آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

مدافعِ حرم شہید محسن حججی کا وصیت نامہ 

شہید حججی سپاہ پاسداران کے رکن تھے ، جنہوں نے شام کی سرزمین پر جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید محسن حججی 12 جولائی 1991؁ء کو ایران کے شہر نجف آباد میں پیدا ہوئے۔  وہ علویجہ اپلائیڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں کنٹرول ٹیکنالوجی کے طالب علم تھے۔

وہ ثقافتی طور پر بہت ہی سرگرم انسان تھے۔ کتاب کی تشہیر و ترویج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ مدارس اور نماز جمعہ میں کتاب کے بارے میں شعور اجاگر کرتے رہتے۔ دفاع مقدس کے جنگی علاقوں میں جانے والے ’’راہیانِ نور‘‘ نامی تفریحی معلوماتی دورہ جات میں وہ شرکاء کی خدمت میں مصروف رہتے۔

2012؁ء میں انہوں نے شادی کی، جس سے ان کے ایک فرزند متولد ہوا جس کانام علی رکھا گیا۔

شہید محسن حججی شام میں داعش کے خلاف لڑتے ہوئے 7 اگست 2017؁ء کو داعشی درندوں کے ہاتھوں قید ہو گئے۔ دو دن قید میں گزارنے کے بعد ۹ اگست کو داعشی درندوں  نے انہیں تنفت نامی علاقے میں ذبح کر کے شہید دیا۔

ان کی شہادت پر سپاہ پاسداران ایران کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے اعلان کیا تھا کہ ہم شام میں امریکی ساختہ داعش کا تین ماہ میں صفایا کر دیں گے۔اور خداوند متعال کی نصرت و حمایت کی بدولت شام سے داعش جیسے ناسور کا اس اعلان کے بعد تین ماہ سے پہلے ہی خاتمہ ہو گیا۔

ذیل میں ہم شہید محسن حججیؒ کی وصیت سے ایک اقتباس پڑھتے ہیں:

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بعد از حمد و ستائش و درود و سلام بر اہل بیتؑ

بہت کم وقت رہ گیا ہے  جانے سے اور جتنا جانے کا وقت قریب ہوتا جا رہا ہے میرا دل بے تاب ہوتا جا  رہا ہے۔ نہیں پتا کہ کیا لکھوں۔ اور کس طرح سے اپنے احساسات کو بیان کروں؟ نہیں جانتا کہ کس طرح سے اپنی خوشحالی کا ذکر کروں؟ اور نہیں جانتا کہ کس طرح سے خدائے منان کا شکر بجا لاؤں؟ لیکن صرف ایک ذمہ داری  کی خاطر چند سطور وصیت نامے کے طور پر لکھ رہا ہوں۔ نہیں جانتا کہ کس طرح سے میری قسمت میں یہ عشق کی راہ لکھ دی گئی ہے اور یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کون سے اسباب تھے کہ میں اس راہِ عشق پر چل نکلا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ میری ماں کے حلال دودھ کی تاثیر ہے اور وہ لقمہ حلال کہ جو میرے والد گرامی نے مجھے کھلایا اور وہ انتخاب جو میری زوجہ نے کیا اس کی تاثیر ہے۔ پوری زندگی عشق شہادت میں گزار دی۔ اور یہ میرا اعتقاد تھا کہ صرف شہادت ہی سے بندگی کو حاصل کر سکتا ہوں۔ اس مقام پر پہنچنے کے لیے میں نے بہت کوششیں کیں ہیں لیکن نہیں معلوم کہ اب اس مقام  کو کیسے حاصل کر لیا۔ میری امیدیں فقط خدا، رسولﷺ اور ان کی اہل بیتؑ سے تھیں۔ اور اب بھی ہیں کہ وہ اس سیاہکار کو قبول کر لیں اور اس گناہگار پر نظرِ کرم فرمائیں۔ اور اگر ایسا ہو گیا  تو ’’اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمين‘‘  اگر کسی دن اس بندہ احقر کی شہادت کی خبر سنیں تو سمجھ لیں کہ فقط اس خداوند بزرگ کا کرم ہے۔ وہی تو ہے جو اپنے سیاہکار بندوں کو قبول کرتا ہےاور  ان کو بخشتا ہے۔

میری پیاری بیوی!!

اگر کبھی میری شہادت کی خبر سنو تو جان لو کہ وہ مقصد جو تم سے شادی کرنے کا تھا پورا ہو گیا ہے اور اس وقت خود پر افتخار کرنا کہ تمہارا شوہر بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی قربانی قرار پایا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بے تاب ہونے لگو اور رونے پیٹنے لگو۔ ہمیشہ صبر سے کام لینا اور خود کو بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے حضور سمجھو اور غور کرو کہ اس بی بیؑ نے تم سے زیادہ مصائب دیکھے ہیں۔

بابا جان!

ہمیشہ میری زندگی کا اسوہ آپ ہی رہے ہیں اور میں نے آپ ہی سے مردانگی سیکھی ہے۔ اگر میری شہادت کی خبر آپ تک پہنچے تو خود کو امام حسین علیہ السلام کے حضور تصور کیجئے گا کہ انہوں نے بھی اپنے جوان بیٹے کی شہادت کو کیسے اپنے لیے سعادت سمجھا۔ آپ کا زخم تو بہت چھوٹا ہے لیکن اس باپ کا داغ بہت گہرا ہے جس نے اپنے جوان بیٹے کو قربان کیا۔ پس ہمیشہ صبر سے کام لیجیے گا۔ جانتا ہوں کہ صبر بہت سخت ہے لیکن ہو سکتا ہے۔

پیاری اماں!!

ام البنین سلام اللہ علیہا نے اپنے چار جوان بیٹے حسین علیہ السلام کی خدمت میں قربان کیے اور ان کی پیشانی پر بل بھی نہ آیا حتی کہ جب ان کو اپنے بیٹوں کی شہادت کا بتایا گیا تو انہوں نے بیٹوں کی بجائے پہلے اپنے مولا و آقا امام حسین علیہ السلام کا پوچھا۔

اے پیاری اماں! جب میری شہادت کی خبر آپ تک پہنچے تو ام البنین سلام اللہ علیہا کی طرح صبر سے کام لینا اور افتخار کرنا کہ آپ کا بیٹا حسین علیہ السلام اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا پر قربان ہو گیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کا گریہ و فریاد دشمن کے دلوں کو خوش کرنے لگے۔ہمیشہ صبر کرنا۔

پیارے بھیا!

اگر کسی روز مجھے لباسِ شہادت میں دیکھو تو اس وقت کو یاد کرنا جب ابا عبداللہ حسین ابن علی علیہما السلام اپنے  بھائی عباس علیہ السلام کے پاس پہنچے اور انہیں زخمی حالت میں پایا تو فرمایا کہ میری کمر ٹوٹ گئی۔ اے بھائی ایسا نہ ہو کہ ناشکری کرو اور وہ ہدیہ جو خدا کی بارگاہ میں پیش کیا ہے اس پر شک کرنے لگو۔

میری لاڈلی بہنو!

میں جب تم لوگوں  اور ماں اور باباسے جدا ہو رہا تھا تو اس وقت مجھے وہ لحظہ یاد آیا تھا جب اہل حرم نے حضرت علی اکبر علیہ السلام کو وداع کیا تھا۔ جان لو کہ اگر میری شہادت کی خبر سنو تو غم و نالہ مت کرنا بلکہ اپنے بھیا کو علی اکبر علیہ السلام کی قربانی سمجھنا اور ہر گز اس حقیر بھائی کی جدائی کے غم کو حضرت علی اکبر علیہ السلام کے، اہل حرم سے جدا ہو جانے کے غم سے زیادہ مت سمجھنا۔

پیارے بیٹے علی جان!!

میرے بچے، مجھے معاف کرنا کہ میں تمہاری جوانی کو نہ دیکھ سکا۔ ہمیشہ کوشش کرنا کہ میری راہ پر چلنا اور ہمیشہ ایسا کام کرنا کہ تمہیں بھی شہادت نصیب ہو۔

میرے پیارے بابا، ماں اور میری بیوی!

میں آپ لوگوں سے صبر و تحمل اور معافی کی التجا کرتا ہوں۔ اگر میں نے آپ میں سے کسی کا حق ضائع کیا ہو یا کسی کی غیبت کی ہو یا کسی کا دل دکھایا ہو تو آپ سب سے التماس ہے  کہ مجھے معاف کر دیجیے گا۔ اگر میں شہید ہو گیا تو جتنی بھی خداوند متعال سے مجھے اجازت حاصل ہو گی  آپ سب کی شفاعت کروں گا۔