ثقافتی معلّم
[شہید محمد عبدیؒ]
جو لوگ سالہا سال سے مساجد کے اندر ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف تھے، شہید محمد عبدی کے سامنے کچھ بھی نہ تھے۔ شہید محمد عبدی کمسنی کے باوجود ثقافتی سرگرمیوں میں استاد تھے۔ مسجد کے جوان ان سے عشق کرتے تھے۔
ایک دفعہ جوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد انہوں نے جمع کر رکھی تھی اور تقریر کر رہے تھے کہ مسجد کے ایک پرانے نمازی نے انہیں دیکھ کر کہا: ’’محمد اگر جنگ کے زمانے میں ہوتا تو حتماً کمانڈر ہوتا۔‘‘ ان کی انتظامی صلاحیت غیر معمولی تھی۔
محمد عبدی نے جنگ میں شرکت نہیں کی۔ جس وقت جنگ ختم ہوئی تو وہ نوجوان تھے۔لیکن اس کے بعد وہ ہمیشہ شہداء کی یاد اور ان کے واقعات کی تلاش میں رہے۔ وہ جہاں بھی جاتے شہداء ہی کی باتیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا: ’’جوانوں کو ایک آئیڈیل چاہیے اور شہداء سے زیادہ بہتر آئیڈیل کون ہو سکتا ہے؟!‘‘
محمد کے زمانے میں مسجد کی طرف سے انجام دیے جانے والے زیارتی دورے دراصل انسان سازی کے محور و مرکز ہوا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ مشہد کا زیارتی دورہ انسان کو تبدیل کر کے رکھ دیتا تھا۔ 1997ء میں انہوں نے جوانوں کی بسیجی مرکز عاشوراء جو مزاحمتی مرکز نمبر۱۲ میں آتا ہے، کے انچارج کی ذمہ داری سنبھالی۔
اگلے سال پولیس میں بھرتی ہو گئے۔ جاسوسی کے محکمے کے انچارج بنے اور زاہدان چلے گئے۔ روز بہ روز ان کی ذاتی صلاحیات مزید ابھر کر سامنے آنے لگیں۔ سپاہیوں میں انہوں نے ایک انقلاب بپا کر کے رکھ دیا تھا۔
جنگی مہارت اور بسیجی جذبے کو انہوں نے ایک خوبصورت امتزاج کی شکل دے دی تھی۔ ایسی حالت میں ان پر فتنہ گروں کی طرف سے قاتلانہ حملہ ہونا بےوجہ نہیں تھا۔ مگر وہ اس حملے میں بچ گئے۔ 5 فروری 1999ء کو بزمان کے علاقے میں مقامی فتنہ پروروں سے مڈبھیڑ ہو گئی۔
محمد نے بارہا کہا تھا: ’’اگر میں کہتا ہوں کہ میں حضرت زہرا سلام اللہ سے مودت رکھتا ہوں تو ضروری ہے کہ سینے یا پہلو سے شہید ہوں۔‘‘ اس مقابلے میں محمد نے ملک کے امن دشمنوں میں سے چند افراد کو واصل جہنم کر دیا اس کےبعد سینے پر لگنے والی ایک گولی نے انہیں ان کی ماں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں پہنچا دیا۔ ان کا دلنشین وصیت نامہ اور تحریروں مجموعہ ’’مسافر‘‘ میں چھپ کر نشر ہو چکی ہیں۔
بسیجیوں کو شہید محمد عبدی کی وصیت:
بسم رب الشهداء و الصدیقین
السلام علیک یا اهل بیت النبوة.
میرے بسیجی بھائیو! سلام علیکم۔ ہمیشہ ذہن میں رکھو کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيهِ رَاجِعُونَ۔
امید رکھتا ہوں کہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (عجل اللہ) کے بے پناہ الطاف کے زیر سایہ رہبر معظم کے لیے ایک بہترین سپاہی ثابت ہو اور انقلاب اسلامی کی اقدار، اسلام اور خون شہداء کی حفاظت میں اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے آگے کی طرف حرکت کرو۔ خدا جانتا ہے کہ میں کچھ وصیت، نصیحت یا کچھ کہنے کی ہر گز لیاقت نہیں رکھتا لیکن ایک بھائی ہونے کے ناطے کچھ باتیں عرض کیے دیتا ہوں۔
رہبر معظم کی اطاعت سے کبھی منہ نہ موڑنا۔ ولی امر کی باتوں اور احکامات پر مو بہ مو عمل کرو اور جان لو کہ تمہاری دنیا و آخرت کی سعادت اسلام اور ولی فقیہ کے احکام کی پیروی ہی میں پوشیدہ ہے۔ ان کی حمایت کرتے رہو اور ان کے فرامین کی اطاعت کرو تا کہ خدا تم سے راضی رہے۔
اس بات کا خیال رہے کہ ہمارے زمانے کے علی، حضرت علی علیہ السلام کی طرح تنہا نہ رہ جائیں۔ یہ نوبت نہ آنے دو کہ نا اہل افراد ان کے گھر پر حملہ کر دیں جو ولایت کا گھر ہے۔
اپنے سینوں کو ان کے سامنے کربلا کے مجاہدوں کی طرح تان لو اور ان کی حفاظت کے لیے خون فشانی پر آمادہ ہو جاؤ۔
سچ کہہ رہا ہوں کہ اگر تمہیں توفیق ہوئی اور تم ان سے ملاقات کا شرف حاصل کرو تو انہیں کہنا کہ آپ کا ایک سپاہی تھا جو آپ سے بہت محبت کرتا تھا۔ اس کی بہت خواہش تھی کہ وہ جانے سے پہلے ایک بار پھر آپ کی زیارت کو آئے مگر اسے توفیق نہ ہوئی۔ انہیں میرا سلام پہنچانا اور ان کے چہرے کا بوسہ لینا۔
بھائیو! جان لو کہ دشمن ہماری فقط ایک کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے اور وہ ہے ہمارا متحد نہ ہونا۔ آگاہ رہو کہ اتحاد کا لازمہ یہ ہے کہ اپنے ولی امر کی باتوں پر کان دھرو۔ ہاتھوں میں ہاتھ دو اور خدا پر توکل کرتے ہوئے اسلام نابِ محمدیﷺ کی ثقافت کو ترویج دینے کی کوشش کرو کہ خدا تمہاری مدد کرنے کے لیے موجود ہے۔
میرے عزیزو! دشمن کی سازشوں کو موقع نہ دو کہ وہ تمہارے اتحاد و وحدت کو پارہ پارہ کر دیں۔ ان کے ظاہری خوبصورت الفاظ کے فریب میں نہ آؤ۔ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اپنی عزت و ناموس، مملکت، اور اسلام کی حفاظت کرو۔ آپس میں مہربان رہو۔ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَينَهُمْ۔ تمہاری وحدت دشمن کی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے۔ تمہاری پاکیزگی ان کے ہاتھوں کو قلم کر کے رکھ دیتی ہے۔ تمہارا اخلاص ان کے پاؤں کو مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے۔ اور یہی چیز دشمن پر تمہاری فتح کا راز ہے۔
اسلامی اقدار کی حفاظت کرو۔ خون شہداء کو پامال نہ ہونے دو۔ شہداء کے نام طاقِ نسیان کی نذر نہ کرو۔اگر ان کے نام زندہ نہ رہے تو ان کا راستہ بھی گم ہو جائے گا اور ان کی آواز حلق میں گھٹ کر رہ جائے گی۔
میرے بھائیو! شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ تمہارا روحانی اثاثہ ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شہداء کا خون بابرکت ہوتا ہے اور تاقیامت باطل سے مبارزہ کرنے کے لیے یہ تمہارا اسلحہ ہے۔ یاد رکھو کہ اگر اسلام کے لیے کام کرنا چاہتے ہو تو ذکر اہل بیت علیہم السلام کو کبھی بھی فراموش نہ کرنا۔
اپنی مٹھیاں بھینچ لو۔ کوشش کرو کہ نام حسین علیہ السلام زندہ رہے۔ یہ ذکر کون سی انجمن میں ہو اور کہاں پر ہو، یہ زیادہ اہم نہیں ہے۔ جہاں بھی اہل بیت علیہم السلام کا ذکر کیا جائے وہ وہاں تشریف لے آتے ہیں۔ البتہ ان اعمال کو پورے اخلاص سے انجام دو اور فقط خدا کی رضا کے لیے کام کرو ورنہ یہ کام بے ہودہ اور فضول اور دوسروں کی خوشنودی کے لیے شمار ہو گا۔
میرے بھائیو! بسیجی مراکز کو کبھی بھی خالی نہ چھوڑنا۔ جو بھی ولایت کا پیروکار ہے وہ بسیجی بھی ہے، اگرچہ بسیجی ہونا فقط کسی بسیجی مرکز کا رکن ہونا ہی نہیں ہے ۔ لیکن جب دشمن دیکھتا ہے کہ یہ مراکز جن میں روزانہ کئی شہداء شریک ہوتے رہے ہیں، خالی ہو چکے ہیں تو وہ خوش ہوتا ہے۔ پس ان مراکز کو پُر کرو اور بسیج کے پروگراموں میں شرکت کرو۔ اپنے علم و آگاہی میں اضافہ کرو تا کہ بسیج سربلند و سرافراز ہو۔ یاد رکھو کہ بسیج اور بسیجیوں کا آئیڈیل امام خمینیؒ ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے بسیجی خمینیؒ کبیر ہیں۔ ان کی نصیحتوں کو غور سے سنو۔ ان کی باتوں کو دیواروں پر نقش کر دو۔ مدارس، مساجد، اداروں اور کارخانوں کی دیواروں پر ان کے فرامین لکھو اور انہیں بتاؤ کہ اگر وہ لوگ بسیج اور بسیجیوں سے غافل ہو جائیں تو دوزخِ الٰہی کی آگ میں جلیں گے۔ یہ ہم سب کے لیے امام خمینیؒ کا فرمان تھا۔ پس جان لو کہ اگر ہم نے اس پر عمل نہ کیا تو ہمیں چاہیے کہ عذاب الٰہی کے منتظر رہیں۔
بھائیو! قرآن کی تلاوت کو کبھی فراموش نہ کرو کیونکہ یہ حیاتِ بشر کی اصل اور بنیاد اور انسان کے لیے بہترین رہنمائی ہے۔ ساری دنیا کے لوگوں کے لیے دستور اور قانون ہے۔ اس کی نشر و اشاعت میں کوشاں رہو اور جوان نسل کو اس کی تعلیم دو۔ مدارس، مساجد اور ثقافتی مراکز میں نئی نسل کی تربیت کا اہتمام کرو کہ خدا ہمیشہ تمہاری مدد کرتا رہے۔
مرکز کے جوانو! میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ شب جمعہ کی محفلوں کو مت بھولنا۔ اپنی دوستیوں کو مضبوط کرو اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کرو۔ سب کاموں میں اخلاص اور تقویٰ الٰہی کو یاد رکھو۔
بسیجیو! خدا تمہارا پشت پناہ رہے۔قرآن اور ذکرِ اہل بیت علیہم السلام کو کبھی نہ بھولنا۔ اپنی نمازوں کو اول وقت میں جماعت کے ساتھ ادا کرو۔
جوانو! اپنے نفس پر قابو پانے کے لیے مستحب روزے رکھو، اور نوافل ادا کیا کرو اور نماز جمعہ میں شرکت کیا کرو۔ ان اقدار کو ہر گز ضائع نہ کرو۔ تم سب کا دوست اور بھائی محمد عبدی۔
دوستوں کے لیے شہید محمد عبدی کا وصیت نامہ:
بسم رب الشهداء و الصدیقین. السلام علیک یا صاحب الزمان یا بقیة الله فی ارضه یا مولانا.
اپنے دوستوں بھائیوں اور جاننے والوں کے لیے حقیر کا وصیت نامہ:
سب سے پہلے تو یہ کہ اس زمانے کے علی، یعنی رہبر معظم کو کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑنا۔ ان کے یار و مددگار رہو۔ جان لو کہ وہ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نائب ہیں۔ ان کی اطاعت واجب ہے۔ ان کی حفاظت کرو۔ ان کے دوستوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھو۔
دو: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ نماز کو اول وقت میں ادا کرنے کی کوشش کرو۔ خدا کی قسم جب تک شیعہ نماز کو اول وقت میں ادا کرتے رہیں گے اس وقت تک انہیں کسی اور ڈھال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نماز جمعہ و جماعت سے کبھی بھی بے اعتنائی نہ کرنا۔
تین: کوشش کرو کہ بیت المال کے اموال میں ذرہ برابر کوتاہی نہ ہو اور اپنی زندگی میں مالِ حرام کو داخل نہ ہو نے دو۔ بیت المال کی حفاظت کرو اور اس کے محافظ بن کر رہو۔
چار: معاشرے میں علماء و علم کا مورچہ کبھی کمزور نہ ہونے دو۔ مراجع تقلید، نیک اور صالح علماء کی حمایت کرتے رہو تا کہ ان کی مدد سے تم اسلام کی حفاظت کر سکو۔
پانچ: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کبھی ترک نہ کرنا۔ کیونکہ اگر تم نے انہیں ترک کر دیا تو پھر تمہیں اسلام اور ولایت فقیہ پر فاتحہ پڑھ لینا چاہیے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کرنا اسلام کی جڑوں میں تیشہ مارنے کے برابر ہے۔
چھ: سالوں تک دفاع مقدس میں مصروف رہنے والے مجاہدوں، غازیوں اور قید کاٹ کر آنے والوں کو بھول نہ جانا۔ یہ لوگ زندہ شہید ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی حرمت پامال کر بیٹھو۔ ان کی حیثیت و شرف اور آبرو کی حفاظت کرنا۔
اور آخری بات یہ کہ امام الشہداء کی نصیحتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ ان کے درجات کی بلندی کے لیے خداوند متعال سے دعا کرتے رہنا اور ان کے سپاہیوں کو بھی یاد رکھنا۔ گلزار شہداء کو بھی مت بھولنا۔ شہداء کی زیارت کے لیے حتماً جاتے رہنا اور ان سے اپنا دردِ دل بیان کرتے رہنا۔
الاحقر محمد عبدی