آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

حرفِ دل
[شہید حاج رحیم جباریؒ]

حقیقت ہے کہ شہداء کے کلام میں نہ جانے کیا راز چھپا ہے؟!

انہیں کیا کیا دکھائی دے جاتا تھا؟!

کہاں تک پہنچے ہوئے تھے وہ؟!

ذیل میں آپ ایک اور شہید کا وصیت نامہ پڑھنے جا رہے ہیں جس میں عجیب و غریب اور ہلا دینے والے مطالب ہیں۔

شہید حاج رحیم جباری 1968؁ء میں قزوین میں پیدا ہوئے اور اگست 1988؁ء کو دفاع مقدس کے آخری دن درجہ شہادت پر فائز ہو گئے۔

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَقُلْ رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيرُ الْمُنْزِلِينَ۔

اور کہیں: پروردگارا! ہميں  بابرکت جگہ اتارنا اور تو بہترین جگہ دینے والا ہے۔

الحمد لله الذی بابه مفتوح للطالبین و رحمته واسع للعالمین و مغفرته شفاء للمذنبین.

اللهم اجعل غنای فی نفسی و الیقین فی قلبی، والاخلاص فی عملی.

هر که حرفی ز کتاب دل ما گوش کند
هر چه از هر که شنیدست فراموش کند
تا ابد از دو جهان بی خبر افتد مدهوش
هر که یک جرعه می از ساغر ما نوش کند

[جو کوئی بھی ہمارے دل کی کتاب سے ایک حرف بھی سنتا ہے تو اس نے اس سے پہلے کسی سے بھی جو کچھ بھی سنا ہوتا ہے، وہ سب بھول جاتا ہے۔ اور جو ہمارے ساغر  سے شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے، وہ ابد تک دنیا و ما فیہا سے بے خبر و مدہوش رہتا ہے۔]

الٰہی! راز دل کو چھپانا مشکل ہے جبکہ کہنا اس سے بھی زیادہ دشوار۔

خدایا! اس وقت ذلتوں کی پستی، ظلمات کی تاریکی اور مصیبتوں کے ہجوم میں گھرا ایک شخص تجھ سے بات کر رہا ہے۔

خدایا! اس وقت ایک گناہ گار اپنے دل کے دروازے کو تیری طرف کھول رہا ہے، اپنی گناہوں سے بھری مٹھی اور رسوائیوں کے ڈھیر  لیے تجھ پر امید رکھے ہوئے سامنے آن کھڑا ہے۔

بار الٰہا! ایک رو سیاہ معصیتوں کے گرداب کے اندر سے بلند آواز میں فریاد کر رہا ہے اور برائیوں اور پلیدیوں کی اتھاہ گہرائیوں سے تجھے پکار رہا ہے۔

اے خدا!تو گواہ ہے کہ میرے گناہوں کی فراوانی، عصیان کی کثرت اور سرکشی کی شدت نے مجھے اس قدر شرمندہ کر دیا ہے کہ اب میں اپنے آپ کو تجھ سے بات کرنے کے قابل ہی نہیں سمجھتا۔

پروردگارا! تو خود گواہ ہے کہ میں شرمسار ہوں اور ان تمام گناہوں کے بعد دوبارہ تیرے گھر کے دروازے پر آ کر تجھے آواز دے رہا ہوں۔

خدایا! ہر چیز سے اور ہر کسی سے زیادہ شرمندہ ہوں۔

خدایا! میں سورج، چاند، ستاروں، انسانوں، جنوں حتی کہ شیطان سے بھی بڑھ کر شرمندہ ہوں کیونکہ  سب اپنے اپنے کاموں میں پوری دلجمعی سے مصروف ہیں  اور جس مقصد کے لیے ان کی تخلیق ہوئی ہے اسے وہ انجام دے رہے ہیں۔ لیکن  تیرا یہ سست بندہ اپنے وعدوں کا کس قدر کچا ہے۔ میں تجھ سے کتنے ہی پیمان باندھ کر پھر توڑ چکا ہوں۔

خدایا! میں شرمسار ہوں، تو ہی میرا ہاتھ پکڑ۔ خدایا! شیطان میرے وجود کی گہرائیوں میں گھسا ہوا ہے اور اس نے مجھے تیری یاد سے روک رکھا ہے۔

خدایا! بعض اوقات میں اپنے گناہوں کے سمندر میں دیکھتا ہوں  تو اپنے آپ بدبخت ترین انسان پاتا ہوں اور اپنے آپ سے مایوس ہو جاتا ہوں۔

خدایا! آخر تو اس غافل سے کون سی نماز قبول کرے گا؟ کہ جس شخص کا دل خانہ کعبہ کے خدا کی طرف ہی نہ ہو اس کا دل اگر کعبہ کی طرف ہو بھی جائے تو کیا فائدہ؟! نفس کے حجابات میں لپٹے اس انسان سے کون سی دعا قبول کرے گا؟ اس حجاب سے زیادہ سخت عذاب کون ساہے ؟!

گفتم که روی خوبت از من چرا نهان است

گفتا تو خود حجابی ورنه رخم عیان است

[میں نے پوچھا کہ تیرا خوبصورت چہرہ مجھ سے پوشیدہ کیوں ہے؟! تو اس نے جواب دیا کہ حجاب تیری اپنی ذات ہے ورنہ میرا چہرا تو عیاں ہے۔]

خدایا! تجھے اپنے حق کا واسطہ، تو خود جہنم سے میرا حجاب بن جا، لیکن خدایا! خدایا! تیری رحمت کا بے کراں اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر مجھے میرے گناہوں کی طرف نگاہ کرنے سے روکے رکھتا ہے، بقول مولا علی علیہ السلام، کہ دیار عشق کے وہ مسافر اپنی مناجات شعبانیہ میں کتنی خوبصورت دعا کر رہے ہیں: ’’إِلَهِي إِنْ أَخَذْتَنِي بِجُرْمِي أَخَذْتُكَ بِعَفْوِكَ وَ إِنْ أَخَذْتَنِي بِذُنُوبِي أَخَذْتُكَ بِمَغْفِرَتِک.‘‘ (خدایا! اگر تو میرے گناہوں اور جرائم پر میرا مواخذہ کرے گا تو میں تیرے عفو  و مغفرت کا دامن تھام لوں گا۔)

خدایا! میں بھی تیرے عفو و کرم کا تجھے واسطہ دوں گا۔ تجھے اپنے حق کا واسطہ مجھے اپنے آپ سے دور نہ کرنا۔

خدایا! افسوس ہے کہ یہ چند روز تیری معرفت میں نہ گزر سکے اور تیرا عشق دل میں جاگزین نہ ہو سکا۔ لیکن ہر حال میں امید رکھتا ہوں کہ آخری لمحے تک تیرے دروازے پر دستک دینے کی وجہ سے نہ تھکوں اور تجھے تیری رحمانیت کا واسطہ دے کر اپنے اس نقصان کا ازالہ کروں۔

میں فریاد کروں گا: خدایا! میں تیرا پہلا بندہ نہیں ہوں کہ جسے تو معاف کرے۔ مجھ سے پہلے تو کتنے ہی گناہگاروں کو بخش چکا ہے۔

خدایا! کیا کروں کہ میں فقیر ہوں اور تو غنی۔ اگر تو مجھے اپنے عفو و رحمت کے لائق سمجھتا ہے تو تیری خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

پیارے خدا! کہاں تک اس بارِ گناہ کو کھینچتا چلوں، اپنی رسوائی کے نقارے کہاں بجاؤں اور اپنے رنج و غم سے بھرا یہ قصہ کسے سناؤں کہ میں ایک حقیر و فقیر وجود ہوں۔ میرا وجود گناہوں کے حضور میں رہا اور عصیان میری شناخت بن گیا۔ شیطان نے مجھے پستیوں کی طرف کھینچ لیا تھا اور تیرے سامنے میں گناہ کرتا رہا لیکن اس سب کے باوجود تیری طرف سے مجھ پر محبت، لطف اور کرامت ہی کی برسات ہوتی رہی۔ یہ بندہ تجھ سے محبتیں وصول کرتا رہا اور تو اس سے گناہ اور سرکشی۔ تیری طرف سے کرم تھا اور تیرے اس بندے کی طرف سے سرکشی اور بغاوت۔

اے میرے خالق! اے عفو  و کرم کے بے کراں سمندر!تو نے اپنی ملکوتی عظمت و بزرگی کی بلندیوں پر مجھے اپنا مہمان بلایا  مگر میں نے ذلت کی پستی میں گر کر تجھ سے دشمنی کی۔

ہاں، گویا دعائے افتتاح کا یہ جملہ میری ہی حالت کو بیان کرتا ہے: ’’خدایا! تو مجھے بلاتا ہے اور میں منہ پھیر لیتا ہوں۔ تو محبت کااظہار کرتا ہےا ور میں دشمنی کرنے لگتا ہوں۔‘‘

خدایا! جس وقت سے تجھے پہچانا ہے، تیرا عاشق ہو گیا ہوں اور جس لمحے سے تیری محبت کا ذائقہ چکھا ہے، تیرا دیوانہ ہو گیا ہوں۔

اے مہربان! اے عطوف! میرا حقیر وجود تیرے ان احسانوں اور بزرگیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ تو کتنا اچھا ہے کہ اس حالت میں بھی جبکہ میں پستی میں گر کر تیری طرف پشت کر چکا تھا، تو نے مجھے فراموش نہیں کیا اور اپنے جبروت کی بلندیوں پر بیٹھا اس آلودہ دامن گناہگار کے انتظار میں نہ بیٹھا رہا۔

اے میرے معبود! اگر اسی حالت میں تیری مشیت میری موت کا فیصلہ کر دیتی، ایک صدا آتی کہ اگلی منزل کے لیے اپنا سامان باندھ  لو اور ملک الموت میرے دروازے پر آ چکا ہوتا تو، آہ خدایا! اس وقت میرا کیا حال ہوتا؟! اے بخشنے والے خدا! اپنی بزرگی کا واسطہ، مجھے قبول کر، میرے گناہوں کی طرف نہ دیکھ بلکہ میرے دل کی پشیمانی کی طرف نگاہ کر۔

میرے معبود! اس بندے کو اپنے آپ سے دو ر نہ کر۔ اس کے ساتھ اپنے کرم و رحمت کا رویہ اپنا۔

الٰہی! زندگی کی ان چند صبحوں میں میرے پاس کوئی خالص اور قیمتی عمل نہیں ہے۔ اب میں خود کو ایک ایسا ڈوبا ہوا شخص محسوس کر رہا ہوں جو صرف تجھ سے امید لگائے بیٹھا ہے۔

خدایا! تو نے دنیا میں کئی بار میری مدد کی۔ بارِ الٰہا! آخرت میں اپنے اعمال نامے کے حساب کے وقت بھی میں تیری مدد کا محتاج ہوں گا۔ اس وقت مجھے پر غصہ نہ کرنا۔

الٰہی! ہم سب بے چارے ہیں اور ہمارا چارہ فقط تو ہے۔ ہم سب نکمے ہیں اور فقط تو ہی ہے جو ہمارے کام بناتا ہے۔ میں ایک بے پناہ بے چارہ شخص گناہوں کا بار اٹھائے مگر شکستہ دل لیے ایک دفعہ پھر تیری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے تیری درگاہ کی طرف آ گیا ہوں کہ:

قُلْ يا عِبَادِي الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔([1])

کہدیجیے:اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، یقینا اللہ تمام گناہوں کو معاف فرماتا ہے، وہ یقینا بڑا معاف کرنے والا ، مہربان ہے۔

خدایا! جس وقت سے تجھے پہچانا ہے، تیرا عاشق ہو گیا ہوں اور جس لمحے سے تیری محبت کا ذائقہ چکھا ہے، تیرا دیوانہ ہو گیا ہوں۔ الٰہی! جب سے تیری رحمت کو عیاں دیکھا ہے، تیرا شیفتہ ہو گیا ہوں۔ یا  رب! اے وہ ذات کہ میری چشمِ امید ہمیشہ اسی کی طرف لگی رہتی ہے۔ اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں تو سوائے  بے ہودگی اور عبث پن کے اور کچھ نہیں پاتا لیکن جب تجھ تک پہنچتا ہوں تو سب کچھ نظر آنے لگتا ہے۔

اے میرے سب کچھ!بلکہ سب کچھ سے بھی بالاتر! اس بے نام و نشان کو اپنے لطف کے صدقے میں قبول فرما۔

مہربانا! تیرا ایسا وصل چاہتا ہوں جو پتھر کے دل میں بھی چنگاری بھر دے۔ تیرے عشق کا الاؤ مانگتا ہوں جس میں اپنے پاؤں جلا ؤں اور تیری ملاقات کے لیے تیری طرف پرواز کر جاؤں۔

خدایا! ہر کوئی آسودگی چاہتا ہے مگر میں آتشِ عشق کا طلبگا ر ہوں۔ ہر کوئی عقل مانگتا ہے لیکن میں دیوانگی چاہتا ہوں۔ اے میرے پیارے! میں تیرا ہی دیوانہ ہوں اور میری اس دیوانگی میں مزید اضافہ فرما۔

خدایا! ہر کوئی دوا چاہتا ہے مگر میں اپنے دل میں آرزوئے درد  بسائے ہوئے ہوں۔ اپنے حقیر بندوں کو یہ لذتیں نصیب فرما۔ سب آرام مانگتے ہیں مگر میں تیرا بے تاب عاشق ہوں۔

خدایا! تو جانتا ہے کہ اب تک ہم نے کتنی مرتبہ دعائے کمیل میں فریاد کی ہے:  اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ قَلْبِي بِحُبِّكَ مُتَيَّماً۔ خدایا! میرے دل کو اپنے عشق و محبت سے بے تاب فرما۔

اے مقلب القلوب!تیرے عشق نے مجھے جنوب و غرب کے بیابانوں میں آوارہ کر کے رکھ دیا ہے۔ تیری یاد نے مجھ سے آرام و سکون چھین لیا ہے۔ تیری محبت نے آرام کو میرے ذہن سے نکال دیا ہے۔ تیرے نام نے میرے دل کو تیرا شیدا  کر دیا ہے۔ اے نور کو نورانیت بخشنے والے! مجھے اسی حالت پر باقی رکھ۔ اے محول الاحوال! تو نے میرے باطن میں ایک ہیجان بپا کر دیا ہے، میرے وجود کو آتش عشق میں جھونک دیا ہے، میرے دل کو بے قرار کر دیا ہے، میری روح کو اپنی ملاقات کے لیے آمادہ پرواز کر دیا ہے۔ اے قدوس! میری اس حالت کو اچھا کر۔ اے مجیب الدعوات! ہر لحظہ سینکڑوں خیال لیے تیری پیچھے پیچھے پھرتا  ہوں، ہر دم سینکڑوں راستوں سے تیری تلاش میں نکلتا ہوں، ہر رات آرزوئیں لیے سو جاتا ہوں اور ہر سحر تیرے وصال کا شوق لیے بیٹھ جاتا ہوں۔

اے مہربان! میری دعا قبول فرما۔ اپنا جلوہ مجھے دکھا کہ تیرے بغیر میں ایک کھوکھلے جسم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوں۔ اے حبیب قلوب الصادقین! مجھے ایمان میں صداقت اور عمل میں اخلاص عنایت فرما اور میرے دل میں اپنی یاد کو شعلہ ور کر دے۔

اے مانگنے پر عطا کرنے والے! مجھے اپنے آپ پر قابو پانے اور اپنی ہوا و ہوس پر فتح یاب ہونے کی توفیق دے اور دنیا کی حقیر اور فریبی متاع کو جو مجھے تیرے پاس آنے سے روکے رکھتی ہے، میری نظروں میں حقیر بنا دے۔

اے ہلاکتوں سے نجات دینے والے! اس امید پر تیری درگاہ میں اپنا چہرہ خاک پر رگڑتا ہوں کہ تیری بے انتہا رحمت تیرے غضب اور قہاریت پر غالب آ جائے  اور اپنے آپ کو تنہائی کی ظلمات سے نکال کر تیری ہدایت و اجابت اور تیری عبادت کی حلاوت اور مٹھاس کی طرف کھینچ کر لے آؤں۔

یا غیاث المستغیثین! میری خبر گیری کر۔مجھے بے چینیوں سے نجات عطا فرما کیونکہ دل تیری یاد ہی سے آرام پاتے ہیں۔ خدایا! خدایا! میں تجھ سے عشق و شہادت کی دعا کرتا ہوں۔ میں تیرا وصال چاہتا ہوں۔ میں تیری تلاش میں ہوں۔ خدایا! تو کہاں ہے؟ مجھے اپنے پاس لے جا۔

دوری از مهر رخت ای مه تابان تا کی؟
ریزم از دست غمت ، اشک چو باران تا کی؟
نرسد دست به دامان وصالت تا چند؟
آخر ای صبح امید ، این شب هجران تا کی؟

[اے ماہِ تاباں! تیرے چہرے سے کب تک دور رہوں؟ کب تیرے غم میں بارش کی طرح آنسو برساتا رہوں؟ کب تک تیرے دامن وصال تک میرا ہاتھ نہیں پہنچے گا؟ اے میری صبحِ امید! آخر یہ شب ہجر کب تک ہے؟!]

خدایا! میں شہادت کا طلبگار ہوں۔ خدایا! میں تیرا عاشق ہوں۔ تیرے کلمات اور آثار اگر اس قدر شیریں اور دلنشین ہیں تو تُو خود کیسا ہو گا؟! اگر بہشت شیریں ہے تو بہشت کا بنانے والا کیسا ہوگا؟! اے خدا! کس قدر خوش قسمت ہے وہ لمحہ جب میں تجھ میں گم رہتا ہوں۔ فاصلے درمیان سے مٹ جاتے ہیں۔ گویا میں تیری آغوش میں ہوں۔ خدایا! کتنی فریاد کروں؟ مجھے اس قفس سے آزاد فرما۔ میں تیرا ہوں اور مجھے اپنے پاس بلا لے۔

دوستو!

ولایت فقیہ کے راستے پر بڑھے چلو۔ خدا کے شکر گزار رہو۔

اور اے میرے عزیز بھائیو! تمہیں گناہوں سے دوری اور تقویٰ اور دین مبین اسلام کے احکامات پر عمل پیرا رہنے کی نصیحت کرتا ہوں کہ الحمد للہ تم پہلے ہی سے ان پر عمل کرتے آ رہے ہو۔

اے میری بہنو! تمہیں صبرو حجاب اور ساری دنیا کی خواتین کے لیے نمونہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی پیروی کی نصیحت کرتا ہوں۔ جان لو کہ ایک مسلمان عورت کی سب سے زیادہ خوبصورتی اس کا حجاب ہے، حجاب ہے، حجاب۔

اے میری عزیز ماں! آپ سے بہت سی باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ ماں، کاش آپ ہوتیں اور دیکھتیں کہ محاذ عشقِ یار کا گھر ہے۔ کیا جلالت ہے اس کی!! ماں! آپ نہیں جانتیں کہ یہاں کیسی کیسی واقعات سے بھری ہوئی راتیں ہم گزارتے ہیں۔

ماں! یہاں جوانوں کو مکاشفے ہوتے تھے۔  ماں! راتوں کو جوان حضرت مہدی عج کی تلاش میں رہتے تھے۔ ماں! کاش آپ یہاں ہوتیں اور دیکھتیں کہ میرے دوست کیسے سرخ لالہ کے پھولوں کی طرح خون میں غلطان ہوتے رہے ہیں۔ ماں! کاش آپ یہاں ہوتیں اور دیکھتیں کہ  اس دھرتی کے پاک ترین فرزند کس طرح لبیک کہتے ہوئے ملائے اعلیٰ کی طرف پرواز کرتے ہوئے جاتے ہیں۔

ماں! کاش آپ ہوتیں اور یہاں شجاعت کی رقم ہونے والی داستانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتیں۔ ماں! میں جانتا ہوں کہ آپ ہر روز میرے سرہانے پر سر رکھ کر مجھے یاد کیا کرتی ہیں۔ ماں! میں جانتا ہوں کہ بعض اوقات آپ خواب میں مجھے دیکھتی ہیں کہ ہمیشہ کی طرح محاذ سے لوٹا ہوں اور آپ مجھے گلے لگا لیتی ہیں۔ ماں! میں جانتا ہوں کہ کبھی کبھی آدھی رات کے وقت آپ کی نماز شب کی سرگوشیاں آپ کے عاشقانہ گریہ و زاری میں مخلوط ہو جاتی ہیں، مگر کیا کروں ماں؟! کہ جانے اور کوچ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ آپ نے میرے لیے کتنا سختیاں اور مصیبتیں برداشت کیں کہ جن کا میں بدلہ نہیں اتار سکتا پھر آپ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ مجھے معاف کر دیں گی اور اپنا دودھ مجھے بخش دیں گے۔

ہاں میری ماں! جانا ہی ہو گا کیونکہ ہماری قدر و قیمت جانے ہی میں ہے۔ کیا حسین علیہ السلام اور ان کے دوست بھی نہیں چلے گئے؟ کیا دوسرے ائمہ اطہارؑ  شہید نہیں ہو گئے؟! اور میں آپ کو گریہ کرنے سے روکوں گا نہیں کیونکہ شہید پر گریہ کرنا اس کی جنگ و شجاعت میں شرکت کرنے کے برابر ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ نے ایک عمر تک اپنے بیٹے کی تربیت کی اور آپ اسے دولہا بنتے دیکھنا چاہتی تھیں۔

لیکن ماں! کیا آپ کربلا کو نہیں چاہتیں؟ کیا آپ ہمیشہ امام حسین علیہ السلام کے غم میں آنسو نہیں بہاتی تھیں؟ پس ہمیں جانے دیں۔

ماں! جب تک ہم اپنے ہاتھوں سے امام حسین علیہ السلام کی ضریح کے حلقوں کو نہ پکڑ لیں اور وہاں اپنے دل کا غبار ہلکا نہ کر لیں ، پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آہ! وہ لحظہ کتنا لذت بخش ہو گا جب ہمارے رونے کی آوازوں سے فضا پُر ہو جائے گی۔ میری جان حسینؑ! آپ جانتے ہیں کہ ہم آپ تک پہنچنے کے لیے کیا قیمت چکا کر آئیں گے۔

ماں!ہم نے تمام انبیاءمیں سے محمدﷺ کو، تمام ائمہ میں سے علی علیہ السلام کو، تمام مجاہدین میں سے حسین علیہ السلام کو، تمام داستانوں میں سے ان کے قیام کی داستان کو اور تمام کتابوں میں سے قرآن مجید کو چنا ہے۔

حقیر رحیم جباری۔ 2

فروری 1988؁ء


([1]) الزمر: 53