سالم جسد
[شہید محمد رضا شفیعیؒ]
ابھی چودہ سال ہی کے تھے کہ محاذپرجانے کے لیے اقدام کیا مگر انہیں قبول نہ کیا گیا۔بالآخر برتھ سرٹیفیکیٹ میں کچھ تبدیلی کر کے محاذ پر چلے گئے۔جنگ میں آخری بار جب انہوں نے حصہ لیا تو اس وقت ان کی عمر انیس سال تھی۔
علی ابن ابی طالب علیہ السلام ڈویژن کے بم ڈسپوزل سکواڈ میں شامل تھے۔ معرکہ کربلا۴ ان کا آخری معرکہ تھا۔ ان کے دوست کہتے تھے کہ وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کا جسد وہیں رہ گیا تھا۔
محمد رضا شفیعیؒ گمنام شہیدوں میں شامل کر دیے گئے۔ بعض کہتے تھے کہ وہ قید کر لیے گئے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ جتنے بھی افراد تھے سبھی قید ہو گئے تھے۔ لیکن ان کا خاندان ابھی تک ان کے لوٹ آنے کا منتظر تھا۔
جب عراقی فوج کی قید سے رہا ہو کر کچھ لوگ واپس آ گئے تب بھی ان کا کچھ پتا نہ چلا۔ آزاد ہونے والوں میں سے ایک کا کہنا تھا: ’’ہم نے محمد رضا کو اسیر ہوتے ہوئے دیکھا تو ہے مگر اس کے بعد اس کا کچھ پتا نہیں۔‘‘
ان کے گھر والوں کا گریہ و نالہ بڑھ گیا تھا۔ سب کی آرزو تھی کہ ان کے گمشدہ افراد کے بارے میں کوئی خبر مل جائے۔
2001ء میں ایران اور عراق کی حکومتوں نے اس جنگ میں مارے جانے اپنے اپنے فوجیوں کی نعشوں کا تبادلہ کیا۔ اگست 2002ء میں یہ خبر پھیل گئی کہ ان اجساد میں محمد رضا کا جسد بھی لایا گیا ہے۔ خبر بہت ہی عجیب تھی وہ اس لیے کہ محمد رضا کا جسد سولہ سال کے بعد بھی صحیح و سالم تھا!!
وہ معرکہ کربلا۴ میں زخمی ہوئے اور پھر قید کر لیے گئے۔ گیارہ دن تک انہیں اسی حالت میں رکھا گیا۔ اس کے بعد کہا گیا: ’’امام کی توہین کرو۔‘‘ لیکن انہوں نے چلا کر کہا: ’’صدام مردہ باد!‘‘
بعثیوں نے انہیں اس قدر مارا کہ وہ شہید ہو گئے۔ ان کے جسد کو کربلا کے نزدیک ایک قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ جب سولہ سال بعد ان کے جسد کو ان کی قبر سے نکالا گیا تو وہ بالکل سالم تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سو رہے ہیں۔
بعثیوں نے جب یہ دیکھا تو تین ماہ تک ان کے جسد کو دھوپ میں پڑا رہنے دیا تا کہ وہ بوسیدہ ہو جائے۔ انہوں نے ان کے جسم پر چونا اور دوسرے فاسد کرنے والے کیمیکلز بھی ڈالے مگر ان کا جسد سالم رہا۔
عراقی افسرنے جب ان کا جسد ایرانی حکام کی تحویل میں دیا تو رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ’’خدا ہمارے گناہ معاف فرمائے!‘‘
جب شہید محمد رضا کو ان کی قبر میں اتارا جا رہا تھا تو ان کے افسر نے بات کرتے ہوئے کہا: ’’اس شہید کی نماز شب کبھی بھی قضا نہ ہوتی تھی۔ ہمیشہ غسل جمعہ انجام دیتا تھا۔ جس وقت امام حسین علیہ السلام کے غم میں گریہ کرتا تو اپنے آنسو اپنے چہرے، داڑھی اور سینے پر مل دیا کرتا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا جسد ابھی تک سالم ہے۔‘‘
خداچاہتا تھا کہ محمد رضا شفیعیؒ گمنامی سے باہر نکل کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے حضرت روح اللہ خمینیؒ کے مظلوم ساتھیوں کی حقانیت پر ایک سند بن جائیں۔ محمد رضا قم کے قبرستان گلزار شہداء علی ابن جعفر میں دفن ہیں۔ ان کے وصیت نامے سے کچھ اقتباسات پیش خدمت ہیں:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
يا أَيتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ۔ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيةً مَرْضِيةً۔ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي۔ وَادْخُلِي جَنَّتِي۔([1])
خدا کے نام سے جو حرمتِ خونِ شہداء کا محافظ ہے اور جو ستمگروں کے محلات کو آپس میں ٹکرا کر تباہ کر دینے والا ہے۔ وہ جس نے عالم ہستی کو کسی چیز کے بغیر بنایا اور سب چیزوں کو اپنی حکمت سے اعتدال و توازن بخشا۔ راہ حسین علیہ السلام کے تمام مسافروں پر ڈھیروں درود و سلام۔ جو اس راستے پر چلے، اپنے گلے کو شہادت کے میٹھے شربت سے تر کیا اور اپنی جانوں کو قرآن و اسلام پر قربان کر دیا۔
ہم خدا کے بندے ہیں اور اسی کے راستے میں قیام کرتے ہیں۔ اس راستے میں اگر ہمیں شہادت آ جاتی ہے تو یہ ہمارے لیے سعادت ہو گی۔
میں محمد رضا شفیعی فرزند حسین شفیعی مرحوم ضروری سمجھتا ہوں کہ اس امت حزب اللہ کے لیے کچھ سطریں بطورِ وصیت لکھ کر جاؤں۔ اب جب کہ دنیوی زندان سےمیری رہائی کا وقت آن پہنچا ہے تو میں اس بات کو لازم سمجھتا ہوں کہ راہ خدا میں جہاد پر نکل پڑوں تا کہ اگر خدا کی بارگاہ میں یہ قبول ہو جائے تو ایک سعادت مند اور دائمی زندگی کی طرف پرواز کر جاؤں۔
میں بھی دوسرے بسیجی بھائیوں کی طرح احکام اسلام کے اجراء کے لیے جہاد پر نکلا ہوں۔ اس راستے میں مجھے اپنا خون بہہ جانے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ راہ خدا کے انبیاء اور اولیاء کی راہ ہے اور اس میں کربلا کے پیاسے شہید کی پیروی ضروری ہے: ان کان دین محمد لم یستقم۔ الا بقتلی فیا سیوف خزینی۔
میری شہادت کے بعد اس سعادت کا جشن منانا کیونکہ میرا خونین مورچہ میری شادی کی سیج ہے۔ ہم شہادت کو سعادت کے سوا کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ شہادت وہ میراث ہے جو ہمیں انبیاء علیہم السلام سے ملی ہے۔
جو بھی میرا یہ وصیت نامہ پڑھیں گے انہیں میری نصیحت ہے کہ ان افراد میں شامل ہونے کی کوشش کریں جو حضرت حجت عج کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ کوشش کریں کہ پہلے اپنی اور پھر معاشرے کی اصلاح کے لیے قدم اٹھائیں اور دعا کریں کہ یہ انقلاب امام زمانہ عج کے عالمی انقلاب سے متصل ہو جائے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعائیں مستجاب ہو جائیں تو جہاد اکبر یعنی نفس کی اصلاح اور خود سازی میں مشغول ہو جائیں۔ اے مسلمان بھائی اور بہن! ہمارا انسانی اور اسلامی وظیفہ یہ نہیں ہے کہ ہم نعرے تو امام کا ساتھ دینے کے لگائیں مگر عملی طور پر ان کی دل آزاری کا باعث بن رہے ہوں۔
اے میرے بھائیو! ہم نے ابھی تک اپنی اصلاح نہیں کی اور ہمارے اپنے کام اعتراض سےخالی نہیں ہیں تو پھر ہم دوسروں کی اصلاح کیسے کر سکتے ہیں اور کیسے ہم اپنے انقلاب کو پوری دنیا تک منتقل کر سکتے ہیں؟!
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کاموں میں انا پسندی اور ان کی اپنی مرضی کی توجیہات کرنے سے پرہیز کریں اور ہمیشہ اپنی اصلاح کی کوشش میں رہیں۔ کبھی بھی یہ گمان نہ کریں کہ ہماری فکر دوسروں سے بہتر اور صائب ہے۔
عزیز بھائیو اور شہید پرور قوم! خدا کی بارگاہ سے ہمیشہ اس بات کی توفیق طلب کریں کہ ہم اپنے عزیز امام کے بتائے ہوئے راستے پر اور خدا کی رضا کے لیےقدم اٹھائیں۔
اے جوانو! کہیں ایسا نہ ہو کہ بسترِ ذلالت پر تمہیں موت آ جائے کیونکہ حسین علیہ السلام میدان جنگ میں شہید ہوئے تھے۔ کہیں غفلت کی حالت میں تمہیں موت آ کر نہ دبوچ لے اس لیے کہ ہمارے امام علی علیہ السلام نے محراب عبادت میں جامِ شہادت نوش فرمایا تھا۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ تم علی اکبرؑ کے راستے سے ہٹ کر اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ کیونکہ علی اکبرؑ امام حسین علیہ السلام کے راستے پر ایک مقصد لے کر شہید ہوئے۔
اے ماؤ! اپنے بیٹوں کو محاذ پر جانے سے منع نہ کرنے لگ جانا ورنہ کل بروزِ محشر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو کیا منہ دکھاؤ گی جنہوں نے 72 شہیدوں کی شہادت پر بھی صبر کیا۔ خاندانِ وہب کی طرح تم سب بھی اپنے بیٹوں کو محاذ جنگ پر بھیجو حتی کہ ان کی لاشوں کی فکر بھی تمہیں نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ وہب کی ماں نے کہا تھا: ’’میں نے اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں دے دیا ہےلہٰذا اسے واپس نہیں لوں گی۔‘‘
اپنی بہنوں سے میری درخواست ہے کہ وہ سیدۃ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیں اور اپنے اسلامی حجاب کی رعایت کریں۔امید کرتا ہوں کہ وہ دن ضرور آئے کہ جب ملت کے تمام مرد ، عورتیں، بچے اور جوان اپنے اسلامی وظیفے سے آگاہ ہو جائیں اور گناہ کے مرتکب نہ ہوں۔
آخر میں اپنی والدہ گرامی سے معافی طلب کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ جو زحمتیں انہوں نے میرے لیے برداشت کی ہیں ان کا صلہ انہیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا عطا فرمائیں۔ ان سے امید رکھتا ہوں کہ دوسرے شہداء کے خاندانوں کی طرح وہ بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں گی اور کوئی کام ایسا نہیں کریں گی جس سے دشمن خوش ہو۔
اے عزیز اور ارجمند جوانو! جیسا کہ امام نے فرمایا ہے: ’’میری نگاہِ امید تم پر لگی ہے۔‘‘ پس تم بھی اپنے زمانے کے حسین کی اس صدائے ھل من ناصر پر لبیک کہو اور محاذوں کی طرف نکل کھڑے ہو اور قرآن و اسلام کو کبھی بھی بے یار و مددگار نہ چھوڑو۔ والسلام۔
ہم بندگانِ خدا اس لیے اس دنیا میں آئے ہیں تا کہ آخرت کے لیے زادِ راہ جمع کر سکیں اور ایک جاودانہ زندگی کی طرف پرواز کر سکیں۔
الهی تا ظهور دولت یار | خمینی را برای ما نگهدار |
[خدایا! امام زمانہ عج کے ظہور تک خمینی کی حفاظت فرما۔] | |
آمین
16 مارچ 1986ء
محمد رضا شفیعی