آنلائن معارفی اور حوزوی کورسز

مقدمہ مترجم

            لَيسَ كَمِثْلِهِ شَيءٌ کی حامل ذات کی محبت بھی بے مثال ہے۔ اس کی محبت جس کے دل پر راج کر لیتی ہے تو بدلے میں وہ اس کی محبت کو دوسروں کے دل میں ڈال دیتا ہے اس لیے کہ  اس نے قرآن میں وعدہ کر رکھا ہے اور وہ  لَايُخْلِفُ الْمِيْعَادَ کے مرتبے پر فائز ہے:

إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا

            ’’جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں ان کے لئے رحمٰن عنقریب (لوگوں کے ) دلوں میں محبت پیدا کرےگا۔‘‘

            شہید قاسم سلیمانیؒ بھی خدا کے انہی بندوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو خدا کی محبت میں اس حد تک فنا کر ڈالاکہ خدا نے بھی اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور آج قاسم سلیمانیؒ ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دشمن نے ان کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا مگر ان کی محبت کو لوگوں اور خصوصاً مظلوموں کے دلوں سے نہ مٹا سکا:

چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو

بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا

            شہید قاسم سلیمانی ؒ۱۱ مارچ ۱۹۵۷؁ کو کرمان میں پیدا ہوئے اور۳ جنوری ۲۰۲۰؁ کو بغدادایئرپورٹ پر امریکہ کے ایک بہیمانہ حملے میں اپنے عراقی ساتھی کمانڈر ابومہدی المہندس کے ہمراہ شہید ہو گئے۔ آپ امریکی فوج کے ہاتھوں اپنی شہادت تک ’’سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی‘‘ کے بازو ’’سپاہِ قدس‘‘ کے سپہ سالار اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ایران عراق جنگ کے دوران وہ ڈویژن ۴۱ ثار اللہ کرمان کے کمانڈر رہے۔ ۲۴ جنوری ۲۰۱۱ء؁ کو میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای مدظلہ نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’شہیدِ زندہ‘‘ کا خطاب دیا اور بعد از شہادت انہیں لیفٹینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی۔

            عراق اور شام پر جب امریکہ اور اس کے حواریوں کی پروردہ دہشت گرد تنظیم داعش نے اپنے خونین پنجے گاڑے اور وہاں کے نہتے لوگوں پر ظلم و ستم اور بربریت کے پہاڑ توڑ ڈالے تو ایسے میں قاسم سلیمانی نے عراق اور شام کی حکومتوں کی ایرانی حکومت سے درخواست پر اپنی نڈر، بے باک اور ذہین قیادت سے داعش کو ناکوں چنے چبوا دیے اور کچھ ہی عرصے میں عراق اور شام کے علاقوں سے داعش کے منحوس سائے چھٹ گئے، جس کی چیخیں امریکہ اور اسرائیل کے ایوانوں میں سنائی دیں اور اس کا بدلہ انہوں نے ۳ جنوری ۲۰۲۰؁کو بغداد میں ان پر حملہ کر کے لیا جب وہ اپنے عراقی کمانڈر دوست ابومہدی المہندس کے ساتھ بغداد ایئرپورٹ سے باہر نکلے۔ ان کے قافلے پر راکٹ فائر کیاگیا جس کے نتیجے میں دونوں کمانڈر شہید ہو گئے۔

            یہ عبقری انسان اپنی زندگی میں اسلام دشمن بلکہ انسان دشمن طاقتوں امریکہ، اسرائیل اور ان کے کاسہ لیس ممالک کے لیے کس حد تک ایک ڈراؤنا خواب بن گیا تھا، اس کا اندازہ یا تو بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ تنظیم موساد کے سابق سربراہ میئر داگان کے اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے:’’وہ ہر پہلو سے نظام پر نگاہ اور گرفت رکھنے والاہے اور شاید وہی ایک ہے جسے میں سیاسی فطین کہہ رہا ہوں۔‘‘

            یا پھر ان کی شہادت کے وقت امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کے رد عمل سے جب اس نے ان کی شہادت کے فوراً بعد اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر امریکہ کا جھنڈا لگا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

            شہید سلیمانیؒ، ان کے ساتھی شہید ابومہدی المہندس اور ان کے ہمراہ دوسرے شہداء کی تشییع جنازہ۴ جنوری ۲۰۲۰؁ء کو بغداد، کربلااور نجف کے شہروں میں کی گئی جس میں عراق کی سیاسی و مذہبی شخصیات اور عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ہجوم نے شرکت کی۔ کربلا میں ان کی نماز جنازہ حرم حضرت عباس علیہ السلام کے متولی سید احمد الصافی نے جبکہ نجف میں آیت اللہ شیخ حافظ بشیر نجفی نے پڑھائی۔ اس کے بعد ایرانی شہدا اور شہید ابومہدی المہندس کے پیکر کو ایران منتقل کیا گیا جہاں ۵ جنوری کو اہواز اور مشہد میں جبکہ ۶ جنوری کو تہران اور قم میں ان کی تشییع جنازہ کی گئی۔ تہران میں شہید سلیمانی اور ابومہدی المہندس سمیت ان کے دوسرے شہید ساتھیوں کی نماز جنازہ رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے پڑھائی۔ ۷ جنوری کو شہید قاسم سلیمانی ؒکے پیکر کو کرمان لے جایا گیا اور ۸ جنوری ۲۰۲۰؁ کو وہیں ان کی تدفین کی گئی۔

            روسی چینل ’’روسیا الیوم‘‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ امام خمینیؒ کے جنازے کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ کرمان میں ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ تشییع جنازہ کے روز کچھ لوگ جاں بحق ہو گئے اور کچھ زخمی ہوئے۔ سپاہ پاسداران کے ترجمان کے مطابق شہید قاسم سلیمانیؒ کے جنازے میں تقریباً اڑھائی کروڑ لوگوں نے شرکت کی۔ اتنی بڑی تعداد میں شرکت یقیناً مذکورہ بالاآیت کی منہ بولتی تفسیر تھی۔

            آپ کے ہاتھوں میں موجود کتاب شہید قاسم سلیمانیؒ کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی مختصر سی جھلکیوں پر مبنی ہے، جس میں کہیں ان کے دوستوں کے ان کے بارے میں بیان کیے گئے تاثرات ہیں اور کہیں شہید سلیمانی کی اپنے مختلف دوستوں کے بارے میں کہی گئی باتیں ہیں۔ ان چیدہ چیدہ اقتباسات سے قاری کو شہید سلیمانی کی زندگی کے دو مختلف پہلوئوں سے آشنائی ہوتی ہے:

            ’’ان کا اپنے دوستوں کے بارے میں اظہار محبت اور ان کے دوستوں کا ان کے لیے اظہارعقیدت اور خراجِ تحسین۔‘‘

            مختلف تقاریب میں مختلف تقاریر کے اقتباسات، جنگ کے دنوں کی یادیں، دوستوں کے ساتھ گزرے خوبصورت لمحات کا تذکرہ اور سب سے بڑھ کر ہرواقعے سے تہذیب نفس اور تربیت کے پہلو کشید کرنا، اس کتاب کی چیدہ چیدہ خصوصیات ہیں۔اسی لئے اس کتاب کے ابواب عرفانی سیر و سلوک کے مراحل سے اقتباس ہیں اور یہاں اس سلوک کی انتہاء شہادت کے شہود اور فناء فی الله پر ہے۔

            اُمید ہےکہ یہ کتاب قارئین کو اس نابغہ انسان کی شخصیت کی زندگی سے کسی حد تک قریب کرے گی۔

مترجم