خلوت میں
[شہید علی بسطامیؒ]
1963ء کو ملکشاہی علاقے ایلام میں پیدا ہوئے۔ کوہستانوں کی زندگی، اپنے والد کے ساتھ اسلحہ و شکار سے انس، نیک و پاک روح اور امامؒ سے عشق نے انہیں ایک جنگجو اور جانثار مجاہد بنا دیا تھا۔
وہ قرآن کے عاشق تھے۔ اپنے مولا و آقا امام علی علیہ السلام سے اخلاص کا درس لیا تھا۔ ظلم و ستم کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے۔ ساواک کے ساتھ ابتدائی جھڑپوں میں زخمی ہو گئے۔ انقلاب کامیاب ہوا تو سپاہ میں شامل ہو گئے۔محاذ پر اپنی شجاعت کے گہرے نقش چھوڑے۔ کچھ عرصے بعد کمانڈر ہو گئے۔ جاسوسی معلومات کی حفاظت جیسی اہم ذمہ داری، بٹالین کمانڈر کی نیابت، ڈویژن 11 امیر علیہ السلام کے معرکے کی جاسوس ٹیم کی کمان اور اس کے علاوہ مختلف معرکوں میں بھاری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوئے۔
ان کی عبادت و اطاعت نے انہیں سب کے لیے آئیڈیل بنا دیا تھا۔ ولی فقیہ کے سچے پیروکار اور ان کے فرمان پر عمل کرنے والے تھے۔ ان کے دلیرانہ معرکوں نے انہیں ایک پہلوان اور چیمپئن میں بدل دیا تھا۔ جنگ کے آخری ایام تھے۔ اب مادی دنیا کے قفس میں ان کی روح پھڑپھڑا رہی تھی۔ ان کے اکثر دوست شہادت کی منزلیں پا چکے تھے اور اس پست دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ کر جا چکے تھے۔ 1987ء میں علی اپنے دوستوں کے ہمراہ مہران کے علاقے میں ریکی کرنے کے لیے گئے۔ مہران میں انہوں نے دشمن کی سرحدوں کی ریکی کی۔ واپس لوٹ رہے تھے کہ بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آغوشِ شہادت میں چلے گئے۔
علی نے ہمیں زندہ رہنےا ور مرنے کا انداز سکھایا۔ وہ اہل ادب تھے۔ ان کی ڈائری میں ان کے ہاتھوں سے لکھی یہ عبارات ہماری نظروں کے سامنے آتی ہیں:
بہ نامِ خدائے حسین، بہ نامِ خدائے کربلا، بسم رب الشہداء و الصدیقین و الصالحین۔
خدایا! پوری عاجزی سے تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔
کہ تو نے صاحبِ غارِ حرا کو مبعوث کیا اور بے جان و جاندار بتوں پر انہیں غلبہ عطا کیا۔ کفر کی بنیادیں اکھاڑ دیں اور اسلام کو استحکام بخشا۔
خدایا! تیر اشکر کہ تو نے ہمیں حسین علیہ السلام جیسی شخصیت دی۔ کربلا عطا کی۔ معلمِ شہادت کو کربلا کی کلاس میں بھیجا تاکہ وہ ہمیں عشق و ایثار کا درس دیں، غیر خدا کی بندگی کے سارے ریشے جلا کر رکھ دیں اور آزادی و حریت کے چراغ روشن کریں۔
زہے نصیب کہ آزادی، شرافت، کرامت، انسانیت کے اعلیٰ شرف اور حریمِ قرآن کے محافظ، نورِ خدا اور مصباح الہدیٰ دلوں کے کعبہ پر نازل ہوئے۔ خاکی جسم قداست و پاکیزگی سے شرفیاب ہوا۔ اب آزادی نہیں مر سکتی۔ اسلام کا شاداب پھول کبھی نہیں مرجھائے گا۔ قرآن زندہ ہو گا۔ سنت رسولﷺ قائم ہو گی۔ نبوت کا شجرہ طیبہ ثمربار ہو گا۔ زمینیں کربلا بن جائیں گی۔ دن عاشوراء ہو جائیں گے۔ مہینے محرم میں تبدیل ہو جائیں گے۔ خونِ خدا جوش میں آ جائے گا اور خدا خود اس خون کا محافظ ہو گا۔
خوشخبری ہے کہ نمرود اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں جل جائے گا۔ فرعون نیل میں غرق ہو جائے گا۔ ابرہہ ہاتھیوں کے سموں تلے کچلا جائے گا۔ یزید اور یزیدی، خون کے دریا میں ڈوب جائیں گے۔
اے انسانو! اٹھو۔ اپنی بندشوں کو کھول دو۔ زنجیریں توڑ دو۔ خون کا پرچم تھام لو۔ خون کی جائے نماز پر خون کی نماز کے لیے اقتداء کر لو۔ اے زمانے کے حسینؑ! اے عشق و ایثار کے زیور! اب پھر کربلا بپا ہے اور حسینی امت اپنا رُخ کربلا کی طرف کر چکی ہے۔
عشق کے پروانوں نے ایثار کے پر کھول لیے ہیں۔ انہوں نے اپنے استاد سے یہی سیکھا ہے کہ محبوب سے ملاقات کے لیے سر کٹا کر جانا پڑتا ہے۔
ہمیں بلائیں کہ سر کے بل آئیں گے اور بغیر سر کے پلٹیں گے۔ اپنی جان کربلائے عشق کے سربُریدہ انسان پر فدا کر دیں۔ اےیزیدیوں کی قید میں چلے جانے والو! حسین علیہ السلام کی بہن زینب سلام اللہ علیہا بھی کربلا سے شام تک خون خدا کا پیغام پہنچاتی رہیں اور یزیدیوں کو قید کر کے رکھ دیا۔
اے خونِ خدا کے محافظو کہ تم نے خون خدا کے ایک بڑے محافظ کی اقتدا کی ہے۔ تمہاری ذمہ داری بہت بھاری اور راستہ بہت دشوار۔ استکبار کے کانٹے تمہارے راستےمیں بچھے ہیں۔ سیلابِ خون کے بغیر کفر کی بنیاد نہیں اکھاڑی جا سکتی۔ اے حسین علیہ السلام کی راہِ بقا میں فنا ہونے والو! طبتم و طابت الارض التی فیها دفنتم. فیا لیتنی کنا معکم. فافوز فوزا عظیما.
خونِ حسین کی قسم! ہم بھی آئیں گے۔ کربلا! ہم بھی آئیں گے۔ عاشورا! ہم بھی آئیں گے۔ ہاں، حسین علیہ السلام گلزارِ زہرا سلام اللہ علیہا میں پیدا ہوئے اور بہشت زہرا سلام اللہ علیہا میں کتنوں کو ظاہر کر دیا۔ حسین علیہ السلام نے کربلا بپا کی جبکہ حسینیوں نے کربلائیں۔
خدایا! ہمیں حسینی بنا کر رکھ، راہِ حسینؑ پر، عشق حسینؑ پر، کربلائے حسینؑ پر، محافظتِ حسینؑ پر۔ خدایا! ہمیں بہشت نہیں چاہیے بلکہ حسین علیہ السلام کا جوار چاہیے۔ ہمیں ان کے جوار میں جگہ عنایت فرما۔ اور حسین کے فرزند (امام خمینیؒ) کو قیام مہدی عج، کربلائے حسین تک پہنچنے اور مسلمانوں کی اولین قبلہ گاہ کی فتح تک محفوظ فرما۔
اپنی ڈائری کے آخر میں انہوں نے لکھا تھا:
مکتب اسلام میں سب سے زیادہ قیمتی موت خدا کی راہ میں شہادت کی موت ہےنہ کہ گھر کے ایک کونے کھدرے میں کسی بستر پر پڑے پڑے مر جانا۔ قیمتی موت وہ ہے جو خدا کی راہ میں جہاد و جدال کرتے ہوئے آئے۔
تاریخ انسان میں حق و باطل کا معرکہ ہمیشہ سے رہا ہے اور خدا کی سنت یہی رہی ہے کہ حق ہمیشہ فاتح ہوا ہے۔پس اگر ہم حق کا دعویٰ کرتے ہیں تو کسی خوف کو اپنے نزدیک نہیں آنے دینا چاہیے کیونکہ نصر من اللہ و فتح قریب۔
جو راستہ ہموار نہ ہو اس پر سے کوئی بھی نہیں گزرے گا۔ امام عصر (عج) کے ظہور کے لیے ایک راستہ موجود ہے کہ جسے ہموار کرنا ضروری ہے اور یہ راستہ خون شہید کے بغیر ہموار نہیں ہو سکتا۔
شہید کا خون مردہ انسانوں کے جسم میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے۔ معاشرے کو حرکت میں لے آتا ہے۔ جس دن ایسا ہو گیا تو امامؑ بھی تشریف لے آئیں گے۔ آگاہ رہیں کہ آنے والے کل کو آنا ہے اور وہ آ کر ہی رہے گا۔ اس دن واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔عمل کی کوئی گنجائش نہ رہے گی۔ پیغمبرﷺ، ائمہ علیہم السلام اور شہدا ہم سے کچھ پوچھے بغیر نہیں گزریں گے۔ وہ حتماً ہم سے سوال کریں گے: ’’کیا تم نے خدا کے دین کی مدد کی تھی؟ ولی فقیہ کا ساتھ دیا تھا؟ خونی اسلحہ اٹھایا تھا؟ یا منافقانہ توجیہات اور دلیلوں کی مدد سے دنیاوی زندگی میں پڑ کر مادیات اور شہوانی خواہشات کی تکمیل میں لگے رہے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دیے رکھی۔‘‘ وہاں ہمارے پاس کیا جواب ہو گا؟!