غیر مساوات
[شہید احمد رضا احدیؒ]
ان کا تعلق ہمدان کے شہر نہاوند سے تھا۔ پڑھائی اور سکول میں سب سے آگے تھے۔ جہاد میں دوسروں سے بڑھ کر تھے۔ لکھتے تھےا ور اپنی سوچوں کو تحریر کا لبادہ پہناتے رہتے تھے۔
1985ء میں ہونے والے میڈیکل کے داخلہ امتحان میں پورے ملک سے پہلی پوزیشن حاصل کی لیکن دنیا کی یونیورسٹی آخرت کی یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے انہیں نہ روک سکی۔
ان کی تحریروں میں سے ایک تحریر ’’غیر مساوات‘‘ کے عنوان سے ہے جو اس زمانے کے حالات اور جنگ میں غیر جانبدار رہنے والے انسانوں کے بارے میں بحث کرتی ہے۔
’’غیر مساوات‘‘ شہید احمد رضا کی آخری تحریر ہے جو انہوں نے اپنی شہادت سے کچھ دیر پہلے لکھی تھی۔ انہوں نے معرکہ والفجر 8 میں جامِ شہادت نوش کیا:
کون اس مساوات کو حل کر سکتا ہے؟!
کون جانتا ہے کہ مارٹر گولہ گرنے سے کتنے دل دہل کر رہ جاتے ہیں؟!
کسے خبر ہےکہ جنگ یعنی جلنا، یعنی آگ، یعنی ہر جگہ سے کسی نئی جگہ کی طرف بھاگنا۔ یعنی یہ اضطراب کہ میرا بچہ کہاں ہے؟ میرا جوان کیا کر رہا ہے؟ میری بیٹی کا کیا ہوا؟
حقیقتاً ہم ان سوالات اور جوابات کے درمیان کہاں کھڑے ہیں؟!
یونیورسٹی کی کون سی طالبہ ہے جو نہ جنگ کی تصاویر اور نہ ہی جنگ کی خبریں سننے کا حوصلہ رکھتی ہے، کیا سوسنگرد کی معصوم بچیوں کے واقعے سے باخبر ہے؟!
شرم و حیا کے ان نمونوں کو کون یاد کرتا ہے جن کے پاکیزہ دامن بے شرموں نے آلودہ کر دیے اور اپنے اجداد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے انہیں زندہ درگور کر دیا۔
یونیورسٹی کا کون سا طالب علم جانتا ہے کہ ہویزہ کہاں ہے؟ کون ہویزہ میں جنگ لڑتا رہا؟ کون وہاں مارا گیا اور وہیں دفن ہو گیا؟ کون ہے جو اس جملے کا معنی درک کر سکے: ’’جسموں اور ٹینکوں کی جنگ؟!‘‘
حقیقت یہ ہے کہ ٹینکوں کے بارے میں جانتا ہی کون ہے؟ کیسے 120 مجاہد اور مظلوم طلبہ کے سر ٹینکوں کے نیچے کچل کر رکھ دیے گئے؟
کیا تم اس مسئلے کو حل کر سکتے ہو؟
دوشکا([1]) کی نالی سے ایک گولی ایک ہزار میٹر کی رفتار سے سنسناتی ہوئی نکلتی ہے اور نکلتے ہی ایک حلق میں پیوست ہو جاتی ہے اور اسے سوراخ کرتی ہوئی گزر جاتی ہے۔ کیا تم بتا سکتے ہو کہ اس حالت میں وہ سر کہاں گرتا ہے؟ کون سا گریبان پارہ ہوتا ہے؟! کون سا بچہ خلوت میں جا کر آنسو بہاتا ہے؟! کون سا، کون سا۔۔۔؟!
کیا تم ہوتے تو ایسا کر سکتے؟! اگر نہیں تو اس مسئلے کو ذرا زیادہ دقت اور گہرائی سے سوچ کر حل کرنے کی کوشش کرو:
آواز کی رفتار سے ڈیڑھ گنا زیادہ رفتار کا حامل ایک ہوائی جہاز زمین سے فقط دس میٹر بلند اڑتا ہوا آتا ہے اور مہران دہلران کی سڑک پر تیزی سے جانے والی ایک لینڈ کروزر گاڑی کو اپنے بم کا نشانہ بنا دیتا ہے تو کیا تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ کون سا جسم آگ میں راکھ بن جائے گا؟! اور کون سا سر اڑتا ہوا کہیں دور جا گرے گا؟!
لوہے کے ان مسلے ہوئے ٹکڑوں میں پھنسے ہوئے ان اجسام کو تم کیسے باہر نکال پاؤ گے؟! کیسے انہیں غسل دیا جا سکے گا؟
ہم کیسے ہنسیں اور ان پیاروں کی نگاہوں کو فراموش کر دیں؟!
ہم کیسے شہر میں بیٹھے رہ کر فقط اپنی تعلیم کی فکر کر سکتے ہیں؟!
یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے دروازے بند کر کے ایک چوہے کی طرح کتابوں کے پرانے کلمات میں بل بنا کر گھس جائیں؟!
تم کون سے مسئلے کو حل کرتے ہو؟! کس امتحان کے لیے پڑھائی کرتے ہو؟! کس امید پر سانس لیتے ہو؟! اپنے بستے اور فائل کو کن چیزوں سے بھر رہے ہو؟! خیال سے، کتاب سے، ڈاکٹر کے جگمگاتے ہوئے خطاب سے یا اس چیونگم سے جو تمہاری ماں ہر روز تمہارے بستے میں ڈال دیتی ہے؟!
کون سا اضطراب تمہاری جان کھائے جا رہا ہے؟! بس کا دیر سے پہنچنا، کلاس میں دیر ہو جانا، نمبر نہ لے سکنا؟!
تم نے اپنے دل کو کن چیزوں سے وابستہ کر لیا ہے؟! ڈگری سے، گاڑی سے یا ڈاکٹریٹ سے بھی اوپر کی کسی ڈگری کے حصول سے؟!
صفایی ندارد ارسطو شدن | خوشا پر کشیدن ، پرستو شدن |
[ارسطو ہونے میں کوئی لذت نہیں۔ کیا ہی اچھا ہے اڑان بھرنا اور ابابیل ہونا۔] | |
اےطالب علم دوست! تجھے اس چیز سے کیا لینا دینا کہ تمہارے ہمسائے میں کوئی خاندان اپنے عزیز کی شہادت کا داغ دیکھ چکا ہے؟ یا کوئی جوان خاک میں لت پت ہو چکا ہے؟
اے طالب علم بہن! تجھے کیا غرض کہ سوسنگرد کی بہنیں آنسؤوں میں ڈوبی ہوئی ہیں اور انہیں زندہ درگور کر دیا گیا ہے؟!
تم کچھ بھی نہیں جانتی تھیں؟! یقیناً کچھ بھی تو نہیں!۔۔۔
کیا تم اپنے بچے کی خشک زبان کو تر کرنے کے لیے ایسی جگہ پر پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرے ہو جہاں کارون، دجلہ اور فرات آپس میں ملتےہیں؟ اور جب تم مشکلوں سے ایک قطرہ پانی کا لے کر ہزاروں امیدیں دل میں لیے اس بچے کے سرہانے پہنچے تا کہ اسے سیراب کر سکو تو دیکھا ہو اب وہ بچہ پانی پینے کے مرحلے سے گزر چکا ہے!!!
لیکن اگر تم قاسم نہیں ہو، علی اکبر نہیں ہو، جعفر و عبداللہ بھی نہیں ہو تو کم از کم حرملہ تو نہ بنو۔
کیونکہ خدا نے حسین علیہ السلام کے ہدیے کو قبول کر لیا اور علی اکبر و علی اصغر کے خون کو زمین کے حوالے نہ کیا۔
میں نہیں جانتا کہ یہ خون روزِ قیامت حرملہ کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ یا علیؑ مدد۔
شہید احدی کا وصیت نامہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
بس ایک ہی گزارش ہے کہ امام کے حکم کو ضائع نہ ہونے دینا۔ بس یہی۔
تقریباً ایک ماہ کے روزے مجھ پر قرض ہیں، وہ رکھ دینا اور سب سے میرے لیے معذرت خواہی کرنا۔ والسلام۔
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ادنیٰ ترین سپاہی
احمد رضا احدی