فہیمہ کے خطوط
[فہیمہ بابائیان پور]
فہیمہ بابائیان پور انقلاب اسلامی کی مثالی خواتین میں سے ہیں جنہوں نے تقویٰ، حجاب، نیکی، خدمت اور شجاعت میں کافی شہرت پائی۔ جس وقت اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو ان کی عمر چودہ سال تھی۔
نومبر 1981ء میں انہوں نے غلام رضا صادق زادہ کی طرف سے کی گئی خواستگاری کو قبول کیا جو انہیں اپنی ہمراہی کے شایان سمجھتے تھے۔
فہیمہ اور ان کے شوہر نے مل کر فیصلہ کیا اور خطبہ عقدکے لیے دونوں جماران چلے گئے۔ جس وقت امام خمینیؒ نے ان سے وکالت کے لیے رضامندی لینا چاہی تو انہوں نے کہا کہ ایک شرط پر آپ کو اپنا وکیل بناؤں گی!
اطراف میں بیٹھے لوگوں نے تعجب سے پوچھا: ’’کیسی شرط؟!‘‘
فہیمہ نے امام سے کہا: ’’اس شرط پر آپ کو اپنا وکیل بناتی ہوں کہ آپ اس دنیا میں ہم دونوں کی شہادت کی دعا اور بروزِ محشر شفاعت کاوعدہ کریں۔‘‘
خطبہ نکاح پڑھوانے کے بعد فہیمہ اور غلام رضا شہداء کی قبور کی زیارت کرنے بہشت زہرا چلے گئے اور شہداء سے ایک نہ ٹوٹنے والا عہد باندھا۔
4 نومبر کو عقد کا صیغہ جاری ہوا اور 15 نومبر کو غلام رضا محاذ پر چلے گئے۔ غلام رضا کا پہلا خط جو ان کی زوجہ کو پہنچا وہ ان کا وصیت نامہ تھا۔ فہیمہ نے ان کے جواب میں لکھا: ’’اپنے وصیت نامے کو اگلے خط میں مکمل کریں!‘‘
معرکہ فتح المبین کے بعد غلام رضا محاذ سے واپس آ گئے اور بیت المقدس میں شجاعت کے جوہر دکھائے۔ فہیمہ خواب میں دیکھ چکی تھیں کہ غلام رضا شہید ہو جاتےہیں۔ اس وجہ سے انہیں پورا یقین تھا کہ یہ سفر ان کا آخری سفر ثابت ہو گا لہٰذا ماں سے کہتی ہیں: ’’غلام رضا کو جی بھر کر دیکھ لیں کیونکہ اس کے بعد آپ انہیں نہ دیکھ سکیں گی!‘‘
27جون 1982ء کو غلام رضا شہادت سے ہمکنار ہو گئے۔ فہیمہ نے سفید لباس پہنا([1]) اور اپنے شوہر کے پارہ پارہ لاشے پر آئیں۔ اپنی شادی کے دن والا پھولوں کا گلدستہ ہاتھوں میں لیا اور پورے وقار و استقامت سے تشییع جنازہ میں شریک ہجوم کے سامنے چل پڑیں اور بلند آواز سے کہا: ’’اےمیرے شہید شوہر! آپ کا راستہ جاری رہے گا!‘‘ اس کے بعد دلسوز آواز میں کہا: ’’الهی رضا بقضائک…‘‘
اس کے بعد فہیمہ غلام رضا کے خون کی پیغام رساں بن گئیں۔ تھوڑی سی مدت گزری تو غلام رضا کی وصیت کے مطابق انہوں نے غلام رضا کے بھائی علی رضا سے شادی کر لی اور ایک نئی مشترکہ زندگی کا آغاز کیا۔ علی رضا جو خود دینی طالب علم تھے وہ خود فہیمہ کے درسِ معرفت سے فیضیاب ہوتے تھے۔ فہیمہ نے بھی علی رضا کی حمایت سے رفاہ، بہارِ آزادی اور روشنگر نامی مدارس میں تدریسی اور مختلف محاذوں پر موجودد مجاہدوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر اپنے شاگردوں میں بھی انقلابی روح پھونکی۔
ان کی شادی کو ابھی دو روز سے زیادہ کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ علی رضا میدان جنگ میں چلے گئے۔ محاذ سے علی رضا کی واپسی کے بعد فہیمہ کی زندگی میں کچھ نظم و ضبط آ گیا۔ ان کے بیٹے ’’غلام رضا‘‘ کی ولادت نے ان کی زندگی کو سرگرم کر دیا۔ لیکن دنیا ہر گز فہیمہ کو فریب نہ دے سکی۔
فہیمہ کچھ عرصے کے لیے قم بھی آئیں تا کہ اپنے شوہر کے ساتھ معارف اسلامی کے دریا سے فیضیاب ہو سکیں لیکن زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ دستِ قضا نے انہیں زمان و مکان کی تنگیوں سے نجات عطا کی اور 16 اپریل 1988ء کو حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی پروانہ وار زیارت کرنے کے بعد ایک دلخراش سانحے کے سبب عاشقانہ انداز میں اپنے پروردگار کی طرف پرواز کر گئیں۔
کتاب ’’نامہ ہای فہیمہ (فہیمہ کے خطوط)‘‘ فہیمہ اور ان کے شہید شوہر کے خطوط کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے ہر خط عرفان و معرفت کا ایک دریا اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
ذیل کا متن فہیمہ بابائیان پور کے وصیت نامے کا ایک حصہ ہے جو انہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں لکھا تھا:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اس کا وصیت نامہ جو شہادت کے لمحات گن رہی ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ۔
اس خدائے مہربان کے نام سے اپنے وصیت نامے کا آغاز کرتی ہوں کہ جو ہمارا خالق و ہادی ہے۔ وہ خدا کہ ہماری خلقت، ہماری موت، ہمارا دوبارہ زندہ ہونا سب کچھ اسی کے دستِ قدرت میں ہے۔
درود و سلام ہو انبیاء اور خاتم الرسل حضرت محمدﷺ پر، ان کے برحق جانشین حضرت علی علیہ السلام پر، سیدۃ نساء العالمین فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر، امام حسین علیہ السلام سے لے کر زمین پر خدا کی برحق حجتؑ تک ان کی پا ک ذریت پر، اس خط ہدایت و رسالت و نبوت و امامت کو جاری رکھنے والوں پر جو اس زمین پر خدا کی طرف سے نعمتوں سے نوازے گئے ہیں (من الانبیاء و الصدیقین و الشهداء و الصالحین.)
سلام ہو میرے شوہر، میری زندگی کے رہنما، سچے اور خالص شہید غلام رضا پر، ان کے راستے پر گامزن سب مجاہدین، غازیوں اور مومنوں پر۔ شاید، اس روسیاہ کے لیے وصیت نامہ لکھنا بہت ہی مشکل ہے جوخدا کی صالح بندی بھی نہیں ہے اس کے باوجود کچھ اچھے اوصاف کی نسبت اس کی طرف ہو گئی جن کی وہ اہل نہیں ہے۔ لیکن اگر چند جملے میں لکھ بھی رہی ہوں تو وہ فقط اور فقط اپنے شرعی وظیفے کی انجام دہی کے لیے لکھ رہی ہوں۔
بہنو اور بھائیو اور وہ تمام پڑھنے والو جو ایک دن میرے اس وصیت نامے پر نگاہ ڈالیں گے!
میں اپنی پوری زندگی کے اس عرصے میں اس نتیجے تک پہنچی ہوں کہ ہدایت اس وقت تک نہیں ملتی جب تک کہ راہِ رسالت اور اس کے بعد راہ ولایت پر نہ چلا جائے۔
لہٰذا تمہاری ساری کی ساری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ اس راستے پر چلنے والوں کے حامی رہو اور اس راستے پر آپ کا چراغ ہدایت سراج منیر ہونا چاہیے جو قرآن مجید ہے۔ اس رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔۔۔
اس کے احکامات پر عمل کر کے اپنے راستے کو روشن کرو تا کہ جلدی سے اپنے مقصد تک پہنچ جاؤ اور جان لو کہ دعا اس راستے میں تمہاری ثابت قدمی، تمہارے دلوں کے سکون اور تمہارے غموں کے علاج کا وسیلہ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دعا تمہاری معراج کا وسیلہ ہے کیونکہ الدعاء معراج المومن. (دعا مومن کی معراج ہے۔) اس راستے میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے سب مومنین کا آپس میں اتحاد و وحدت ہے۔ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا۔
چونکہ میں اپنی زندگی کے اس راستے میں مصائب سے مانوس ہو چکی ہوں، وہ مصائب جو بذاتِ خود نعماتِ الٰہی میں سے ہیں کیونکہ اس راستے میں انسان کا پِتّا مر جاتا ہے۔ لہٰذا میں ان سب لوگوں سے، جو دوسروں (شہداء)کا ظاہری وجود کھو دینے کی وجہ سے بے چینی اور رنجیدگی کا احساس کرتے ہیں، کہنا چاہتی ہوں کہ وہ اس مصیبت کو نعمت الٰہی سمجھنے کی کوشش کریں اور اس راستے پر صابر لوگوں کی طرح رہیں کہ آپ لوگ اپنے صبر جمیل کی وجہ سے صاحبانِ اجر قرار پائیں اور جان لیں کہ آپ کی خیر اور بھلائی اسی چیز میں ہوتی ہے جو واقع ہو کر رہتی ہے۔
اب جب کہ میں بحمد خدا موت کو چند قدم کی دوری پر محسوس کر رہی ہوں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ آخرت کے سفر کا توشہ میرے پاس نہیں ہے اور احساس ہو رہا ہے کہ فرصت کے ان لمحات سے جو بادل کی طرح گزر جاتے ہیں، بطورِ احسن استفادہ نہیں کر پائی ہوں۔ (الفرصة تمر مر السحاب.)
میری خواہش ہے، اے وہ تمام دوستو جو اس حقیر کی باتیں سننے کے لیے گوشِ شنوا رکھتے ہو، کوشش کرو کہ رات کو اپنے ہر دن کا محاسبہ کرو اور خدا پر امید رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے عذاب سے خوف بھی تمہارے دلوں میں ہونا چاہیے۔
میری خاطر زحمتیں اور تکلیفیں جھیلنے والے میرے والدین اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کی خدمت گزار بیٹی نہ بن سکی۔ ماں اور بابا! آپ سے التماس کرتی ہوں کہ مجھے معاف کر دیجیے ورنہ عذاب الٰہی میرا پیچھا کرتا رہے گا۔
آخر میں امید کرتی ہوں کہ میرے عزیز امام بھی مجھے معاف کر دیں، جن کی صحبت میں زندگی کے چند لحظے گزارنے کی توفیق ہوئی اور انہوں نے میرے حق میں دنیا میں شہادت اور آخرت میں شفاعت کی دعا کی۔ ان سے اس لیے معافی کی طلبگار ہوں کہ ان کی صحیح پیروکار ثابت نہ ہو سکی۔ ان سے فقط ایک ہی التماس ہے کہ وہ میرے حق میں دعا کرنا کبھی نہ بھولیں۔
ان سے دوبارہ ملاقات اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی شدید آرزو تھی اس لیے ان کے حق میں دعا کرتی ہوں۔ اس کے علاوہ ان علماء اور ملک کے تمام عہدیداران کے حق میں بھی دعا گو ہوں جو ہمارے انقلاب کی پیشرفت اور ترقی میں اپنے اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں اور ظہورِ امام زمان عج کے نزدیک ہونے کا سبب بن رہے ہیں۔
پروردگارا! میرے گناہ معاف فرما اور مجھے شہداء کا ہم جوار ہونے کی توفیق عطا فرما۔ التماس دعا۔ خدا حافظ۔
خدایا خدایا تا انقلاب مهدی حتی کنار مهدی (عجل الله) خمینی را نگهدار.
خدایا! خدایا! انقلاب مہدی عج تک بلکہ مہدی عج کے پہلو میں خمینی کو جگہ عطا فرمائے
خدا کی حقیر بندی
فہیمہ
([1]) ایران میں شادی کے وقت دلہن عموما سفید رنگ کا لباس عروسی پہنتی ہے۔