آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

مانوس اجنبی
[شہید حسین بہرامیؒ]

شہید حسین بہرامی شہر ساری کے ایک گاؤں ولشکلا میں پیدا ہوئے۔ ساری میں تو انہیں کوئی نہیں جانتا مگر جنوب کے مجاہد اور اہواز کے جنگجو حسین کو مازندرانیوں سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ سوسنگرد([1]) کو ’’شہرِ حُسین‘‘ کہا جاتا ہے۔

حسین 1976؁ء میں ریاضی کے مضمون میں حصول علم کے لیے فردوسی یونیورسٹی مشہد میں آئے۔ تین سال تعلیم کے بعد 20 جون 1980؁ء کو سپاہِ پاسداران مشہد کے رکن بن گئے اور 29 ستمبر 1980؁ء کو اہواز کے محاذ پر بھیج دیے گئے۔

حسین کے کام کا تجربہ اور مہارت اس چیز کا باعث بنی کہ انہیں ’’آزادی سوسنگرد آپریشن‘‘کے لیے ایک جنگجو بٹالین کی کمان سونپ دی گئی۔

حسین واعظ اور خطیب تھے اور اپنی تقریر میں حالات کا تجزیہ و تحلیل بھی بہت اچھا کرتے تھے۔ جب بھی موقع ملتا تو ایک مبلغ کی طرح میدان میں وارد ہو جاتے۔ لیکن جنگ کے لمحات میں ان سے زیادہ چالاک اور تیز طرار کوئی نہ ہوتا تھا۔ کہتے ہیں کہ سوسنگرد میں ’’معرکہ امام مہدی عج‘‘ کے دوران وہ دشمن کے اس قدر نزدیک چلے گئے تھے کہ ان کے ٹینکوں کے بیچوں بیچ شہادت سے ہمکنار ہوئے۔

اس معرکے میں  ان کی اور کمانڈر عزیز جعفری کی کمان آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ آخری رات حسین کا چہرہ اس قدر نورانی ہو گیا تھا کہ سب دوست ان سے شفاعت کی درخواست کر رہے تھے۔

برادر حاج صادق آہنگران کہتے ہیں: ’’ان دنوں علم الہدیٰ اور حسین بہرامی جو یک جان دو قالب ہو گئے تھے، دوستوں کی محفلوں کی شمع ہوا کرتے تھے۔ جب حسین شہید ہو گئے  تو مسجد کے دوستوں نے مسجد کی محراب پر کپڑے کا ایک ٹکڑا نصب کر دیا جس پر لکھا تھا: ’’حسین، مانوس اجنبی شہید۔‘‘

حسین کا جسد کچھ دن تک مسجد کی محراب ہی میں رہا۔ اس کے بعد ولشکلا لے جایا گیا جہاں تدفین ہوئی۔ آئیے، ان کے وصیت نامے کے بعض حصے پڑھتے ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

بل الانسان علی نفسه بصیر.

یہ وصیت نامہ حسین بہرامی فرزند محمد تقی ساکن ارضِ خدا (ساری، گاؤں ولشکلا) عمر ۲۳ سال، رکن سپاہِ پاسداران انقلاب اسلامی مشہد (اگر اس کے لائق ہو تو) کی جانب سے ہے۔

جو مجھے جانتا ہے وہ تو جانتا ہے اور جو نہیں جانتا وہ مجھے جان لے۔ یہ تحریر اس بارے میں ہے کہ انسان اپنی عمر سے کیسے استفادہ کرے؟  سوائے بچگانہ حرکات اور شمال ایران کے ایک دیہاتی خاندان میں کھیل کود  کے علاوہ بچپن کی کوئی یاد میرے ذہن میں نہیں ہے۔ پرائمری سکول میں پانچویں کلاس تک اپنے گاؤں ہی میں پڑھتا رہا۔ اس زمانے کی کوئی قابلِ ذکر یادگار میرے پاس نہیں ہے۔

مزید تعلیم کے لیے چھٹی کلاس میں داخلہ لینے کے واسطے شہر ساری کا رخ کیا۔ سب سے پہلے یہ بات بتانا ضروری خیال کرتا ہوں کہ  شیطان انہی دنوں سے اس کمزور اور ضعیف انسان کو اپنا نشانہ بناتا اور اس کی لگام کھینچتا چلا آ رہا ہے۔

وہ فقط ارادہ کرتا تھا مگر میں عمل انجام دے دیتا تھا۔ وہ ایک منصوبہ سامنے رکھتا اور میں اسے عملی شکل دے دیتا۔ مسلسل اس کے زیرِ تسلط رہا۔ اس کی اتنی زیادہ پیروی کی کہ کچھ نہ پوچھو۔ وہ اپنے ابتدائی اور بنیادی کام اس ضعیف انسان ہی سے شروع کرتا تھا۔

۱۔ دنیا کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا۔ ۲۔برائیوں اور منکرات کا حکم  اور اپنی طرف کشش کا ماحول فراہم کرنا۔ ۳۔غرور و تکبر پیدا کرنا۔ ۴۔الٰہی تعلیمات سے جہالت پر باقی رکھنا۔ ۵۔الٰہی فریضوں سے فرار کرنے پر ابھارنا۔ ۶۔خدا کے حضور عصیان و گناہ۔

اس وقت میں ایک چھوٹا سا طاغوت بن چکا تھا بلکہ شاید پورا طاغوت۔ ایک ایسا انسان بن چکا تھا جس نے اپنے دوش پر گناہ، سیاہ دل اور شیطانی عادتوں کا بار اٹھا رکھا ہو۔

مسلسل گناہ اور سرکشی میں مشغول۔ اب اس بات کا تذکرہ کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے کہ شیطان کن چیزوں کو استعمال کر کے مجھے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا، لیکن سینما، مجلات، ریڈیو، نامناسب دوست، ماحول اور عمر کا تقاضا وغیرہ جیسے عوامل بہت زیادہ مؤثر تھے۔

اس دوران یہ حقیر بندہ شیطان کی طرف سے اتنی سخت ضربیں کھاتا رہا کہ انہیں کاری ضربوں نے اسے شہید کر کے رکھ دیا۔

خدایا!یہ اس سرکش اور گناہگار بندے کا اقرار اور اعتراف ہے۔ اس زمانے میں مجھ پر جو بنیادی اثرات پڑے وہ یہ تھے:

۱۔تعلیمات الٰہی سے جہالت۔ ۲۔شیطانی عادتوں (جھوٹ، تکبر، ریا وغیرہ) میں مبتلا ہونا۔ ۳۔خطاؤں کی وجہ سے دل کا سیاہ ہو جانا۔

خدایا! تو خود جانتا ہے کہ میں کون ہوں اور میری قسمت میں کیا تھا، لیکن دسویں کلاس میں مجھ پر شیطان کی اچانک ایک شدید ضرب پڑی جسے برداشت کرنا میرے لیے بہت مشکل تھا۔

جسم تو مضبوط تھا مگر روح بالکل ضعیف بلکہ صفر سے بھی کم درجے پر تھی۔ لیکن میرا جسم مکمل طور پر رام ہو گیا۔اب وہ حسین چلا گیا تھا اور ایک نیا حسین وجود میں آ گیا تھا۔سینما کی صف میں بیٹھنے والا حسین اب ساری کی جامع مسجد میں سجدہ و رکوع و قیام میں مشغول ہو گیا تھا۔

خدایا! محمد و آل محمدؐ اور میرے ان دوستوں پر اپنی رحمت نازل فرما جنہوں نے میری رہنمائی کی۔ رحمت برسا میرے بھائی حاج شیخ عبداللہ نظری پر۔

میں نے ارادہ کر لیا کہ گرمیوں میں دینی تعلیم پڑھوں (حتی کہ یہ بھی طے پا گیا کہ سال کے درمیان ہی میں کلاس کو ترک کر دوں اور حوزہ علمیہ میں دینی تعلیم شروع کر دوں۔) شاید ایک ماہ تک میں وہاں پڑھتا رہا لیکن وہاں صحیح رہنمائی اور رہبری کے بغیر اس نئے سفر پر چلنا مشکل ہو گیا تھا لہٰذا میں نے اپنا ارادہ تبدیل کیا اور واپس لوٹ آیا۔

گیارہویں سال میں بھی جہالت، دل کی سیاہی اور شیطانی اخلاقیات نے اپنا اثر  قائم رکھا حتی کہ بعض اوقات میری نئی روح بھی اس کے سامنے ہار مان جاتی تھی۔

(خدایا! تواپنے اس بندے کے تمام اعمال کو جانتا ہے جو اس نے چھپ کر یا آشکارا طور پر یا وہم و خیال کے نتیجے میں انجام دیے ہیں۔ اور تو نے انہیں لوحِ مکتوب پر ثبت بھی کر رکھا ہے۔)

لیکن شہر ساری کی فضا اور دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کی وجہ سے الحمد للہ فضل الٰہی شامل حال رہا لہٰذا میں نے ایف۔ اے کرنے کے بعد مشہد یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔

خدایا! اگر تیرا فضل نہ ہوتا، تیری رحمت  اور تیرا کرم میرے شامل حال نہ ہوتا، تیری بخشش میرے ساتھ نہ ہوتی، غفور و رحمان و رحیم جیسی تیری صفات ثبوتیہ ہمراہ نہ ہوتیں،  تیری توبہ قبول کرنے والی صفت مجھے نہ تھام لیتی تو یہ حقیر بندہ کہاں مارا مارا پھرتا؟!

کیونکہ میں تیری ان تمام صفات کے باوجود ایک ذلیل اور شکست خوردہ انسان ہوں۔میرا اعمال نامہ سیاہ ہے اور مارے شرمندگی کے زمین میں گڑا جا رہا ہوں۔خدایا! تو خود جانتا ہے کہ یہ سب باتیں کوئی انکساری یا تکلف کا اظہار نہیں ہیں بلکہ واقعیت اور حقیقت رکھتی ہیں۔

لیکن میرے خدا! میرے یہ تمام اعمال میری جہالت کی وجہ سے تھے۔ خدایا! میں نے جان بوجھ کر کوئی گناہ نہیں کیا۔ اے خدا! تو نے خود سورہ جمعہ اور علق میں تعلیم و علم کی بات کی ہے لہٰذا اپنے نورِ قدس اور اپنی حقانیت کے صدقے میں اس کمزور بندے کے جتنے بھی اساتذہ ہیں انہیں مخلص، متقی، ذاکر، متوکل اور صالح بندوں میں سے قرار دے۔

میں اپنے اس عظیم استاد کو کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔ اس رات انہوں نے تیرے اور تیری کتاب کے بارے میں باتیں کی تھیں۔ ہمارا پہلا رابطہ آیت : يا أَيتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ۔ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيةً مَرْضِيةً([2]) کے ذریعے ہوا تھا۔

ان استاد اور دوسرے دوستوں (اور تو جانتا ہے کہ میں ان سے کس قدر محبت کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہوں) سے میری آشنائی نے میری زندگی میں ایک نیا صفحہ کھول دیا تھا۔اگرچہ جہالت، دل کی سیاہی اور شیطانی عادتیں ان سے کسب فیض کرنے میں ہمیشہ رکاوٹ ڈالتی رہیں۔

خلاصہ یہ کہ اے رب العالمین، اے ملک الناس، اے معبودِ مخلوقات! میں نے اپنی اس 23 سالہ زندگی کو ایسے نہ گزارا جیسا تو چاہتا تھا۔ سستی، ٹال مٹول، شیطان کے جال اور دھوکے نے مجھےالجھا کر رکھ دیا تھا۔

میں (وَالْعَصْرِ۔ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ) کا مصداق بن گیا۔ خدایا! میں جانتا ہوں کہ میں تیرا اچھا بندہ نہ بن سکا لیکن تیری ہی قسم کہ میرا دل ہمیشہ تیری ہی خواہش کرتا رہا۔ میں چاہتا تھا کہ تجھ سے مانوس ہو جاؤں، تجھ سے محبت کروں اور اس محبت کی لذت کو محسوس کروں۔

میں تیرا دوست اور رفیق بننا چاہتا تھا۔ فقط تیری آغوش میں رہنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ فقط اور فقط تو ہی مجھ پر رحم کرے اور میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرے۔ میں چاہتا تھا کہ ہمیشہ تیری یاد میں رہوں، تجھے ناظر جانوں اور فقط تجھ پر ہی بھروسہ کروں۔ مختصر یہ کہ تُو تُو ہے اور میں میں۔ تو وہی ہے کہ جس نے ہمیشہ مجھ پر رحم کھایا اور اپنے فضل و بخشش سے نوازا مگر میں؟! دنیا نے اپنے جلوے دکھائے اور میں اس کے دھوکے میں آ گیا۔

 خدایا! تیری حمد و سپاس ہے کہ تو نے ہمیں امام خمینیؒ جیسا رہبر عطا فرمایا۔

خدایا! تو میرے بھائی اور عزیز دوست سعید کو مشہد لایا اور وہیں شروع ہی میں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال دی۔ خدایا! میں اپنے اس بھائی کے ذریعے اہواز آیا اور اہواز کی مسجد جزائری کے دوسرے برادران سے آشنائی ہوئی۔

یہ اجتماع مردانگی، صدق و صفا، نور و عصمت، ہدایت و رہبری، عبودیت و امامت، خلوص و تقوا، آگاہی و معرفت، جہاد و فتح، نصرت و شہادت اور انقلاب کا اجتماع تھا۔

ان سب دوستوں کو جہاد اکبر و اصغر میں کامیاب و کامران فرما۔ خدایا! اگر ان کے لیے کسی اور چیز کی دعا میرے ذہن میں رہ گئی ہے تو تُو بہتر جانتا ہے ، وہ بھی انہیں عنایت فرما۔

خدایا! شہادت مشاہدہ و فنا فی اللہ کا مقام ہے، شیطان کی کمر توڑ دینے والا نعرہ  اور شیطان کی بنیادوں کو لرزا دینے اور تباہ کر دینے کا نام ہے۔شہادت تیری رضوان سے ملحق ہو جانے کا نام ہے۔ خدایا! شہادت تجھ تک پہنچنے کا مختصر ترین اور سریع ترین راستہ ہے۔

اگر میں شہید نہ ہوں تو کیا کروں؟! آخر کار میں جانتا ہوں کہ خود شہادت تجھ تک پہنچنے اور زمین پر تیری حکومت و قانون کے اجراء کا وسیلہ ہے۔ خدایا! مجھ پر لطف فرما، اگر میں اس بات کی لیاقت رکھتا ہوں تو میرے  خون سے بھی درختِ اسلام کی آبیاری فرما۔

خدایا! ’’رضا برضائک و تسلیما به امرک.‘‘ ’’اللهم ارنا مناسکنا و تکالیفنا و فرائضنا و بک علینا و انک انت التواب الرحیم.‘‘ ’’اللهم هییء لنا من امرنا رشدا.‘‘

خدایا! تیرا یہ حسین کرے تو کیا کرے؟! وہ حسین جس کے پاس نہ شجاعت ہے نہ ایثار، نہ خضوع ہے نہ کسی چیز کا علم اور نہ ہی خلوص۔ وہ حسین جو قید ہے، زندان میں ہے، حسود ہے۔ وہ حسین جو تیرا محرم راز بھی نہیں ہے، جس کے پاس نہ حلم ہے اور نہ ہی اس کا اتنا ظرف ہے۔ اب تُو خود ہی بتا کہ کون سا وسیلہ میں اختیار کروں؟!

ہاں، ہاں میں نہیں جانتا کہ کیا کروں؟! ایک عمر تک گناہ، لذت، بدبختی، دربدری اور سرگردانی۔ خدایا، خدایا! میں کیا کروں؟!

شہادت وہ شربت ہے جسے پینے سے پہلے خون بہانا پڑتا ہے۔ شہادت وہ مشروب ہے جسے نوش کرنے سے پہلے شیطان کے مہلک زہر کو پھینکنا پڑتا ہے۔ ہاں! شہادت، شیطان کے مقبوضہ مقامات کو مسمار کرنے اور فتح کرنےکا نام ہے۔ شہادت اپنے عہد سے وفاداری کو کہتے ہیں۔

شہادت ایک شہد ہے، ایک مشاہدہ ہے، آیت ہے، نعمت ہے۔

شہادت اس دنیا میں فتح اور آخرت میں اپنے آپ پر بڑی فتح کا نام ہے۔ شہادت دشمن کو خون کے سیلاب میں غرق کر دیتی ہے اور دوست کو ساحل نجات تک لے جاتی ہے۔

ہاں اے قلم، اب لکھنا ختم  کر اور اپنی راہ لگ۔

اپنی سیاہی کا سرخ خون سے معاملہ کر اور اس رد و بدل کے ساتھ ہی یہ بھی تحریر کر: ’’مداد العلماء افضل من دماء الشہداء۔‘‘

اور اے قدم اور جسم کے خون! تجھے شرم نہیں آتی  کہ تو اپنے وظیفے کی انجام دہی کے بعد دشمن کے ٹینکوں تلے روندے جانے کے لیے ہی نہ جائے اور انہیں ایسے ہی بے کار پڑا رہنے دے؟!

تو نہیں چاہتا  کہ غدار، مغضوب اور گمراہ دشمن کی نظر تجھ پر پڑے اور اگر ایسا ہو تو تُو ان کی ہدایت کرے ورنہ ان پر اتمام حجت کر دے؟!

اے جسم! کیا تجھے اچھا نہیں لگتا کہ کربلا و ہویزہ کے واقعات دوبارہ دہرائے جائیں؟! کیوں نہیں، میں جانتا ہوں کہ یہ تجھے اچھا لگتا ہے اور تو اس کا اشتیاق بھی رکھتا ہے۔

لیکن خدایا! تیری ہی قسم! میں تیری رضا و قضا پر راضی ہوں اور تیرے امر و فرمان کا مطیع ہوں۔

اللهم جعلنا من الشهداء و الصدیقین و المتقین و الذاکرین و المتوکلین و المخلصین. اللهم جعلنا من السابقون و السابقون اولئک المقربون.

والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته و السلام علی من اتبع الهدی.


([1]) ایران کا ایک شہر۔

([2]) الفجر: 27-28