آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

ثابت قدم کمانڈر
[شہید محمد جہان آراؒ]

سپاہِ خرمشہر کے اولین کمانڈر تھے۔ سر سے پاؤں تک اسلحے سے لدی ہوئی عراقی فوج کی ڈویژنز کے مقابلے میں جب شہر کے جوانوں نے پوری استقامت کا مظاہرہ کیا تو محمد جہان آرا بھی ان میں شامل تھے۔ انہی ہلکے اسلحوں کے ساتھ چالیس روز تک دشمن کے سامنے ڈٹے رہے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے شہید ہو جانے والے دوستوں کے غم نے انہیں بوڑھا کر دیا تھا۔

محمد جہان آراء خرمشہر کی آزادی سے پہلے 1981؁ء ہی میں جام شہادت نوش کر گئے۔ ’’ممد نبودی([1])‘‘ (محمد، تم نہیں تھے) جیسے خوبصورت اشعار اسی مسافر اور بہادر کمانڈر کےبارے میں کہے گئے ہیں۔ محمد اپنے وصیت نامے میں کہتے ہیں:

جنگ کے آغاز سے لے کر خرمشہر کے سقوط تک میں ایک ماہ تک مسلسل کربلا کو دیکھتا رہا۔

رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَينَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.([2])

پروردگارا!  اے رب العالمین! اے استغاثہ کرنے والوں کی پناہ گاہ! اور اے صالحین کے دلوں کے حبیب۔

میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ شربت شہادت اس طرح اپنی طرف آنے والے مجھ جیسے نادار، حقیر اور گناہگار بندے کو بھی تو نے پلایا ہے۔

میں کسی کے لیے وصیت نہیں کرنا چاہتا  لیکن ہلکا سا رنج و غم ہے جو کاغذ پر اتارنا چاہتا ہوں بالکل اس سیاہی کی طرح جو ان سیاہ دل افراد کے قلوب پر جم چکی ہے  جنہوں نے آزادی کا ذائقہ چکھا ہی نہیں ہے اور دنیاوی مال و متاع کے پیچھے پوری ایک امت کوبلکہ پوری دنیا کو نیستی و نابودی کی طرف دھکیل کر رکھ دیا ہے۔

خداوندا! تو خود گواہ ہے کہ میں گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ آزادی کے اس پیمان کا احترام کرتا رہا ہوں۔وہ  تمام درد اور رنج جو انقلاب کے بعد میرے حصے میں آئے  ان کے مقابلے میں میں نے صبر و شکیبائی کا مظاہرہ کیا لیکن میں جانتا ہوں کہ عہدوں پر پہنچنے والے ان تازہ حکمرانوں نے آزادی کی نعمت کا ابھی تک ادراک نہیں کیا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ قید نہیں تھے بلکہ پیرس، لندن اور ہیمبرگ کے کیفے ٹیریاز اور دوسری ایسی ہی جگہوں پر زندگی گزارتے رہے۔

اور آپ اے میرے امام! کہ جنہوں نے ان بے عقل افراد کے ہاتھ کئی زمانوں کی سختیاں اور رنج جھیلے ہیں۔ اس زندگی کا ایک ایک لمحہ آپ پر نوح، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام اور محمد ﷺ کے حالات کی طرح گزرا ہے۔

لیکن آپ، اے امام! اے تاریخ کے نابغہ! آپ جان لیں کہ آپ نے اپنی تحریک کے ذریعے تاریخ میں اسلام کی ایک نئی حرکت کو شروع کیا ہے اور دنیا کے مستضعفین کی آزادی کا بیڑا اٹھایا ہے۔

لیکن اے امام! کون ہے جو آپ کے ان تمام دردوں، رنجوں اور غموں کو سمجھ پائے؟! کون ہے جسے اس بات کا ادراک ہو جائے کہ اس تحریک میں ذرہ برابر کوتاہی تاریخ انسانیت اور موجودہ و آئندہ تمام انسانوں کے ساتھ ایک بہت بڑی خیانت شمار ہو گی؟!

اے امام! میں جانتا ہوں کہ کون لوگ آپ کے دردو غم کو اپنی جانوں کے بدلے خرید لیں گے؟! وہ باایمان جوان جو اپنی تازہ زندگیوں کو حکومتِ عدلِ اسلامی کا ہدف حاصل کرنے کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔

ہاں، اے امام! آپ کے درد کو صرف جوان ہی سمجھتے ہیں۔جن کے پاس مال دنیا میں سے فقط آپ کی رہبری و قیادت ہے اور جو اپنی جانوں کو آپ کے ہدف، جو عین اسلام ہے، کے لیے فدا کر رہے ہیں۔

اے امام! جب تک ہم اسلام کے پاکیزہ جوانوں کی رگوں میں خون دوڑ رہا ہے، ایک لحظے کے لیے بھی آپ کے پیغمبری راستے سے نہیں ہٹیں گے جو انبیاء و اولیاء کے راستے سے متصل ہو جاتا ہے۔

اے امام! میں آپ سے ایک ایسے شخص کی حیثیت سے کہ جس نے شاید کربلائے حسینی کو خرمشہر میں دیکھ  رکھا ہے، وہ بات کرنا چاہتا ہوں جو میری روح کی گہرائیوں اور خرمشہر کے یکے بعد شہید ہو جانے والے شہداء کی شہادت سے ظاہر ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اے میرے امام! جنگ کے آغاز سے لے کر خرمشہر کے سقوط تک میں ایک ماہ تک مسلسل کربلا کو دیکھتا رہا ہوں۔

ہر روز جب ہمارے بھائیوں پر دشمن کا حملہ شدت پکڑ لیتا ، وائرلیس پر ان کے چیخنے چلانے کا شور گونجنے لگتا اور نجات کی کوئی راہ نظر نہ آتی تو میں اپنے کمرے میں جا کرروتے ہوئے فریاد کرنے لگتا:

اے رب العالمین! ہمارے لیے ذلت و خواری کا انتخاب نہ کرنا۔


([1]) ایران میں عوامی بول چال کے دوران بعض اوقات محمد نام کے اشخاص کو ممد کہہ کر پکارتے ہیں۔

([2]) البقرة: 250