آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

پرچمدارِ مرصاد
[شہید رضا نادریؒ]

یومِ ولادتِ امام رضا علیہ السلام کو شاہرود میں پیدا ہوئے۔ان کی ماں نے ان کی ولادت سےپہلےایک خواب دیکھا جس میں انہیں حضرات معصومین علیہم السلام کی زیارت ہوئی کہ وہ ان کے سرہانے آئے اور اس نوزاد کی ولادت کی خوشخبری دی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس بیٹے سے بہت زیادہ پیار کرتی تھیں۔

سکول میں بھی ان کا شمار ذہین ترین بچوں میں ہوتا تھا۔ وہ تحصیل علم، تہذیب و اخلاق اور کھیلوں میں بھی سب سے آگے تھے۔ محاذ پر بھی ان کی سرگرمیاں انتہائی غیر معمولی تھیں۔

آپریشن انٹیلی جنس کے جوان ان چیزوں کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ شلمچہ میں ان کی منصوبہ بندیاں بہت ہی عجیب اور اچھوتی ہوتی تھیں۔ وہ دشمن کو گمراہ کرکے رکھ دیتے تھے۔

معرکہ مرصاد میں انہوں نے ایسا کارنامہ انجام دیا کہ شہید صیاد بھی عش عش کر اٹھے۔

شہید رضا نادری پہلے نوجوان تھے جنہوں نےمرصاد کی گھاٹی کو بند کر دیا اور کوردل منافقین کو غافل کر دیا۔ وہیں سے ان کی روح آسمان کی طرف پرواز کر گئی۔

ان کی تحریریں ادبی شاہکار ہیں۔ ان کا وصیت نامہ اور اس کا متن انتہائی جالب اور دلنشین ہے۔ انہوں نے اپنا آخری متن 1988؁ کی عید قربان کے موقع پر لکھا۔ یہ وہی  دن تھا جس دن انہوں نےشہادت کا لبادہ اوڑھ لیا تھا۔

رضا کا محاذ پر آنا بھی بذات خود انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔ انہیں جہاد پر آنے کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے خاندان والے ان کےمحاذ پر آنے کے شدید مخالف تھے اور۔۔۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

خدایا! میں نہیں جانتا کہ کیا ہو گیا ہے! اپنے دل کو سیاہ دیکھتا ہوں اور آنکھوں کو آنسوؤں سے بالکل خشک۔

نالہ و فغاں بلند کرنا اور دل کو تیرے عشق و معرفت کا آئینہ بنانا چاہتا ہوں لیکن دل میں ہوا و ہوس اور تاریکی کے علاوہ کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔

پروردگارا! اس سال کے آخری بدھ کو میں دعائے توسل کے دوران تیرے دوستوں کا نالہ و فغاں سنتا ہوں تو ان کے گریے اور اشک آلود اور  خالص سجدوں پر رشک کرتا ہوں۔

خدایا! نہیں معلوم کہ میں کیوں اس مناجات سے محروم ہوں۔ جب اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہوں تو اپنے مستقبل اور اپنی  آخرت کے بارے میں خوف محسوس کرنے لگتا ہوں۔

ایک سال اور گزر گیا  لیکن میں نے سوائے اندوہ و حسرت کے اپنے لیے کچھ بھی ذخیرہ نہیں کیا۔ ہر کوئی اپنے تئیں میرا یار و مونس بنا رہا مگر میرے اندر کسی نے جھانک کر نہیں دیکھا  کہ میرے وجود میں کس نفسانی کُتے نے ڈیرا ڈال رکھا ہے۔

سب مجھ پر حسن ظن کرتے ہوئے مجھ سے رابطہ رکھتے ہیں مگر یہ میں ہی ہوں جو اپنے بارے میں آگاہی رکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں شیطان کے پھندے میں پھنسا ہوا ہوں۔ نفس کا کتا بار بار مجھ پر حملہ آور ہوتا ہے۔

الٰہی! میں اچھا انسان بننا چاہتا ہوں مگر اپنا دشمن نہیں بن سکتا۔ خدایا! اس مقدس مقام اور ان عزیز لمحات میں مَیں تجھے چہاردہ معصومین علیہم السلام کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے توفیق عطا فرما اور گناہوں سے دور رکھ۔  رات کی آغوش میں کی جانے والی تیری خالص عبادت اور گریہ و زاری کا سوال کرتا ہوں اور مجھے اپنی بارگاہ کے مخلص بندوں میں سے شمار فرما۔

پروردگارا! میں اپنے گناہوں کی وجہ سے ایک وحشتناک گھٹن کا شکار ہوں۔ گرم اور دہکتے ہوئے دوزخ میں ایسی چیزیں ہیں جن کا خوف ہر وقت میرے وجود پر مسلط رہتا ہے۔

ایسی گھٹن ہے جو میں نے اپنے برے اعمال کی وجہ سے اپنے نفس پر طاری کر دی ہے۔ بے شمار گناہ ہیں جنہوں نے مجھے انسانیت کے اعلیٰ مقام سے اسفل السافلین کے طبقے میں لا پھینکا ہے۔

خدایا! مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ تیری بارگاہ میں کیا عذر لے کر آؤں؟ کیسے تجھے پکاروں کہ تو مجھے معاف کر دے۔

میں کفر و سرکشی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے جہل و نادانی کے سبب شیطان کے جال میں پھنس گیا۔ لیکن کیا ایسا نہیں تھا کہ میں ہر گناہ کے بعد تجھے پکارتا بھی رہا؟تجھے آواز دیتا تھا۔ تو نے خود کہہ رکھا ہے کہ  اگر سو بار گناہ کرو اور سو بار توبہ شکنی کرو پھر بھی میرے پاس آ جاؤ۔

پس اے معبود! اب میں اپنے گزشتہ گناہوں سے منہ پھیر کر اس حالت زار  میں تیرے پاس آ گیا ہوں۔ خدایا! تیرے لطف و رحمت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ تیری رحمت اس سمندر کی طرح ہے کہ تو اگر چاہے تو ایک ہی موج سے تمام مخلوقات کے گناہ دھو ڈالے۔

الٰہی! تو ہمیں جزا و سزا دینے سے بے نیاز ہے اور ہم تیرے عذاب کے سامنے کمزور۔ پس ہمارے گناہوں سے درگذر فرما۔

ایک زمانہ تھا کہ میں تیری طرف بالکل توجہ نہ دیتا تھا بلکہ اپنے آپ کو سب کچھ سمجھ بیٹھا تھا۔ میں تجھ سے بے گانہ ہو گیا تھا اور غفلت و نادانی کے مارے ہر گناہ سے اپنے دامن آلودہ کر لیا تھا۔ میں پست حیوان ہو گیا تھا۔ گناہ میری عادت بن چکا تھا۔ میرے روز و شب معصیت میں گزرتے تھے۔

لیکن تیرا شکر کہ تو نے میرے ان تمام گناہوں کے باوجود مجھ پر لطف کیا  اور میری عصمت و آبرو کا پردہ فاش ہونے سے مجھے بچا لیا۔

خدایا! شرمندگی کے مارے کچھ کہہ نہیں پا رہا۔ تیری اس نعمت کا شکر کیسے بجا لاؤں؟ دن گزرتے جا رہے تھے اور میں ہر دن تجھ سے دور تر ہوتا جا رہا تھایہاں تک کہ انقلاب اسلامی ظہور پذیر ہوا اور عدل کی حکومت برپا ہوئی۔

جب انقلاب شروع ہوا تو مجھے اپنے دل میں ایک ایسا نور دکھائی دیا جو تیرے آستانہ ربوبیت کے نغمے گا رہا تھا۔ یہ تبدیلی روز و شب مجھ پر زیادہ آشکار ہوتی چلی گئی۔ یہ نور مجھے تیری طرف کھینچتا تھا۔ میرے اندر روحانی کیفیت نے اپنے جڑیں پکڑ لی تھیں، یہاں تک کہ تو نے مجھے اس بات کی توفیق بخشی کہ  ایک ایسی جگہ پر آ جاؤں جو ساری کی ساری نور و صفا اور تمام کی تمام عشق تھی۔

پھولوں جیسی اس زمین کا نام محاذ تھا۔ اس بازارِ عشق و عاشقی میں آہستہ آہستہ مجھے لفظِ شہادت کا ادراک ہوتا چلا گیا۔

میں اس پست دنیا کی اتھاہ گہرائیوں اور اس کی تمام وابستگیوں سے باہر آ چکا تھا۔ تجھ سے میرا تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا تھا، یہاں تک کہ تو نے مجھے اپنے عشق میں شدت سے اسیر کر لیا۔

بارہا دردِ عاشقی نے میرے گوشت، پوست اور ہڈیوں کو جکڑ کر رکھ دیا اور میں سرمست ہو کر اس سارے شورشرابے سے گزرتا ہوا محاذ کی سرزمین پر  آ گیا، لیکن معلوم نہیں کہ میرے نفس کی ان تاریکیوں کا خاتمہ کب ہو گا۔

میں نہیں جانتا کہ کب شہادت کا فروزاں سورج تیرگیٔ شب کا پردہ چاک کرے اور اس کی کرنیں میرے دل کے تاریک آسمان پر ضیاپاشی کریں۔

بارالٰہا! اگرچہ جاں فروشوں کے اس بازار میں میرے پاس زادِ راہ بہت کم ہے کہ جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے لیکن اے میرے  خدا! میرے اس ناچیز سے ہدیے کو قبول فرما۔ یہی عشق ہی تو ہے جس کے سبب میں زندہ ہوں اور سانسیں لے رہا ہوں۔۔۔

وہ دن دور نہیں جب میں بھی شہادت کے خونین منظر کا ایک حصہ بن جاؤں گا۔ اے فریاد کرنے والوں کے فریاد رس! اے دل باختہ لوگوں کی آخری امید! ایک نظر کرم فرما اور ہمیں  اس وادی میں خونین پوشاک کے ساتھ شہادت کے سرہانے بیٹھنے کی توفیق عطا فرما۔

کتنا شیریں ہو گا وہ وقت جب وعدۂ دیدار وفا ہو گا اور میں اپنا بشاش چہرہ اور خون میں لتھڑا ہوا  ٹکڑے ٹکڑے بدن لیے تیرے دیدار کو آؤں گا۔

الٰہی! اس وقت میری خواہش ہو گی کہ تو مجھے تھوڑی سی مہلت دے۔

الٰہی! تو رحیم ہے، بخشنے والا ہے، فقط تو ہی میرا مولا و سرپرست ہے۔ اس وقت میری خواہش ہو گی کہ تو مجھے اتنی مہلت دے دے کہ میں روبہ قبلہ ہو کر اپنا سر سجدے میں رکھوں  اور بندگی و عبادت کی حالت میں کئی بار تجھے پھر پکاروں۔

الٰہی العفو کہوں اور اپنے مولا امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو بلاؤں۔ اپنی زبان پر شہادتین جاری کروں اور پھر اس کے بعد آزادی اور سرشاری سے تیری طرف پرواز کر جاؤں۔

شاید اس طرح تو میرے تمام جرائم اور گناہوں کو بخش دے، میں گناہ و معصیت کی تمام زنجیروں کو توڑتا ہوا تیری طرف آزادی سے پرواز کر سکوں اور تیری بارگاہِ ربوبیت میں اپنے قدم رکھ سکوں۔

اے بھائیو اور دوستو! مجھے تم سے بھی کچھ کہنا ہے۔۔۔

عزیز بھائیو! جو توقعات تم سے ہیں وہ دوسروں سے نہیں کی جا سکتیں۔ شہداء اور امام کو تم سے جو امیدیں ہیں وہ عام لوگوں سے جدا ہیں۔ اس لیے کہ تم ہمیشہ محاذ پر رہے ہو۔ بعض مقامات پر اسلام کی مظلومیت اور جنگ کا تم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔

تمہاری آنکھیں اس بات کی گواہ ہیں کہ کس طرح بعض معرکوں میں افرادی قوت کم ہونے کی وجہ سے ہم پر کیا کیا بیتی۔ شہداء اور مجاہدین کی کتنی ہی قربانیاں فقط افراد کے نہ ہونے کی وجہ سے بے نتیجہ رہ گئیں اور اسی سبب سے ہم اپنے کتنے ہی شہیدوں، زخمیوں اور گم شدہ افراد کو محاذ کی اس خون بھری زمین پر چھوڑ کر آنے پر مجبور ہو گئے۔

میرے عزیزو! ہماری مشکل یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو جنگ کے ساتھ لے کر نہیں چلتے۔ یعنی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چونکہ ہمیں کوئی کام نہیں ہے لہٰذا محاذ جنگ پر چلے جائیں۔ جس شخص کے پاس امام موجود ہو اور اس کی زندگی میں ذمہ داری کا وجود ہو تو ایسا شخص اس طرح کی فکر رکھے تو وہ بہت بڑی غلطی کر رہا ہے۔

کیونکہ امام کا مقلد اپنی زندگی کے امور  میں اپنی قدرت استعمال نہیں کرتا۔ پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ محاذِ جنگ کو کس وقت اس کی ضرورت ہے۔ یعنی جنگ کو اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ لے کر چلے۔

یعنی اگر ہم مشغول تعلیم ہوں، شادی کا مسئلہ ہو اور اس کے علاوہ ہزاروں اہم کام موجود ہوں اور اس وقت ہمیں کہا جائے  کہ اب محاذ جنگ پر تمہاری ضرورت ہے  تو ہمیں چاہیے کہ اپنے تمام اہم کاموں کو پس پشت ڈال دیں اور محاذ پر چلے جائیں۔

کیا اسلام کا مسئلہ زیادہ اہم ہے  یا تعلیم اور ڈگری کا؟ خدا کی قسم روزِ قیامت ہم جیسوں کا حساب بہت ہی سخت ہو گا۔

اگر بروزِ محشر شہیدوں بالخصوص اپنے ساتھی شہیدوں کے خون میں لت پت چہروں کے سامنے کوئی معقول جواب تمہارے پاس ہے تو بے شک اپنے شہروں میں پڑے رہو اور اپنی تعلیم اور یونیورسٹی وغیرہ کے لیے اسلام اور محاذ جنگ سے کنارہ کشی کر لو۔

اگر کوئی جواب تمہارے پاس نہیں ہے تو پھر کس منہ سے شہیدوں کے پاک جنازوں کی تشییع کرتے ہو۔ شہداء کے یتیم فرزندوں کو اور بالخصوص ان فرزندوں کو جنہوں نے ایک بار بھی اپنے باپ کا چہرہ نہیں دیکھا، تمہیں حتماً جواب دینا ہو گا۔ اور ان کا جواب تمہاری تعلیم و زندگی نہیں ہے ۔۔۔

آخر میں: میری قبر پر یہ عبارت لکھی جائے:

’’اے برادر! کہاں جا رہے ہو؟ تھوڑا سوچو تو سہی کہ کیا میری اور مجھ جیسوں کی قبروں پر کچھ اشک بہا لینے اور فاتحہ پڑھ لینے سے تمہیں اس ذمہ داری کا احساس بھی ہوا ہے جو ہم نے شہید ہو کر تمہارے کندھوں پر ڈال دی ہے؟! ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم اس ذمہ داری کے ساتھ کیا سلوک کرو گے؟ وہ ذمہ داری ہمارے راستے کو جاری رکھنے کی ہے۔۔۔‘‘

میرے جسد کو شاہرود کے گلزارِ شہداء قبرستان میں میرے دوست علی کلباسی کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ اگر میرا جسد جنگ سے واپس نہ آ سکا تو ہر شہید کا مزار میرا مزار ہو گا۔

آخر میں تمام دوستوں سے عذر خواہی کرتا ہوں اور امید رکھتا ہے کہ اگر میری طرف سے ان کے حق میں کوئی برائی ہو گئی ہو تو وہ اپنے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے مجھے معاف فرما دیں۔

والسلام

رضا نادری