معطر مزار
[شہید سید احمد پلارکؒ]
تہران کے بہشت زہراء قبرستان کے قطعہ 26 میں ایک مزار ہے جس سے ہمیشہ خوشبو آتی رہتی ہے۔ شہید سید احمد پلارک دفاع مقدس کے جنگجو اور بسیجی شہداء میں سے ایک ہیں۔ ان کی والدہ کہتی ہیں: ’’جب سے میرا بیٹا بالغ ہوا تب سے لے کر شہادت تک اس کی ایک بھی نمازِ شب قضا نہیں ہوئی۔‘‘
اکثر راتوں کو وہ سر سجدے میں رکھ خدا سے مناجات کرتے رہتے اور آنسو بہاتے رہتے۔ سید احمد پلارک شہید کے آنسو آج ایک ایسی خوشبو بن چکے ہیں جو انسانوں کو اپنے پروردگار کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
سید اپنے وصیت نامے میں لکھتے ہیں:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اس خدا کی تعریف و ثنا ہے کہ جس نے اپنے دین کی طرف ہماری ہدایت فرمائی۔ اور اگر وہ ہماری ہدایت نہ کرتا تو ہم ہر گز ہدایت نہ پا سکتے تھے۔
السلام علیک یا ثار اللہ۔ اے چراغِ ہدایت اور کشتی نجات، اے آزاد لوگوں کے رہبر، اے حُر جیسے لوگوں کو شہادت کا سبق پڑھانے والے۔ اے وہ جس نے اپنے اور اپنے باوفا انصار و اصحاب کے خون سے اسلام کو زندہ کیا۔ اے وہ کہ جس نے ابد تک اسلام کو مستحکم اور محفوظ کر دیا۔
یا حسین علیہ السلام! میں آپ سے متوسل ہوں۔ میرے آقا! جب ہم محاذ پر جاتے ہیں تو نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم اس طمانچے کا انتقام لیں گے جو ان نامرادوں نے ہماری ماں کے چہرے پر مارا تھا۔ اس زخمی بازو اور اس مجروح سینے کا انتقام لینے کے لیے ہم جا رہے ہیں۔ ان مصائب کا سننا کس قدر سخت ہے۔
خدایا! ہمیں اتنی توانائی اور قدرت عطا فرما کہ تیرے دین کی مدد کے لیے کچھ کر سکیں۔
خدایا! ہمیں اس رہبر اور انقلاب کی اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق عنایت فرما۔
خدایا! اپنی ایسی معرفت کی توفیق عطا فرما جس طرح تجھے شہداء نے پہچانا ہے۔
شہدا کو ہم سے راضی فرما اور ہمیں بھی ان کے ساتھ ملحق فرما۔
خدایا! میرے پاس ایسا کوئی عمل نہیں ہے جس پر ناز کر سکوں۔ سوائے معصیت کے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ تیری قسم! اگر تو میری مدد نہ کرتا تو میں یہاں (محاذ) تک کبھی نہ پہنچ سکتا۔
اور اگر تو اپنی ستار العیوب والی صفت کو اٹھا لیتا تو میں جانتا ہوں کہ لوگ میرے پاس بھی نہ پھٹکتے بلکہ مجھ سے بھاگ جاتے حتی کہ میرے والدین بھی۔
خدایا! اپنی رحمت و مہربانی کے صدقے میں میرے وہ تمام گناہ بخش دےجو مجھے تجھ تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔ الٰہی العفو۔
میری قبر پر اتنا ہی لکھنا: ’’اے امام! میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میری قبر پر آئیں گے۔‘‘
ظہر عاشورا، 16 ستمبر
سید احمد پلارک