آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

اہلِ قلم شہداء کے سردار
[شہید سید مرتضیٰ آوینیؒ]

شہر رے میں پیدا ہوئے۔ بچپن اور نوجوانی کا زمانہ وہیں گزرا۔ تہران یونیورسٹی سول انجینئرنگ کا مضمون پاس کیا۔ ان دنوں انجینئرنگ بہت آمدنی والا پیشہ شمار ہوتا تھا۔

ان کی یونیورسٹی کے دوست انہیں ایک مغرب زدہ روشن فکر شخص کے عنوان سے جانتے تھے، لیکن انقلاب نے سید کی روح میں ایک اور ہی انقلاب بپا کر دیا۔

سید نے سب کچھ چھوڑچھاڑ کر دنیا کو تین طلاقیں دیں اور ملک کے پسماندہ علاقوں کو چل پڑے۔ ان علاقوں کی کوریج اور رپوتاژ کے ذریعے لوگوں کو وہاں کی حالت زار سے آگاہ کیا۔

جیسے ہی جنگ شروع ہوئی تو ’’روایت فتح‘‘ گروہ کو فعال کیا اور جنگی علاقوں کی کوریج کرنے نکل پڑے۔

جنگ ختم ہوئی تو رہبر معظم کی ہدایت پر ایک بار پھر اس گروہ کو فعال کیا۔

سید کا اخلاص سب دوستوں کی زبان پر عام تھا۔ ’’روایت فتح‘‘ گروہ کی فلموں پر نہ ہدایت کار کا نام ہوتا اور نہ ہی کیمرہ مین کا۔ فقط اتنا لکھا ہوتا: ’’تیار کردہ: روایت فتح گروہ۔‘‘

1993؁ء میں فکہ  کے اندر مقتل شہداء کی فلمبرداری کے دوران ایک بارودی سرنگ سے جا ٹکرائے جس سے ان کی روح ملکوت اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔

ایسے اسوہ اخلاص اور انقلاب کے جانثار سپاہی کی تشییع جنازہ میں رہبر معظم کی شرکت ان کے  مقام کو دوچند کر دیتی ہے۔

رہبر معظم نے انہیں ’’اہل قلم شہداء کاسردار ‘‘ کا خطاب دیا۔

روایت فتح کی فلموں میں سید کی تحریریں اور متن کافی خوبصورت اور معنوی مفاہیم کے حامل ہیں۔ ہم ذیل میں ان کی کچھ تحریروں کی طرف اشارہ کریں گے لیکن ابتداء میں سید کی وہ تحریر پیش کرتے ہیں جو انہوں نے 1989؁ء میں رہبر معظم سے ملاقات کے بعد لکھی:

اے ہمارے عزیز! اے امام عشق کے وصی! جو لوگ ولایت کے معنی نہیں جانتے ہمارے حساب سے وہ انتہائی عاجز اور ناتوان لوگ ہیں۔ لیکن آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس تسلیم و اطاعت و محبت کا سرچشمہ کہاں ہے۔ آپ بہتر جانتےہیں کہ ہم آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ہمارے دل میں اس دن کی خواہش کس قدر شدت سے موجود ہےجس دن ہم آپ سے ملاقات کریں اور آپ کے سینے میں اپنا سر چھپا کر روئیں۔

ہم نے اس عنایتِ ازلی کو آپ کی نگاہوں میں طلوع ہوتے دیکھا۔ آپ کی مسکراہٹ میں صبح کی شفقت محسوس ہوئی اور اس نے ہماری  شبِ زوال کی کمرتوڑ کر رکھ دی۔ ہمارے سر آپ کے قدموں میں، کیونکہ آپ امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے نائب  اور امام عشق ہیں۔

*****

9 فروری 1986؁ء اروند کے مضافات میں موجود نخلستانوں میں:

غروب نزدیک ہو رہا ہے اور تو کہتا ہے کہ زمین کی تقدیر اسی دریائے اروند کے کناروں سے متعین ہوئی ہے۔ مگر کیا حقیقت اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟!

آمادہ اور مسلح جوان، پشتی بیگ، کمبل اٹھائے اور نجات کے کوٹ پہنے اروند کے مضافاتی نخلستانوں میں دن کی آخری ساعتوں کو انتظار کے ایک خوشگوار انجام کی طرف راستہ طے کرتے ہوئے بسر کرتے جا رہے ہیں۔یہ پندرہویں صدی ہجری کے جوان ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ زمین صدیوں تک جن کا انتظار کرتی رہی ہے تا کہ وہ مصائب سے بھرے ہوئے اس سیارے کی خاک پر اپنے قدم رکھیں اور ظلمت و جہالت کے عہد کا خاتمہ کر دیں۔

اور اب وہ آ چکے ہیں، سادگی، تواضع، بی تکلفی، گہرے تعلق کے ساتھ ساتھ پانی، درخت، آسمان، خاک اور بارش  وغیرہ کو بھی اپنے ہمراہ لیے ہوئے آ رہے ہیں اور تُو بھی نفس امارہ کے پُرتکلف غرورآباد میں اپنی راہ گم کر چکا ہے، پھر اچانک اپنے آپ کو خدا کے ان مطیع بندوں میں پا لیا ہے، تو محسوس کر رہا ہے کہ ان کی برکت سے ہر چیز؛ پانی، درخت، آسمان، خاک، بارش، پرندوں اور دوسرے انسانوں کے ساتھ تیرا تعلق قائم ہو گیا ہے اور اب تیرے اور رب العالمین کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں رہا اور تو بھی دائم الصلوٰۃ بن چکا ہے؟

غروب نزدیک ہو رہا ہےا ور ایک خوشگوار انتظار تیرے بے تاب دل کو تڑپا رہا ہے۔

یہ نخلستان دنیا کا مرکز ہیں۔ اگر تجھے یقین نہیں ہوتا تو خود صاحب الزمان عج کے ان دوستوں سے جا کر ملحق ہو جا تا کہ میری بات کو ادراک کر سکے۔ مگر کیا ایسا نہیں ہے کہ زمانہ امام زمانہ عج کی ہتھیلی پر ہے اور یہ لوگ انؑ کے مددگار ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ خدا نے انسان کو الٰہی خلافت کے لیے خلق کیا ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ حق کی عبادت ہی انسان کو خلافت الٰہی کے لائق بناتی ہے؟!

یہ نخلستان دنیا کا مرکز ہیں کیونکہ خدا کے بہترین بندے یعنی اس کے خالص بندے یہیں جمع ہوئے تاکہ کفر کی صفوں پر ٹوٹ پڑیں، رات کے اسیروں کے بند کھول دیں، فطرتوں کے آئینے سے غبارِ گناہ کو جھاڑ دیں اور ایسا کام کر جائیں کہ دنیا ایک بار پھر اپنے اندر ولایت نور کی اہلیت پیدا کر سکے۔

بعض جوان وضو کر رہے ہیں، بعض اپنی پیشانیوں پر پیشانی بند باندھ رہے ہیں جن پر لکھا ہے: ’’زائرانِ کربلا‘‘۔ اس مقام پر اور ان لمحات میں دل اس قدر صفائی و پاکیزگی حاصل کر لیتا ہے کہ جس کی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔ میں نے کہا کہ تیرے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا اور خود تو یہ جو کہتا ہے کہ ’’میں‘‘، تو یہاں ’’میں‘‘ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں ’’میں‘‘ مر جاتی ہے اور ہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہو جاتی ہے۔ اس وقت ہاتھ ایک دوسرے میں گٹھ جاتے ہیں اور پھر الگ نہیں ہوتے۔

اروند کے مضافات میں واقع نخلستانوں کے درمیان عید([1]) آن پہنچی ہے اور جیسے جیسے ہم رات کے نزدیک ہوتے جا رہے ہیں، ایک عجیب سا اشتیاق دلوں کو اپنے اندر سمیٹے جا رہا ہے۔بعض جوان ایک گوشۂ خلوت میں بیٹھ کر اپنے گزرےہوئےلمحات کو اپنے ضمیر کے قاضی کے سامنے پیش کر کے اپنی ساری زندگی کا محاسبہ کر رہے ہیں اور وصیت نامے لکھ رہے ہیں۔ اللہ کا حق تو اللہ خود بخش دے گا مگر ہائے حق الناس۔ ایسے عالم میں تیرا دل ہچکولے کھانے لگتا ہے: کیا تو نے اپنا وصیت نامہ لکھ دیا؟!

عاشق کی نظر میں سوائےمعشوق کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اگر عاشق سے کہا جائے کہ عشق میں انصاف سے کام لو تو وہ ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عشق و جنون ہمیشہ عدل و عقل سے بالا مرتبے پر ہوتے ہیں۔دراصل عشاق کہتے ہیں کہ یہی جنون عین عدل و عقل ہے۔ دانشمند افراد کا کہنا ہے کہ خداوند عادل  ہے ۔ عاشق کہتے ہیں کہ وہی چیز عدل ہے جو معشوق کرتا ہے۔

عاقل افراد جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم صبر کریں گے کہ یہ مصیبت بھی گزر جائے مگر عاشق جب کسی ابتلاء کا شکار ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: اگر بادیگرانش بود میلی / چرا ظرف مرا بشکست لیلی؟  [اگر لیلیٰ کے دل میں دوسروں کی طرف میلان تھا تو اس نے میرا دل توڑا ہی کیوں؟!]  عاشق تو ابتلاء و آزمائش کے عاشق ہوتے ہیں۔

شہید آوینی اپنی فلموں کا اختتام جن الفاظ میں کرتے تھے وہ بہت خوبصورت اور عرفانی مضامین کے حامل ہوتے تھے۔ ذیل میں ہم ان کے کچھ نمونے پیش کرتے ہیں:

انسان کی زندگی اس مسافر کی طرح ہے جو ایک عارضی اور ناپائیدار گھر سے اپنے ابدی ٹھکانے کی طرف سفر کرتا ہے۔ پس اگر یہ گھر عارضی اور مجازی ہیں اور ہم کوچ کر جانے والے مسافر تو پھر اس جگہ سے دل لگانا اور اس کی حسرتوں میں مرتے رہنا کیا معنی رکھتا ہے!

دنیا توقف و جدائی کا مقام نہیں ہے بلکہ رنج و غم کا ایک ایسا محمل ہےکہ جس میں انسان اپنا پاؤں رکھتا ہے تا کہ عظیم امتحانات سے گزرتا ہوا قربِ خدا کی راہ تلاش کرے اور اس مقام کی طرف واپس جانے کے لیے آمادہ ہو جائے جہاں سے وہ آیا ہے۔پس تو بھی ہوشیار رہ کہ کہیں تیرا پاؤں عالم خاک کےمادی  تعلقات میں الجھ کر نہ رہ جائے اور تو زمین سے ہلنے کے قابل ہی نہ رہے۔

اس عالم میں ایک راز ہے جو خون کی قیمت کے سوا فاش نہیں ہوتا۔ ظاہر عالم نے اسم ساتر و ستار کے سائے میں اس راز پر پردہ تان رکھا ہے اور پردہ دار سب پہ شمشیر چلاتا ہے تاکہ اس راہ میں مرنے والوں کے سوا اس حرم کی حدود میں کوئی نہ رہ پائے۔

اے شہید! اے وہ کہ جو وجود کے ازلی و ابدی ساحل پر بیٹھا ہے اپنا ہاتھ باہر نکال اور ہم بری عادتوں میں لتھڑے ہوئے قبرستان نشینوں کو اس دلدل سے نکال دے۔

زندگی خوبصورت ہے مگر شہادت اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔جسم کی تندرستی اچھی ہے مگر عشق کا پرندہ جسم کو ایک ایسا قفس محسوس کرتا ہے جسے باغ میں رکھ دیا گیا ہو۔ مگر کیا آدم کے بیٹے سے ازلی عہد نہیں لیا گیا کہ حسین علیہ السلام کو اپنی جان سے زیادہ محبوب رکھنا ہے؟!

اور کیا ایسا نہیں ہے کہ خانۂ جسم کو فرسودگی گھیر لیتی ہے تا کہ روح کا گھر آباد ہو سکے۔ کیا اس بے قرار عاشق کو اس واسطے خلق کیا گیا ہے کہ وہ اس گھومنے والے آسمانی سیارے زمین پر آ کر خواب و خوراک کے اصطبل میں پڑا رہے؟!

لیکن اس خاک کے اندر سے اگر آسمان کی طرف سیڑھی نہ ہو تو سوائے موٹے اور تن پرور کیڑوں کے اور کچھ بھی حاصل نہ ہو۔ پس اگر مقصد کو یہاں ان تنگ دل چھتوں کے نیچے جو بند گلیوں میں کھلتے ہیں ڈھونڈ نہ سکو تو بہتر ہے کہ دل کی روح کا پرندہ پنجرے میں بند نہ رہے۔ پس اگر مقصد پرواز ہی ٹھہرا تو پنجرہ ویران ہی بہتر ہے۔ جو چڑیا اپنا مقصد کوچ کرنے میں پا لے وہ گھونسلے کی ویرانی سے نہیں گھبراتی۔

سنو، صدیوں کے حجاب کے پیچھے سے ایک دفعہ پھر هل من ناصر ینصرنا کی صدا کانوں میں آ رہی ہے۔

زندگی کی اس مختصر سی مہلت میں ہر کوئی اس صدا کا مخاطب بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

تقدیر تجھے یہاں تک کھینچ لائی ہے۔ ایک دن تو دنیا پر اپنی نگاہیں ڈال لے کیونکہ کربلائے عشق کے قافلے کی اذان مساجد کے میناروں سے سنائی دے رہی ہے۔ اس آواز کو سن تا کہ یا لیتنی کی حسرت کا بھڑکتا ہوا شعلہ تیری جان کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے اور تو فیض ِ عظیم تک پہنچنے سے محرم نہ رہ جائے۔

جنگ نے اگرچہ زندگی کے پُرسکون سفر کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے مگر دلوں کے آئینوں سے غفلت کا غبار اڑا دیا ہے۔


([1]) عید نوروز مراد ہے۔