آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

اُسوه
[شہید غلام رضا نوریؒ]

وہ اصالتاً ساوہ کے رہنے والے تھے۔ وہ ایسے نوجوانوں میں سے تھے کہ انقلاب اسلامی نے جن کے اندرون میں بھی ایک عجیب سا انقلاب بپا کر دیا تھا۔  یہی وجہ تھی کہ وہ مجھ جیسے سینکڑوں افراد کے لیے نمونہ بن چکے تھے۔

ہائی سکول کا تیسرا سال مجھے کبھی نہیں بھولتا۔ ان کے معمولات یہ تھے: صبح سے ظہر تک مدرسہ، عصر سے مغرب کے بعد تک ثقافتی سرگرمیاں، وہ بھی تین مختلف مساجد میں، آخر میں رات کے وقت اپنے محلے کی مسجد اور بسیج کی مصروفیات۔ اس کے بعد آدھی رات کو کہیں جا کر گھر کو واپسی۔

وہ ہمیشہ اذان سے ایک گھنٹہ پہلے بیدار ہو جاتے۔ ان کی نماز شب کبھی قضا نہ ہوتی۔ ان تمام سرگرمیوں کے باوجود بھی وہ اپنی پڑھائی سے غافل نہ تھے۔  غلام رضا ریاضی کے مضمون میں تیسرے سال میں 95 فیصد سے زیادہ نمبرز لے کر پاس ہوئے تھے۔

*****

ابھی ان کی عمر 15 سال ہی تھی کہ برتھ سرٹیفیکیٹ میں کچھ رد و بدل کر کے پہلی بار محاذ پر روانہ ہو گئے۔ تین بار شدید زخمی ہوئے۔ ان کے دوستوں نے انہیں جانے سے منع بھی کیا تھا مگر دسمبر 1986؁ء میں ہائی سکول کے آخری سال میں اپنی تعلیم کو خیر آباد کہا  اور محاذ پر چلے گئے۔ سب سے خداحافظی کے وقت انہوں نے کہا تھا: ’’ملاقات کا وقت آن پہنچا ہے!‘‘

معرکہ کربلا5 اور دشمن کی کلاشنکوف کی گولی شہادت کا بہانہ بن گئی۔ وہ خدا سے ملاقات کی گھڑیاں گنتے رہتے تھے۔ اس وقت قبرستان بہشت زہرا سلام اللہ علیہا کے قطعہ 53 میں محوِ خواب ہیں۔

غلام رضا تو چلے گئے مگر ان کے شاگرد کئی  سالوں سے ان مساجد میں ثقافتی سرگرمیوں میں مشغول ہیں جن میں انہوں نے اپنی زندگی کے لمحات صرف کیے تھے۔

ایک بار خواب میں میں نے انہیں دیکھا کہ مسجد میں کھڑے ہیں اور ان کے ہاتھ میں کچھ پوسٹرز اور پیکٹس ہیں۔ میں نے پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ کہنے لگے: ’’ثقافتی کام انجام دو۔ ہم وہاں بھی ثقافتی کاموں میں ہی مصروف ہیں۔‘‘

غلام رضا نے اپنی شہادت سے کچھ دن پہلے شلمچہ میں وصیت لکھی تھی۔ اس کے کچھ حصے درج ذیل ہیں:

خدایا! ایک بار پھر تو نے مجھے توفیق بخشی کہ تیرے خالص اور پاک بندوں کے ہمراہ اپنا وظیفہ انجام دوں۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ چند جملے، جو بھلے ناقص ہی ہوں، لکھ کر اس دینی واجب کی تکمیل کروں۔

لیکن کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ کیا لکھوں؟ کیونکہ میرے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر کسی آیت یا حدیث سے اپنی بات کی ابتدا کروں تو مجھ سے بہتر تفسیر کرنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کو بھی علم دیتے ہیں۔ اگر کوئی نصیحت کروں تو اس پر میں خود عمل نہیں کر پا رہا۔

خدایا! مجھے توفیق دے کہ یہ قلم جو میرے ہاتھ میں ہے، اس ورق پر کچھ ایسے جملے لکھ دے جن میں تیری رضا ہو اور جو لوگوں پر اثر انداز بھی ہوں۔

خدایا! باوجود اس کے کہ میں ایک حقیر بندہ تھا، تو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ شیطانی خطرات جو انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں ان سے تو نے مجھے نجات عطا فرمائی۔ جس وقت میں نے تجھے فراموش کر دیا تھا اس وقت تو نے مجھے فراموش نہیں کیا اور میری دادرسی کو پہنچ گیا۔

میں ایک برا بندہ تھا اور ہوں۔ لیکن تو ایک اچھا خدا تھا، اچھا ہے اور اچھا ہی رہے گا۔ تیری عزت کی قسم! اگر توہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیتا تو ہم تیرے فراق کے غم میں ہلاک ہی ہو جاتے اور ایک لحظے کے لیے ہمارے لیے زندہ رہنا ناممکن ہو جاتا۔

خدایا! اس وقت تیرا دین اسلام تنہا رہ گیا ہے اور بہت ہی کم افراد پوری دلسوزی سے اس کی حفاظت کے جتن کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کے مقابلے میں وہ لوگ بھی ہیں جو اسلام کے نام پر انہیں مار رہے ہیں۔

خدایا! تجھ سے دعا مانگتا ہوں کہ اگر شجرِ اسلام میرے خون سے سیراب ہونا ہے تو جتنا جلدی ہو سکے میری حقیر جان کو ا پنے تحویل میں لے لے۔ اور اگر ہمارا زندہ رہنا اسلام کے فائدے میں ہے تو پھر مجھے طولِ عمر عطا فرما تاکہ تیرے دین کی خدمت کر سکوں۔

اے خدا کے بندو! ہوشیار رہو کہ بہت دیر ہو چکی ہے۔ راستہ کافی طولانی ہے جبکہ زادِ راہ بہت تھوڑا ہے۔ اس وقت کو یاد کرو جب فرصت تم سے لے لی جائے گی۔ پس جتنا ہو سکتا ہے توشہ جمع کر لو۔ جتنا بھی ساتھ لو گے کم ہے لیکن خالی ہاتھ جانے سے بہر حال بہتر ہے۔

دوسروں پر ظلم نہ کرو۔ آپس میں مہربان رہو۔ خدا کو زیادہ سےز یادہ سے یاد کرو، کیونکہ خدا کی یاد میں رہنا دلوں کے سکون اور باطن کی صفائی کا موجب ہے۔

اے میرے دوستو! کہ میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں۔ تم سے درخواست کرتا ہوں کہ اسلام کے مبلّغ بن کر رہو۔ اسلام کی تبلیغ اور اس کے دوسرے کاموں سے ایک لحظے کے لیے بھی غافل نہ ہونا۔ جان لو کہ ہمارے کندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری ہے۔

میری تم سے گزارش ہے کہ فقط واجبات پر اکتفا نہ کرو۔ اپنے آپ کو مراتب کی ان بلندیوں پر لے جاؤ کہ پھر کوئی مسئلہ تمہارے لیے مسئلہ نہ رہے۔ جتنا ممکن ہو اپنی ذمہ داریوں کو خدا کی رضا کے مطابق انجام دو۔

میرے دوستو! معاشرتی اور سیاسی مسائل میں کافی حساس رہو۔ جب تک کسی مسئلے کی اچھی طرح آگاہی حاصل نہ کر لو اسے مت چھیڑو اور اپنی رائے نہ دو۔

دوستو! کوشش کرو کہ تم جو علم بھی حاصل کرتے ہو  اس کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے ورنہ تم منحرف ہو جاؤ گے۔

میں جس وقت آیت وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ۔۔۔([1]) کو پڑھتا ہوں تو میرے دل میں سکون موجزن ہو جاتا ہے۔ میں اسی روز کا انتظار کر رہا ہوں۔

ہم اس خاکی دنیا میں رہنے کے لیے نہیں آئے۔ ہمیں یہاں بہت تھوڑی  سی مدت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ہماری اصلی منزل کہیں اور ہے۔ ہمیں اس دنیا میں آرام سے نہیں بیٹھنا بلکہ کوشش کریں کہ اپنے آپ کو اپنی منزل مقصود تک پہنچا دیں۔

موجیم که آسودگئ ما عدم ماست

ما زنده به آنیم که آرام نگیریم

[ہم اس وقت زندہ کہلانے کے حقدار ہیں جب آرام و سکون سے دور رہیں۔ ہم موج ہیں  اور ٹھہر جانا ہمارے لیے موت و عدم کا باعث ہے۔]

آخری بات یہ ہے کہ دعاؤں میں ہمیں بہت زیادہ یاد کرنا۔ ہم بھی تمہاری یاد میں رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔

غلام رضا نوری

جنوبی محاذ 26 دسمبر 1986؁ء

 


([1]) آل عمران: 169