آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

 جلوۂ جلال
[شہید جلال افشارؒ]

بہت زاہد اور متقی اور آیت اللہ بہاء الدینی([1]) کے مخصوص طلاب میں سے تھے۔ آیت اللہ بہاء الدینی فرماتے تھے: ’’ایک بار امام زمانہ عج نے مجھ سے میری تمنا پوچھی تو میں نے انہیں جلال افشار کا بتایا۔‘‘ ہم نے کئی بار انہیں یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: ’’جلال کی قبر سے ایک خاص قسم کا نور آسمان کی طرف جاتا ہے۔‘‘

جلال افشار سپاہ اصفہان کے پاسدا ر اور ثقافتی امور کے انچارج تھے۔ 1979؁ء میں انہوں نے شادی کی۔جس سے ان کے ایک بیٹی ہوئی کہ جس نے طفولیت کے زمانے میں اپنے بابا کو کھو دیا۔

جلال رمضان میں ہونے والے معرکے میں قافلہ نور سے پیوست ہو گئے۔ ذیل میں ان کے وصیت نامے سے کچھ اقتباسات پیش ہیں:

میں نے سوچا کہ ان آخری لمحات میں تذکر کے عنوان سے ایسا کیا لکھوں جو میرے لیے باقیات الصالحات بن جائے۔ خدا سے دعا کی کہ کوئی آیت میرے لیے معین کر دے جسے میں اپنا سرنامہ تحریر قرار دے سکوں۔

أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يعْمَلُونَ السَّيئَاتِ أَنْ يسْبِقُونَا سَاءَ مَا يحْكُمُونَ۔ مَنْ كَانَ يرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِي عَنِ الْعَالَمِينَ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِينَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يعْمَلُونَ۔([2])

خداوندا! تو جانتا ہے کہ میں نے بہت گناہ کیے ہیں لیکن میں گناہوں سے بیزار ہوں۔ میں نے جس وقت بھی نافرمانی یا ناشکری کی تو تیری بے انتہاء قدرت کے سامنے جرأت و جسارت کرتے ہوئے نہیں کی بلکہ اپنے نفس کی کمزوری، سستی اور کاہلی کی وجہ سے گناہ کر بیٹھا۔ لیکن اے کریم! تیری رحمت اس قدر وسیع ہے کہ تو نے میری بہت سی غلطیوں پر پردہ ڈال دیا اور مجھے اس دنیا میں رسوا ہونے سے بچا لیا۔ پس اب جبکہ تو میری جان لے رہا ہے اور اس کے بعد بھی، برزخ اور معاد میں میری آبرو کی حفاظت فرما۔ خدایا مجھے اس دنیا میں جلا دے لیکن اپنی اور اپنے اولیاء کی جدائی  میں مجھے مبتلا نہ کرنا۔ خدایا! مجھے اپنے غیض و غضب کی آگ میں نہ جلانا۔ خدایا میں تیرے دیدار کا مشتاق ہوں لیکن کیا کروں کہ حجابات نے مجھے اپنی لپیٹ میں رکھا ہے اور میرے قلب و نظر کو مجھ سے چھین لیا ہے۔

خدایا! میرے تمام دوست عاشقانہ انداز میں تیری طرف پرواز کر چکے ہیں جبکہ میں ابھی تک زندہ ہوں۔ خدایا!خالی ہاتھ تیری طرف آرہا ہوں اور تجھ سے بہت زیادہ کی درخواست کرتا ہوں۔ مجھ مسکین پر رحم فرما کہ میں تیری درگاہ میں آیا ہوں۔ خدایا! میرا خون بہنے کے بدلے میں میرے اوپر چھائے ظلمت کے پردوں کو چاک کر دے اور نور کی طرف میری رہنمائی فرما۔

خداوندا! تجھ سے بات کرتے ہوئے شرم آتی ہے لیکن تیری کرامت، نرمی اور رحمت مجھے یہاں تک کھینچ لائی ہے کہ اس طرح تیرے حضور جسارت سے سوال کروں۔

آخر تو نے مجھے سب کچھ عطا کیا مگر میں نے تیرے لیے کچھ کام نہ کیا۔ خدایا! میں نہیں جانتا کہ کس طرح تیرے بندوں سے عذرخواہی کروں۔ کیا وہ مجھے معاف کر دیں گے؟!

وہ تو یہ سوچتے تھے کہ میں تیرا صالح بندہ ہوں اور ان کے اسی رویےنے مجھے شرمندہ کر دیا۔ اگر وہ میرے باطن کو دیکھ لیں تو کیا کہیں گے؟!

پس تو نے جس طرح میرے ظاہر کو نیک بنایا اسی طرح میرے باطل کی بھی اصلاح فرما۔ خدایا! میں تیرے بندوں سے کیا کہوں کہ ان میں سے ہر ایک پند و نصیحت کی پوری کتاب ہے۔

پھر بھی میں اپنی قاصر و عاجز زبان سے کہتا ہوں کہ اےمیری ملت! بیدار ہو اور اپنے قیام کی حفاظت کر تا کہ قائم دینِ حق، فرزند امیر المومنین علیہ السلام، حجت اللہ الاعظم (عجل اللہ) تشریف لائیں اور پرچم توحید کو پوری دنیا کے قلعوں پر لہرا دیں۔

اس معمر اور موحد شخص کہ جس کا دل اسلام کے لیے تڑپتا رہتا ہے، کی نصیحتوں اور احکامات کو کان لگا کر سنو اور پوری تندہی سے عمل کرو تا کہ تمہیں خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔

اپنی نیتوں کو خالص کر لو کیونکہ شرک ظلمِ عظیم ہے۔ خود پسندی اور انا پرستی کو ایک طرف رکھ دو اور فقط اسلام و قرآن کی فکر کرو۔

فرصت طلب افراد پر نظر رکھو اور کسی مناسب موقع پر انہیں میدان انقلاب سے خارج کر دو۔ اسلام کے وفادار علماء کی حمایت کرو۔

مملکت کے اعلیٰ عہدیداروں کو چاہیے کہ  ہر کسی کی استعداد کے مطابق اجرائی ذمہ داریاں اس کے حوالے کریں۔ معاشرے کی ثقافت کی طرف سب چیزوں سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ امام کےمسلح بازو سپاہ میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرو۔ اس کی روحانی اور ثقافتی ترقی پر زیادہ سے زیادہ تکیہ کرو اور دیکھو کہ قرآن مکتوب اور قرآن ناطق کیا کہتے ہیں۔ ان کے فرامین پر عمل پیرا ہونے کے لیے آستینیں چڑھا لو اور مسلسل اپنے قدم اٹھائے چلو۔

جان لو کہ جب تک کفر ہے اسلام اس سے مقابلے کے لیے موجود رہے گا۔ اگر کسی دن کفر کی موجودگی میں اس سے جنگ و مقابلہ کرنے  کو انقلاب سے نکال دیا گیا تو انقلاب اپنے راستے سے ہٹ جائے گا۔

بہنو اور بھائیو! اسلام کے بارے میں سوچو کیونکہ تمہاری حیات و سعادت اس کے احکام پر عمل کرنے ہی میں مضمر ہے۔ فرصت کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ خداوند تمہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔

والسلام علیکم

20 جولائی 1982؁ء

جلال افشار


([1]) آیت اللہ سید رضا بہاء الدینی29 مارچ 1908؁ء کو قم میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک عارف فقیہ تھے۔  18 جولائی 1997؁ء کو قم میں وفات پائی اور حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں مدفون ہیں۔

([2]) العنکبوت: 4 تا 7