آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

شیر مرد
[شہید محمد علی شاہمرادیؒ]

شہید محمد علی شاہمرادی ایسے شیر مرد تھے کہ دفاع مقدس ان کی اور ان کے دوستوں کی فداکاریوں اور شجاعتوں کا ہمیشہ ممنون احسان رہے گا۔ وہ کئی سالوں تک ڈویژن 44 قمر بنی ہاشم کے نائب رہے اور اس ذمہ داری کے دوران شہادت و بہادری کی داستانیں رقم کیں۔ ان کی شہادت ان کے افسران کے لیے بہت بڑا نقصان تھی۔ شہید شاہمرادی نے اپنے تحریروں اور وصیت نامے میں لکھا ہے:

بہ نامِ خداوند ِ شہید و بہ نام خدای یکتا

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يرْزَقُونَ

حق و باطل کی جنگ کا محاذ اور ہماری سرزمین کی سرحدوں اور شہروں پر سیاہ دل بعثیوں کے ظالمانہ حملوں نے  اس سرزمین کے ذمہ دار مسلمانوں اور غیور جوانوں کے لیے ایک الٰہی آزمائش اور امتحان کا ماحول فراہم کیا ہے۔ اور پہلے کی نسبت کہیں بڑھ کر کئی سیاسی پارٹیوں کو مسلمانوں پر آشکارا کیا ہے۔

کتنے ہی احساس ذمہ داری رکھنے والے بہادر افراد ملک کے دوردراز علاقوں سے پورے اشتیاق اور جذبے کے ساتھ اس میدانِ آزمائش میں آن داخل ہوئے اور راہِ خدا میں اپنا خون بہا کر اس امتحان میں کامیابی کے پروانے اور افتخار نامے پر مہر ثبت کی۔

پس یہ واحد اور آخری راستہ تھا۔ عظیم اہداف کو عظیم اعمال کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اسلام اہم اور ہدفِ اسلامی عظیم اور غیر معمولی تھا۔ اس تک پہنچنے کے لیے ضروری تھا کہ جان و جسم کی بازی لگا دی جائے۔ اس کے راستے میں مال و جان کو قربان کر دیا جائے۔ اس سے ہٹ کر اگر کوئی کوشش کی جائے تو وہ کوتاہی کے زمرے میں آئے گی۔

ہم نے سوچا کہ خون دیے بغیر اسلام کا دفاع نہیں کیا جا سکتا اور جب تک شجراسلام کو خون سےنہ سینچا جائے وہ سرسبز و شاداب نہیں ہو سکتا۔ پس ہم ایک حیات بخش اور عظیم جذبے کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے اور اس سلسلے میں قربان کرنے کے لیے ہمارے پاس فقط جان ہی تھی جو ہم نے اسلام اور اسلامی اہداف کی راہ میں قربان کر دی۔

*****

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

میری پہلی وصیت یہ ہے کہ شہداء کی وصیتوں پر عمل کریں۔ بسیجی، پاسداران اور ہمارے افسران جو شہید ہو چکے ہیں، سب وصیت کر کے گئے ہیں۔ کیا ان کی وصیتوں پر عمل کیا گیا ہے؟! شہداء جو کچھ چاہتے تھے اسے وہ دیواروں، کتابوں اور کیسٹوں میں محفوظ کر کے ہمارے لیے چھوڑ گئے ہیں۔ اس سے بے اعتنائی نہ برتنا۔

ہمارے عزیز امام وصیت ناموں کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تم نے پچاس سال عبادت کی، خدا قبول کرے لیکن ایک نظر ان دس پندرہ سالہ بچوں کے وصیت ناموں پر بھی ڈال لیا کرو۔‘‘

میری دوسری وصیت یہ ہے کہ امام اور اس نظام کے حکام کی اطاعت کریں اور ان کی حمایت کرتے رہیں۔

میرے عزیز بھائیو اور بہنو! آج اسلام ایران میں ہے۔ خدا نے ہم پر لطف کیا ہے کہ اسلام کو آپ عزیز ایرانیوں اور شہداء کے ہاتھ سے سربلند کیا ہے۔ خدا نہ کرے کہ ہماری کسی کوتاہی کی وجہ سے اسلام شکست سے دوچار ہو جائے!

شہداء، ان کے خاندانوں، غازیوں اور ان جوانوں کے سامنے ہم جواب دہ ہیں جو بغداد کی جیلوں میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔

ہمیں آئینہ صفت رہنا چاہیے۔ان شاء اللہ پہلے ہمیں انقلاب کی خوبیاں بیان کرنا چاہییں۔ وہ تمام برائی کے مراکز، شراب خانے، ڈانس کلبز اور فساد کے اڈے جو انقلاب سے پہلے موجود تھے، اب ان کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا۔

لوگوں کی بیٹیاں اب اتنی جرأت نہیں رکھتیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ آزادانہ گھومتی رہیں۔ الحمد للہ جمہوری اسلامی جیسی نعمت ہمیں نصیب ہوئی ہے۔ مساجد کو دیکھیں۔ محاذوں پر نگاہ دوڑائیں اور دیکھیں کہ پندرہ سالہ اور بیس سالہ جوان کیا کیا کارنامے انجام دے رہے ہیں۔ کیسے جذبے سے سرشار ہیں وہ!!  یہ سب انقلاب ہی کا نتیجہ ہے۔

اقتصادی اور اداروں کی  مشکلات کا وجود اس بات کی دلیل نہیں بنتا کہ ہم اس انقلاب کی خوبیوں کو پس پشت ڈال دیں۔ ہمیں فقط کمزوریاں ہی بیان نہیں کرنا چاہییں۔

میری ایک اور وصیت یہ ہے کہ امام اور مجاہدوں کے حامی رہو یہاں تک کہ خداوند کریم اپنی نصرت و مدد جلد از جلد مجاہدین کے شامل حال کرے۔

خداوند اپنے بندوں کو آزمائش کی چھلنی سے گزارے گا پھر اچھے اور مومن انسانوں کو چن کر اپنی مدد اور نصرت انہیں عطا کرے گا۔ اس وقت وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو کنارہ کش کر لیا تھا وہ انگشت بدنداں ہو جائیں گے اور کہیں گے: ’’اے کاش ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے!‘‘ لیکن اس وقت ان کا یہ کہنا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔