ہمسفرِ شہداء
[شہید سید علی رضا مصطفوی]
جن دنوں ان کی ولادت ہوئی، جنگ اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ کئی سال بعد بسیج میں شامل ہوئے اور مرکز کو بدل کر رکھ دیا۔ ثقافتی امور کے انچارج قرار پائے تو اپنے محلے میں ثقافتی انقلاب لے آئے۔
انہوں نے شہداء کو نہیں دیکھا تھا لیکن انہیں خوب جانتے تھے۔ سخت محنتی طالب علم اور دلسوز آواز کے مالک ذاکر تھے۔ ولایت کے مطیع و فرمانبردار تھے۔ رہبر کا کلام ان کے لیے فصل الخطاب تھا۔ 2009ء کے موسم گرما کے آخری سفرِ راہیان نور([1]) سے پہلے انہوں نے کہا تھا: ’’پرواز کا وقت آن پہنچا ہے۔ یہ میرا آخری سفر ہے۔‘‘ انہوں نے اپنا وصیت نامہ مکمل کیا اور چلے گئے۔ سید نے اپنے وصیت نامے میں 2009ء میں انتخابات کے بعد ہونے والے فسادات کی طرف بھی اشارہ کیا اور بہت سے اہم مطالب کا تذکرہ کیا ہے۔
جب وہ سفر سے واپس لوٹے تو شہداء نے ان کا استقبال کیا۔ سید علی رضا مصطفوی ایک اور سفر پرروانہ ہو گئے۔ شہداء کے ساتھ۔ ہمیشہ کے لیے۔
ان کی تحریریں اتنی معنی خیز تھیں کہ رہبر معظم نے ان کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھا تھا:
’’خداوند کریم اس غمزدہ ماں کے دل پر سکون و سلامتی نازل فرمائے اور اس صالح جوان (سید علی رضا مصطفوی) کی روح پر اپنی بے انتہاء رحمتوں کا نزول فرمائے۔‘‘
بسم رب الشهداء و الصدیقین.
اس خداوند کریم کے نام سے کہ شکر کرنے والے جس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ اس خدا کے نام سے جس نے کوئی احسان جتائے بغیر ہمیں وجود بخشا اور بغیر کوئی احسان جتائے ہمیں روزی بھی دے رہا ہے حالانکہ عصیان اور گناہوں نے ہمارے دلوں سے اس کی یاد ہی نکال دی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہمیں نہیں بھولا لیکن ہمارے گناہ اس کا سبب بن گئے کہ وہ اپنی نظر لطف ہم سے پھیر لے۔
آہ اس کی محبت اور وائے ہمارے گناہ! آہ اس کی مغفرت اور وائے ہماری معصیتیں! آہ اس کی ستاریت اور وائے ہماری جسارت! آہ اس کی محبت و لطف اور وائے ہماری کم لطفی اور کم ظرفی!
ہاں وہی ایسا سردار ہے جو ہماری نافرمانی سے چشم پوشی کرتا رہا۔ وہ ہمیشہ محبت سے منتظر رہا کہ ہم توبہ کریں تا کہ وہ ہمیں بخش دے اور اب ہم اس کی ستایش و حمد پر قادر نہیں ہیں۔
خداوندا! میں نے ابھی تک تیری طرف سے محبت، معرفت اور مغفرت کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھا۔ تو ہی تھا جس نے ہر موقع پر بغیر کوئی احسان جتائے میری حاجت روائی کی۔ اور اب میں امیدوار ہوں کہ تو میری یہ حاجت بھی پوری فرما کیونکہ یہ تیرے بے کراں لطف سے بعید نہیں ہے۔
میں پسند کرتا ہوں کہ اپنے جسم میں آخری سانس تک دین اور حقیقی اسلام کی راہ میں قدم اٹھاتا رہوں۔ اور اس حرکت سے ایک لحظے کے لیے بھی غافل نہ رہوں۔ میری آرزو ہے کہ اسی ہنگامہ خیز اور پرخطر راستے پر اپنی حقیر سی جان قربان کر دوں۔
مجھے رحمت للعالمین رسول اللہﷺ سے کچھ کہنا ہے: اے پیغمبرِ عشق و محبت، میں حقیر اور نااہل انسان کس طرح آپ کی پیغمبری کا حق ادا کر سکتا ہوں؟! آپ نے اس راستے میں کیسی کیسی مصیبتیں برداشت کیں کہ لوگ ہدایت پا جائیں۔ آپ مایۂ ہدایتِ بشر ہوئے تا کہ سب لوگ گمراہی و غفلت سے باہر نکل آئیں۔ آپ کائنات کے لیے سبب رحمت ہیں۔ خدا کی قسم! تمام انسان آپ کے مقروض ہیں اور آپ نے اپنے اخلاق، رفتار، کردار اور سیرت سے ہمیں راستہ دکھایا۔
امام علی علیہ السلام سے کچھ باتیں: اے میرے مولا! اے میرے ولی نعمت! خدا کی قسم، دنیا میں آپ کے خاندان کے علاوہ آپ جیسا کوئی مظلوم نہیں ہوا ۔ میں جانتا ہوں کہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ آپ اور آپ کی آل کے صدقے میں ہے۔ لیکن شیطان سے امان کہ جو ہر کسی کو ہر طریقے سے گمراہ کرتا ہے۔ میں نے آپ کے مولا ہونے کا حق بھی ادا نہ کیا۔
یا زہرا سلام اللہ علیہا! میری ساری زندگی میں میری خوشی کا باعث یہی بات تھی کہ میں آپ کو ماں کہہ سکتا تھا۔ میں آپ کو ماں کہنے کی لیاقت تو نہیں رکھتا مگر یہ آپ کی محبت ہے کہ جس نے مجھے آپ کی اولاد ہونے کی لیاقت سے نوازا ہے۔
میں ہمیشہ اپنے آپ سے کہتا تھا: اے کاش! میری عمر اٹھارہ سال سے زیادہ نہ ہو۔ مجھے شرم آتی ہے کہ آپ جیسا بے بہا خزانہ جو بندگی خدا میں عظمتوں کو پہنچا ہوا ہو فقط اٹھارہ سال زندہ رہے اور میری عمر اس سے زیادہ ہو جائے۔
خوش قسمت ہیں وہ گمنام شہداء کہ جن کی حقیقی ماں آپ ہیں۔ میری جان، نہیں بلکہ ہزار بار میری جان آپ کی چادر کی خاک پر قربان۔ خدا نے انہیں ذلیل و خوار کیا جنہوں نے آپ کی شان میں گستاخی کی اور قیامت کے دن ان کے عذاب میں اضافہ فرمائے۔
میں ہمیشہ اپنے آپ سے سوال کرتا تھا کہ محبین اور مقربین کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ تمہیں ایک آگ میں جلنا چاہیے تاکہ خدا و اہل بیتؑ سے زیادہ نزدیک ہو جاؤ۔
اب میری سمجھ میں آیا کہ وہ اس لیے یہ بات کہتے ہیں کہ اس گھر کا دروازہ جلایا گیا تھا جو عصمت و ولایت و اہل بیتؑ کا گھر تھا۔ اب ان کے جتنے بھی حقیقی پیروکار ہیں انہیں بھی جلنا چاہیے۔ شہداء اسی غم میں جلے۔ انبیاء اسی راستے پر جلے۔ صالحین بھی اسی راہ پر جلے۔ خدایا! ہمیں بھی جلا دے۔
که آتش از تو و خاکستر از من
بسوزان هر طریقی می پسندی
جیسے چاہتے ہو مجھےجلا دو کہ آگ تمہاری طرف سے ہے اور خاکستر میری طرف سے۔
یا حسن مجتبیٰؑ! ہاں، اگر آپ کا صبر نہ ہوتا، تو کربلا بھی نہ ہوتی۔ یہ آپ کا صبر ہی تھا جس نے عاشوراء میں شجاعت کی روح پھونک دی۔ ہاں، زینب کبریٰؑ آپ ہی کے درس ایثار و صبر میں پلی بڑھیں۔ آپ ہی نے ہمیں سکھایا کہ راہ خدا میں سختیوں اور پریشانیوں کے سامنے صبر کا مظاہرہ کریں۔
اور اب میرے سرور و مولا یا ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام:
همه عمر بر ندارم سر از این خمار مستی
که هنوز من نبودم که تو بر دلم نشستی
[میں ساری زندگی اس مستی کے خمار سے سر ہی نہ اٹھاؤں کہ میں ابھی وجود میں بھی نہ آیا تھا اور تو میرے دل میں جاگزین ہو چکا تھا۔]
کیا کہوں، اور کسی کو کہا بھی کیا جا سکتا ہے کہ آتش فشاں کی اندر سے کیا حالت ہوتی ہے۔ جب تک اسے دیکھ نہ لیں اور لمس نہ کر لیں، نہیں سمجھ سکیں گے۔
رسول خداﷺ نے کیا ہی خوبصورت حدیث ارشاد فرمائی ہے: ’’بے شک مومنین کے دلوں میں حسین علیہ السلام کے لیے حرارت ہے جو تاابد کبھی سرد نہ ہو گی۔‘‘ بچپن ہی سے محرم کے آتے ہی میرے اندر طوفان بپا ہو جاتا تھا۔ ہاں، یہ حسینؑ ہیں۔ اب 1400 سال کے بعد بھی ہر لحظہ اور ہر جگہ ندا دے رہے ہیں: ’’هل من ناصر ینصرنی.‘‘
ہاں، وہ اب بھی ٹوٹے ہوئے نیزے کا سہارا لیے مجھے بلا رہے ہیں۔
وائے ہو دنیا پر کہ خود مولا نے فرمایا ہے: لوگ دنیا کے غلام ہیں۔
ہاں، یہ دنیا کا غفلت کدہ کیا ہے جو مجھے اپنے مولا و آقا کی آواز نہیں سننے دیتا۔ اندھی ہو جائے وہ آنکھ جو آپ کے لیے گریہ نہ کرے۔ ٹوٹ جائے وہ ہاتھ جو آپ کو دعا میں نہ مانگے۔ شکستہ ہو جائے وہ پاؤں جو آپ کے راستے میں نہ اٹھے۔ وہی ہے جو عشاق کو طلب کرتا ہے۔
کاروان چل پڑا ہے اور صدا دے رہا ہے۔ کاروان کے جانے کی آواز کانوں میں پہنچ رہی ہے۔ ان کے طلائی گنبد پر نگاہ دوڑاؤ اور اس سرخ پرچم کو دیکھو جو خون اور مظلومیت کی بنیادوں سے اٹھ کر لہرا رہا ہے۔
یہ خونِ حسینؑ کا جوش ہی تو ہے کہ جس نے اسلام کی آبیاری کی اور یہ شہداء اور ان کا خون اُسی خون کا تسلسل ہیں۔ کیا ہمارا حقیر خون بھی امکان رکھتا ہے کہ سالارِ شہیداں علیہ السلام کے خون کا تسلسل بن سکے؟!
اہل بیت علیہم السلام سے کچھ باتیں:
حیف ہے کہ لکھنے کی مجال نہیں کیونکہ لکھنے کی ضرورت بھی نہیں۔ میں حقیر کیا کہوں۔ ان عظمتوں کا کیا کہوں۔ اپنے ولی نعمت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں کیا کہوں۔
توی این عالم هستی که همش رو به فناست
به خدا یه دل دارم اونم مال امام رضاست
[اس عالم ہستی میں کہ جہاں ہر شے رو بہ فنا ہے۔ خدا کی قسم، میرے پاس ایک دل ہی ہے اور وہ بھی امام رضا علیہ السلام کی ملکیت ہے۔]
ہاں، میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ شاہِ خراسان کی برکت سے ہے۔ شہداء نے کربلا و شہادت کی سند انہی سے لی تھی اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ ہمیں بھی اس لائق سمجھیں گے۔
اور اپنے زمانے کے امام عجل اللہ کی مظلومیت کا کیا ذکر کروں؟!
یا صاحب الزمان عج! میں نے آپ کے حق میں کتنی کوتاہی کی۔ کس منہ سے اپنا سر آپ کے سامنے اٹھا کر کھڑا ہوں۔ لیکن اس امید پر زندہ ہوں کہ آپ محبتوں اور کرامتوں والا خاندان ہیں۔
اس وقت جب کہ میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں، ہمارے جانے میں تھوڑا سا وقت رہتا ہے۔ میرا رسم الخط اچھا نہیں ہے، اس وجہ سے معذرت چاہتا ہوں۔ مجھے بخش دیجیے گا اور میرے برائیوں کو معاف کر دیجیے گا۔
جو لوگ کسی بھی وجہ سے مجھے سے ناراض ہیں انہیں راضی کریں تا کہ وہ مجھے معاف کر دیں۔
آخر میں کہوں گا:
ان مجالسِ اہل بیتؑ، مساجد اور بسیج کو کبھی تنہا نہ چھوڑیں۔ اور اپنی عمر کہیں اور تلف نہ کریں کیونکہ بے فائدہ ہو گی۔
اگر آپ ان پروگرامز میں ہیں تو مخلص ہو کر کام کریں، اس لیے کہ اخلاص کے بغیر ان کاموں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
امید رکھتا ہوں کہ اتنا عرصہ جو آپ نے مجھے برداشت کیا تو مجھ سے راضی رہیں گے۔ آپ اور دوسرے دینی بھائیوں سے التماس کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دیں۔
امید رکھتا ہوں کہ خداوند متعال امام حسین علیہ السلام کی نوکری اور اپنے دینی و ثقافتی وظائف کی انجام دہی کے دوران میری کوتاہیوں سے درگزر کرے گا۔
خدا سے دعا کرتا ہوں کہ شرعی وظائف کی انجام دہی کے دوران شہادت پر فائز ہو جاؤں اور اپنی عمر کے آخری لمحے میں امام زمانہ عجل اللہ سے ملاقات کروں۔
[میں مردہ دل ہوں اور تیرے در کی خاک سے زندہ ہو جاؤں گا۔ تیری محبت سے سورج کی طرح چمک اٹھوں گا۔ اگر تو اپنے حرم میں مجھے راستہ دیتا ہے تو میں اپنے جرم اور تیرے لطف و کرم سے شرمندہ ہو جاؤں گا۔]
دل مرده ام ز خاک درت زنده می شوم
با مهر تو چون مهر فروزنده می شوم
گر در حریم خویش مرا راه می دهی
از جرم خویش و لطف تو شرمنده می شوم
وصیت نامہ
۲۰۰۹ء کے انتخابات کے بعد پیش آنے والے سیاسی واقعات اور راہیان نورِ کے آخری سفر پر جانے سے پہلے انہوں نے اپنا وصیت نامہ لکھا۔ یہ وصیت ان کے پاک و باصفا باطن سے پھوٹی تھی۔یہ وصیت ان کے تمام دوستوں، ان کے ساتھ چلنے والوں اور آئندہ آنے والوں کے لیے ایک مشعلِ ہدایت بن گئی ہے۔
بسم رب الحسین علیہ السلام
درود و سلام ہو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پر۔ سلام ہو امام خامنہ ای پر جو امام خمینی کی راہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امت حزب اللہ پر درود و سلام ہو کہ جنہوں نے عاشور کو ہمیشہ سے زندہ رکھا ہوا ہے، چاہے بیرکوں میں ہوں، جنگ کے میدانوں میں ہوں یا کام کاج کی جگہوں پر ہوں۔
یہ وصیت نامہ مجھ عاصی گناہگار (سید علی رضا مصطفوی) کا ہے۔
وہ شخص کہ جس نے اپنی عمر کو جہالت و تاریکی میں گزار دیا اور اپنے زمانے کے امام سے غافل ہونے سے بڑھ کر کون سی جہالت ہے۔ امید رکھتا ہے کہ خداوند کریم میرے امام زمانہ عج کے طاہر و مطہر آباو اجداد کے صدقے میں میرے گناہ معاف فرمائے۔
میں بندہ حقیر، شہید آوینی کے اس جملے سے مدد طلب کرتا ہوں: ’’ کہتے ہیں کہ اس قافلے میں گناہگاروں کا کوئی کام نہیں ہے، لیکن پشیمان لوگ یہاں قبول کیے جاتے ہیں۔‘‘
اب بھی جب کچھ دوستوں کو خطرات میں گھرا ہو اور گِرا ہوا دیکھتا ہوں تو ان کے لیے بہت افسوس ہوتا ہے۔ خدا سے ان کی ہدایت کی دعا کرتا ہوں۔ کیا آپ لوگوں نے شہداء کے وصیت نامے نہیں پڑھے کہ جنہوں نے بارہا کہا ہے: امام اور ولایت فقیہ کو تنہا نہ چھوڑنا۔
کیا تم لوگ خود ایک عرصے تک یہ نعرہ بلند نہیں کرتے رہے ہو: ہم اہل کوفہ نہیں ہیں کہ علی کو تنہا چھوڑ دیں۔
کیا تم نے تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا کہ کس طرح امام کو تنہا چھوڑ دیا گیا اور امام اتنے مجبور ہو گئے کہ کنویں میں سر ڈال کر روئیں اور اپنا حال دل بیان کریں۔
وائے ہو تم پر کہ تم فریب کا شکار ہو چکے ہو اور دنیا و دنیاوی سیاست کے کھیل میں مشغول ہو کر اپنا راستہ گم کر چکے ہو۔
مرکز، اصلِ ولایت ہے۔ لیکن تم نے اپنے مفادات کی خاطر اسے پاؤں تلے روند کر رکھ دیا ہے۔ کچھ لوگ کپڑوں کے کچھ ٹکڑوں سے متمسک ہو گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ قرآن کے اوراق کو انہوں نے نیزوں پر بلند کر رکھا ہے۔
کچھ لوگ ان لوگوں کی طرح اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے ہیں جو اللہ اکبر کہہ کر امام حسین علیہ السلام کا سر تن سے جدا کر رہے تھے۔
دین اور اقدار میں کوتاہی کسی لحاظ سے قابلِ توجیہ و تاویل نہیں ہے۔ واقعہ ہو جانے کے بعد سرزنش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہماری ذمہ داری تو سید الشہداء علیہ السلام مشخص کر گئے تھے اور ہمارا راستہ روشن ہے۔
اب ایک اور جنگ صفین کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہم علی کو تنہا نہیں رہنے دیں گے اور نہ ہی انہیں اکیلا چھوڑیں گے۔
سید الشہداء علیہ السلام کی ملکوتی و مظلومانہ فریاد آج بھی تاریخ کے کانوں میں گونج رہی ہے اور عشاق حرم ا ور عاشقان دلسوختہ و دلباختہ کو اپنی طرف بلا رہی ہے۔
آؤ تا کہ ہم بھی چلیں۔ دوستو! کوئی رہنے نہ پائے۔
حقائق سے زیادہ سے زیادہ آگاہی اور معلومات کے لیے شہید آوینی کی گفتار کی طرف رجوع کریں۔
والسلام علیکم (یا زہراء)
16 جون 2009ء
سید علی رضا مصطفوی
([1]) راہیانِ نور یعنی نور کی راہ پر جانے والے وہ مختلف ۵ سے ۷ روزہ دورہ جات ہیں جن میں ۸ سالہ دفاع مقدس کے جنگی علاقوں میں لے جایا جاتا ہے اور وہاں جنگ میں شریک مجاہدین میں سے خاص افراد جنگی زمانے کی روداد بیان کرتے ہیں۔