آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

دیدارِیار
[شہید انجینئر مصطفیٰ ابراہیمی مجدؒ]

انجینئر مصطفیٰ ابراہیمی مجدؒ کا شمار ان مجاہدین میں ہوتا ہے جو جنگ کے اوائل ہی سے محاذ پر موجود تھے۔ شہید چمران کے ساتھیوں میں وہ انتہائی اہم مقام کے حامل تھے۔ ان کے وصیت نامے کا متن دیدارِ یار کے اقرار اور بہت سے اخلاقی اور مفید نکات کا حامل ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی قبر کے کتبے پر لکھا گیا متن بھی بہت عجیب ہے: ’’یہ اس شہید کا گھر ہے جو اپنے مولا کے قیام کے انتظار میں آرام کر رہا ہے۔‘‘

وہ اپنی وصیت کا آغاز زیارت آل یٰسٓ کے تذکرے سے کرتے ہیں:

بسمه تعالی استغفر الله…

 میں مصطفیٰ ابراہیمی مجد مذکورہ دعا کو جو حضرت امام زمانہ عج کی زیارت میں آئی ہے کو انتہاء تک اپنے عقائد کا جزو سمجھتا ہوں اور اس زیارت پر اس حوالے سے تاکید کر رہا ہوں کیونکہ دعا کے آخر میں، میں امام عصر عج کو اپنی شہادتین پر شاہد اور گواہ قرار دے رہا ہوں۔

میں نے اُس مقام پر شہادتین کو مکمل طور پر قبول کیا ہے۔ آپ سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ آپ اس دعا کو حتماً پڑھیں۔ اس دعا کو یہاں ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کہیں وصیت نامہ طولانی نہ ہو جائے۔

أُشْهِدُكَ يَا مَوْلَايَ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ لَا حَبِيبَ إِلَّا هُوَ وَ أَهْلُهُ وَ أُشْهِدُكَ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حُجَّتُهُ وَ الْحَسَنَ حُجَّتُهُ وَ الْحُسَيْنَ حُجَّتُهُ وَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حُجَّتُهُ وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ وَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ وَ مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ حُجَّتُهُ وَ عَلِيَّ بْنَ مُوسَى حُجَّتُهُ‏ وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ وَ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُهُ وَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ حُجَّتُهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ حُجَّةُ اللَّهِ أَنْتُمُ الْأَوَّلُ وَ الْآخِر… الی الآخر.

اس کے بعد سلام ہو نائب امام، عظیم خمینی پر، سلام ہو تم سب پر اے خدا کے پاکباز بندو اور سلام ہو تم پر اے اسلام کے سچے شہیدو۔

بھائیو اور بہنو! اس زمانے میں ہم سب پر رحمتِ خدا نازل ہوئی ہے۔ ان دنوں خدا نے ہماری ملت پر اپنا سب سے عظیم لطف کیا ہے اور ہمیں شہادت اور اپنی ملاقات کے اسباب فراہم کیے ہیں۔

کہیں غافل نہ ہو جانا۔ خدایا! میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تو نے حضرت مہدی عجل اللہ کے عشق کو میرے دل و جان میں رکھ دیا ہے اور مجھے زیورِ ایمان سے آراستہ کیا ہے۔

ہر چیز سے پہلے  ضروری ہے  کہ ان سب بزرگواروں کے لیے خدا سے اجر اور بلندی درجات طلب کروں جو میرے لیے تعلیمات الٰہی کے حصول کا سبب بنے۔

یہی وہ لوگ تھے جنہوں  نے میرے دل کو روشن کیا تا کہ میں اپنے پورے وجود سے امام امت عظیم خمینی کے پاک اور گہربار کلام کو درک کر سکوں۔ بسا اوقات دوسروں کو ان کا کلام سمجھنے سے عاجز جانتا ہوں۔ خدایا! شیعوں کے لیے اس بزرگوار شخصیت کی حفاظت فرما۔

*****

میرے مرنے کے بعد ان لوگوں کو معلوم ہو گا۔ جیسا کہ میرے بزرگ اساتذہ کہا کرتے تھے: ’’محال ہے کہ نوکر اپنے مالک کا دیدار نہ کرے۔‘‘ پس میں نے بھی اپنے مالک اور اپنے محبوب کا دیدار کر لیا ہے۔ لیکن افسوس کہ اب جبکہ میں یہ وصیت لکھ رہا ہوں اس لمحے تک میں دوبارہ انہیں نہ دیکھ سکا۔

جان لو کہ ہمارے امام زمانہ زندہ اور حاضر ہیں۔ وہ تمام شیعوں کے پشت پناہ ہیں۔ ان کی یاد سے کبھی بھی غافل نہ ہونا۔

اب گریے کی وجہ سے زیادہ لکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ آج تک کبھی بھی ان کے دیدار کے بارے میں میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا کہ کہیں ریا نہ ہو جائے۔

فقط اتنا کہتا ہوں کے اس دیدار کے بعد آج تک دوبارہ انہیں نہ دیکھ سکا۔ اسی وجہ سے میرا کلیجہ کباب ہو رہا ہے۔

اور اب میں محاذ پر مصروف ہوں تا کہ اسلام کو فتح سے نزدیک کر سکوں اور حضرت عج کے ظہور کی راہ ہموار کر سکوں۔ امید رکھتا ہوں کہ آنحضرت عج کی حکومت کو اپنی زندگی میں ہی دیکھ لوں۔

(ان حال بینی و بینه الموت) اور خدایا! اگر میرے اور انؑ کے درمیان موت حائل ہو جائے تو انؑ کے ظہور کے وقت مجھے قبر سے باہرنکال لا، اس حالت میں کہ میرا جسم کفن میں لپٹا ہوا ہو۔۔۔

بھائیو! میں فتح کے لیے جا رہا ہوں۔ اگر اس راستے میں شہادت اپنے پر کھول کر مجھے بھی اپنے ساتھ محوِ پرواز کر لے تو کیا ہی اچھا ہو۔

ماں! آپ سے یہ کہنا ہے کہ آپ اپنے بیٹے کو خدا کی بارگاہ میں پیش کرنے کی وجہ سے رنجور و غمگین نہ ہوں بلکہ سرتاپا خوشی اور سرور میں ڈوب جائیں۔

ماں! میری گردن پر آپ کے بے شمار حقوق ہیں۔ اور بابا جان! آپ بھی۔ مجھے بہت افسوس ہے کہ آپ کے حقوق جس طرح خدا نے مجھ پر واجب قرار دیے تھے  اس طرح انہیں ادا نہ کر سکا۔

مجھے معاف کر دیں اور خدا سے میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ جس کسی کا بھی میری گردن پر کوئی حق رہ گیا ہو جسے میں ادا نہ کر پایا ہوں اس سے بھی یہ درخواست کریں کہ وہ مجھے معاف کر دے۔

اور ماں! آپ کی گردن پر میں یہ حق رکھ کر جا رہا ہوں کہ اگر میں شہید ہو  جاؤں (اگرچہ اپنے آپ کو لائق شہادت نہیں سمجھتا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ موت مجھےآ کر دبوچ لے۔) تو میری ماں! چونکہ آپ اس دن کی آرزو کر رہی تھیں کہ میں شادی کروں اور امر خدا کو انجام دوں لیکن ابھی تک یہ کام نہ ہو سکا۔ تو اب میری موت کے بعد گریہ و زاری کرنے کی بجائے شادی کارڈ چھپوائیں۔ اس کی ایک طرف میرا نام اور دوسری طرف شہادت کا نام لکھیں اور دوسرے شادی کارڈز کی طرح اس پر سرور آمیز اور خوشیوں سے چھلکتے ہوئے الفاظ لکھیں اور جاننے والوں اور دوستوں کو بھیج کر انہیں اس نعمت الٰہی کے جشن میں شریک ہونے کی دعوت دیں جو مجھ پر اور آپ پر نازل ہوئی ہے۔ اس دعوت میں ان مہمانوں کی شربت اور مٹھائی کے ساتھ خاطر تواضع کریں۔

ماں! کوئی بھی آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ دیکھے، کیونکہ ہمارے آنسوؤں کا ہر قطرہ دشمنانِ اسلام کو خوش کرے گا۔ پس ایسی صورت میں رونا اچھی بات نہیں ہے۔

ماں! آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے اپنا دودھ بخش دیا اور ایسے فرزند کی ماں ہونے پر خوشی منائیں اور خوشی کا لباس زیبِ تن کریں۔

میرے بھائیو اور بہنو! تم اپنے بچوں کو عشق مہدی عجل اللہ سے ضرور آشنا کرانا اور آنحضرت عج کی راہ میں جہاد کے لیے انہیں ہمیشہ تیار رکھنا۔

والسلام