آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

گمنام ترین فوجی
[شہید سید کاظم کاظمیؒ]

سید کاظم 1957؁ء کو سمنان کے ایک علاقے آرادان میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے نڈر اور بہادر تھے۔  1975؁ء میں ریاضی کے مضمون میں اعلیٰ نمبروں کے ساتھ ایف۔ اے کا امتحان پاس کیا۔ تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے تہران یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ نقشے بنانے کا ڈپلومہ لیااور بعد میں محکمہ جسمانی تربیت میں ملازمت اختیار کر لی۔

یونیورسٹی اور کام کی جگہ پر ان کی انقلابی سرگرمیاں جاری رہیں۔ساواک نے دوبارہ انہیں گرفتار کر لیا جس سے وہ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔

اس کے بعد اپنے والد کی مدد سے مزید تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے۔ وہاں مکینیکل انجینئرنگ میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ وہیں انجمن طلبہ اسلامی کے رکن بن گئے۔ انہوں نے شاہ کی آمریت کا پردہ چاک کرنے کے لیے اس پلیٹ فارم کا بھرپور استعمال کیا۔پمفلٹس اور امام خمینیؒ کی کیسٹیں تقسیم کرنے کی وجہ سے امریکی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ امریکہ میں یونیورسٹی کی انجمن اسلامی کے نائب صدر تھے۔ اس کے بعد وہ اس انجمن کے صدر منتخب ہو گئے۔ انقلاب کامیاب ہوا تو اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر ایران واپس آ گئے۔ آتے ہی ضروری ٹریننگ لینے کے بعد سپاہ میں شامل ہو گئے۔  1979؁ء میں کردستان کے اندر انقلاب مخالفین کی سرکوبی کے لیے ’’نقدہ‘‘ چلے گئے۔ اس مہم میں انقلاب مخالفین سے مقابلے کے دوران نت نئے تجربات سے گزرے۔ بعد میں وہ سپاہ کے شعبہ جاسوسی کے بانیوں میں شمار ہوئے۔

24 اگست 1985؁ء امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے روز ہم سید کاظم کے ساتھ فرنٹ لائن کی طرف گئے۔ طلاییہ کے علاقے میں ایک کشتی پر بیٹھے ریکی کر رہے تھے کہ اچانک مارٹر گولہ پھٹا اور ۔۔۔

ایک ٹکڑا سید کے سر پر آن لگا۔ اسی حال میں سید کاظم نے ایک عاشقانہ سرگوشی کی۔ خدا سے انہوں کیا کہا؟ یہ خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ تھوڑی دیر دوزانو ہو کر بیٹھے اور کشتی کے فرش پر سجدے میں چلے گئے۔ اس انداز میں اسلام کے بہادر ترین کمانڈرز میں سے ایک کا دفترِ عشق بند ہو گیا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انقلاب سے پہلے عید قربان کے دنوں میں انہوں نے لکھا تھا: ہماری عید اس دن ہو گی جس دن ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (یہ حکومتی گماشتے) ہر روز ہمارے لوگوں پر کلاشنکوفوں سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ ہم اپنا اتنا خون بہائیں گے کہ خون کا ایک سمندر بنا دیں گے جس میں ان ظالموں کو غرق کر کے رکھ دیں گے۔

اگر انقلاب کی کوئی نظریاتی بنیاد نہ ہو تو وہ ہر گز کامیاب نہیں ہوتا۔ کسی بھی جنگ کو نتیجے تک پہنچنے کے لیے تین جہتوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ اول نظریاتی جنگ اور کسی اعتقادی بنیاد کا حامل ہونا۔ دوسرا پہلو سیاسی دانش و بینش کہ جس کے نتیجے میں سیاسی مقابلے وجود میں آتے ہیں۔ تیسرا اور آخری پہلو فوجی اور اجرائی قوت اور آخری ضرب ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں کوئی مقابلہ اپنے اختتام کو پہنچے گا اور انقلاب کامیاب ہو گا۔

ایک جگہ وہ اپنے بھائی کو لکھتے ہیں:

یا تو مجاہد بننے کا سودا اپنے سر پر سوار ہی نہ کرو لیکن اگر بننا ہی ہے تو حبیب کی طرح ہو جاؤ! کیونکہ مجاہدِ حق کو اپنی جان و دل سے گزر جانا ہوتا ہے۔ مطالعے کے ذریعے علم و آگاہی کے اس مقام تک پہنچ جاؤ جہاں حقیقی ایمان و عشق وجود رکھتے ہیں۔

ایک مشکل اور طویل مقابلے کے لیے ہمیں انتہائی قوی ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنے والے کل کی سحر کے وقت آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔ اس تیرہ و تاریک رات کے آخر پر ایک سحر کے ہونے کا یقین رکھو۔اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو کبوتر کی طرح سادہ مگر ایک سانپ کی طرح ہوشیار رہو۔

دنیا ان لوگوں کے لیے بری ہے جنہوں نے اپنے آپ کو اس میں آلودہ کر لیا ہے اور گندگی کے کیڑوں کی طرح اس میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ خدا کے خالص بندوں کے لیے تو روحانی عظمتوں تک پہنچنے اور کامل ہونے کا مقام یہی دنیا ہے۔ آخرت کا زادِ راہ اکٹھا کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔

امریکا سے اپنے گھر والوں کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

تخریب کار گروہوں سے ہوشیار رہیں۔ کہیں ان کے دامن میں نہ جا گرنا۔ اپنی پوری قوت سے امام خمینیؒ کی پیروی کریں کیونکہ حقیقی اسلام اسی مردِ خدا کے وجود میں پوشیدہ ہے۔ اس ہمیشہ مسکراتے ہوئے چہرے کو یاد کرتے رہیں۔ وہ صابر اور ستم دیدہ روح۔ ہم سب امامؒ کے ایک تبسم پر قربان ہوں۔

سید اپنے وصیت نامے میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

اپنی تربیت کیے ہوئے، خدا تک پہنچے ہوئے اور حضرت محمدﷺ کی مسند پر تکیہ لگائے ہوئے اس شخص کی قدر و قیمت جانو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں تنہا چھوڑ دو۔ اگر دنیا و آخرت کے طلبگار ہو تو امام کے راستے پر، جو اللہ اور اس کے اولیاء کا راستہ ہے، چلتے رہو۔

میں روح اللہ (خمینی) کا ایک ادنیٰ سا سپاہی ہونے پر فخر کرتا ہوں۔ امید رکھتا ہوں کہ وہ آخرت میں میری شفاعت کریں گے۔ امام کی عمر کے ایک لحظے پر میرے ساری زندگی قربان۔

اگر تم چاہتے ہو کہ میری روح کو تسکین ملے تو اپنے داخلی دشمنوں (منافقین) سے ہر گز غافل نہ ہونا۔ قرآن کی زیادہ تلاوت کرو۔ دعا کو کبھی فراموش نہ کرو۔ اپنی نیتوں کو خالص رکھو۔ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرو۔

اعلیٰ افسران، سرکاری عہدیداران اور پارلیمنٹ کے اراکین سے ایک خطاب:

تمہیں خدا کی قسم، شہداء کے پاک خون اور عظمت امام کی قسم! کہیں مستضعفین اور محروم افراد سے غافل نہ ہو جانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا طرزِ زندگی انقلاب سے پہلے کے طرزِ زندگی سے مختلف ہو جائے۔ اہل طاغوت کی طرح نہ ہو جانا۔ اگر ایسا ہوا تو شہداء قیامت کے دن تمہارا گریبان پکڑ لیں گے۔

عزیز سپاہیوں سے ایک خطاب:

تم انقلاب  کا نمونہ ہو۔ انقلاب اسلامی کی راہ میں ایک لمحے کی بھی کوتاہی نہ کرنا۔ ہمیشہ لوگوں کا خیال رکھنا اور امام خمینی کے لائحہ عمل پر چلنا۔ منافقین کو ایک لحظے کے لیے بھی ان کے حال پر مت چھوڑنا۔ تمام اسلامی انتظامات علماء اور ولی فقیہ کی بلاواسطہ رہبری ہی میں انجام پا سکتے ہیں۔ کبھی بھی فقہ و حوزہ علمیہ کی فضا سے باہر نہ جانا۔