آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

شہید سرحداتِ اسلامی
[شہید رسول حیدریؒ]

ملایر کے رہنے والے تھے۔ جنگ شروع ہوتے ہی محاذ پر چلے گئے۔ ایک لحظے کے لیے بھی آرام و سکون نہ تھا۔ راہِ اسلام میں کسی کوشش سے دریغ نہ کیا۔ بارہا زخمی ہوئے مگر کوشش سے پیچھے نہ ہٹے۔ دفاع مقدس اپنے اختتام کو پہنچ گیا مگر اسلام و کفر کے درمیان معرکہ جاری رہا۔

1992؁ء میں بوسنیا ہرزے گووینا کے مسلمانوں نے اس علاقے کی خودمختاری کے حق میں ووٹ دیا تو یورپ کے قلب میں ایک اسلامی ملک وجود میں آ گیا۔

دشمن یورپ کے قلب میں ایک اسلامی ملک کا وجود کیسے برداشت کر سکتے تھے۔ انہوں نے سربیا کے جلادوں کے ذریعے دنیا کی نظروں کے سامنے مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ اس بار حاج رسول حیدری ان کی مدد کو پہنچے۔ انہوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔ وہ لوگ ان سے کافی محبت کرتے تھے۔

عید غدیر کے دن انہوں نے اپنی ماں کو فون کیا اور خداحافظی کی۔ اگلے دن جب وہ بوسنیا کے علاقے میں جنوبی راستوں سے گزر رہے تھے کہ ایک بوسنیائی مسلمان مجاہد کے ساتھ سربوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے اور جام شہادت نوش کر لیا۔ حاج رسول نے اپنی شہادت سے کچھ دن پہلے اپنا وصیت نامہ لکھ  دیا تھا:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

ڈھیروں سلام و درود ہو حضرت صاحب الامر ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پر، اور ڈھیروں سلام و درود ہو جمہوری اسلامی کے پاک روح بانی  امام خمینی پر، خالصانہ ترین احترام و سلام ہو ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ خامنہ حفظہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں۔

خوبصورت ترین تشکر آغاز سے آج تک کے تمام شہداء کی ارواح طیبہ کے حضور۔

میں رسول حیدری فرزند ابراہیم متولد 1960؁ء مکمل صحت و ہوش و حواس میں حضرت حق باری تعالیٰ کی درگاہ سے استعانت طلب کرتے ہوئے اپنا وصیت نامہ لکھ رہا ہوں۔ ان شاء اللہ خدا کی بارگاہ میں قبول ہو جائے۔

فلاسفہ اور حکماءکا نظریہ ہے کہ انسان اور حیوان کے درمیان فرق انسان کی ناطقیت ہے۔ (الانسان حیوان ناطق) لیکن انسانوں کا حیوانات حتی کہ دوسرے انسانوں کے ساتھ فرق دو جہت سے ہے:

۱۔ درد رکھنا۔

۲۔ جلاوطنی اور فراق کا غم۔

انسان اور حیوان کے درمیان فرق درد کا ہونا اور درد مند ہونا ہے۔ لیکن شہید مطہریؒ کے مطابق دردِ انسان فقط دردِ خدا ہے۔ حق سے دوری کا درد ہے اور رب العالمین کے جوار میں لوٹ جانے کا میلان ہے۔

لیکن ہمارا درد اسلام کا درد ہے۔ کربلا میں حسین علیہ السلام کی مظلومیت کا درد ہے۔ ان بزدلانہ حرکتوں کا درد ہےجو ہمارے مولا علی علیہ السلام کے خلاف روا رکھی گئیں۔ہمارا درد لاکھوں مسلمانوں کی جانکاہ اسارت و قید و بند کا درد ہے۔ ہمارا درد حق سے دوری کا درد ہے۔

گذشتہ بارہ سالوں کے دوران جب ہم سرچشمہ عشق و محبت سے سیراب ہو رہے تھے تو  میں نے ہمیشہ خدا سے شہادت ہی کی دعا کی تھی۔ اگرچہ چڑیوں کے ساتھ اڑنے کا یارا نہ تھا لیکن بندھے ہوئے پاؤں کے ساتھ خاک پر پڑا رہا۔

اور اب اے خدایا! مجھے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ تو اس سے کہیں عظیم تر ہے کہ میں حقیر تیری رحمت سے مایوس ہو جاؤں۔ تو اس سے کہیں بڑھ کر غور و رحیم ہے کہ میں گناہوں کے بار تلے دب کو مایوس ہو جاؤں۔

لیکن پروردگارا! جو کچھ بھی ہے میں تجھے علی علیہ السلام کی تنہائی، حسن علیہ السلام کی مظلومیت، حسین علیہ السلام کے خون کی قسم دیتا ہوں کہ مجھے اپنی رحمت کے جوار میں جگہ عطا فرما۔

خدایا! تو خود جانتا ہے کہ مسلمانوں کے استغاثے کا درد، ہمارے عزتوں کے پامال ہونے اور خواتین کے قید و بند میں جانے کا درد مجھے قیام کی طرف بلا رہا ہے۔ تو خود میری مدد فرما اور اپنی یاد و ذکر کا مسلسل مجھ پر نزول فرما۔ اپنے ایمان سے میرے دل کو اطمینان بخش دے۔

اللهم ارزقنا توفیق الشهادة فی سبیلک.

والسلام علیکم و رحمة الله

16 اگست 1992؁ء۔

رسول حیدری