکھ۔
میں تیرے حقیر ترین اور ذلیل ترین بندوں میں سے ہوں۔ اور یہ بات میں نے تیری طرف سے آئے ہوئے امتحانات کے دوران سمجھی ہے۔ خدایا! میں نے رحمت کا دروازہ تو ڈھونڈ لیا مگر اس سے گزر نہیں پا رہا۔
خدایا! میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ عارف بن جاؤں اور لوگ میرے مرنے کے بعد کہیں کہ کتنا عارف شخص تھا! لیکن یہ پسند کرتا ہوں کہ عارفانہ انداز سے تیری معرفت حاصل کروں، تیری راہ میں عارفانہ قدم اٹھاؤں اور عارفانہ موت سے ہمکنار ہوں۔
خدایا! اے بے مثال بخشنے والے، مجھے اپنی درگاہ کا فقیر بنا دے۔ میں تیری محبت اور عشق کا طالب ہوں۔
تو ہی میرے لیے سب کچھ ہے اور بس! یہ میری زندگی کا خوبصورت ترین لمحہ ہے۔ کیونکہ فقط پانچ گھنٹے رہ گئے ہیں کہ میں یا تو اپنے معشوق سے جا ملوں گا یا نامراد عاشقوں کی حسرت لیے رہ جاؤں گا۔
*****
ابراہیم اپنے وصیت نامے میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
اگر تم سب ایک اسلامی رہبر کے گرد جمع ہو جاؤ تو دنیا کی کوئی بھی طاقت تمہاری بنیادوں کو نہیں ہلا سکتی۔ اپنے زمانے اور اپنی نسلوں کو بتا دو کہ ہم سید الشہداء علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں کے خون کے وارث ہیں۔
اگرچہ ہم کربلا میں نہیں تھے لیکن ہم نے اپنے ہر دن کو عاشوراء اور ہر زمین کو کربلا بنا دیا ہے۔
میرے امام! کاش آپ کے عشق میں ہزار بار مجھے قتل کرتے، ٹکڑے ٹکڑے کر کے میرے جسم کو جلا دیتے اور میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیتے، میں پھر زندہ ہوتا اور ۔۔۔
هر که از سیلی بترسد مرد نیست
آمدم تا جان ببازم، دست چیست
میں اس لیے آیا ہوں کہ اپنی جان وار دوں، ہاتھ کیا چیز ہیں۔ جو انسان ایک تھپڑ سے ڈر جائے وہ مرد نہیں ہے۔
([1]) دفاع مقدس (ایران عراق جنگ) کے دوران عراقی فوج کے خلاف ایرانی معرکوں کے نام۔