آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

تشنہ لب
[شہید علی تجلائیؒ]

ان کے نکاح کی تقریب آیت اللہ مدنی کے حضور منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں انہوں نے اپنی شریک حیات کی طرف رُخ کر کے کہا: ’’کہتے ہیں کہ نکاح کے وقت دلہن کی دعا قبول ہوتی ہے۔‘‘ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر ان سے درخواست کی کہ وہ نکاح کے وقت ان کی شہادت کے لیے دعا کریں۔

تبریز سے محاذ پر گئے۔ ٹریننگ کے انچارج تھے۔ ٹریننگ کے دوران بسیجی جوانوں پر انتہائی سختی سے کام لیتے۔ ان کا کہنا تھا: ’’ٹریننگ میں جتنی زیادہ سختی ہو گی جنگ کے وقت اتنا ہی کم نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘‘

علی تجلائی نے معرکہ بدر کی رات اپنے جوانوں سے کہا: ’’پانی کی بوتلیں زیادہ نہ بھریں۔ آخر ہم ایک ایسے شخص کی زیارت کو جا رہے ہیں جسے پیاسا شہید کر دیا گیا۔‘‘ معرکہ بدر میں انہوں نے شجاعت کی داستان رقم کی اور تشنہ لبی کی حالت میں یارِ حقیقی سے ملاقات کو چلے گئے۔ اس کے بعد ان کی کوئی خبر نہ مل سکی۔  طلاییہ کی سرزمین آج تک علی تجلائی جیسے سرداروں کا راز اپنے سینے میں محفوظ کیے ہوئے ہے۔([1])

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اے امام! اے امت کے رہبر! اے روحانی باپ کہ جنہوں نے اپنے کلمات کے ذریعے ہمارے طاغوتی نفوس کا تزکیہ کیا۔ آپ جان لیں کہ جب تک خون کا آخری قطرہ اور آخری سانس میرے بدن میں ہے میں آپ کا مقلد اور مقتدی ہوں۔

خدا کی قسم، جو عہد و پیمان میں آپ سے باندھ چکا ہوں اس سے پلک جھپکنے تک بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا اور میرے بدن سے خون کا آخری قطرہ بھی لفظ ’’خمینی‘‘ کا نقش بنائے گا۔

کیونکہ میں نے اس وفاداری کو مکتب کربلا ور حضرت عباس علمدارِ حسین علیہما السلام سے سیکھا ہے۔ اور شہید آیت اللہ بہشتیؒ کی شخصیت میں اس وفاداری کو اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔

میرے بابا اور ماں! جن کے دلوں سے ابھی تک میرے بھائی مہدی کا غم نہیں اترا، کہیں میری شہادت آپ کو غمناک نہ کر دے۔ آپ کو جتنا بھی گریہ کرنا ہے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہل بیتؑ پر کریں۔

آپ کو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ آپ اسلام کے تربیتی لائحہ عمل اور طور طریقوں کے سائے میں خط ولایت و امامت پر اپنی اولاد کی تربیت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ مہدی، میرے اور دوسرے شہداء کے لیے گریہ نہ کریں بلکہ  ہمارے مزار بھی تلاش نہ کریں۔ فقط یہ سوچیں کہ ہم کس مقصد کےلیے شہید ہوئے ہیں اور اپنے معبود تک پہنچنے کے لیے ہم نے کس راستے کا انتخاب کیا ہے۔۔۔

دعا کریں کہ خدا ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائے۔

میری شریکِ حیات! میں جانتا ہوں کہ میرے بعد بن باپ کے بچوں کی تربیت کرنے اور انہیں پالنے پوسنے میں تمہیں بہت زیادہ مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تمہارے لیے ایک عظیم بشارت بھی ہے کہ اگر اس نے اس گناہگار کو شہادت کے قابل سمجھا تو اپنے وعدے کے مطابق وہ خود تمہارا سرپرست و ولی ہو گا اور یہ نعمت بہت ہی کم خاندانوں کے حصے میں آتی ہے۔۔۔

اس نعمت کا شکر یہی ہے کہ مشکلات کے مقابلے میں صبر کیا جائے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں مکمل عبودیت کا اظہار کیا جائے۔

تمہیں معاشرے کے سامنے اس چیز کا عملی اظہار کرنا ہو گا کہ کیسے عمل میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی پیروی کی جا سکتی ہے۔ جو ایک بہترین ماں بھی تھیں اور ایک بہترین پیغام بر کہ جن کے پیغامات نے تاریخ بشریت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

میری بیٹی! میں جانتا ہوں کہ تم ابھی چھوٹی ہو اور میں تمہیں یاد بھی نہیں ہوں لیکن جب تم بڑی ہو جاؤ گی تو حتماً اپنے بابا کا حال اور اس کی شہادت کی وجہ جاننا چاہو گی۔ جان لو کہ تمہارا باپ ایک پاسدار تھا اور تمہیں بھی اپنے بابا کے خون کی پاسدار رہنا ہے۔

میری بیٹی! میں جانتا ہوں کہ معاشرے میں یتیموں جیسی زندگی گزارنا اور بڑا ہونا بہت مشکل ہے، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حسین، حسن اور زینب علیہم السلام بھی یتیم رہ گئے تھے۔ حتی کہ ہمارے پیغمبر ﷺ بھی یتیمی ہی کی حالت میں پلے بڑھے۔

میری بیٹی! جب بھی تمہارا دل پریشان ہو تو زیارت عاشورا پڑھ لینا اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی مصیبتوں کو یاد کر لینا۔ میں امید کرتا ہوں کہ تم مستقبل میں اپنے بابا کے لیے ایک شائستہ اور اچھی وارث ثابت ہو گی۔

پروردگارا! مجھے اور میرے بچوں کو نماز قائم کرنے والوں میں سے قرار دے اور میری دعا کو قبول فرما۔

پاسدار بھائیو! امید کرتا ہوں کہ اپنی بزرگواری کا لحاظ کرتے ہوئے خدا کے اس حقیر بندے کو ضرور معاف کر دو گے۔ اپنے مولا امام علی علیہ السلام کے کچھ فرامین بطورِ نصیحت تمہارے سامنے دہرانا چاہتا ہوں تاکہ وہ تمہارے لیے رہنما ثابت ہوں۔

  • ہر حالت میں تقویٰ اختیار کیے رکھو اور خدا کو اپنے اعمال پر ناظر جانو۔
  • معاشرے کے مظلوموں اور ستم دیدہ افراد کے مددگار بن کر رہو۔ شہداء کے فرزندوں اور یتیموں کو فراموش نہ کر بیٹھنا۔
  • آزادی بخشنے والے اس انقلاب کے مقاصد کے حصول میں اپنی جان و مال کی بالکل پرواہ نہ کرنا۔
  • ولایت کے اصلی مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سے اعلیٰ مرتبے والے افراد کی اطاعت کرنا اور ان کے مراتب کا خیال رکھنا۔
  • ہر زمان و مکان میں اپنے عمل اور زبان کے ذریعے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہنا۔

میرے سینئر حضرات! اگر آپ انقلاب اسلامی کی ترقی کے لیے مسلسل کام کرتے ہیں تو اپنے کاموں اور ارادوں میں عدالت کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں کیونکہ یہ ایمان کی سرحد ہے۔ اگر یہ سرحد ٹوٹ گئی اور انسان کا پاؤں اس حد کو عبور کر لے تو پھر وہ اپنے لیے کسی قاعدے اور قانون کو نہیں مانے گا۔ عدالت کو کبھی بھی مصلحت پر فدا نہ کریں۔

اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اپنے ماتحت افراد کی ضرورتوں اور حاجتوں کو پورا کرنے میں کوشاں رہیں۔ اپنے دل میں لوگوں کے ساتھ مہربانی اور لطف و رحمت کو بیدار رکھیں۔ لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کریں کہ وہ آپ سے نفرت کرنے لگیں۔

محاذ پر جانا اور اس سرزمین اسلام و قرآن کا دفاع کرنا خدا کے بندوں پر ایک عظیم ذمہ داری اور امتحان ہے، کیونکہ محاذ بندگانِ خدا کی آزمائش گاہیں ہیں۔ اس  آزمائش میں کامیاب ہونے کےلیے ضروری ہے کہ دنیا سے تمام مادی تعلقات توڑ کر عاشقانہ انداز میں خدا کی جانب سفر کیا جائے۔

محاذ، خدا کے بندے کے لیے بہت خوبصورت مقام ہے کیونکہ وہاں نورِ خدا ہے اور شہادت و ایثار کی باتوں کے علاوہ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔

وہاں تمہیں ایسے  ایسے پختہ ارادوں والے چہرے اور معصوم جوان نظر آئیں گے جو اپنے تمام وجود کے ساتھ اپنی الٰہی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے خط مقدم (فرنٹ لائن) پر جانے کی سعی کرتے ہیں اور ایک دوسرےپر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اب خود ہی فیصلہ کرو کہ انسان ایسے لوگوں کی دوستی اور برادری کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے؟!

آخر میں، تم سب، اپنے خاندان، اپنے ماں باپ اور اپنی بیوی کے لیے خدا کی رحمت  کی دعا کرتا ہوں  اور تمام مجاہد بھائیوں خصوصاً عاشورا ڈویژن، سپاہ منطقہ پنج اور خاتم چھاؤنی  کے برادران سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ میری غلطیاں معاف فرما دیں۔

سب سے معافی کا طلبگار ہوں کیونکہ اس بار میرے دل پر الہام ہوا ہے کہ اب کے خداوند رحمان و رحیم چاہتا ہے کہ میں شہادت کے درجے پر فائز ہو جاؤں۔

اب میرا انتظار نہ کرنا کیونکہ میں  اپنے معشوق، حریت پسندوں کے سردار حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہداء کربلا کے دیدار کے لیے رخصت ہوا چاہتا ہوں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

علی تجلائی


([1]) طلاییہ کی سرزمین پر ایرانی شہداء کے جنازے عراقی ٹینکوں کے نیچے روند کر خاک سے یکساں کر دیے گئے تھے۔