آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

سفیرِ انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا وصیت نامہ

ڈاکٹر سید محمد علی نقوی لاہور کے علاقے علی رضا آباد میں 1952؁ء  میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سید امیر حسین نجفی جو نجف اشرف میں دینی تعلیم کے سلسلے میں مقیم تھے اسی سال اپنے اہل خانہ کو بھی ساتھ لے آئے ۔ شاید یہ خوش قسمتی تھی شہید کی کہ عالم زادہ ہونے کے ساتھ ساتھ نجف اور کربلا کی فضائیں جذب کرنے کا موقع نصیب ہوا ۔

اپنے والدین کے ساتھ تبلیغ دین کے سلسلے میں کینیا میں رہتے ہوئے ابتدائی تعلیم وہاں کے دارالخلافہ نیروبی میں حاصل کی بعد ازاں والدین کے ہمراہ تنزانیہ اور یوگنڈا کے دارالخلافہ کمپالہ میں رہے اور اپنے سینیئر کیمبرج کا امتحان اچھے نمبروں سے کمپالہ سے پاس کیا ۔ بعد ازاں  انٹر پری میڈیکل گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ اس کے بعد پاکستان کے قدیمی اور معروف کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم۔بی۔بی۔ایس کیااورنوکری سرکاری سروسز ہسپتال میں کی۔ دوران ملازمت علامہ اقبال میڈیکل کالج میں استاد کے فرائض بھی سر انجام دیے۔

زمانہ تعلیم میں ایک اچھے مقرر ہونے کے علاوہ  کھیل میں جوڈوکراٹے، تیراکی، گھڑسواری اور نشانہ بازی میں بھی شرکت  کی اور اسکاوٹ کی تعلیم و تربیت بھی حاصل کی۔

زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ وطن عزیز کے مستقبل کے معماروں کی دینی اور فکری نشوونما کے لئے ایک ایسی تنظیم کی ضرورت ہے جو اسلامی افکار کی ترجمانی کرے۔ اس لئے شہید نے ایک طلباء تنظیم کی بنیاد رکھی جو آج پوری دنیا میں ISO  یعنی امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نام سے جانی جاتی ہے۔ شھید نے اس تنظیم میں شمولیت  اور عہدے داری کو یوں بیان کیا:

”دوستو حلف صرف ایک سال کے لیے نہیں بلکہ حلف کا تعلق پوری زندگی سے ہوتا ہے۔“

شہید کے فلاحی کاموں کی ایک طویل فہرست  کے علاوہ بے تحاشا عملی اقدامات ہیں۔ سرزمین ایران پر اسلامی انقلاب کی کامیابی پر؛  انقلاب ایران ، ولایت فقیہ اور فکر امام  خمینی رح کو پا کستان میں روشناس کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ہی وجہ سے انکا نام سفیر انقلاب پڑا ۔ پاکستان میں پہلا یوم مردہ باد امریکہ 16 مئی کو شہید عارف حسین الحسینی رح  کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے منایا گیا۔ اس جلوس کے دوران شہید نے اپنے دوستوں کی مدد سے ایک طویل بینر جس پر امریکہ مردہ باد لکھا گیا تھا لاہور کے معروف کاروباری مرکز الفلاح بلڈنگ کے اوپر لگایا۔ یہی وہ واقعہ تھا کہ جس کی بناءپر بعد از شہادت نعرہ لگا کہ:

 ” ڈاکٹر کا نعرہ یاد ہے امریکہ مردہ باد ہے ۔“

اسی دوران قائد انقلاب اسلامی امام خمینی رح  بت شکن نے صدائے’’ھل من ناصر ینصرنا‘‘  بلند کی کہ ’’جو شخص جنگ کی طاقت رکھتا ہو وہ محاذ پر جائے“۔ پس اس فرزند زہرا نے آخری امام کے حقیقی نائب کی صدا پر پاکستان سے ، ’’لبیک یا امام‘‘  کا نعرہ بلند کیا ور محاذ جنگ میں ایران کے شہر شلمچہ اور اہواز میں طبی خدمات سرانجام دیں۔

جب ۱۹۸۷  ؁ء میں  دوران حج ایرانی حاجیوں کو شہید کیا گیا تو اگلے سال ایران سے کوئی حاجی حج بیت اللہ کو نہیں گیا۔ اسی سال ڈاکٹر صاحب نے کچھ دوستوں کے ساتھ ایک ٹیم تیار کی جو دنیا کے مختلف کونوں سے حج کے دوران جمع ہوئے تھے جس کا بڑا مقصد تھا کہ حجاج کرام کو شیطان دوراں سے واقف کرانا تھا۔ اس موقع پر ان افراد نے اپنے احرام جن پر مرگ بر امریکہ لکھا ہوا تھا ہوا میں لہرائے اور صدائے احتجاج بلند کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شام  کی ایرانی نشریات سے یہ خبر نشر کر دی گئی کہ آج سعودی عرب میں عالمی سامراج امریکہ کے خلاف مظاہرہ ہوا ہے۔ بعد ازں آپ کو آپ کے دوستوں کو سعودی جیل کی سختیاں برداشت کرنی پڑیں۔ جب کسی دوست نے آپ سے دوران جیل سزاؤں کی تکلیف کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا: ”اگر ہماری اس کوشش سے امام خمینیرح  کو چند سانس بھی سکون کے میسر آجائیں تو یہ اذیتیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔‘‘ ڈاکٹر شہید نقوی کو امام خمینی  سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ جس کو خود شہید یوں بیان فرماتے ہیں کہ: ” مجھے امام کی دست بوسی کی لذت کا سرور تا زیست نہیں بھولے گا۔‘‘

آپ کو اپنی سرخ موت کا یقین تھا اور آخر ایام میں دوستوں کو کہتے تھے کہ ”میں نہیں چاہتا کہ ضعیفی میں کھانس کھانس کر مروں، خدا میری زندگی کو میری متحرک زندگی سے متصل کر دے۔  چالیس برس بیت گئے اور ابھی تک شہادت نصیب نہیں ہوئی لگتا ہے کہ میرا کوئی عمل خدا کو پسند نہیں آیا“۔آپ کو یقین تھا کہ آپ کو شہید کیا جائے گا ۔جس کا اندازا اس فقرے سے لگایا جاسکتا ہے جو اپنے وصیت نامہ میں تحریر کیا :’’میری لاش کا پوسٹ ماٹم نہ کیا جائے اور نہ ہی میرے جنازے پر تنظیمی اجتماع و احتجاج کیا جاے‘‘۔ آخر یہ عبد خدا جس کا متمنی تھا۔ اس ہدف تک پہنچ گیا اور طاغوتی طاقتوں اور شیطان بزرگ امریکہ کے حامی اور ایجنٹ جب آپ کی فکر کا مقابلہ نہ کر پائے، تو 7 مارچ ۱۹۹۵؁ء  میں آپ  کو آپ کے ایک رفیق باوفا تقی حیدر کے ہمراہ صبح ساڑھے سات بجے کے قریب آپ کے گھر کے نزدیک یتیم خانہ چوک پہ کلاشنکوف کی گولیوں کا نشانہ بنایا ۔ آپ شہادت کی ایک ایسی سرخ موت سے ہمکنار ہوئے جسکی تمنا ہمیشہ کرتے رہے اور اپنے مولا امام علی علیہ اسلام کی طرح اسکی تلاش میں رہے اور بلآخر اسے پالیا۔

وصیت نامہ

بسم رب الشہداء

موت کی جانب سفر تیزی سے ہو رہا ہے۔ کئی ایک ایسے مواقع دیکھنے میں نصیب ہوئے ہیں جو انسان کے لیے عبرت کا کام دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ وہ سبق حاصل نہ کر سکا جو دوسروں کو کہتا رہا۔ بالآخر وہ وقت آن پہنچا۔ کاش موت سے نہ بھاگے ہوتے، کاش لشکرِ خمینیؒ میں شمولیت اختیار کی ہوتی تو شاید پاک وپاکیزہ نوجوانوں کے صدقے ہم بھی بخشش کا کوئی سامان لے جاتے۔ بہرحال یہ سب باتیں اب رہ گئیں اور ہم ایک لمبے سفر پر روانہ ہو گئے۔ التماس دعا میں وصیت کرتا ہوں۔

مجھے اپنے آبائی قبرستان علی رضا آباد میں دفن کیا جائے۔ جنازہ میں تاخیر نہ کی جائے۔ پوسٹ مارٹم نہ کروایا جائے اور اس موقع پر کسی قسم کا تنظیمی اجتماع نہ کیا جائے۔

میری ملکیت ظاہری میں اگر کوئی شخص یا تنظیم دعویدار ہو تو اسے ضرور پہلے اس کا حق دیا جائے۔

آخری گزارش! خوش بختی ہے ان لوگوں کی جو باصلاحیت اور باشعور لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور ہلاکت ہے ان کے لیے جو اپنے سے کم تر کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں۔

اپنی اہلیہ محترمہ کا شکرگزار اور بچوں سے پُر امید۔ تمام دوستوں سے ان کی توقعات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے شرمسار ہوں۔

والسلام

محمد علی نقوی۔ یکم اپریل  1992؁ء