ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے
[شہید مہدی رجب بیگیؒ]
مہدی رجب بیگی 1957ء میں شہر دامغان میں پیدا ہوئے۔ 1975ء میں تہران یونیورسٹی کے ٹیکنیکل کالج میں داخلہ لے لیا اور اسی سال اپنی ثقافتی اور انقلابی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ مہدی، یونیورسٹی کے طلاب میں اسلامی تحریکوں کے بانیوں میں سے تھے۔ ایران میں موجود امریکی سفارتخانے پر حملہ کرنے والوں میں سے تھےاور نماز جمعہ میں یونیورسٹی کے طلاب کے بیانات پڑھا کرتے تھے۔
ان کے ہاتھ کی تحریریں بہت دلچسپ ہیں۔کتاب ’’می رویم تا خط امام بماند‘‘ [ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے] ان کے مقالات، اشعار اور تحریروں کا مجموعہ ہے۔کوردل منافقین جو انقلاب کے اس سپاہی کے ساتھ مباحثہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، نے 1981ء کو انہیں شہید کر دیا۔ ذیل میں ان کی تحریروں کے کچھ اقتباسات پڑھتے ہیں:
ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے۔ وہ راستہ جو جابر حکمرانوں کے خلاف قاطعیت کا جلوہ، مستکبرین کے خلاف مستضعفین کی بغاوت کا خلاصہ، مظلوموں کی دائمی فریاد اور محروموں کی فتح کا راستہ ہے۔
ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے۔وہ راستہ جس نے مظلوموں کے دست و پا سے قید و بند کی زنجیریں کھولنے کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے۔
ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے۔ وہ راستہ جو مستضعفین کے فاتحانہ قیام کا پیام ان لوگوں تک پہنچائے گا جو تاریخ کو ترک کر چکے ہیں۔ ایسا راستہ جو جلادوں کی ناک کو بالآخر زمین پر رگڑ کر رہے گا۔
ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے۔
وہ راستہ جو ایران کی دلاور ملت کے عظیم اسلامی انقلاب کا کامیاب راستہ ہے۔ ضروری ہے کہ اس قیام کی داستان سب ہاتھوں تک پہنچے اور اس انقلاب کا پودا پوری دنیا کی مظلوم عوام کے دلوں میں بو دیا جائے۔
ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے۔ وہ راستہ جو ہر قسم کی سازشوں اور ظلم و ستم کی نفی کرتے ہوئے سازشیوں اور ظالموں کی نابودی کی نوید بھی لے کر آیا۔
ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے۔ وہ راہ جو ایران کی شجاع ملت کے دلاور مجاہدوں اور اپنے خون میں رنگے شہیدوں کے خون کی محافظ ہے۔
وہ راستہ کہ جو امپیریلزم اور بیرونی قابض طاقتوں کا بھیانک انجام دنیا کے سامنے نمایاں کر کے رکھ دے گا اور ہر ستم کدے میں توحید کے مستحکم قلعوں کی بنیاد رکھ دے گا۔۔۔ ہم جا رہے ہیں تا کہ راہِ امام باقی رہے۔
*****
راہ خدا میں شہادت میرے لیے شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ محمود شہید ہو گیا، حسین شہید ہو گیا،علی شہید ہو گیا، جمال شہید ہو گیا۔ کوئی بھی نہیں مرا بلکہ سب زندہ ہیں۔
خدایا! تو خود ہی دیکھ کہ ابراہیمؑ کے یہ فرزند کس طرح آزمائش کی قربانگاہ کی طرف اسماعیل کی طرح دوڑے دوڑے چلے جاتےہیں اور کامل فتح یابی سے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔
دیکھ، کہ کس طرح شہادت کے ان سورماؤں نے حیات کو جیت لیا ہے اور موت ان کے پنجوں میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔
دیکھ، کہ کیسے ان کے وجود کی آیت زمانے میں حیات کی تفسیر بیان کر رہی ہے۔
خدایا! ہمارے دوست، ہمارے دوست! ہمارے دوست۔۔۔ مہاجر چلے گئے جبکہ ہم بغیر مددگاروں کے رہ گئے ہیں۔
قبیلہ نور کے بہادر لوگ ظلمت سے لڑتے ہوئے دشت روشنی کی طرف ہجرت کر گئے ہیں تا کہ کامیابی کے قلعے کو فتح کر سکیں اور تیرہ و تاریک آسمان پر کسی ستارے کی طرح چمک اٹھیں۔
خدایا! بادلوں سے کہہ کہ وہ گریہ کریں۔ پہاڑوں کو امر دے کہ پھٹ جائیں۔ سمندروں سے کہہ کہ تلاطم میں آ جائیں۔طوفانوں کو دستور دے کہ بپھر جائیں۔ دریاؤں کو امر دے کہ نالے کریں۔ چشموں سے کہہ کہ جوش میں آ جائیں۔ آسمانوں کو دستور دے کہ برسنے لگ جائیں اور کائنات کو حکم دے کہ اشک بہائے۔ درختوں سے کہہ کہ اپنے پتوں کو نیچے پھینک دیں اور ہماری سرزمین پر غربت کی خزاں کو جوبن پر لے آئیں۔ عقابوں سے کہہ کہ ہمارے دوستوں کے سوگ میں بیٹھ جائیں۔ فرشتوں کو امر دے کہ تیرے خلیفے کو زمین پر دیکھیں تا کہ آیت إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ایک بار پھر نازل ہو جائے۔
حضرت محمدﷺ کو خبر دے کہ ان کے پیروکار شجاعت کی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام سے کہہ کہ ان کے شیعوں نے قیامت برپا کر دی ہے۔ حضرت حسین علیہ السلام کو بتا کہ ان کا خون اب بھی اسی طرح رگوں میں جوش مار رہا ہے۔جو خون کربلا کی ریت پر گرا اس سے کئی سرو اُگے۔ ظالموں نے ان سرووں کو کاٹ ڈالا لیکن پھر بھی یہ سرو آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام سے کہہ کہ ان کے ہاتھ ہمارے جسموں پر لگا دیے گئے ہیں۔
حضرت آدم ابوالبشر سے کہہ کہ ہابیل سے لے کر ابھی تک ہمیں مسلسل شہید کیا جا رہا ہے۔
خدایا! کتنا گہرا رنج ہے۔ تو جانتا ہے کہ ہم کس درد سے گزر رہے ہیں۔یوں سمجھ کہ شمع کی طرح پانی ہوئے جا رہے ہیں۔
ہم موت سے نہیں ڈرتے لیکن اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ ہمارے بعد ایمان کا سر نہ کاٹ دیں۔ اگر ہم دل کو جلنے نہ دیں تو روشنی نابود ہو جائے اور رات پھر اپنے سائے پھیلا دے۔ پس کیا کرنا چاہیے؟!
ایک طرف سوچتے ہیں کہ زندہ رہیں اور مستقبل کے شہید بن جائیں اور دوسری طرف سوچتے ہیں کہ شہید ہو جائیں تا کہ مستقبل زندہ رہ جائے۔ ضروری ہے کہ آج شہید ہو جائیں تا کہ کل رہ جائے اور یہ بھی ضروری ہے کہ آج زندہ رہیں تا کہ ہمارا کل شہید نہ ہو جائے۔
عجیب درد ہے۔ کاش کوئی ایسا راستہ ہوتا کہ ہم آج شہید ہو جائیں اور کل دوبارہ زندہ کر کے ایک بار پھر شہید کر دیے جائیں!!
ہاں، سب دوست موت کی طرف چلے گئے درحالانکہ وہ اپنے کل کے لیے پریشان تھے۔
خدایا! کہیں ایسا نہ ہو کہ ان شہداء کے خون کے وارث ان کے راستے پر قدم ہی نہ رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ چھوٹے چھوٹے شیطان ان شہداء کے خون کے بل بوتے پر بڑے بڑے ظالم وڈیروں میں تبدیل ہو جائیں۔
یوں نہ ہو کہ جان دینے والے، بے جان پست افراد کی جاہ و مقام تک رسائی کا سرمایہ بن جائیں۔ کہیں یہ خون رنگ زمین دھوکہ بازوں کے قبضے میں نہ چلی جائے۔
ایسا نہ ہو کہ ان کی شہادت ان کی ذلت و رسوائی کا باعث بن جائے! کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ان کی فداکاریوں اور قربانیوں کا پھل ریاکار لوگ چننے لگ جائیں۔
ہماری جنگ کہیں فرنگی مزاج لوگوں کے چنگل میں نہ آ جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ خونین کفنوں میں ملبوس لوگ مسافرت میں مر جائیں اور مغرب کے چیلے کامیاب ہو جائیں۔
خدایا! زندہ رہنا کس قدر دشوارہے اور زمین کی غربت و مسافرت میں یارو مددگار کے بغیر رہنا غیبت کی طرح ہے۔
ایسا لگتا ہےکہ ہماری کمر ٹوٹ گئی ہے، درد کی زنجیر نے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اور غم ہمارے سینوں میں ڈیرا ڈال کر بیٹھ گیا ہے۔۔۔
ذیل کے اشعار شہید مہدی رجب بیگیؒ کے اپنے کہے ہوئے ہیں:
خون شد دلم خدایا ، رحمی نما به حالم
از دوری رفیقان ، آشفته شد خیالم
تا قلهی هدایت ، یاران من برفتند
گم گشتهام خدایا ، در کوچهی ظلالم
همچون پرنده عاشق ، من عاشق پریدن
اندر غم شهیدان بشکسته هر دو بالم
آیم به سوی جنت تا رویتان ببینم
مهمان شوم شما را گر حق دهد مجالم
[خدایا! میرا دل خون ہو چکا ہے۔ میرے حال پر رحم فرما۔ دوستوں کی جدائی نے میرے خیالات کو آشفتہ کر دیا ہے۔ میرے دوست ہدایت کی بلندی پر پہنچ گئے لیکن خدایا! میں ظلمتوں کی گلی میں گم ہو کر رہ گیا ہوں۔ پرندے کے طرح میں بھی عاشق ہوں، اڑان کا عاشق، شہیدوں کے غم میں میرے دونوں پر ٹوٹ چکے ہیں۔ میں جنت میں تیرے چہرے کے دیدار کے لیے آیا ہوں۔ اگر حق مجھے اجازت دے تو میں تیرا مہمان ہو جاؤں۔]