آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

چودہ سالہ ناظمِ شہر
[شہید مہرداد عزیز اللہٰی]

اس کے نام سے کون آشنا نہیں ہے۔ چودہ سالہ لڑکا جو امام حسین ڈویژن کے بم ڈسپوزل یونٹ کے افسران میں سے تھا۔ اس کا دلچسپ انٹرویو بارہا مرتبہ نشر کیا گیا۔ جس میں وہ جوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر روحانیت اور معنویت کا ادراک حاصل کرنا چاہتے ہو تو محاذ پر آؤ۔ ایک سوال کے جواب میں وہ کہتا ہے: ’’میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ جو کچھ بھی ہوا خدا کے ارادے سے انجام پایا۔ میں تو فقط ایک وسیلہ تھا۔‘‘

محرم میں ہونے والے معرکے میں جب زبیدات کا شہر مجاہدین کے قبضے میں آ گیا تو اس غیور نوجوان کو اس شہر کا ناظم منتخب کیا گیا اور مہرداد عزیز اللہی کے نام کی تختی شہر کے داخلی راستے پر نصب کر دی گئی۔

مہرداد کا ایک اور بھائی بھی تھا جو اس سے پہلے شہید ہو گیا تھا۔ وہ کچھ سال بعد وہ یونیورسٹی کے داخلہ امتحان میں پاس ہو گیا مگر جلد ہی جنگی علاقے میں واپس آ گیا تھا۔

اپنے ایک دوست کے جواب میں ایک دفعہ مہرداد نے کہا تھا: ’’یہ دنیا رہنے کے قابل نہیں ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں (شہادت سے پیچھے) نہ رہ جاؤں۔‘‘

معرکہ کربلا۴ کی آخری رات میں ہم نے اسے دیکھا تو وہ نور کا ایک ٹکڑا لگ رہا تھا۔ اس معرکے میں اس نے شجاعت کے جوہر دکھائے اور دشمن کی تابڑ توڑ گولہ باری کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہو گیا۔ اس کا جسد کئی سال تک اس علاقے میں ہی پڑا رہا۔ پھر اصفہان لا کر اس کے بھائی کے پاس اسے دفنا دیا گیا۔

ذیل کا متن مہرداد کے وصیت نامے سے ہے جو اس نے پندرہ سال کی عمر میں لکھا تھا:

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ۔([1])

یقینا اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال جنت کے عوض خرید لیے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پھر مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔

میں خدا کی وحدانیت کی شہادت دیتا ہوں۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر  ہیں اور علی علیہ السلام اس کے ولی ہیں۔

اب جب کہ معرکے میں بہت کم دن رہ گئے ہیں تو میں اپنا وظیفہ سمجھتا ہوں کہ اپنی ماں، بابا اور ایران کی شہید پرور امت کے نام کچھ جملے بطورِ وصیت لکھ دوں۔

باباؤ، ماؤ، بھائیو، بہنو! کچھ دیر کے لیے لبنان اور فلسطین میں غاصب اسرائیل کی طرف سے ہونے والی قتل و غارت پر بھی سوچو۔ ایک لمحے کے لیے ان مظلوم بچوں اور عورتوں کو اپنی نگاہ میں لاؤ جو اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور کافر صدام کے ذریعے امریکہ نے ہم پر جو ظلم و ستم ڈھا رکھا ہے اس کے بارے میں بھی غور و فکر کرو۔

کیا ابھی تک اس کا وقت نہیں آیا کہ اسلحہ اٹھاؤ اور ہر طریقے سے جو تم جانتے ہو، ان ظالموں سے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہو؟ میں ایک مسلمان ہونے  کے ناطے ولایت فقیہ کے راستے پر چلتے ہوئے اور امام کے اس فرمان: ’’عزیز جوانو، محاذوں کی طرف جلدی کرو تا کہ تمہیں جامۂ ذلت نہ پہننا پڑے۔‘‘ کے مطابق اپنا وظیفہ سمجھتا ہوں کہ ایک لمحے کی تاخیر بھی نہ کروں اور محاذ کی طرف دوڑتا ہوا جاؤں۔ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے یہ توفیق عطا فرمائی کہ کفار کے مقابلے میں لڑنے والے مجاہدین کی صف میں شامل ہو سکوں۔

اس وقت میں محاذ پر ہوں اور ہم لوگ معرکے پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ معرکے میں کچھ زیادہ دن نہیں رہے تو میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے بابا اور ماں کا شکریہ ادا کروں کہ جنہوں نے مجھے محاذ پر آنے کی اجازت دی اور اپنے ہاتھوں سے میرے محاذ پر آنے کے اسباب مہیا کیے۔

بابا اور ماں! محاذ پر گزارے گئے ان آٹھ مہینوں میں رہبر معظم اور آپ لوگوں کے لیے دعا گو رہا ہوں۔ اس مدت میں اپنے بعض دوستوں کی شہادت کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور رشک کرتا رہا کہ مجھ میں یہ لیاقت کیوں نہیں ہے!

بہرحال معرکہ نزدیک ہے اور ممکن ہے کہ اس معرکے میں مَیں بھی شہادت سے ہمکنار ہو جاؤں۔ اگر ایسا ہوا تو آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری شہادت پر صبر کریں اور نالہ و شیون نہ کریں۔ اگر مجھ پر رونا چاہیں بھی تو ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کو یاد کر کے روئیں۔

یہاں پر میں ضروری سمجھتا ہوں کہ کچھ جملے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھی وصیت کروں۔ ولایت فقیہ کے راستے پر چلتے رہو اور عزیز امام کے فرامین پر حرف بہ حرف عمل کرو۔ علماء کی حمایت کرتے رہو۔ علماء کے بغیر ملک ایسا ہی ہے جیسے ڈاکٹر کے بغیر۔ میں ایک چھوٹا بھائی ہونے کے ناطے درخواست کرتا ہوں کہ جس طرح تم لوگ نعرے لگاتے ہو اسی طرح اپنے نعروں کو عملی جامہ پہناؤ، کیونکہ بغیر عمل کے نعرے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ہم نعرے تو یہ لگائیں: ’’اے خمینیؒ! ہم سب آپ کی باتوں پر کان دھرے ہوئے ہیں۔‘‘ مگر امام کے فرامین پر عمل نہ کریں۔ پس اپنے نعروں پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرو۔

اندھے دل والے منافقوں سے کچھ باتیں:

اے خدا سے بے خبر لوگو، میں جانتا ہوں کہ تم نادانستگی میں اور اندھی تقلید میں یہ کام کر رہے ہو لیکن ایک لمحے کے لیے سوچو کہ اگر تم جمہوری اسلامی اور علماء کے دشمن ہو اور انہیں مار رہے ہو تو عورتوں اور معصوم بچوں کو کیوں خاک و خون میں غلطان کرتے ہو؟!

چند لحظے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو، تم اس قدر پست اور احمق ہو کہ  ایک ذرہ برابر احساس تم میں نہیں ہے۔ کل بروزِ قیامت میں تمہارا گریبان پکڑ لوں گا۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ میں تم سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ دامن اسلام کی طرف واپس آ جاؤ اس لیے کہ اسلام کے پاس سب کچھ ہے۔

آخر میں اپنے بابا اور ماں کا ایک دفعہ پھر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے پندرہ سالوں تک میرے لیے زحمت اٹھائی اور ایک فرزند کی تربیت کی تا کہ وہ اسلام پر اپنی جان قربان کر سکے۔

خدا آپ کو صابرین میں سے قرار دے۔ آپ کو اس بات پر ضرور فخر کرنا چاہیے کہ  آپ نے خدا کی امانت کو صحیح و سالم اسے لوٹا دیا ہے۔

البتہ میری زبان آپ اور باقی بھائیوں کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہے۔ آپ سب سے، اپنے تمام دوستوں، ہم جماعتوں، محلے کے دوستوں، رشتہ داروں، استادوں اور بھائیوں سے اپنی کوتاہیوں کی معذرت چاہتا ہوں۔

امید رکھتا ہوں کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی پناہ میں ہمیشہ کامیابی و کامرانی کے ساتھ اسلام کی راہ میں کوشش کرتے رہو اور اس عظیم دعا کو کبھی فراموش نہ کرو:

خدایا! خدایا! انقلابِ مہدی عج تک خمینی کی حفاظت فرما۔

والسلام علی من الفرج المہدی 

19 اکتوبر 1985؁ء

مہرداد عزیز اللہی


([1]) توبہ: 111