آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

کائنات کا پہلا مظلوم

ابوالفرج نے مقاتل الطالبین میں روایت بیان کی ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام کو ضربت لگنے کے بعد کوفہ کے طبیبوں کو حضرت کے سرہانے لایا گیا۔ ان میں سے زخم کے علاج اور جراحت  کے حوالے سے اثیر بن عمرو سے زیادہ کوئی بھی مہارت نہیں رکھتا تھا۔ وہ زخموں کے علاج اور جراحت میں متخصص تھا۔

اس نے جیسے ہی حضرتؑ کے زخم کو دیکھا تو گوسفند کا جگر لانے کو کہا۔ جب جگر آ گیا تو اس نے اس میں سے ایک رگ نکالی اور اسے زخم میں رکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے باہر نکال کر غور سے دیکھا۔ پھر حضرتؑ کی طرف منہ کر کے کہنے لگا: ’’اے امیر المومنینؑ! آپ جو بھی وصیت کرنا چاہتے ہیں کر لیں کیونکہ اس دشمن خدا کی تلوار کا زخم آپ کے مغز تک پہنچ چکا ہے۔ اب علاج معالجے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ‘‘

اس وقت امیر المومنینؑ نے کاغذ، قلم اور دوات طلب کیے اور وصیت کرنا شروع کی۔ حضرت امام علی علیہ السلام کا یہ وصیت نامہ اجمال و  تفصیل کے ساتھ کتبِ احادیث میں مختلف انداز میں موجود ہے جن میں سے ایک کو ابوالفرج نے نقل کیا ہے، جبکہ کافی میں مرحوم کلینیؒ نے بھی اسی جیسے ایک وصیت نامے کو روایت کیا ہے۔ اس کے علاوہ نہج البلاغہ میں (47 ویں خط کے ضمن میں) اجمالی طور پر اس کا تذکرہ ہے۔ علامہ مجلسیؒ نے بھی بحار الانوار میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ہم ابوالفرج ہی کی روایت کو نقل کرتے ہیں جو دوسروں کی نسبت زیادہ جامعیت رکھتی ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

یہ وصیت نامہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی طرف سے ہے:

علی گواہی دیتا ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ علی یہ گواہی بھی دیتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں جنہیں اس نے رہنمائی اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تا کہ وہ دین تمام ادیان پر غالب آ جائے اگرچہ مشرکین کو برا ہی کیوں نہ لگے۔

ان پر خدا کا درود اور برکتیں نازل ہوں! ’’میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب یقیناً اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔([1])‘‘

اے حسن! میں تمہیں، اپنی ساری اولاد، اپنے خاندان اور ہر اس شخص کو جس تک یہ وصیت نامہ پہنچے، تقویٰ اور اس خدا سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا پروردگار ہے۔ اسلام کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہونا۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور آپس میں تفرقے میں نہ پڑ جانا کیونکہ میں نے رسول خداﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا سب نمازوں اور روزوں سے بہتر ہے۔ جو چیز دین کو تباہ کرتی اور اسے فنا کر دیتی ہے، وہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا ہے۔ و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ [خدائے عظیم کے علاوہ کوئی طاقت نہیں ہے۔]‘‘

اپنے رشتہ داروں اور خاندان والوں کا خیال رکھنا اور ان سے جڑے رہنا۔ صلہ رحمی کرنا تا کہ روزِ قیامت خدا تمہارے حساب کو تم پر آسان کر دے۔

یتیموں کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو۔ اپنی سنگدلی کے سبب ان کے دہن کے لیے باری مقرر نہ کرو۔ [یعنی ایسا نہ ہو کہ کبھی تو انہیں کھانا کھلا دو اور کبھی انہیں بھوکا ہی چھوڑ دو۔]

اپنے ہمسایوں کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو، کیونکہ رسول خداﷺ نے ان کی سفارش کی ہے اور ہمیشہ ان کے بارے میں اتنی نصیحت کرتے تھے کہ ہمیں گمان ہونےلگا کہ پیغمبرؐ ہمسایوں کے لیے میراث میں بھی حصہ رکھ دیں گے۔ ہمسایوں کی حرمت اس قدر زیادہ ہے کہ مسلمانوں کے مال میں سے کچھ حصہ ہمسایوں کے لیے بھی مخصوص کیا گیا ہے۔

قرآن کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو! تمہارا غیر اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت نہ لے جائے۔ نماز کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو! کیونکہ نماز تمہارے دین کا ستون ہے۔

اپنے پروردگار کے گھر (خانہ کعبہ) کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب تک تم زندہ رہو وہ تم سے خالی رہے۔ اگر تم نے خانہ خدا کو چھوڑ دیا تو تمہیں مہلت نہیں دی جائے گی اور تم عذاب کا شکار ہو جاؤ گے۔ اگر خانہ خدا تم سے خالی ہو گیا تو خداوند کا عذاب تمہیں زندگی کی فرصت نہیں دے گا۔

اپنے اموال کی زکوٰۃ کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو کیونکہ زکوٰۃ خدا کے غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ رمضان کے روزوں کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو، اس لیے کہ روزہ تمہارے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال ہے۔

بے نواؤں اور مسکینوں کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو۔ انہیں اپنی زندگی میں شریک کرو اور اپنے لباس و خوراک میں سے انہیں بھی حصہ دو۔ راہِ خدا میں اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے جہاد کرنے کے حوالے سے خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو۔

اپنے پیغمبرؐ کی امت کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو۔ تمہارے درمیان کسی بھی قسم کا ظلم و ستم واقع نہ ہونے پائے۔

اپنے پیغمبرؐ کے اصحاب کے بارے میں خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو، کیونکہ رسول خداﷺ نے ان کے بارے میں نصیحت کر رکھی ہے۔ اپنے ماتحتوں، غلاموں اور کنیزوں کے حوالے سے بھی خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو، کیونکہ پیغمبر خداﷺ کی آخری وصیت یہی تھی: ’’میں تمہیں تمہارے زیردستوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا:

نماز! نماز! خدا کے معاملے میں لوگوں سے خوف مت کھاؤ۔ جو کوئی بھی تم پر ستم کرے یا تمہارے خلاف کوئی برا ارادہ کرے تو خدا اس کے مقابلے میں تمہارے لیے کافی ہے۔

لوگوں کے ساتھ اچھی گفتگو کرو، جیسا کہ خداوند عالم نے تمہیں حکم دیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرو تاکہ معاملہ تمہارے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ اسے ترک کرنے کے بعد تم جو بھی دعا کرو گے اور خداوند سے شر کو دفع کرنے کی درخواست کرو گے تو وہ قبول نہیں ہو گی۔

لوگوں سے میل جول کے وقت تواضع، بخشش اور ایک دوسرے کےساتھ نیکی کا خیال رکھو۔ اور جدائی، تفرقہ، پراکندگی اور ایک دوسرےسے منہ پھیرنے سے اپنے آپ کو بچا کر رکھو۔

نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار بنو اور گناہ و ظلم میں کسی کی مدد نہ کرو کیونکہ عذابِ خداوندی کا شکنجہ بہت ہی سخت ہے۔

خداوند عالم تمہارا نگہبان   ہو اور تمہارے حق میں اپنے پیغمبرؐ کےحقوق کو محفوظ رکھے۔

اب میں تم سب کو الوداع کہتا ہوں، تمہیں خدا کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر اس کے سلام و رحمت  کی دعا کرتا ہوں۔‘‘

کافی میں آیا ہے کہ امام علیہ السلام کے اس وصیت نامے کے بعد جب تک آپ کی روح مقدس ملکوت اعلیٰ کے ساتھ جا کر متصل نہ ہو گئی اس وقت آپ کے ہونٹوں پر کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی تکرار ہوتی رہی۔

([1]) انعام: 162 – 163