مَلاک
[شہید صلاح محمد علی غندورؒ]
شہادت کے آخری معرکے کو کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ صیہونیوں نے اعلان کر دیا تھا کہ مزاحمت کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ صلاح محمد غندور المعروف مَلاک نے ایک کار لی، اسے دھماکہ خیز مواد سے بھرا اور جا کر ایک بس سے ٹکرا دی جس میں صیہونی افسران بیٹھے ہوئے تھے۔ ان افسران کی کافی تعداد واصلِ جہنم ہو گئی۔
صیہونی حکومت نے پہلے تو اس حملے کی تردید کی مگر مزاحمتی مجاہدین نے دور سے اس حملے کی ویڈیو بنا لی تھی جسے انہوں نے نشر کر دیا۔ یہ فلم صیہونیوں کے لیے ایک رسوائی کا باعث بن گئی۔
برادر ملاک نے آخری مزاحمتی حملوں میں سے ایک نہایت اہم شہادت طلب حملہ کیا تھا۔ اس حملے سے پہلے مقام عظمیٰ ولایت کی تصویر کے پاس کھڑے ہو کر انہوں نے اپنا وصیت نامہ پڑھا۔ پھر اپنی بیوی اور بچوں سے الوداع کیا اور کچھ دیر بعد شہادت پر فائز ہو گئے۔
ان کی بیوی نے ان کا زندگی نامہ اور وصیت رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کو ارسال کی۔ حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ان کے جواب میں لکھا:
بسمہٖ تعالیٰ
ہمارے عزیز شہید صلاح محمد علی غندور المعروف مَلاک کی شریکِ حیات کی طرف۔
مخلصانہ سلام اور شہید کی وصیت اور حالات زندگی پر مبنی کتاب بھیجنے پرشکر و سپاس کے بعد: میں نہ فقط اس شہید، کہ ان جیسے شہداء ہمارے تاریخ کے درخشاں ستارے ہیں، پر افتخار کرتا ہوں بلکہ آپ سب اور ان شہداء کے دوسرے لواحقین پر بھی فخر کرتا ہوں جنہوں نے اپنے صبر، تحمل اور مردانگی کے ذریعے اوائل اسلام کی کم نظیر مثالوں کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے عزیز بچوں کے لیے دعا گو ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے۔
والسلام علیکم
سید علی خامنہ ای
22 جولائی 1999ء
*****
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا۔([1])
صدق اللہ العلی العظیم۔
(اے رسول) اہل ایمان کے ساتھ عداوت میں یہود اور مشرکین کو آپ پیش پیش پائیں گے۔
میں صلاح محمد غندور المعروف بہ مَلاک خداوند کریم کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے حضرت سید الشہداء اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی زیارت سے مشرف فرمائے۔ وہ عظیم امام جنہوں نے تمام آزاد اور حریت پسند لوگوں کو ظالموں سے انتقام لینے کا سلیقہ سکھایا۔
خداوند کریم کے لطف و کرم سے ان شاء اللہ ان کلمات کو پڑھنے سے کچھ دیر بعد سرفرازی و افتخار اور اپنے دین اور اپنے سے پہلے جانے والے شہداء کا انتقام لیتے ہوئے خدا سے ملاقات کروں گا۔
زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ میں تمام مظلوم شہداء، مستضعفین، فرزندان جبلِ عامل اور مقبوضہ فلسطین کے فرزندانِ مزاحمت کا انتقام لینے کے لیے چل پڑوں گا اور جلد ہی مقبوضہ جنوبی پٹی کے تمام اسیروں کا انتقام لوں گا۔
جلد ہی اور توفیق الٰہی کے سبب میرا شمار بھی مزاحمت اسلامی کے مجاہدین میں سے ہو گا۔
عظیم مزاحمت کہ جسے نہ تو دشمن کے جہاز اور نہ ہی ان کے ٹینک صیہونیت سے ڈرا سکتے ہیں۔
خدا سے عنقریب ہونے والی ملاقات ایک نیا درس ہو گا۔ ایک ایسی کربلا کا درس جس پر تمام مسلمانوں کو فخر ہو گا اور اس مغرور دشمن کے لیے برستی ہوئی آگ اور وبال بن جائے گا کہ جس کی ہیبت و جلال کو مسلمان مجاہدین پہلے ہی پاش پاش کر چکے ہیں۔ وہ دشمن جس کا تسلط احمد قصیر، حر عاملی، ابو زینب، ہیثم دبوق، شیخ اسعد برو اور ان کے علاوہ مختلف معرکوں میں جام شہادت نوش کرنے والے باقی شہداءکے عزم و حوصلے کے آگے مسمار ہو چکا ہے۔
میرے مجاہد بھائیو!
یقین رکھو کہ ہم حتماً کامیاب ہوں گے اور اس میں کسی قسم کے شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ یہ اس وقت ہو گا جب ہم خدا کےلیے کام کریں اور اس کی معرفت کے ساتھ جئیں، کیونکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرتا ہے اور وہ یقیناً اپنے بندوں کی مدد کرے گا۔ بلاشک و شبہ مومنوں کو عزت عطا کرے گا اور کفار کو ذلیل و خوار کرے گا اور کفار کی یہ ذلت تمہارے ہی ہاتھوں سے ہو گی۔
اے مزاحمتِ اسلامی کے سورماؤ! اے علی و حسین علیہما السلام کے بیٹو! اے امام خمینیؒ کے فرزندو! اے رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے بچو! اے شہید عباس موسوی کے جانشینو! اور اے شیخ راغب کے وارثو! جنگ کرو۔
کیونکہ تمہارا جہاد ایک ایسا جہاد ہےجو حضرت صاحب العصر و الزمان عجل اللہ کی حکومت کی راہ ہموار کرے گا اور یہ جہاد جاری رہنا چاہیے یہاں تک کہ کامل رضائے الٰہی اور وعدۂ الٰہی کے ہدف تک پہنچنے کے حوالے سے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا ہو جائے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيهِ رَاجِعُونَ
والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته!