آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

 گمنام شہید
[شہید حمید رضا ملا حسنیؒ]

شہید حمید رضا ملاحسنی 1965؁ء کو جنوبی تہران کے ایک مذہبی اور انقلابی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ سترہ سال کی عمر میں جنگی علاقوں کی طرف عازم سفر ہوئے۔ معرکہ والفجر۴ کے دوران 18 سال کی عمر میں بعثی دشمنوں کے ہاتھوں درجہ شہادت پر فائز ہو گئے اور ان کا پیکر مطہر مفقود ہو گیا۔

شہید کی اکلوتی بہن کے مطابق  کچھ عرصہ پہلے، جب وہ لوگ بہشت زہرا سلام اللہ علیہا میں کچھ شہداء کی قبور کی زیارت کو گئے تو ایک شہید ’’سید احمد پلارک‘‘ کے مزار پر بھی حاضری دی۔ وہاں انہوں نے اس شہید کے ساتھ اپنے بھائی اور کچھ دوسرے شہداء کی تصویریں بھی دیکھیں تو شہید پلارک کو ان کی دادی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا واسطہ دیا کہ انہیں ان کے گمشدہ بھائی کے بارے میں کچھ کوئی خبر دیں۔

اس توسل کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ راتوں کے بعد شہید کی بہن نے ایک سچا خواب دیکھا کہ شہید حمید رضا پونک کے علاقے میں لوگوں کے ایک ہجوم کے ساتھ چل رہے ہیں۔ جب بہن نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا: ’’یہ سب لوگ میری تشییع جنازہ کے لیے آئے ہوئے ہیں اور میں اذنِ خدا سے ان سب کی شفاعت کروں گا۔‘‘

اس خواب کی بنیاد پر کچھ دوسرے ذرائع سے میدانی چھان بین کر کے  یہ بات مشخص ہو گئی کہ نہج البلاغہ پارک میں مدفون گمنام شہداء میں سے ایک کے کوائف شہید ملاحسنی سے مطابقت رکھتے ہیں۔

شہید ملاحسنی 3 نومبر 1983؁ء کو زخمی ہوئے اور کچھ دوسرے ساتھی سپاہیوں کے ہمراہ بعثیوں کے ہاتھوں قید ہو گئے۔  ایران کی جاسوسی ایجنسی کے مطابق بعثیوں نے اپنی قید میں موجود ایرانی زخمیوں کو شہید کر کے عراق کے شہر ’’سید صادق‘‘ میں دفنا دیا تھا۔

2010؁ء میں جب شہر ’’سید صادق‘‘ کی توسیع و تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا  تو بارہ شہداء کے اجساد نکالے گئے جنہیں پورے تزک و احتشام سے جمہوری ایران کے حوالے کر دیا گیا۔ ان میں سے تین شہداء کو امام جعفر صادق علیہ السلام کے یومِ شہادت کے موقع پر پونک چوک پر واقع نہج البلاغہ پارک میں دفن کیا گیا۔

شہید حمید نے اس جگہ دفن ہونے کے بعد کئی مرتبہ اپنے رشتہ داروں کے خواب میں آ کر بتایا: ’’نہج البلاغہ پارک میں مدفون تین شہداء کی قبور میں سے درمیانی قبر میری ہے۔‘‘ اس طرح ان خوابوں، کچھ دوسرے قرائن و شواہد اور سپاہ کے ریکارڈ میں موجود شہید کی فائل کی بنیاد پرتصدیق کر لی گئی کہ یہ قبر انہی کی ہے۔

3 دسمبر 2010؁ء کو رہبر معظم ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای مد ظلہ العالی کے قدم مبارک سے یہ مقدس مقام متبرک و منور ہوا اور انہوں نے رسمی طور پر شہید حمید کی شناخت کا اعلان کیا اور بھرپور طریقے سے خراج تحسین پیش کیا۔

اس سے بھی زیادہ عجیب نکتہ یہ ہے کہ جب اس کتاب کا متن اپنے اختتام کو پہنچا تو ہم نے دیکھا کہ ایک شہید کا وصیت نامہ کم ہے۔ طے پایا کہ اگلے دن اس کا انتخاب کیا جائے گا۔

رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ مجلس امام حسین علیہ السلام میں لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک بوڑھا شخص میرے پاس آیا او ر ایک کاغذ میرے ہاتھ میں دے کر کہنے لگا: ’’یہ شہید ملاحسنی کے حالات زندگی اور وصیت نامہ ہے!!‘‘

اگلے دن کتاب کا متن اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

بسم رب الشہداء و الصدیقین

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ ينْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا.([1])

مومنین میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے بعض نے اپنی ذمے داری کو پورا کیا اور ان میں سے بعض انتظار کر رہے ہیں اور وہ ذرا بھی نہیں بدلے۔

شہداء کے وصیت ناموں کا مطالعہ کریں کہ یہ انسان کو لرزا کر رکھ دیتے ہیں اور بیدار کرتے ہیں۔ (امام خمینیؒ)

’’ملکوت اعلیٰ میں شہید کے علاوہ کوئی بھی زندہ نہیں ہے اور دوسروں کی زندگی بھی شہداء ہی کے طفیل اور انہی کے مرہونِ منت ہے۔‘‘ (شہید آوینیؒ)

آخری نالہ کھینچنا کس قدر عارفانہ ہے اور آخری بار لبیک کہنا کتنا عاشقانہ ہے۔

بے پناہ درود و سلام ہو محمدﷺ و آل محمد علیہم السلام پر کہ جنہوں نے شہادت کا سرخ خط کھینچا تاکہ انسانوں کو خدا تک پہنچنے کا راستہ دکھائیں۔ ہمیں سکھائیں کہ اسلام، اہل بیت اور معصومین علیہم السلام کے دشمنوں سے کس طرح جنگ کی جاتی ہے اور آج کے زمانے میں رسول اللہﷺ کی پاکیزہ نسل سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزند خمینی روح اللہ موجود ہیں جو ہمارے راستے کا چراغ ہیں اور جنہوں نے اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔

شہادت خدا تک پہنچنے کا سب سے زیادہ آرام بخش، آسان ترین اور بہترین راستہ ہے۔ شہادت انسانی کمال کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ اے وہ لوگو جو اس حقیر کا وصیت نامہ پڑھ رہے ہو، اس دنیا کی زندگی کو اپنا اصلی گھر نہ سمجھو کہ حقیقی زندگی تو یہاں سے چلے جانا ہے۔ ہم اس دنیا میں خوشی کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اس فانی دنیا کے بارے میں اتنا زیادہ فکر مند نہ رہو۔

اپنی آنکھیں موند کر تصور کرو کہ تم بوڑھے ہو چکے ہو اور تمہارے پاؤں قبر میں لٹک رہے ہیں۔ اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی یہ سمجھنے میں کہ دنیا فریب اور جھوٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

غریبوں، جنگی محاذوں اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرو۔ اگر ممکن ہو تو آیت اللہ دستغیب کی کتابیں پڑھو تا کہ دنیا سے تمہاری محبت کم ہو جائے۔

اے حزب اللہی لوگو! ہمارے عزیز امام نے فرمایا ہے کہ جنت کی چابی خودسازی ہے۔ زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو۔ قیامت کے دن قرآن ہمارے ہر درد کی دوا کرے گا اور ہمیں پشیمانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ قرآن کی تعلیمات پر حتی الامکان عمل کرو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ۔

آیت الکرسی کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرو۔ رات کو باوضو ہو کر سوؤ۔ ہر شب نیند، جو مختصر عرصے کی موت ہے، سے پہلے سورہ واقعہ کی تلاوت کر لیا کرو۔ ذکر خدا کو کبھی فراموش نہ کرو۔

دعائیں بہت زیادہ پڑھا کرو۔ ہمارے پاس دعاؤں کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ نفسانی مسائل جو کہ جہاد اکبر کا درجہ رکھتے ہیں، کے بارے میں کافی محتاط رہو کہ کہیں نفس سرکشی پر نہ اتر آئے۔ خدا کے لیے کام کرو۔ اپنے داخلی اختلافات کو ختم کرو۔ اخلاقی امور کی حتماً رعایت کرو۔

نماز جماعت اور نماز جمعہ میں ضرور شرکت کرو۔ مساجد کو خالی نہ چھوڑو۔ جس مورچے میں بھی بیٹھے ہو، اس کی سختی سے حفاظت کرو۔

اگر میرا ناتوان جسم باقی رہ گیا کہ جس کی امید کم ہی ہے، تو اسے ایران کی کربلا یعنی بہشت زہرا سلام اللہ علیہا میں دفن کر دینا اور اگر میرا جسد نہ ملے تو سمجھ لینا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہمارے سرہانے آتے ہیں اور ہم تنہا نہیں ہیں۔

میدان کو خالی نہ چھوڑ دینا  کہ کہیں اسلام کے دشمن لوگ مسلمانوں پر مسلط نہ ہو جائیں۔

مسلمان جوانوں میں آگاہی کی سطح بلند کرو اور ان کے عقائد کی بنیادوں کو مضبوط کرو تا کہ وہ اسلام سے منحرف نہ ہو جائیں۔ امید کرتا ہوں کہ تم میری ان باتوں پر عمل کرو گے اور دوسروں کو بھی ان کی یاددہانی کراؤ گے۔ تمہیں یہ زحمت  دینے پر میں شرمندہ ہوں۔

اگر مجھے شہادت نصیب ہو گئی تو مجھے لگے گا کہ میں اپنی دیرینہ آرزو کو پا گیا ہوں اور  امام حسین علیہ السلام کے راستے کو جاری رکھنے میں کامیاب ہو گیا ہوں جو (باطل سے) مقابلے اور خون کا راستہ ہے۔ میں اور دوسرے تمام مجاہدین اپنا شرعی وظیفہ ادا کرنے کے لیے جنگ کر رہے ہیں اور اس راستے میں کسی بھی نتیجے سے ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔

تم حزب اللہی لوگ بھی ان شاء اللہ شہادت ہی کا راستہ طے کرتے ہوئے دنیا سے جاؤ گے کیونکہ ایک جوان کے لیے بستر کی موت اذیت ناک موت ہے۔ خدا ہمارے گذشتہ گناہوں کو معاف فرمائے۔

اے میرے حزب اللہٰی بھائیو! محاذ کو کبھی خالی نہ چھوڑنا۔ تم حتماً اس اسلامی یونیورسٹی میں شرکت کرو جس کی ڈگری شہادت ہے۔ میں نے اسے اپنی قلبی خوشی  اور محبت سے انتخاب کیا ہے اور بانہیں کھول کر لقاء اللہ کےاستقبال کو دوڑا ہوا جا رہا ہوں۔ ان شاء اللہ اپنے ہدف تک پہنچ بھی جاؤں گا۔

خدا کے  راستے میں آنے والی یہ موت یعنی شہادت میرے لیے شہد سے زیادہ میٹھی اور گرمیوں میں ٹھنڈے پانی سے زیادہ خوش ذائقہ ہے۔

بابا، ماں،میرے  بھائیوں اور بہنوں کے لیے کچھ باتیں:

تم میں سے ہر ایک میرے لیے ایمان و تقویٰ کا نمونہ تھا اور تم لوگ مجھے اسلامی احکام سکھاتے رہے۔ اب میرا زندہ رہنا آپ سب اور اسلام کے لیے مفید نہیں رہا تھا۔ شاید میرا شہید ہو جانا ہی بہتر ہو۔ میں اپنی اس مختصر سی مدت عمر میں آپ سب کی زحمتوں اور محنتوں کا بدلہ نہیں اتار سکتا۔

ان شاء اللہ بروزِ محشر آپ سب کی زحمتوں کا اجر دوں گا۔ اس مختصر سی عمر میں مجھے سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں۔ امید رکھتا ہوں کہ آپ سب اور وہ لوگ جو اس وصیت نامے کو پڑھیں گے میری غلطیاں معاف کر دیں گے اور خداوند متعال کے حضور میرے لیے مغفرت و بخشش کی دعا کریں گے۔

خدایا! میری مدد فرما تا کہ اس ناتوان جسم کو تیری راہ میں قربان کر سکوں۔

والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته.

19مئی 1983؁ء


([1]) الاحزاب: 23